پاکستان اور اسلامی حدود کے نفاذپر دنیا کے تحفظات!

317
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

یورپ اور دنیا کا دباؤ ہے کہ اسلامی حدود کے نفاذ سے پاکستان پرہیز کرے کیونکہ یہ وحشیانہ ہیں۔ انسانیت کی توہین ہے اور اس سے دور نہیں رہا گیا تو امداد اور تعلقات بند کردیںگے۔ مولوی سمجھتا ہے کہ اللہ نے قرآن میں نبیۖ سے فرمایا : ولن ترضٰی عن الیہود ولن النصارٰی حتی تتبع ملتھم ”اور یہود ونصاریٰ آپ سے کبھی راضی نہیں ہوں گے یہاں تک کہ آپ ان کی ملت کے تابع نہ بن جائیں”۔ اسلئے یہودونصاریٰ اسلام کو پسند نہیں کرتے ہیں۔
دوسری طرف احادیث میں ہے کہ پوری دنیا میں اسلامی خلافت قائم ہوگی اور آسمان وزمین والے دونوں ان سے خوش ہونگے؟۔کیا قرآ ن وحدیث میں اتنا بڑا تضاد ہوسکتا ہے؟۔ اس کا جواب بالکل ٹھنڈے دل کے ساتھ سمجھنا ہوگا۔
قرآن میں مخاطب نبیۖ کی ذات ہے کہ آپۖ سے یہودونصاریٰ راضی نہیں ہونگے۔ یہاں تک کہ ان کی ملت کے تابع نہ بن جائیں۔ یہودونصاریٰ سے مراد ”ان کا مذہبی طبقہ ”اور ان کی ملت سے مراد” ان کا فسخ شدہ مذہب” ہے۔
آج یہودونصاریٰ نے مذہبی طبقے کو کھڈے لائن لگادیا ہے۔ نظامِ حکومت سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ عیسائیوں کے ہاں عورت کو طلاق نہیں ہوسکتی تھی مگر پھر لند ن کے بادشاہ نے ایک مذہبی طبقہ پیدا کرکے اس مذہب سے جان چھڑا دی۔ آج مسلمانوں کی حالت یہود ونصاریٰ کے مذہبی طبقات کی طرح ہوچکی ہے۔ کوئی ان کا فرقہ اور فرقہ وارانہ ذہنیت جب تک قبول نہیں کرتا ،اکثریت ان کی حق باتوں کو بھی قبول نہیں کرتی ہے۔ فرقہ واریت کے علاوہ اسلام کا چہرہ بھی مسخ کیا گیا ہے۔
یہودونصاریٰ اور دنیا کو یہ خوف ہے کہ جب پاکستان سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہوگا۔ تمام مسلم ممالک اس کے گرد اکٹھے ہوجائیںگے تو یہ ہم سے جزیہ بھی وصول کرینگے اور اگر جزیہ نہیں دیا تو جہاد کے ذریعے فتح کرکے ہمارے مردوں کو غلام اور عورتوں کو لونڈیاں بنادیںگے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب اسلامی سزاؤں پر عمل شروع ہوگا تو امن آجائے گا اور مسلمان مضبوط ہوںگے تو ہماری خیر نہیں ہوگی اسلئے کہ جو اسلام کے نام پر اپنی بیگمات کے بھی حلالے کروانے سے گریز نہیں کرتے تو وہ لونڈیوں کے نام پر ہماری بیگمات کو بھی ضرور ریپ کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔ ہمارا فرض بنتا ہے کہ مسخ شدہ اسلام کا صحیح رُخ دنیا کے سامنے پیش کریں لیکن جب تک ہمارے مذہبی طبقات اور عوام اسلام کا درست چہرہ قبول نہیں کرینگے تو ہم ان مشکلات سے نکل نہیں سکتے ہیں۔ وہ لوگ ہمارے دشمن بلاوجہ نہیں ہیں۔ ہم سے بہت خوف کھارہے ہیں کہ اگر ان کو طاقت مل گئی تو ہماری خیر نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فانکحوا ما طاب لکم من النساء مثنٰی و ثلٰث ورُبٰع فان خفتم الا تعدلوا فواحدةً او ماملکت ایمانکم” پس تم نکاح کرو، عورتوں میں سے جن کو چاہو۔دودو،تین تین،چار چار،اگر انصاف نہ کرسکنے کا خوف ہو تو ایک یاجن کامالک تمہارامعاہد ہ (ایگریمنٹ) ہو۔(النسائ:آیت3)
اس کی تفسیر علماء کے نزدیک یہ ہے کہ منکوحہ عورتیں چار تک جائز ہیں لیکن اگر انصاف نہ کرسکنے کا خوف ہو تو پھر ایک یا جو لونڈیاں تمہاری ملکیت میں ہوں۔
معروف صحافی سعداللہ جان برق نے اپنی کتاب”دختر کائنات ” میں لکھا ہے کہ ”سلطنت عثمانیہ کے سلطان عبدالحمید کی ساڑھے چار ہزار لونڈیاں تھیں اور محمد شاہ رنگیلا نے محل کے بالاخانے تک جانے کیلئے سیڑھیوں میں ننگی لڑکیاں کھڑی کر رکھی ہوتی تھیںجن کے سینوں کو پکڑ پکڑ کر وہ سیڑھیاں چڑھتا تھا”۔ عمران خان نے وزیراعظم بننے سے پہلے ریحام خان سے کنٹینر کے زمانے میں خفیہ شادی کی تھی تو بہت بے شرمی سے کہا تھا کہ ” تبدیلی آگئی ہے ، میں شادی کروں گا”۔ میرے بھائی پیرنثار احمدشاہ عمران خان کو محمد شاہ رنگیلا قرار دینے کے باوجود زیادہ مستحق سمجھتا تھا کہ اس کواقتدار مل جائے تو دوسروں سے بہتر ہوگا۔ دوسرے بھائی پیرامیرالدین شاہ کے خیال میں بھی عمران خان اس قو م کا مسیحا تھا۔ ایک بھائی سیاست اور دوسرے بھائی سول سرونٹ کی حیثیت سے بڑی بصیرت اور تجربات کے مالک بھی ہیں تو ہم دوسروں پر الزام نہیں لگاسکتے کہ انہوں نے عمران خان کے بارے میں حسنِ ظن رکھا تھا؟۔ آج لوگ عمران خان کیساتھ ساتھ اس نظام سے بھی مایوس ہوچکے ہیں۔
اگر دنیا ہمارے بارے میں یہ سوچے گی کہ انہوں نے حلالوں کے ذریعے سے اپنی عزتدار خواتین کی عصمتوں کو لوٹاہے اور لونڈی کے ذریعے سے ہمیں کہاں بخشیںگے تو مسلمانوں کے بارے میں ان کے تحفظات بالکل معقول ہیں۔
جب ابھی نندن کے جہاز کو گراکر پاکستان نے پکڑ لیا تو کیا اس کو غلام بناکر کوئی گھر کی خدمت لے سکتا تھا؟۔ مولوی کہتا ہے کہ ماملکت ایمانکم میں جنگ کاہر قیدی شامل ہے۔اگر چہ قرآن میں ماملکت ایمانکم سے مراد غلام اور لونڈی بھی مراد لئے گئے ہیں لیکن جنگ میں گرفتار ہونے کیساتھ یہ الفاظ بالکل بھی جوڑ نہیں کھاتے ہیں۔ غزوہ بدر میں 70قیدیوں کیساتھ کیا سلوک کیا گیاتھا؟۔ ان کی شایانِ شان مہمان نوازی کی گئی۔ صحابہ کرام خود بھوکے ہوتے تھے لیکن زیادہ امیر قیدیوں کو اچھے کھانوں کے علاوہ دودھ بھی پینے کیلئے پیش کیا جاتا تھا۔
جب تک ہم اسلام کا روشن چہرہ دنیا کو نہیں دکھائیں گے ،ہم اسلامی نظام کو لانے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں۔ اسلام نے غلامی کا نظام قائم نہیں کیا ہے بلکہ اسلامی نظام نے غلامی کا نظام ختم کیا ۔ کیا یہ ممکن تھا کہ فتح مکہ کے بعد حضرت عمر حضرت ابوسفیان سے غلام اور اس کی بیگم حضرت ہندہ رضی اللہ عنہا سے ایک لونڈی کی خدمت لیتے؟۔گھر میں ابوسفیان نے حضرت عمر کے عبد(غلام) کی حیثیت سے خدمت کرنی ہوتی اور ہندہ نے اَمة (لونڈی) بن کر رہنا ہوتا؟۔
عوام اور مذہبی طبقات اپنا دماغ کھول دیں۔ قرآن میں اللہ نے آل فرعون کی یہ صفت بیان کی ہے کہ ” وہ بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو ریپ کرتے تھے”۔ اسلام کو اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کی نیابت کو زندہ کرنے کیلئے نازل نہیں کیا۔
لونڈی وغلام کے نسل درنسل اپنے اپنے خاندان ہوتے تھے۔ حضرت زید بردہ فروشوں کی وجہ سے غلام بن گئے تھے ،نسلی غلام نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”جنکے والد کا پتہ ہو تو ان کو والد کے نام سے پکارا جائے۔ جن کے والد کا پتہ نہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور موالات والے ہیں”۔ اسلام نے ان غلاموں اور لونڈیوں کو بہت اہمیت دی۔ آزاد مشرک سے مؤمن غلام ولونڈی کو نکاح کیلئے بہتر قرار دیا۔ اور طلاق شدہ وبیوہ کی طرح غلاموں اور لونڈیوں کا بھی نکاح کرانے کا حکم دیا۔عبد یعنی غلام کے لفظ کو اللہ تعالیٰ کیساتھ خاص کردیا۔ مملوک کا تصور بالکل درست کردیا۔ پہلے غلام ولونڈی کی جان، انکے جسمانی اعضاء اور حرمت سب کچھ آقا کی ملکیت ہوتی تھی اور مالک چاہتا تو ناک کاٹتا، کان کاٹتا، ہاتھ پیر توڑ دیتا۔ جہاں چاہتا فروخت کردیتا۔ لیکن اسلام نے ان کے اسٹیٹس کو بدل دیا۔ گروی کی حیثیت دے دی۔
جنگی قیدی کا حکم ہے کہ ” ان سے فدیہ لیکریا احسان کرکے آزاد کردو”۔ (سورۂ محمد) اسلام نے دنیا کو انسانیت سکھا دی ۔دنیا نے دہشتگرد پیدا کرکے یہ تصور دیا کہ اسلام وحشیوں کا مذہب ہے۔وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ ایک عالمی کانفرنس منعقد کرکے حقائق کو سامنے لانے کا اقدام کریں۔