آرمی پبلک سکول پشاور کا سانحہ کچھ حقائق کے تناظر میں!

119
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
تاریخ: 15دسمبر2020

جب عمران خان نے اسلام آباد میں امپائر کی انگلی پر دھرنا دیا تھا تو اس وقت خیبرپختونخواہ میں تحریکِ انصاف کی حکومت تھی۔ عمران خان واضح طور پر کہتا تھا کہ ”پنجاب پولیس کے گلوبٹوں کو طالبان کے حوالے کروں گا”۔طالبان، عمران خان اور امپائر کی انگلی کا ٹرائیکا ایک ہاتھ کی تین انگلیاں تھیں، نوازشریف اسی ہاتھ کی چوتھی انگلی تھی اور عدالت پانچویں انگلی تھی۔ پنجے سے پنجتن پاک بنتا ہے اور پنجاب بھی۔ پاکستان گرے لسٹ میں اسلئے ہے کہ دہشت گرد ریاست ہے یا یہ پالیسی کا نتیجہ ہے؟۔
جسٹس سیٹھ وقار مرحوم نے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے دہشتگردوں کو رہا کردیا تھا۔کوئی بادی النظر میں سوچے کہ طالبان نے عمران خان اور نوازشریف کو اپنا نمائندہ نامزد کیا تھا۔ تینوں فوج کے کٹھ پتلی تھے اورعدالت نے طالبان کورہا کردیا تھا تو پنجاب کے خلاف جن کی پانچوں انگلیاں گھی میں رہتی ہیں یہ کہنا کہ پشتونوں کے خلاف سازش کررہے ہیں تو ان کو بڑی شئے مل جائے گی۔ جسٹس وقار سیٹھ نے ان طالبان کو رہا کیا تھا جن کو فوجی عدالتوں سے سزا ہوئی تھی اور سیٹھ نے پرویزمشرف کیخلاف بھی تاریخی فیصلہ دیا تھا اسلئے پانچوں کو کالے پانی میں ڈالنا مشکل ہے لیکن پی ٹی ایم (PTM) کے منظور پشتین نے انکشاف کیا تھا کہ ” جس طالب یا بے گناہ فرد کو کئی سال پہلے ہی قید میں رکھا گیا تھا، آرمی پبلک سکول کے واقعہ میں اسی کو فٹ کیا گیا اور احسان اللہ احسان جو اصل دہشت گرد ہے اسے جی ایچ کیو میں رکھاگیااور بعد ازاں چھوڑ دیا گیا”۔
اس میں شک نہیں کہ ہمارا عدالتی نظام دہشت گردوں کو توبہت دور کی بات دن دیہاڑے قتل کے مجرموں کو بھی سزا دینے میں ناکام ہے اور دوسری طرف پاک فوج بھی نہ صرف دنیا بلکہ سندھ، بلوچستان اور پختونخواہ کے بعد اب پنجاب شریف کیلئے بھی قابلِ اعتماد نہیں رہی ہے۔ جسٹس وقار سیٹھ ، شوکت صدیقی اور جسٹس فائز عیسیٰ سے لیکر پاکستان وکلاء بار کے صدر لطیف آفریدی اور طلبہ یونین کے پروفیسر یاسر علی جان تک سوالات اٹھارہے ہیں۔ 31جنوری تک عمران خان سے استعفیٰ کا مطالبہ ہے۔ فروری میںپی ڈی ایم (PDM)اور طلبہ یونین مارچ کی تحریک شروع ہوگی اور پھر 8عورت آزادی مارچ تک ریاست کی ہر چول ڈھیلی ہوجائے گی۔
افراتفری اور فساد کی فضاء صرف اس کو پسند ہے جو ریاست اور حکومت کے مفادات کا رس چوس رہاہے ۔ عوام کی کوئی تعلیم وتربیت نہیں ہوئی ہے ۔ اخلاقیات کا رونا رونے والے حسن نثار بدبخت سب سے زیادہ اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہے اور ایک انقلاب آیا چاہتا ہے۔ لوگوں میں تعصبات کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں۔ لسانیت ، فرقہ واریت اور مفاد پرستی کے سارے تیر انسانیت کو شکار کرنا چاہتے ہیں۔ دوسروں کی آنکھ کا تنکا دیکھنے والوں کو اپنی شہتیر جیسی ناک نظر نہیں آتی ہے۔ پاکستان میں موج مستیوں کی جگہ طبلِ جنگ بجتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان بننے کیلئے بہت خون خرابہ ہوا تھا ، بہت لوگوں کی جانیں اور عزتیں برباد ہوگئی تھیں، خاندان بچھڑ کر تباہ ہوگئے تھے اور قوم نے سب کچھ نظرانداز کرکے قائداعظم کی انگلش کتوں کیساتھ تصویریں اُٹھائی تھیں کہ ”مسلمان مصیبت میں گھبرا یا نہیں کرتے”۔ آج عمران خان بھی ”کوّا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھول گیا” کی کہاوت پر گھبرانا نہیں کہتا ہوا اپنے پالتو کتوں کیساتھ کھیل رہاہے لیکن 70سال بعد بھی قائد انقلاب یہ سیاسی مافیا ہے۔
بعض ناعاقبت اندیش لوگ پھر عمران خان کو نجات دہندہ سمجھ کر ساری خرابی کی اصل جڑ اسٹیبلشمنٹ کو ہی سمجھتے ہیں۔ عمران خان میں قیادت کی صلاحیت ہوتی تو سندھ پولیس کے احتجاج پر آرمی چیف کے ایکشن سے پہلے خود ہی نوٹس لیتا کہ آپ کو جذباتی ہونے کی کیا ضرورت ہے جب مزار قائد کرایہ پر بدفعلی کیلئے استعمال ہوتا تھا تو اس پر کیوں آپے سے باہر دکھائی نہیں دئیے؟۔ عمران خان سے ایم کیوایم بھی کھسک جاتی تو پیپلزپارٹی جمہوریت کیلئے عمران خان کی حکومت کو سہارادیتی۔لیکن عمران خان خود اتنا نالائق ہے کہ ایک سیٹ کیلئے جی بی (GB)کے الیکشن میں پیپلزپارٹی کو پھر اس اپوزیشن کی طرف دھکیل دیا جس میں بڑی مشکل سے فاصلہ پیدا کیا تھا۔
میرے کپتان کے نام سے منصور علی خان کی صحافت کا عمران خان کیخلاف بڑا نام ہے لیکن مفتی کفایت اللہ نے اس کو بھی کپتان کی طرف دھکیل دیا۔ نہال ہاشمی نے کھینچ تان کر لاہور جلسے کو ہزاروں سے لاکھوں میں بتایا تو 3لاکھ بڑی مشکل سے بولنے کی ہمت کی لیکن مفتی کفایت اللہ نے 10لاکھ سے زیادہ بتانے میں شرم محسوس نہیں کی۔ سیاست جھوٹی، صحافت جھوٹی، سیاستدان جھوٹا، مولوی جھوٹا تو اسٹیبلشمنٹ کیسے سچی ہوسکتی ہے؟۔ پوری قوم کا بیڑہ غرق ہے اور انقلاب اس کا واحدعرق ہے۔
کیا فوج بیرکوں میں چلی جائے تو سیاستدان اور مولوی قوم کا بیڑہ سدھار یں گے؟۔ فوج کو بیرکوں میں ہی جانا چاہیے۔ دہشت گردی، سیاست گردی اور مولوی گردی کی سب سے بڑی ذمہ دار فوج ہی ہے لیکن کیا یہ بگڑے ہوئے لوگ اس قوم کا بیڑہ پار کرسکیںگے؟۔ جن کے ہاتھوں قوم کاسب سے زیادہ بیڑہ غرق ہواہے؟۔
جب تک ڈیڈ لاک پیدا نہیں ہوگا تو یہ قوم اپنی اصلاح کی طرف نہیں جانا چاہے گی۔ بیرونِ ملک بیٹھ کر راشد مراد ٹی وی (RM.tv)کھریاں کھریاں والے نے اپنی پوری طاقت پاک فوج کو خراب کرنے پر لگارکھی ہے۔ پی ٹی ایم (PTM)کو گوجرانوالہ کے جلسے میں نہیں بلایا گیا تو منحوس نے اس کو آرمی میڈیا کی سازش قرار دیدیا تھا اور اب اس حوالے سے کوئی بات نہیں کرتا۔ راشد مراد نے اپنی چرب زبانی سے آرمی پبلک سکول کے واقعہ کو آرمی کی سوچی سمجھی سازش قرار دیا تھا لیکن کیا نوازشریف نے اس واقعہ کی وجہ سے فائدہ نہیں اٹھایا تھا؟۔ عمران خان نے دھرنا اسلئے تو ختم کیا تھا۔ جب نوازشریف اتنا نااہل اور نامراد تھا کہ اسکے وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی یہ واقعہ ہوگیا اور پھر اس کا فائدہ بھی اُٹھالیا تو کیا پھر بھی اسی نوازشریف کو اقتدار میں لانے کی تگ ودو کرنے کی غلطی کی جائے؟۔ پی ٹی ایم (PTM)کے جوان آر ایم ٹی وی (RM.tv)کے راشد مرادکے پروپیگنڈے سے ہرگز متأثر نہ ہوں۔ یہ مریم نواز، شہباز اور نوازشریف کیلئے پشتون کو استعمال کرنے کا گُر جانتا ہے۔ آرمی پبلک سکول کا واقعہ2014ء میں ہوا تھا؟۔ اس وقت عمران خان اور نوازشریف دونوں طالبان اورپشتون اکثریت بھی طالبان اور انصاف کی حامی تھی۔ پی ٹی ایم (PTM)کے جوان بھی ن لیگی اور تحریک انصافی تھے۔
جس نوازشریف نے اسٹیبلشمنٹ کی کوکھ سے جنم لیا، بچپن، لڑکپن، جوانی اور بڑھاپے تک اسی کے سائے میں پلا، بڑھا اور اس حد تک پہنچا وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہزار دفعہ کھڑا ہوجائے لیکن اس پر اعتبار نہیں ہوسکتا ہے۔ گھر کے بھیدی لنکا ڈھائے کی بات درست ہے۔ پی ڈی ایم (PDM)نے سوچ سمجھ کر مریم نوازشریف ، شہباز اور نوازشریف کو اپنے ساتھ رکھا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا مقابلہ پنجاب ہی کو ساتھ ملاکر کیا جاسکتا ہے۔ محمود خان اچکزئی نے پنجابی قوم سے نہیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پنجاب کے کٹھ پتلی سیاستدانوں اور صحافیوں سے گلہ کرنا تھا لیکن اس جنگ کی بنیاد ظالم ومظلوم ، مراعات یافتہ ومحروم اور حق و ناحق کی بنیاد پر ہونی چاہیے تھی۔ محمود اچکزئی جاہل نہیں لکھا پڑھا انسان ہے۔ اخترجان مینگل کی تقریر میں بھی لاؤڈ اسپیکر بند کردیا گیا تھا۔ لیکن اب کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے نہیں کھل کر حقائق کی وضاحت کرنے سے معاملہ حل ہوگا۔ حکومت نے سینٹ کے قبل ازوقت انتخابات کا فیصلہ کرکے انقلاب کی پیدائش سے پہلے حمل گرانے کی مذموم و ناکام کوشش کی ہے۔