اسلامی بینکاری ایسٹ انڈیا کمپنی سے بہت زیادہ خطرناک ہے : عتیق گیلانی

کراچی،لاہور، اسلام آبادائیرپورٹس اور موٹروے گروی رکھ دئیے پھر کیاوزیراعظم ، گورنر اور وزیراعلیٰ ہاؤسز، قومی اور صوبائی پارلیمنٹ، سینیٹ ،GHQاورایٹمی پروگرام اسلامی بینکنگ کے تحت عالمی اداروں کے سپرد ہونگے؟
ہمارا پورا نظام ناکام ہے۔ PDMکی روحِ رواں مریم نواز سے حکومت وریاست کو ڈر نہیں مگر کریمہ بلوچ کی لاش سے ڈر لگاتھا اسلئے بہت شرمناک جبری طور پر خفیہ دفن کرنا پڑگیا؟
نوازشریف کے لندن فلیٹ ،رائیونڈ محل اور مفتی تقی عثمانی کے دارالعلوم کراچی سمیت تمام اثاثے ضبط کرکے قومی اداروں کو بازیاب کیا جائے۔ وزیراعظم بنی گالہ گھرکو گروی رکھوا دیں

 

جس طرح برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی نے مغل کی عظیم سلطنت کو شکست دیکر برصغیر پاک وہند کو فتح کرنے میں اپنا کردار ادا کیا تھا ،اس سے زیادہ خطرناک اپنے پاکستان میں نام نہاداسلامی بینکاری ہے۔ براڈ شیٹ کے دھوکہ بازوں سے حکمران شکست کھارہے ہیںتو عالمی مالیاتی اداروں کی گرفت سے کیسے بچ سکیںگے؟ ۔

نوازشریف نے پاکستان کے ائیرپورٹس اور موٹروے کو بھاری سودی قرضوں کے تحت گروی رکھوادیا ہے اور اب وزیراعظم عمران F9پارک اسلام آباد یا کلب کو نام نہاد اسلامی بینکاری کے نام سے گروی رکھنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا یہ کہنا کہ پبلک پارک کے بجائے اسلام آباد کلب کو گروی رکھوانا چاہیے، سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ لگتا ہے۔ اب عوام تالیاں بجائیں گے کہ اسلام آباد کلب افسروں کی تفریح گاہ ہے ،اچھا ہوا کہ پبلک پارک کو بچالیا گیا۔ پھر جس پارلیمنٹ پر لعنت کی گئی تھی اور جس وزیراعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤس کو گرانے کی بات کی گئی تھی اس کیلئے اعلان کیا جائیگا اور لوگ اس کا خیرمقدم کریں گے۔ پھر فضاء ایسی بنائی جائے گی کہ جب پارلیمنٹ اور سول لیڈر شپ ہاؤسز گروی ہیں تو GHQکو بھی گروی رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بہت بڑا کمال سمجھا جائیگا کہ فوج سے بھرپور بدلہ لے لیا گیا۔

پھر ہمارے تمام دفاعی مراکز بشمول ایٹمی ٹیکنالوجی کو بھی آخر کا ر ملک چلانے کیلئے گروی رکھ دیا جائیگا اور جب دینے کیلئے کچھ نہیں بچے گا تو امریکہ کی فوج ہمارے سرکاری مراکز پر قابو پالے گی۔ لوگ کہیں گے کہ انگریز نے ہمارا یہ سول وملٹری پورا اسٹرکچر بنایا تھا ،وہی ان کالی چمڑی والے بلیک انڈین سے بدرجہا بہتر ہیں۔ جب اپنے حریف ہندوستان کے سامنے جنرل نیازی کا ہتھیار ڈالنا مجبوری تھا تو انگریزی سرکار کے قدموں میں اپنی ناک کی نکیل ڈالنے میں کیا حرج ہوسکتا ہے؟۔

مفتی محمد تقی عثمانی کو عام معمولات کے مطابق درست فتویٰ لکھنا نہیں آتا ہے تو اس کو شیخ الاسلام کس قاعدے ،کلیے کے تحت کس اُلو کے پٹھے نے بنایا ہے؟۔کراچی کے تمام بڑے مدارس سمیت ملک بھر کے علماء ومفتیان نے نام نہاد اسلامی بینکاری کے غیر اسلامی اور سودی ہونے پر اتفاق کیا تھا لیکن عالمی قوتیں مفتی تقی عثمانی کو سپورٹ کررہی تھیں۔ دنیا کے چند طاقتور ترین انسانوں کی لسٹ میں اس کا نام ڈالا جاتا تھا۔ جب علماء ومفتیان نے دیکھ لیا کہ ہماری مخالفت کا اس کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے تو مایوس ہوکر بیٹھ گئے۔ عالمی مالیاتی اداروں نے مفتی تقی عثمانی کو جتنا معاوضہ دیا ہے اور اس پر اسلامی بینکاری کے نام سے جو کچھ کمایا ہے وہ سب بحقِ سرکار ضبط کیا جائے اور اس رقم سے پاکستان کے قیمتی اثاثوں کی عالمی مالیاتی اداروں سے جلدجان چھڑائی جائے۔ نوازشریف کے پاکستان اور لندن سمیت دنیا بھر کے تمام اثاثوں کو ضبط کیا جائے اور ان سے بھی پاکستان کے قومی اداروں کو بازیاب کیا جائے۔

جب پرویزمشرف نے پاکستان کے ایک بینک کو اونے پونے فروخت کیا تو عبدالوہاب بلوچ کے بیان کو ہم نے شہہ سرخی بنادیا تھا۔ پھر اسٹیل مل کو بیچا جارہاتھا تو اس کے خلاف شہہ سرخی لگائی تھی جس کے بعد افتخار محمد چوہدری چیف جسٹس آف پاکستان نے ازخود نوٹس لیکر معاملہ رکوادیا تھا۔ عمران خان نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اسٹیل مل کے ہزاروں ملازمین اور اسلام آباد میں زندگی کھپانے والی خواتین ٹیچرز سمیت کتنے لوگوں کا روز گار چھین لیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو احساس اسلئے نہیں ہے کہ دودھ پینے اور سکول جانے والے بچے سمیت اس کے سرپر کوئی بوجھ نہیں ہے اور وہ پھر بھی کہتا ہے کہ میں اپنی تنخواہ سے گزارہ کررہاہوں۔ سوچ لیں کہ جنکے پاس اپنا گھر نہیں ، کرایہ پر رہتے ہیں اور دودھ پینے والے بچے اور ڈلیوری والی بیگمات اور سکول جانے والے بچے بھی ہیں تو انکا چند ہزار میں گزارہ کیسے ہوگا جبکہ وزیراعظم کاتنہا بیگم کیساتھ مشکل سے گزارہ ہوتا ہے؟۔

پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں کہ جہاں کی فوج اور خفیہ ایجنسی عالم اسلام میں نمبر1ہے۔ واحد ایٹمی طاقت ہے۔ بہت کم تنخواہوں پر فوج، پولیس، ڈاکٹر، ٹیچر، ملا ، مجاہد، سیاسی ورکر اور کاشتکار وغیرہ کیلئے ملازم مل جاتے ہیں۔ مفت میں مذہبی گروہ پلتے ہیں، حلالہ بھی کرواتے ہیں ،پیسے بھی دیتے ہیں اور بلیک میل بھی ہوجاتے ہیں۔ اگر اس ملکِ خداداد کا کنٹرول سنبھالا جائے تو عائشہ صدیقی کی کتاب نے دنیا کو یہ بتادیا ہے کہ سب سے منافع بخش ادارہ فوج ہے جو 7یا 10کروڑ روپے پر بھی روڈ کا ٹھیکہ لے لے تو ڈیڑھ کروڑ میں ٹھیکہ دار سے بنوالیتی ہے۔ بلڈنگ اینڈ روڈ کا ٹھیکہ بھی برا نہیں کہ 3کروڑ میں بمشکل فی کلومیٹر اسٹیمیٹ لگاتے ہیںاور ڈیڑھ کروڑ بھی نہیں لگتے ہیں۔ پولیس کے کرائم والے تھانے بھی بھاری قیمت پربکتے ہیں۔

محکمہ ہیلتھ ہو یا جنگلات ، تعلیم ہو یا عدالت بس لوگوں سے پیسہ ہی پیسہ بٹورنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ہر محکمہ میں نوکری کیلئے رشوت، پولیو میں اربوں کا اسکینڈل اور ہر ادارہ عوام کا خون نچوڑ کر وصولی کرنے میں دمادم مست قلندر ہے۔سیاستدان کا تو کوئی مقابلہ بھی نہیں کرسکتا ہے۔ فوجی جرنیل ، عدلیہ کے جج اور اعلیٰ بیوروکریسی کے افسران بھی ملک وقوم کو چونا لگانے میں ماہر پیسہ خوری ہوتے ہیں۔ جعلی ادویات سے بھی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے نام پر بہت کمائی ہے۔ یہ وہ قوم ہے جو کرونا سے بھی مرنے سے بچ جاتی ہے اسلئے کہ آلودہ پانی، جعلی ادویات اورزہریلی غذائی اشیاء نے ان کے معدے کا نظام لکڑ پتھر ہضم والا بنادیا ہے۔ ان کی آنتیں لوہے کی بھی نہیں جو زنگ کھا جائیں بلکہ اسٹیل اور پلاسٹک کی ہیں۔ اس قوم کے جاہلوں کو ہی نہیں پڑھے لکھوں کو بھی پیر ٹھگ لیتے ہیں۔ بینظیر بھٹو اور نوازشریف بھی تنکے والے ننگے بابا سے ڈنڈیاں کھا کھا کر حکومت لینے کی توقع پر پہنچتے تھے ۔ ایاک نعبد وایاک نستعین والا طالبان خان بھی پاک پتن کے مزار پر چوپائے کی طرح کھڑا ہوا، بس ایک دُم نہیں تھی جس کو ہلانا شروع کردیتا۔ پاکستان جیسی قوم پوری دنیا میں کوئی نہیں اللہ پاک کی قسم!

بس جن لوگوں کے ہاتھ میں اقتدار کی باگ ڈور ہے یہ بہت کم عقل ہیں ۔ ان کو عقل ہوتی تو نوازشریف، بلاول بھٹو، عمران خان ، زرداری ، شہبازشریف، پرویز خٹک، امیر مقام، جام کمال……… رہنما ہوتے؟۔ ان زندوں سے کریمہ بلوچ کی لاش بھی زیادہ قابلِ رشک تھی جس سے مضبوط پاکستان نے خطرہ محسوس کیا اور لوگوں کو دکھائے بغیر دفن کردیا۔ حبیب جالب نے کہا کہ ”ڈرتے ہیں بندوق والے اک نہتی لڑکی سے”۔ مگر جب بینظیر اقتدار میں آئی تو جالب کا شعر پسند نہیںآیا کہ” ہربچہ ہے ہزاروں کا مقروض پاؤں ننگے ہیں بینظیروں کے”۔ اگرجالب زندہ ہوتے تو کریمہ بلوچ پراپنے اشعار سے بلوچوں کی نفرت کو پنجاب کی محبت میں بدل ڈالتے۔

Leave a Reply

Back to top button