اسلام آباد عورت آزادی مارچ 2020

398
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

وہ بھیانک دور جب دہشتگرد دندناتے پھرتے تھے اور سرکاری عمارتوں ، گاڑیوں اور شخصیات کے علاوہ مساجد اور امام بارگاہوں کو بھی خودکش حملوں کا نشانہ بناتے تھے۔ لیکن ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالتا تھا۔ عمران خان کھلاڑی نے جب ڈاکٹر طاہر القادری کیساتھ اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا تو ایک طرف جنرل راحیل شریف نے دہشتگردی کے خلاف ضرب عضب آپریشن شروع کیا تھا تو دوسری طرف عمران خان پنجاب پولیس کے گلوں بٹوں کو طالبان کے حوالے کرنیکی دھمکیاں دے رہا تھا۔ اس وقت حیاء مارچ کی نمائندگی ڈاکٹر طاہر القادری کی خواتین کررہی تھیں اور میرا جسم میری مرضی والوں کی نمائندگی عمران خان کا دھرنا کررہا تھا۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے حیاء مارچ کی نمائندگی کرنے کے بعد ایک ضمنی سیٹ کا الیکشن ہارا تو بعد ازاں اس سیاست کو بھی خیر باد کہہ دیا۔ جبکہ میرا جسم میری مرضی والوں کی نمائندگی کرنے والے عمران خان کو پورے پاکستان میں سب سے زیادہ سیٹیں اور ووٹ مل گئے۔ یہ کس کا کرشمہ تھا ؟ لیکن انہی خواتین نے جب پدرِ شاہی نظام کے خلاف علم بلند کردیا تو حکومت ، ریاست ، سیاست اور مذہبی طبقات کی طرف سے ان کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ پی ٹی ایم کا تعلق بھی پی ٹی آئی والوں سے ہی تھا۔ جب کوئی انصاف طلب کرتا ہے تو اس کو ملک دشمن اور اسلام دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ جب ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین روزانہ کی بنیاد پر جرنیلوں کو قبضہ کرنے کی دعوت گناہ دیتا تھا تو اس کی تمام دہشتگردی اور اجارہ داریوں کو برداشت کیا جاتا تھا۔
ہمارا ریاستی نظام امریکہ سے زیادہ کمزور ہے لیکن کوئی واقعہ جب امریکہ کے وائٹ ہاؤس سے صدر ٹرمپ کو بھگا سکتا ہے تو کوئی تحریک ہمارے نظام کو بھی تتر بتر کرسکتی ہے۔ جب جنرل ضیاء الحق کے دور میں بینظیر بھٹو آئی تھیں تو نظام کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ حبیب جالب نے کہا تھا کہ
ڈرتے ہیں بندوق والے ایک نہتی لڑکی سے
عورت آزادی مارچ والوں نے پدرِ شاہی نظام کے خلاف آواز اٹھائی تو ہر طرف سے لوگ اور ان کی جعلی لیڈر شپ انکے خلاف ہوگئی۔ نوشتہ ٔ دیوار کی ٹیم نے ثابت قدمی کے ساتھ ان نہتی خواتین کی حفاظت کا فریضہ پورا کرنے کی کوشش کی جن کو ریاست کی پولیس پر بھی اعتماد نہ تھا۔ درج بالا تصویر میں نوشتہ دیوار کی ٹیم نمایاں ہے جو خواتین پر پتھراؤ کے بعد پریس کلب سے ڈی چوک کی طرف کے سفر میں بالکل ساتھ ہے۔ سید شاہجہان گیلانی ، بلال خان ، علی خان نے بہت جرأت مندی کے ساتھ ظالموں کیخلاف مظلوموں کا ساتھ دیا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید سوشل میڈیا کے ورکر مرد میدان نہیں ہوتے لیکن یہ تصور غلط ثابت ہوا ہے۔
بلوچ نژاد سندھی ہدیٰ بھرگڑی وہی خاتون ہیں جس کی پہلی تقریر امریکہ کے خلاف اور طالبان کے حق میں تھی لیکن وزیرستان میں طالبان کیلئے سب سے زیادہ ایکٹو قوم محسود کے سرنڈر طالبان کو ایک مخصوص لباس پہنا کر پاکستان کا قومی ترانہ گانے پر مجبور کیا جاتا ہے جس پر پاک فوج کو دل کی گہرائی سے سلام پیش کرنا چاہیے۔ کیونکہ یہ بے ضمیر قومی جذبات کا غلط فائدہ اٹھا کر اپنی پشت میں بارود دبا کرملکی اثاثوں اور اپنی عوام کو تباہ کررہے تھے۔ ذیل میں ہم نے شہباز تاثیر اور قاری سعد اقبال مدنی کے بی بی سی پر نشر ہونے والے انٹرویوز بھی دئیے ہیں۔ اسلام کی خاطر قربانی دینے والے طبقات میں اگر درست شعور اجاگر ہو تو پھر بعید نہیں کہ ہماری ریاست ، ہماری سیاست اور ہمارا نظام بھی بدلے اور اس کیلئے صنف نازک خواتین کی طرح صرف اور صرف آواز اٹھانے کی قربانی اللہ کے ہاں قبول ہوجائے۔