قرآن کی تفسیر اور ترجمہ میں اذی کے معنی گند کے یہ شیطانی القا ہے

ویسئلونک عن المحیض قل ھواذیً…”اور تجھ سے حیض کا پوچھتے ہیں،کہہ دو کہ وہ اذیت ہے،پس کنارہ کش رہو عورتوں سے اور انکے قریب مت جاؤ،یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں،جب پاک ہوجائیں تو جاؤانکے پاس جیسے اللہ نے حکم دیا

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

بیشک اللہ پسندکرتا ہے توبہ والوں کو اور پاکبازوں کوOتمہاری عورتیں تمہارا اثاثہ ہیں،اپنے اثاثہ کے پاس آؤ جیسے چاہو،اپنے نفسوں کیلئے آگے بھیجواور اللہ سے ڈرواور جان لوکہ تم نے

اس سے ملنا ہے اورخوشخبری دو مؤمنوں کوOاورمت بناؤتم اللہ کواپنے عہد وپیمان کیلئے ڈھال کہ تم نیکی کرو،تقویٰ اختیار کرواور لوگوں میں صلح کراؤاور اللہ سننے والاہے جاننے والا ہےO

سورۂ بقرہ کی مندرجہ بالاآیات(222)سے(224)تک عورتوں کے حقوق کا مقدمہ ہیں۔قرآن کی سب سے بہترین تفسیرآیات سے آیات کی تفسیر ہے اور آیت (222)میں اذی کے معنی اذیت کے ہیں۔ قرآن میں کہیں پر بھی اذی کے معنی گند کے نہیں۔ سید مودودی بریلوی دیوبندی علمائ نے اذیت کا ترجمہ گند کیا۔ عربی کی لغت کی کتب میں بھی اذی کے معنی گند نہیں ۔ عربی بہت وسیع ہے،شیر کے عربی میں (500) نام ہیں لیکن گند کیلئے اذیت کا کہیں ایک بھی لفظ نہیںہے۔
اب مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب قرآن وسنت اورعربی لغت میں اذی کے معانی گند کے کہیں نہیں تو پھر قرآن کی تفسیر اور ترجمہ میں اذی کے معنی گند کے کیسے اور کہاں سے آئے؟۔ اس کا بالکل دو ٹوک جواب یہ ہے کہ یہ شیطانی القا ہے جس کا ذکر سورہ ٔ حج کی (آیت52)میں اللہ نے بہت واضح طور سے کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس شیطانی القا کا نقصان کیا ہے؟۔ جواب یہ ہے کہ اس کی وجہ سے عورتوں کے حقوق کی ساری بنیادیں ختم کردی گئیں ہیں۔
جماع فی الدبرکی اذیت سے لیکر ،عورت کی شوہر سے صلح، عدت میں اذیت کا خیال ،طلاق کے بعد رجوع کیلئے عورت کی رضامندی اور عورت کے مالی حقوق کا تحفظ سب کے سب کواس شیطانی القا نے پامال کرکے رکھ دیا ہے۔ آیت(222)سے (232) تک ہم نے بار بار وضاحت کی ہے۔ علماء کا ضمیر اسلئے نہیں جاگتاہے کہ ان کو اپنے مذہبی ریاست کا پوراڈھانچہ گرتا دکھائی دیتا ہے۔ بادشاہوں کے دربارمیںایک طرف علماء حق کا زبردست، دوسری طرف علماء سوء کابدترین کردار تھا۔ درباری علماء نے ہر دور میںاسلام کا حلیہ بگاڑ دیاہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی اورمفتی اعظم پاکستان مفتی محمدرفیع عثمانی تو درباری علما ء کا ٹولہ تھا مگر حضرت مولانا سیدمحمد یوسف بنوری اور انکے استاذ مولانا سیدانورشاہ کشمیری اور انکے شاگرد حضرت مفتی محمد زرولی خان ، حضرت مولاناقاری اللہ داد مدظلہ العالی تو درباری علماء نہیں ،پھر وہ اس القا شیطانی کے کیوں شکار ہوئے ہیں؟۔
علامہ سید سلیمان ندوی نے معارف اعظم گڑھ میں جاندار کی تصویر کو جواز بخشنے کیلئے زبردست دلائل دئیے۔ دارالعلوم دیوبند کا ماہنامہ جریدہ تھا جس طرح مولانا محمد یوسف لدھیانوی کا تعلق تعلیم و تدریس اور فتویٰ سے نہیں تھا بلکہ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے ماہنامہ البینات سے تھا۔ یا جن کا تعلق دارالعلوم کراچی کے ماہنامہ البلاغ سے ہے۔ ڈاکٹر اسرار کی تنظیم اسلامی کے جرائد، جماعت اسلامی کے ترجمان القرآن اور غلام احمد پرویز کے ماہنامہ طلوع اسلام لاہور وغیرہ ہیں۔ اسی طرح مولانا ندوی نے معارف اعظم گڑھ میں اپنی تحقیق لکھ دی تو دارالعلوم دیوبند کے ماہنامہ کے ایڈیٹر پہلے سید ابولاعلیٰ مودودی تھے، اس کی شکل اورداڑھی ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کی طرح تھی۔دارالعلوم دیوبند کے علماء کے پاس جب علامہ سید سلیمان ندوی کی طرف سے جاندار کی تصویر پر کوئی علمی جواب نہیں تھا تو مفتی محمد شفیع جو اس وقت ان کے بقول طالب علمی اور عالم ہونے کے درمیانی درجہ میں تھے، اساتذہ نے علامہ ندوی کے معارف کا جواب لکھنے کا کہا کہ اس کوماہنامہ رسالے میں چھاپ دیا جائیگا۔ چناچہ مفتی محمد شفیع نے جاندار کی تصویر پر ایسی بچکانہ خرافات لکھ دیں کہ پانچویں جماعت کے بچے کو بھی اس پر ہنسی آئے گی۔ علامہ سید سلیمان ندوی اورمولانا ابواکلام آزاد نے ان جاہلوں کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے اور سیدابوالاعلیٰ مودودی نے انکی علمی اوقات کا اندازہ لگایا اور خود بتدریج ایک لمبی داڑھی رکھ کر جماعت اسلامی کے نام سے ایک جماعت کی بنیاد ڈال دی اور بڑے بڑوں کو پہلے ہنکایا لیکن پھر مولاناعلی میاں ابوالحسن علی ندوی، مولانا محمد منظور نعمانی اور دیگر لوگ چھوڑ کر گئے اور سید مودودی نے لکھا کہ ” مجھے پتہ تھا کہ جس ہاون دستے میں اپنا سر میں نے دیا ہے یہ بدھ مت میں بخشو قسم کے لوگ اس کی دھمک کی آواز دور سے سن کر بھاگ جائیںگے”۔ پھر مولانا مودودی سے الگ ہونے کے بعد ڈاکٹر اسرار اور جاویدغامدی جیسے لوگوں نے اپنی اپنی دکانیں دین کے نام پر چمکائیں۔
اگر مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع، شیخ الاسلام علامہ شبیراحمد عثمانی چاہتے تو حکومت پاکستان کی طرف سے کرنسی پر قائداعظم کی تصویر کو ختم کردیا جاتا اسلئے کہ شب قدر میں بننے والے پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کرنا تھا، فرشتوں کو نہیں بھگانا تھا لیکن مفتی شفیع نے کرنسی کے نوٹ اور تجارت کی اشیاء پر تصاویر کو اپنی کتاب میں جائز قرار دیا۔ جے یو آئی ف کے مرکزی امیر مولاناعبدالکریم بیرشریف نے حج وعمرے کئے لیکن شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کیلئے بھی تصویر نہیں نکالی تھی لیکن جب ہم نے کرنسی کے حوالہ سے فقہ کی معتبر کتاب مجموعة الفتاویٰ کا حوالہ دیکر پاکستانی کرنسی پر تصویر کے ناجائز ہونے کا فتویٰ مانگا تو انکار کردیا اسلئے کہ شکرانے کے نوٹ پھر جیب میںنہیں پڑسکتے تھے۔ شاید ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جب مولانا فضل الرحمن نے یہ دیکھا تو جے یو آئی کے امیرکے عہدے پر اس کو شکست بھی دیدی۔ یہ سارا دیمک زدہ ماحول ہے جس کے خول سے بھی لوگ ڈرتے ہیں۔
اگر یہ کہا جائے کہ تاریخی درباری علماء سے آج کی جماعت اسلامی، تنظیم اسلامی اور جاوید غامدی سب کے سب ٹی وی پر پیش ہونے والے اشتہار کی طرح بادشاہوں ، عالمی قوتوںاورریاستی اداروں کیلئے کنڈوم ہیں تو اس سے ان لوگوں کو کتنی اذیت پہنچے گی؟۔ یا اگریہ کہا جائے کہ اسلام کی خدمت نہیں کرتے بلکہ عالمی قوتوں و ریاستی اداروں کیلئے ٹشوپیپر ہیں تو کس قدر اذیت ہوگی؟۔
جب دہشتگرد وں نے قتل وغارتگری کا بازار گرم کررکھاتھا، پیپلزپارٹی اور اے این پی (ANP) کو مرکز اور صوبہ پختونخواہ میںنشانہ بنارہے تھے تو جماعت اسلامی کے پروفیسر ابراہیم ،ڈاکٹر فریدپراچہ اور جمعیت علماء اسلام کے مفتی کفایت اللہ وغیرہ کس طرح طالبان کو سپورٹ کررہے تھے؟۔ شہباز شریف اور عمران خان نے کس طرح سپورٹ دی تھی؟۔ انصار عباسی کس طرح اسلام پسند تھے؟۔ جس کی وجہ سے پنجاب میں جماعت اسلامی کے تربیت یافتہ قسم کے چیف جسٹس خواجہ شریف کو قتل کرنیکی سازش تخلیق کرکے گورنر پنجاب سلمان تاثیراور آصف علی زرداری کو صدارت کی کرسی سے فارغ کرکے پھانسی پر لٹکانا تھا؟۔ یہ وہی انصار عباسی ہے جس کوجماعت اسلامی کا تربیت یافتہ اورمشرف کا جھوٹا وزیر اطلاعات محمد علی درانی واحد ایماندار صحافی کہتا تھا۔ جس نے کہا تھا کہ خلافت راشدہ میں کسی خلیفہ کو استثنیٰ حاصل نہیں تھا تو صدر مملکت آصف علی زرداری کو اسلامی آئین کے تحت استثنیٰ نہیںمل سکتا ہے لیکن پاک فوج پر تنقید آئین کے خلاف ہے۔
آج ن لیگ کہتی ہے کہ آصف علی زرداری نے بینظیر بھٹو کے قتل پر کہا تھا کہ پاکستان کھپے لیکن اگر مریم نواز کو کچھ ہوا تو ہم پاکستان کھپے کا نعرہ نہیں بالکل بھی نہیں لگائیںگے۔ انصار عباسی پاکستان، اسلام اور پاک فوج کی وفاداری کو نوازشریف پر قربان کریںگے اسلئے تو نذیر ناجی نے میڈیا پر اس کو کتے کا بچہ کہا تھا حالانکہ دونوں کا تعلق جیو ٹی وی سے تھا۔ ریاستی اداروں نے جن ضمیر فروشوں کو پالا تھا، آج سب سے زیادہ بے ضمیری کا مظاہرہ یہی لوگ کررہے ہیں۔
حضرت علی کا قول ہے کہ کسی پر طنز مت کرو اسلئے کہ جب سمندر میں پتھر پھینک دیا جاتا ہے تو یہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ وہ کتنا گہرا ئی میں جاتا ہے۔
جب ایک عورت کو حلالے کی ضرورت نہ ہو اور اس کو اس لعنت کی اذیت سے گزارا جائے تو اس خاتون، اسکے بچوں، اسکے والدین، اسکے بہن بھائیوں، اسکے سسرال والوں اور اسکے عزیز واقارب اور جاننے والوں پر کیا گزرتی ہے؟ لیکن ان مردہ ضمیر لوگوں میں احساس تک نہیں ہے۔ بہت لوگ تو اسلام چھوڑ چکے ہیں اور وہ خوف اور ڈر کے مارے مسلمان ہیں کہ مرتد کا فتویٰ لگاکر ماردیا جائیگا۔ ایک بڑی مسجد کے امام نے کہا کہ اسلام سمیت تمام مذاہب باطل ہیں ، ان سے لوگوں کو فائدہ نہیں نقصان ہی پہنچا ہے۔ ہمارا ساتھی سیدھا سادا تھا اس نے کہا کہ تمہارے لاؤڈاسپیکر کی آواز خراب ہے ،اس کو ٹھیک کرو۔ میں نے کہا کہ اس سے یہ کہنا چاہئے تھا کہ ”پھر مسجد میں لوگوں کو بندر کی طرح پریڈ کرانے کی امامت کا کیا فائدہ ہے۔ پھر مسجد کے مقتدیوں میں اعلان کرکے مسجد کی جان کیوں نہیں چھوڑتے ہو”۔ بہت سارے مذہبی لوگ ابھی چھپے رستم بنے ہوئے ہیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ شیطان نے قرآن کی آیت کی تفسیر اور ترجمے میں یہ نقب کیسے لگائی اور اس کا حل کیا ہے۔ اس کا سیدھا سادا جواب یہ ہے کہ قرآن کی آیت کے غلط استنباط سے شیطان نے القاء کا فائدہ اُٹھایا۔ بادی النظر میں دیکھا جائے تو اللہ نے حیض کو اذیت قرار دیا ہے اور ساتھ میں یہ بھی فرمایا ہے کہ عورتوں سے کنارہ کشی اختیار کرو ،حیض میں ان کے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں۔ اس تناظر میں یہ استنباط کیا گیا ہے کہ حیض اذیت ہے اور اذیت کا معنی گند ہے۔ حالانکہ اللہ نے آیت میں توبہ کرنے والوں کو بھی پسند کرنے اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو بھی پسند کرنے کا فرمایا ہے۔ اذیت سے توبہ ہوتا ہے اور گند سے دوری پاکیزگی ہوتی ہے۔ حیض میں عورت کو تکلیف بھی ہوتی ہے اور ناپاکی بھی۔ قرآن نے شیطانی القا کو راستہ بھی دیا ہے تاکہ جن دل کے مریضوں نے فتنہ میں مبتلا ء ہونا ہو ،ان کو گمراہی کا موقع ملے اور آیات سے محکم احکام کو بھی واضح کیا ہے تاکہ اہل علم اس سے رہنمائی حاصل کرکے اللہ کے احکام پر چلیں۔ انبیاء کرام اسلئے معصوم تھے کہ اللہ تعالیٰ نے بروقت رہنمائی کی تھی لیکن علماء وفقہاء معصوم نہ تھے اور اللہ نے آیات میں دین کو محفوظ کیاہے۔
پھر سورۂ بقرہ کی اگلی آیت(223)میں فرمایا کہ ” تمہاری عورتیں تمہارا اثاثہ ہیں، اپنے اثاثہ کے پاس آؤ جیسے چاہو”۔ اگر عورت کو کھیتی قرار دیا جائے تو اسکے حقوق جانور سے بھی بدتر ہونگے۔ لاہور میں ایک بلی کے بچے پر زیادتی کا شور ہوا تھا لیکن کم سن بچیوں کی شادی اور ان کو اذیت پہنچانے کا خیال کبھی فقہاء کرام اور علماء عظام کے دل ودماغ میں نہیں آیا اسلئے کہ عورت کی اذیت اور اس سے توبہ کرنے کا کوئی سوال نہیں بنتا تھا، حیض کی اذیت محض گند تھا اورشب زفاف سے بچے کی پیدائش تک تقدیر نے اس کی قسمت میں ویسے بھی اذیت ہی اذیت رکھی ہے تو پھر ایک حیض کی اذیت کو گند سے بدلنے میں کیا فرق پڑتا ہے جبکہ حیض ایک گند ہے بھی سہی؟۔ پھر فقہاء نے جماع فی الدبر میں بھی اذیت کا خیال نہیں رکھا بلکہ کسی نے کہا گند ہے اور کسی نے کہا جماع فی القبل میں کونسی پاکی ہے وہ بھی تو پیشاب کا راستہ ہے۔ یہ تو خیال رکھا ہی نہیں کہ عورت کا بھی کوئی حق ہے یا نہیںہے؟۔ واضح آیات پر حلال و حرام میں تفرقے قائم کئے گئے ہیں۔
عربی میں حرث اثاثہ کو بھی کہتے ہیں اور کھیتی کو بھی۔ اثاثہ کا لفظ انگریزی اور اردو میں بھی دونوں معانی کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ سائنس میں عناصر کی صفات کوا ن کا ایسٹ اثاثہ کہتے ہیں۔ عناصر سے ایسٹ کا تعلق دائمی ہوتا ہے اسلئے جب کوئی اپنے قابل بیٹے کو اپنا اثاثہ یا ایسٹ کہتا ہے تو یہ مالی اثاثہ جات کی طرح نہیں ہوتا ہے۔ بیگمات کو بھی اثاثہ اس خاص معنی میں کہا گیا ہے جس سے اولاد کا شجرہ خلد بھی وابستہ ہے اور جنت تک یہ تعلق نیکوکاروں کیلئے بحال رہتا ہے۔
پھر آیت(224)میں اللہ نے اَیمان یعنی عہدو پیمان کا ذکر کیا ہے۔ کوئی عہد کرتا ہے کہ میں مولوی کو دوروپے نہیں دوں گا، پیرصاحب کو شکرانہ نہیں دوں گا اور اس مذہبی طبقے سے لاتعلق رہوں گا یا انکے درمیان صلح نہ کراؤں گا تو پھر علماء ومفتیان اپنے لئے فوری طور پر سورہ ٔ بقرہ کی آیت(224) نکال کر حقیقت واضح کرینگے۔ لیکن جب میاں بیوی کے درمیان صلح کا معاملہ آئے گا تو پھر فقہ کی کتابوں سے مسئلہ کی تلاش شروع کرینگے۔ فقہی مسائل ایک دو نہیں سب کے سب شیطانی القا کا ملغوبہ ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں عورت کی اذیت کو ہی مدنظر رکھ کر واضح کیا ہے کہ مذہبی بہروپیوسے ہوشیار بنو اور مذہب کو ڈھال بناکر یہ فتویٰ مت دو کہ اللہ صلح میں رکاوٹ ہے۔ ظہار کے معاملے میں باطل مذہبی قول صلح میں رکاوٹ تھا تو اللہ نے عورت کو اذیت سے نجات دی۔

NAWISHTA E DIWAR March Ilmi Edition #2. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

Leave a Reply

Back to top button