اخوت اور رواداری اسلامی تعلیمات کی روشنی میں:ڈاکٹر صبیحہ اخلاق

393
0

تصنیف : ڈاکٹر صبیحہ اخلاق(اُم سارہ)
غریب اور تیسری دنیا کے ملکوں کیلئے یہ ایک بہت کٹھن وقت ہے۔ تعلیم کی کمی ، معیشت کی کمزوری، (بیشتر ممالک ) بد عنوان حکمران یا آمریت ، صنعتی پسماندگی کے ساتھ ان کا مقابلہ ، مبینہ انصاف کا نعرہ لگانے والی ترقی یافتہ اقوام جو حقیقتاً سرمایہ دارانہ نظام کی حامی ہیں، سے ہونے والا ہے۔ تجارت کے میدان میں پابندیوں کے خاتمے کے ساتھ صورتحال کچھ اور قسم کی ہے۔ جیسے بھیڑ اور بھیڑئیے کو آزاد چھوڑ کر ان کا مقابلہ کرایا جارہا ہو۔ یقینا بھیڑیا بھیڑ کو کھاجائے گا؟۔ عالمگیریت کا نعرہ لگانے والے کیا اس صورتحال سے بے خبر ہیں۔( ایک اقتباس)
ڈاکٹر حمید اللہ لکھتے ہیں: ”مگر اس اثنا میں قیصر روم اور مدینے کے تعلقات کی کشیدگی جنگ پر منتج ہوچکی تھی۔ چنانچہ 6ہجری کے اختتام پر جب مکہ سے صلح ہوگئی اور ادھر سے یکسوئی ہوگئی تو آنحضرت ۖ نے ہمسایہ حکمرانوں کو تبلیغی خطوط بھیجے”
اس حوالے سے انیتا رائے لکھتی ہیں: … ”آپ (ۖ ) نے ان دعوت ناموں میں واضح طور پر اس بات پر زور دیا کہ کسی اہل کتاب یعنی یہودی، عیسائی اور زرتشتی پر کوئی زبردستی نہیں کی جاسکتی اور نہ کی جانی چاہیے کہ اپنا مذہب بدلے”۔
رواداری دین اسلام کی بنیادی اقدار میں سے ہے اس کا تعلق عقیدۂ توحید کی روح سے ہے جو شعورِ انسانی کی مرکزی اساس سے پیوست و ملحق ہے۔ حضور ۖ نے سفرأ و وفود کے ساتھ حسنِ سلوک روا رکھا اور عطیات و تحائف سے ان کو نوازا ۔
”ہماری دنیا کی باقی اقوام سے ہمارا ضمیر ، ہمارا مزاج اور ہمارا نصب العین مختلف ہے۔ آج کا المیہ یہی ہے کہ فیضانِ سماوی کے سرچشموں سے محروم انسان کسی دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنی ”انا” کی تلوار لہرارہا ہے۔ جو جتنا قوی ہے ، لطیف انسانی احساسات سے اتنا ہی محروم ہے۔ مادی قوت نے رعونت کی شکل اختیار کرلی ہے۔ رعونت نے تحمل و برداشت ، انسان دوستی ، ہمدردی غمگساری، عدل و مساوات اور احترامِ آدمیت جیسی اعلیٰ صفات کو نگلنا شروع کردیا ہے۔ عہد حاضر کا دوسرا المیہ اخلاقی معیارات کا زوال ہے۔ طاقت نے خود پرستی اور انا پرستی نے خود سری کو جنم دیا۔ چنانچہ مادی قوت سے آراستہ قومیں صدیوں سے مسلمہ اخلاقی اصولوں اور تہذیبی ضابطوں کو بھی اپنی مرضی کے معنے پہنارہی ہیں”
طلوعِ اسلام سے قبل مختلف معاشروں میں افراط و تفریط کے روئیے نظر آتے تھے۔ کچھ لوگ مادی زندگی کو ہی اہمیت دیتے تھے اور کچھ ترکِ دنیا پر راضی تھے۔ اسلام نے اعتدال کا راستہ دکھایا۔ قرآن نے کہا : و کذالک جعلنٰکم اُمة وسطاً لتکونوا شھداء علی الناس و یکون الرسول علیکم شہیداً ترجمہ:”اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک معتدل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول (ۖ)تم پر گواہی دیں گے”۔ یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ کتب مقدسہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتدال حضرت محمد ۖ کی نبوت کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ ”سبل الہدیٰ و الرشاد” میں ایک دلچسپ واقعہ منقول ہے : عبد اللہ بن سلام سے مروی ہے کہ زید بن سعنہ جو یہودیوں کا بڑا جید عالم تھا ، اس نے بتایا حضور ۖ کی نبوت کی جتنی علامتیں ہماری کتب میں بیان کی گئی ہیں میں نے ان سب کا مشاہدہ کرلیا وہ حضور ۖ میں پائی جاتی ہیں مگر دو علامتیں ایسی تھیں جن کے بارے میں میں نے ابھی حضور ۖ کی آزمائش نہیں کی تھی وہ دو باتیں یہ تھیں : ان یسبق حملہ جھلہ: اس کا حلم اس کے جہل سے سبقت لے جاتا ہے۔ولاتویدہ شدة الجہل الا حلماً : حضور ۖ پر جہالت اور حماقت کا جتنا مظاہرہ کیا جائے اتنا ہی حضورۖ کے حلم میں اضافہ ہوتا ہے۔
میں نے ان دو صفات کا حضور ۖ میں مشاہدہ کرنا چاہا تھا ۔ چنانچہ میں نے اس مقصد کیلئے سرور عالم ۖ سے کھجوریں خریدیں اور ان کی قیمت نقد ادا کردی۔ حضور ۖ نے ایک تاریخ مقرر فرمادی۔ ابھی اس معیاد کو دو دن باقی تھے کہ میں آگیا اور کھجوروں کا مطالبہ کردیا۔ میں نے حضور ۖ کی قمیض اور چادر کو زور سے پکڑ لیا اور بڑا غضبناک چہرہ بناکر آپ ۖ کی طرف دیکھنا شروع کیا۔ پھر میں نے حضور ۖ کا نام لیکر کہا : کیا تم میرا حق ادا نہیں کرو گے؟ ۔ اے عبد المطلب کی اولاد! بخدا تم بہت ٹال مٹول کرنے والے ہو، مجھے تمہاری اس عادت کا پہلے سے تجربہ ہے۔ اس وقت حضرت فاروق اعظم بارگاہ اقدس میں حاضر تھے۔ انہوں نے جب ابن سعنہ کی یہ گستاخانہ گفتگو سنی تو اس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : ای عدو اللہ اتقول لرسول ما اسمع ”اے اللہ کے دشمن ! تم یہ بکواس اللہ کے رسول ۖ کے بارے میں میری موجودگی میں کررہے ہو، تمہیں شرم نہیں آتی ”۔
نبی کریم ۖ حضرت عمر کی اس گفتگو کو بڑے سکون و تحمل کیساتھ سنتے رہے اور مسکراتے رہے پھر حضرت عمر سے فرمایا انا وھو کنا احوج الی غیر ھذا منک یا عمر تامرنی بحسن الاداء وتامرہ بحسن اتباعہ ”ترجمہ: اے عمر! جو بات تو نے اسے کہی ہے مجھے اس سے بہتر بات کی توقع تھی۔ تمہیں چاہیے تھا کہ مجھے کہتے کہ میں بحسن و خوبی اس کی کھجوریں اس کے حوالے کردوں۔ اور اس سے کہتا کہ وہ اپنے حق کا مطالبہ شائستگی سے کرے۔ اے عمر! جاؤ اسکا حق (کھجوریں) اس کے حوالے کردو۔ اور جتنا اسکا حق ہے اس سے بیس صاع زائد کھجوریں اس کو دو تاکہ تو نے اسے جو خوفزدہ کیا ہے اس کا بدلہ ہوجائے اور اسکی دلجوئی ہوجائے۔
زید بن سعنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر مجھے اپنے ہمراہ لے گئے اور اپنے آقا کے فرمان کی تعمیل کرتے ہوئے میری کھجوریں بھی میرے حوالے کردیں اور بیس صاع اس سے زیادہ بھی مجھے دے دیں۔ اس وقت میں نے حضرت عمر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : اے عمر ! حضور ۖ کی نبوت کی جتنی علامات ہماری کتاب میں مذکور تھیں ایک ایک کرکے ان سب کا مشاہدہ میں نے آپ ۖ کی ذات میں کرلیا مگر دو علامتیں ایسی تھیں جن سے میں نے ابھی تک حضور ۖ کو آزمایا نہ تھا۔ اب میں نے ان دونوں کو بھی آزما لیا ہے۔ فاشھدک انی رضیت باللہ رباً وبالا سلام دیناً و بمحمد (ۖ) نبیاً آج اے عمر! آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں اس بات پر راضی ہوگیا ہوں کہ اللہ میرا رب ہے ، اسلام میرا دین ہے اور سرور انبیاء محمد مصطفی ۖ میرے نبی ہیں۔
حضور ۖ اپنے جانی دشمنوں کے معاملے میں بھی عفو و درگزر سے کام لیا کرتے تھے۔ اور اس طرح اس قبائلی معاشرے میں آپ ۖ کے کریمانہ روئیے نے نفرت اور دشمنی کے کلچر کو ختم کردیا۔ حضرت انس آپ ۖ کے خادم خاص تھے، بچپن سے جوانی تک خدمت کی۔ فرماتے ہیں : آپ ۖ نے مجھے کوئی ایسا کام نہیں بتایا جس میں خود شریک نہ ہوئے ہوں۔ یا وہ کام میری طاقت سے زیادہ ہو اور اگر کبھی کوئی کام غلط ہوگیا تو کبھی غصہ نہیں فرمایا۔
آپ ۖ کی تمام زندگی میں روشن خیالی کے حوالے سے ڈاکٹر حمید اللہ رقمطراز ہیں : ”آپ ۖ مدینہ کے اندر آبادیوں کے قیام کے دوران مدنی (شہری) زندگی کے متعلق فرمایا : شہر کے اندر گلیوں کو اتنا چوڑا رکھو کہ دو لدے ہوئے اونٹ با آسانی گزر سکیں۔ گویا آج کے الفاظ میں آسانی کے ساتھ دو لاریاں آجاسکیں۔ اس لئے کہ گھروں اور گلیوں کی کشادگی انسانی خصائل پر اثر انداز ہوتی ہے”۔
حضور اکرم ۖ کا غیر مسلموں سے سلوک ہمدردی اور محبت کا رہا ہے۔ آپ صداقت سے ناواقف لوگوں تک سچائیاں پہنچانا چاہتے تھے اور جانتے تھے کہ یہ کام آسان نہیں ہے۔ اسلئے مخالفت کرنے والوں کی تمام زیادتیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا ضروری ہے۔ غیر مسلموں میں ایک گروہ تو وہ ہوتا ہے جو حق کو اسلئے قبول نہیں کرتا کہ وہ اس کی سمجھ میں نہیں آتا ہے ، ان کی جہالت اور عصبیت انہیں قبول حق سے روکتی ہے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ حضور ۖ ہمیشہ نرمی اور محبت کا برتاؤ کرتے رہے۔ اور ان کی یہ کوشش رہی کہ یہ لوگ جہالت اور عصبیت سے نجات پاکر صداقت کو سمجھ لیں۔ اور جہالت اور عصبیت کی بنا پر جو مخالفت یا ایذا رسانی کرتے رہے اسے حضور ۖ نے ہمیشہ معاف کیا۔ غیر مسلموں کا دوسرا گروہ وہ ہے جو حق کو اچھی طرح پہچان اور سمجھ لیتا ہے لیکن اپنے مخصوص اور ناجائز مفادات کی وجہ سے سمجھ کر پھر بھی اس کی مخالفت کرتا ہے اور صرف مخالفت ہی نہیں کرتا بلکہ حق کو مٹانے کیلئے قوت استعمال کرتا ہے اور تشدد کی راہ اختیار کرتا ہے۔ اس گروہ کا مقابلہ ابتدا میں عدم تشدد کے اصول پر قائم رہ کر حضورۖ نے کیا لیکن تشدد کے جواب میں اس عدم تشدد سے بھی ان کے روئیے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ طاقت کے استعمال میں وہ اور شیر ہوگئے۔ اس مرحلے پر مجبوراً طاقت کا جواب طاقت سے دینا پڑا۔ کیونکہ کسی انسانی گروہ کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی ہے کہ وہ طاقت کے اندھا دھند استعمال سے حق کو ختم کردے۔ …
جب پورا جزیرة العرب اسلام میں داخل ہوگیا تو نجران اور دوسرے علاقے کے عیسائیوں نے نبی کریم ۖ کے پاس صلح کیلئے اپنا وفد بھیجا۔ اس وقت مسلمان اس پوزیشن میں تھے کہ اگر چاہتے تو چند دن میں ان مقامات کو زیر نگیں کرلیتے لیکن انکے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔ اور ان کو اپنے مذہب و مسلک پر رہنے کی پوری آزادی دیکر ان سے صلح کرلی۔ آپ ۖ کا یہ صلح نامہ تاریخ کی کتابوں میں آج بھی درج ہے۔ ”نجران میں اس کے اطراف کے باشندوں کی جانیں ، ان کا مذہب ، انکی زمینیں ، ان کا مال، انکا حاضرو غائب، انکے وفد ، ان کے قاصد ان کی مورتیں، اللہ کی امان اور اس کے رسول ۖ کی ضمانت میں ہیں۔ ان کی موجودہ حالت میں کوئی تغیر نہ کیا جائیگا اور نہ انکے حقوق میں سے کسی حق میں دست اندازی کی جائے گی اور نہ مورتیں بگاڑی جائیں گی۔ کوئی اسقف اپنی اسقفیت سے، کوئی راہب اپنی رہبانیت سے کنیسہ کا کوئی منتظم اپنے عہدے سے نا ہٹایا جائیگا۔ اور جو بھی کم یا زیادہ انکے قبضے میں ہے اسی طرح رہیگا۔ ان سے زمانہ جاہلیت کے کسی جرم یا خون کا بدلہ نہ لیا جائیگا۔ نہ ان کو ظلم کرنے دیا جائیگا اور نہ ان پر ظلم ہوگا۔ ان سے جو شخص سُود کھائے گا وہ میری ضمامت سے بری ہے۔ حوالہ جات ذیل ہیں۔
رسول اکرم ۖ کی سیاسی زندگی : ڈاکٹر حمید اللہ ، شبلی نعمانی : سیرت النبیۖ، جلد ١
Anita Rai, Muhammad ….True Story ، خلیفہ محمد سعید دستور حیات، نسرین وسیم روشن خیالی ، محمد بن یوسف صالحی، … فتوح البلدان …