لوگوں کیلئے اسلام دین اور مذہب ہے لیکن اسلام پختونوں کی زندگی کا حصہ ہے، نور اللہ ترین

154
0

وزیرستان میں لوگ باجماعت نماز پڑھتے ہیں، تبلیغی جماعت میں سب سے زیادہ ہیں ، لوگوں کے نکاحوں میں اپنی بیگمات ہیں، نائٹ کلب نہیں، عورتیں اور مرد ایک ساتھ نہیں بیٹھتے
نفاذِشریعت کی ضرورت لاہور یا وزیرستان میں ہے؟، باجوڑ میں یا کراچی میں؟۔ تمہارے ہاںچوبیس گھنٹے ہیرا منڈی چلتی ہے، نائٹ کلبوں میں اتنی شراب جتنی ہم لسی نہیں پیتے ہیں!
پنجابی اور سندھی مولوی کہتا ہے کہ وزیرستان میں شریعت نافذ کرو۔ کیا ہمارا قرآن الگ ہے اور تمہارا قرآن الگ ہے یا کوئی اور؟
کراچی پی ٹی ایم (PTM)کے رہنما نے کراچی میں جلسۂ عام کیلئے ایک کارنر میٹینگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ جاؤ، دیکھو،وزیرستان میں لوگوں نے داڑھیاں رکھی ہیں، نماز باجماعت مسجد میں پڑھتے ہیں۔ سینما نہیں ہے کہ لوگ فلمیں دیکھیں، نائٹ کلب نہیں ہیںکہ اس میں عورتین اور مرد ایک ساتھ بیٹھے ہوں۔ لوگوں نے نکاح میں اپنی عورتیں بٹھا رکھی ہیں۔ ہر کسی سے تبلیغی جماعت میں بھی ہم زیادہ ہیں۔ پھر ہم سے کیا شریعت مانگتے ہو۔ میں تو جب سے پیدا ہوا ہوں ، شریعت محمدی سے میرا تعلق ہے۔ ایک بات یہاں ہم کرلیتے ہیں کہ اسلام لوگوں کیلئے دین ہوگا، لوگوں کیلئے مذہب ہوگا مگر پشتونوں کی زندگی کا حصہ ہے۔ پشتون پیدا ہو تو بھی مسلمان ہوگا اور مرے گا تو بھی مسلمان ہوگا۔ ہم سے کیا ہے؟۔ ہمارے اندر تو پہلے سے شریعت ہے۔ لیکن یہ ایک ڈرامہ تھا۔ پنجابی علماء کیا کررہے تھے، سندھی علماء کیا کررہے تھے، یہاں سے بیان دیدیتے تھے کہ وزیرستان کے علماء ٹھیک بات کرتے ہیں۔ شریعت ہے اور اس کا حق بنتا ہے کہ لوگ شریعت کا نظام پختونوں میں نافذکردیں۔ پنجابی علماء بھی یہی کہتے تھے، سندھی علماء بھی یہی کہتے تھے۔ اب ہم ان لوگوں سے کہتے ہیں کہ کیوں مولوی صاحب ! کیا پشتونوں کا قرآن الگ ہے اور تمہارا الگ ہے؟۔تیرے لاہور میں سرِ عام ہیرامنڈی کھلی ہوئی ہے۔ یہ اڈہ چوبیس گھنٹے تم چلاتے ہو۔ تو شریعت یہاں ضروری ہے یا وزیرستان میں ضروری ہے؟۔ شریعت کراچی میں لازمی ہے یا باجوڑ میں ؟۔ نائٹ کلب تمہارے ہیں ڈیفینس میں، تم جاؤ،رات کو لوگوں کو دیکھو۔ ہمارے لوگ خدا کی قسم اتنی لسی نہیں پیتے جتنی لوگ وہاں شراب پیتے ہیں۔ تو بات یہ ہے کہ ڈرامہ تھا۔ شریعت مقصد نہیں تھا ،اگر شریعت مقصد ہوتا تو پھر چاہیے تھا کہ لاہور میں شریعت نافذ ہوتی، چاہیے تھا کہ کراچی میں شریعت کا نفاذ کرتے۔ یہ کیا تھا ڈرامہ تھا۔ شریعت کی بنیاد پر وہاں لوگ بیٹھ گئے اور کام کیا کیا؟
پہلا کام یہ کیا کہ جو تمہارے جرگہ والے لوگ تھے، خان ، سردار، ملک اس کو ذبح کر دیا۔ دوسرے مرحلے میں تمہارے تعلیم یافتہ لوگ وکیل، پروفیسر ، ٹیچر جو قوم کو شعور دے رہے تھے۔ قوم کو سمجھ وآگہی دے رہے تھے ۔ ان کو قتل کر دیا۔ آخر میں سڑک کو بموں سے اُڑا دیا، سکولوں کو بموں سے اُڑا دیا، اس کا شریعت سے کیا کام تھا؟۔
صرف اس بات سے ہمارے جوانوں کے سر کاٹ دئیے گئے کہ قمیص کا کالر جو تم نے کپڑے پہنے ہیں یہ شریعت کے مطابق نہیں ہیں۔ اس بنیاد پر بھی ہمارے پشتون جوانوں کے سر کاٹ دئیے گئے۔
راتوں کو بڑے بالوں والے آجاتے تھے انہوں نے پگڑیاں سروںپر باندھ رکھی ہوتی تھی، کلاشنکوف ساتھ ہوتے تھے۔ وہ ان کے گھر میں آجاتے تھے کہ ہمیں رات کو رکھوگے اور کھانا بھی دوگے۔ وہ بیچارا اکیلا ہوتا تھا، انکے ساتھ بال بچے، مائیں بہنیں ہوتی تھیں۔ بھائی ہوتے تھے اور یہ بلائیں ان کے ہاں آجاتے۔ پھر جب یہ چلے جاتے تو صبح فوجی آجاتے کہ تم ہی طالبان کو کھانا دیتے ہو؟۔ اگر طالبان کو روٹی دیدیتے تو فوجی مارتے اور اٹھاتے اور اگر نہیں دیتے تو طالب قتل کرتے اور یہ دونوں آپس میں حقیقت میں ایک تھے، صرف ہمارے علاقہ کیلئے چال بنایا تھا۔ اب پھر جب اس کے نتیجے میں ہمارے پشتون کراچی آگئے۔ یہاں ہم نے زندگی شروع کی تو ہمارے ساتھ کیا سلوک تھا؟۔ ہمیں پولیس اور رینجرز نے ستایا۔ کبھی ایم کیو ایم کو ہمارے لئے بلا بنادیتے تھے اور کبھی کسی اور کو۔ کتنے جنازے ہونگے جو تمہارے سلمان خیل قبیلے میں پہنچے ہوں گے؟۔ یعنی پشتونوں کے ہاں کوئی ایسا قبیلہ ، کوئی گاؤں اور کوئی گھر ایسا نہیں رہا جہاں لاش نہیں پہنچی ہو۔ تمہارے اربوں روپے کی جائیداد انہوں نے جلا ڈالیں۔ اور یہ کام کتنا عرصہ چلا؟۔ بارک خان 20 سال تک تو مسلسل یہ کام چلا ہوگا نا؟۔
مطلب یہ ہے کہ مسلسل مگر اب ہم پوچھتے ہیں اس دوران پاکستان کی آئی ایس آئی کہاں تھی۔ ایم آئی کہاں تھی؟۔ پولیس کہاں تھی، رینجرز کہاں تھی؟۔ انٹر نیشنل شہر میں ایک ایک دن میں سو سو( 100،100) پشتون قتل ہورہے تھے۔ اربوں روپے کی جائیداد یں لوگ ہماری جلا رہے ہیں۔ اور میں نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے۔ میرا خوار غریب پشتون ہوٹل میں مزدوری کرتا ہے کوئی ڈمپر چلاتا ہے۔ کوئی نسوار بیچتا ہے۔ ان خوار غریب لوگوں کو دن دیہاڑے قتل کیا جارہاتھا، پھرادارے ہمیں دیکھ رہے تھے۔یہ اسلام کے نام پرجو اس ملک کو بنایا ہے ، یہ سب ہمیں کو دیکھ رہے تھے۔ پنجابی، سندھی ، بلوچ ہمیں دیکھ رہے تھے یہ سب ہمیں دیکھ رہے تھے۔یہ ادارے ہمیں دیکھ رہے تھے۔ ہمارا کسی نے پوچھا تک نہیں ہے۔ کسی نے بھی نہیں پوچھا کہ ان انسانوں اور مسلمانوں پر یہ ظلم کون کرتا ہے؟۔پھر راؤ انوار پیدا ہوگیا۔ راؤ انوار 19سال تک مسلسل بیٹھا رہا۔ ملیر کے ضلع میں۔ اس نے پھر ہلاکو خان اور چنگیز خان کی یادیں تازہ کردیں۔ ایک معمولی سا ایس ایس پی اور اسکے پاس اتنا بڑا پاور؟۔ اربوں روپے سہراب گوٹھ میں بھتے وصول کرتا تھا، ریتی والوں سے بھتہ لیتا تھا۔ وہ دکانوں پر قبضے کرتا تھا۔ مختلف لوگوں کو اس نے چھوڑ رکھا تھا۔ وہ پھر اتنا بدمعاش بن گیا کہ سرعام کہا کرتا تھا کہ پشتون ، پشتون میں خاص کر محسود میرے لئے اے ٹی ایم (ATM )کارڈ ہیں۔ جب ہمیں پیسوں کی ضرورت پڑتی ہے تو محسود کو اٹھالیتے ہیں۔ پھر اس کو کہتے ہیں کہ پیسے دیتے ہو یا طالبان کے ساتھ تجھے فٹ کردیں؟۔ یہ واقعات اس نے بہت کئے۔ ایک نہیں، دو نہیں، تین نہیں سینکڑوں لوگوں کو اس نے اٹھایا تھا۔ جو پیسے دیتا تھا تو وہ جان چھڑالیتا تھا اور اگر پیسے نہ دیتا تھا تو اس کو سپر ہائی وے پر لے جا تے اور قتل کردیتے۔ تھوڑے سے لمحہ کے بعد راؤ انوار نے کلاشنکوف اُٹھایا ہوتا تھا، جیکٹ پہنی ہوتی تھی۔ اور اعلان کردیتا تھا کہ اس کا فلاں کالعدم تنظیم سے تعلق تھا، اس کا ڈرائیور تھا، اسکے ساتھ یہ یہ تعلق تھا۔ اور قصہ ختم جوجاتا تھا۔ یہی پشتون پھر اپنے مردے کی لاش کو تین لاکھ چار لاکھ اور پانچ لاکھ میں اٹھاتے۔ چپکے سے رشوت نہ دیتے تو وہ لاش بھی حوالے نہیں کرتے تھے۔ اور دھمکی دیتے تھے کہ ہم رپورٹ کردیتے ہیں، یہ تو دہشت گرد تھا، یہ طالبان کا آدمی تھا، اچھا آپ اسکے چچازاد بھائی ہو، اسکے بھائی ہو تو بیچارہ پھر ڈرتا تھا اور چپکے سے پیسے دیتا تھا۔ ایک مرتبہ ہمارا بھائی ناکے پر مار دیتے تھے اور پھر اپنے بھائی کی لاش کیلئے پانچ لاکھ رشوت بھی دیتے تھے۔ راتوں رات اس کو وزیرستان لیجاتے تھے۔ یہ ہماری زندگی تھی۔ہمیں سب دیکھ رہے تھے کوئی ایک بھی پاکستانی مسلمان نظر نہیں آیا جس نے ہم پشتونوں کے سر پر ہاتھ رکھا ہو،کہ ان انسانوں اور مسلمانوں کیساتھ یہ ظلم کیوں کر رہے ہو۔ آخر انکا گناہ کیا ہے؟۔سب خاموش تھے۔ پھر ایک وقت آیا کہ نقیب کو شہید کردیا۔ راؤ انوار کے ہاتھوں۔ اس سے پہلے زیادہ طاقتور جوانوں کو مارا تھا مگر ہم میں ہمت نہیں تھی۔ اس سے زیادہ خوبصورت جوانوں کو مارا ۔ میں خود یہ کہتا ہوں کہ ہماری کسی ایک ماں یا بہن کی آہ کو خدا نے قبول کیا ہوگا ۔یہ اتنے مظالم ہم پر ہوئے تھے اسلئے راؤ انوار گرفت میں آیا۔ تم میرے گھر پر کالے چشمے اور سادے کپڑے پہن کر آجاتے ہو اور میرا بھائی یا بھتیجا اُٹھالیتے ہو اور چار پانچ ماہ تک مجھے پتہ نہیں چلتا ہے کہ کس جرم پر تم نے اس کو اٹھایا ہے۔ کس تھانے میں لے گئے ہو۔ اس طرح سے مت کرو، اگر میرے بیٹے، بھائی یا بھتیجے نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اس کو عدالت میں پیش کردو۔ہم کہتے ہیں کہ اس کو قرار واقعی سزا دیدو ۔ لیکن یہ مت کرو کہ نہ کوئی عدالت ہے اور نہ کوئی چیز ہے۔ کئی مہینے سے آپ نے غائب کیا ہے ، ہم سب روتے ہیں، مائیں بہنیںرورہی ہیں اور چار پانچ ماہ بعد پھر اسکی ایک جگہ لاش پڑی ہوتی ہے اور تم نے اس کو مارا ہوتا ہے یہ کونسا ڈرامہ ہے کہ شناختی کارڈ دکھاؤ۔ اور جب شناختی کارڈ دکھاؤ ،یہ تو وزیرستان کا ہے۔ یہ تو باجوڑ کا ہے ۔یہ تو چمن کا ہے۔ یار تمہارے نادرا والے نے دیا ہے ۔ اس کو میرے باپ نے تو نہیں بنایا ہے۔ یہ تمہارے پاکستان کا ادارہ ہے نادرا۔ میں پاکستانی ہوں۔ میں وزیرستان کا ہوں یا کراچی کا ہوں، مجھے فخر ہے وزیرستان پر، میرا وطن وزیرستان ہے۔یہ شناختی کارڈ کے بغیر بھی نہیں چھوڑتے اور اگر تمہارے پاس شناختی کارڈ نہ ہو توپھر واللہ ایک لاکھ روپے سے بھی جان نہیں چھڑا سکتے ہو۔ تیرے محلے میں سرکاری سکول نہیں ، کوئی سرکاری ہسپتال تمہارے محلے میں نہیں۔ کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ بھی چھوڑیں کہ ان سہولیات سے محروم ہیں۔ بدلے میں کیا دیا ہے ۔ تمہاری گلی چرس کا اڈہ ہوگاشراب کا اڈہ ہوگا۔ چور کھلم کھلا گھومیں گے۔ میرا اور آپ کا نسل جب ہسپتال نہیں، سکول نہیں، خوبصورت پارک نہیں ہے۔کوئی سینٹر نہیں ہے۔ سائیڈ پر چرس ، ہیروئن اور شراب کے اڈے بنائے ہیں۔ ہماری نئی نسل جو پنپ رہی ہے۔ان سے کیا بنے گا چور اور دہشت گرد بنیںگے۔ معمار میں ہم ایک پارک میں گئے ، جسکی چاردیواری بھی نہیں تھی۔اس میں فیملیاں بیٹھی ہوئی تھیں، بچے تھے۔ ہم نے کیک کاٹا ، زندہ باد اور مردہ بعد کچھ بھی نہیں کہا تھا۔ کسی منظم انداز میں بھی ہم نہیں گئے ، چند دوستوں کی ذاتی شوق سے ہم گئے۔ کیک کاٹا تو بچے بھی آئے۔ ہم نے ان کو بھی کیک دیا اور دوسری فیملیاں بیٹھی ہوئی تھیں، انہوں نے بھی کیک منگوایا۔ وہ اردواسپیکنگ تھے کہ خانصاحب ہمارے لئے بھی تھوڑا سا کیک بھیجو۔ کیک بہت بڑا تھا۔ بحرحال ہم نے سب کو کیک دیدیا۔ پھر بھی تھوڑا سا رہ گیا۔ اس میں پولیس کی انٹیلی جنس آئی۔ انہوں نے بھی ہمارے ساتھ کیک کھایا۔ انہوں نے کہا کہ کیا پروگرام تھا۔ ہم نے کہا کہ کوئی پروگرام نہیں تھا ویسے ہی آئے تھے شغل کیلئے اپنی طبیعت سے۔ کیک کاٹا اور کھالیا ۔ انہوں نے بھی ساتھ میں کھایا اور کہا کہ ٹھیک ہے مہربانی۔ جب ہم تھوڑا دور گئے تو اس طرف سے پولیس آگئی اور ہم پرکلاشنکوف ، پسٹل تھامے اور بلٹ جلد سے چیمبر کردئیے۔انکا یہ طریقہ کار۔ ہم نے کہا کہ بابا کیا مسئلہ ہے ۔خداخیر کرے یہ تم کیا کررہے ہو۔ پھر یہ کونسا طریقہ…