اللہ نے صحابہ کرام کے بعدآخری دور میں مسلمانوں کی کامیابی اور اسلامی نشاة ثانیہ کی زبردست بشارت د ی!

55
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

سورۂ جمعہ، سورۂ واقعہ، سورۂ محمد، سورۂ حدید، سورۂ دہر، سورۂ رحمن اور قرآن کی کئی سورتوں میں بشارت عظمیٰ کی بہترین وضاحت

یارب ان قومی اتخذوا ہذالقراٰن مھجورًا”اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھاتھا”۔ قرآن

سورۂ مجادلہ کے پہلے رکوع میں بہت بڑے انقلاب کا ذکر ہے۔ کیا شیعہ سنی میں اتنی جرأت ہے کہ ائمہ اہل بیت یا صحابہ کرام کے دربار میں کسی بڑی شخصیت سے جھگڑا کریں اور اپنے حق میں اللہ کی وحی سے حمایت کی امید رکھیں؟۔
رسول اللہ ۖ سے بڑی ذات اہل تشیع کے نزدیک ائمہ اہل بیت کی نہیں اوراہل سنت کے نزدیک صحابہ کرام کی نہیں ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ شیعہ سنی عوام اپنے ذاکرین عظام اور علماء کرام سے دلیل کی بنیاد پر بھی کسی قسم کی حجت بازی کریں تو ہماری شخصیات کویہ بہت بے ادبی اور بدترین گستاخی لگتی ہے۔ مولانا طارق جمیل و بلال شہید کے درمیان پچپن (55)منٹ کی کال میں گفتگو سن لیں اور پھر اس پر مولانا طارق جمیل کی طرف سے تأثرات بھی سن لیں اور بلال شہید اور مولاناطارق جمیل کی حمایت اور مخالفت کے حوالے سے ویڈیوز بھی دیکھ لیں۔ پھر رسول اللہۖ سے سورۂ مجادلہ میں ایک خاتون کا جھگڑا بھی دیکھ لیں جس کے حق میں اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی۔
سورۂ مجادلہ کے پہلے رکوع میں ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ ظہار کرنے والے کو تین قسم کے کفارے کا حکم ہے۔ (1:)گردن آزاد کرناجو کسی غلام، لونڈی ، مزارع اور قرضدار کی ہوسکتی ہے۔ ہاتھ لگانے سے پہلے اس پرعمل حکم ہے۔ (2:) اگر جو یہ نہیں کرسکتے ہو تو پھر ساٹھ (60) دن مسلسل روزے رکھنے ہیں۔ فرض رمضان ایک ماہ، یہ دو مہینے پورے ہیں۔ اوراس میں بھی ہاتھ لگانے سے پہلے کی شرط موجود ہے۔ (3:) اگر دو مہینے روزے کی استطاعت نہیں ہے تو پھر(60) مسکینوں کو کھانا کھلاناہے۔ اس میں ہاتھ لگانے سے پہلے کی کوئی شرط اللہ تعالیٰ نے نہیں لگائی ہے۔
دولت مند پر ہاتھ لگانے سے پہلے کتنا زبردست اللہ نے جرمانہ رکھ دیا۔ پھر مذہبی شدت پسند پر بوجھ ڈال دیا کہ ہاتھ لگانے سے پہلے دو ماہ مسلسل وہ روزے رکھے گا ۔ لیکن عام عوام کو اللہ نے کتنی بڑی سہولت سے نواز دیاہے۔
سورۂ مجادلہ کے دوسرے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اس بیماری سے دور رہنے کی تلقین کردی کہ سر گوشی شیطان کا عمل ہے۔ جب چند افراد ایکدوسرے کیساتھ مل کر سرگوشیوں کی بیماری میں مبتلاء ہوتے ہیں تو اس سے معاشرے میں ایک بداعتمادی، منافقت اور اجتماعی بیماریوں کی شکل میں قوم مبتلا ہوجاتی ہے۔ تبلیغی جماعت اور سپاہ صحابہ کے علاوہ اہل تشیع بھی آپس میں سرگوشیوں کے مرض میں مبتلاہیں۔ اللہ نے حکم دیا ہے کہ ایمان والے سرگوشی کریں تو تقویٰ اختیار کریں۔ ایکدوسرے کی غیبت، مخالفت اور مذاق اُڑانے کی عادت سے معاشرہ اپنی اخلاقی اقدار کھو دیتا ہے۔
صحابہ کرام کے دور میں یہ منافقین کی روش تھی اور اللہ نے ان کو ہرمحاذ پر شکست بھی دیدی۔ اہل تشیع ائمہ اہل بیت کیلئے صحابہ کرام کے مقابلے میں ایسے تأثرات قائم کرنے سے باز آجائیں کہ لوگ قرآن کی طرف دیکھنے کے بعد اُلٹا صحابہ کرام کی بجائے ائمہ اہلبیت کو منافقین کی فہرست کا حصہ سمجھنا شروع ہوجائیں۔ خوارج پہلے پکے شیعہ تھے اور حضرت علی کے ماننے والے تھے اور پھر حضرت علی کے وہی دشمن بن گئے تھے۔ اعتدال مؤمنین کی اصل راہ ہے۔
کچھ لوگ نبیۖ سے سرگوشی کیلئے وقت مانگتے تھے تو ان کا مقصد صرف اپنی دنیاوی وجاہت کا اظہار ہوتا تھا اور منافقین کا راستہ روکنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جب تم نبیۖ سے سر گوشی کرنا چاہو تو پہلے صدقہ دیدیا کرو اور اگر نہیں ہے تو کوئی بات نہیں ہے۔ یہ حکم بعض لوگوں پر گراں گزرا کہ نبیۖ نے ملاقات کیلئے بھی یہ شروع کردیا؟۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے پیسے نہ ہونے کی صورت میں اجازت دی تھی اور صدقہ نہ دینے کے باوجود معاف کردیا تھا۔
اصحاب صفہ اور مہمانوں کے اخراجات کی طرف توجہ دلانا بری بات نہیں تھی۔ آج بھی لوگ سیاسی قائدین، علماء اور پیرانِ طریقت کے لنگروں کا خیال رکھتے ہیں۔ قرآن کی ہر بات میں حکمتِ بالغہ کا سمندر غوطے کھاتا ہے۔
سورۂ مجادلہ کے تیسرے رکوع میں حزب شیطان اور حزب اللہ کی صفات کا ذکر ہے۔ حزب شیطان وہ منافقین تھے جنہوں نے ان اہل کتاب یہود کو اپنا حاکم وسرپرست بنالیا تھا جن پر اللہ کا غضب ہے۔ وہ نہ تو یہود کیساتھ تھے اور نہ مسلمانوں کیساتھ تھے۔ ایک عرصہ سے ہمارا حکمران طبقہ بھی حزب شیطان کا کردار ادا کررہا ہے۔ یہودیوں کے عالمی بینکاری نظام سے بھاری بھرکم سودی قرضے لیتا ہے۔ اسلام کی نشاة اول میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کو بلیک لسٹ قرار دے دیا تھا اور موجودہ دور میں پاکستان کو منافقین کی حرکتوں نے گرے لسٹ میں ڈال دیا ہے۔ اپنے لوگوں اور عالمی اداروں دونوں سے دغابازی ہورہی ہے۔
بعث لفظ کے دو معانی ہیں۔قیامت کے دن اُٹھانے کو بھی بعثت کہتے ہیں اور تشکیل دینے کو بھی بعثت کہتے ہیں اور قرآن میں دونوں معانی میں یہ الفاظ استعمال ہوئے ۔ ”اگران دونوں(میاں بیوی) میں تفریق کا خطرہ ہوتوپھر ایک حکم تشکیل دو،شوہر کے خاندان سے” ۔(النسائ35) میں فابعثوا اسی معنیٰ میں آیا ہے۔ سورۂ مجادلہ کے مطابق منافقین اولین کو قیامت کے دن اُٹھایا جائے یا دنیا میں فتح کے مناظر دیکھنے کے بعد ان سے امتحان لیا جائے تو وہ قسم اُٹھانے میں ذرہ برابر شرم نہیں رکھتے تھے۔
اگر مقتدر شخصیات سے کرپشن پر حلف لیا جائے تو ان کے اندر کی منافقت انکے چہروں پر آجائے گی۔ پھر ان پر ان کی جماعت اور خاندان میں سے اچھے لوگوں کو درست گواہ بنادیا جائے تو وہ حزب اللہ کا کردار ادا کرتے ہوئے درست گواہی دیں گے۔ روزِ حشر سے پہلے یہاں بھی ایک یومِ حساب کا ذکر ہے۔ فیض احمد فیض کے اشعار کی صورت میں زبان خلق نقارہ خدا بن چکی ہے۔ سورۂ واقعہ میں دنیا کے اندر اس انقلاب کا ذکر ہے جس میں پہلے دو طبقات کو اجر وثواب کے علاوہ خوشحالی بھی ملے گی اور مجرموں کی دنیا اور آخرت میں الگ الگ سزاؤں کی وضاحت بھی ہے۔

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana