اسٹیبلیشمنٹ اورجمہوریت کی لڑائی میں آخری منزل!

388
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ایمان کیلئے دو چیزیں ضروری ہیں۔ ایک اقرار باللسان دوسری تصدیق بالقلب۔یعنی زبان سے اس کو تسلیم کرنا اور دل سے اس کی تصدیق کرنا۔
رسول اللہ ۖ کے دور میں اعرابی عرب نے اسلام قبول کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قالت الاعراب آمنا قل لم تؤمنوا ولٰکن قولوا اسلمنا ”اعرابیوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے ۔ کہہ دیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ کہو کہ ہم نے اسلام قبول کیا”۔ قرآن میں اعرابیوں کے حوالے سے کئی آیات میں کہیں فرمایا کہ ”کفر اور نفاق میں اعرابی بہت سخت ہے جو اردگرد اور اہل مدینہ میں سے ہیں”۔ کہیں فرمایا کہ ” اعراب میں سے وہ بھی ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں”۔ عرب ادب کی کتابوں میں ایک مشہور لطیفہ ہے کہ ”امام نے جہری نماز میں وہ آیت پڑھی جس میں ان پر تنقید ہے تو ایک اعرابی مقتدی نے ڈنڈا مارا ۔ پھر امام نے وہ آیت پڑھی جس میں اعرابیوں کی تعریف ہے تواعرابی نے کہا کہ ڈنڈے نے تجھے سیدھا کیاہے”۔ سوال یہ ہے کہ اعرابی کی نماز ڈنڈا مارنے سے ٹوٹتی یا تائید کا جملہ کہنے سے؟ لیکن اس بحث کی ضرورت نہیں ۔ اچھے اعرابی بن جا یئے۔
70سالوں میں ہمارے فوجی حکام اور جمہوری اعرابیوں نے اس ملک کے ساتھ جو کچھ کیا ہے تو یہ دونوں طبقے اعرابی تھے۔ ان دونوں میں اچھی بری دونوں قسم کی صفات تھیں۔ کبھی مارشل لائی جمہوریت تھی تو کبھی جمہوری مارشل لاء تھا۔جب قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالا تو ساری اپوزیشن جیل میں تھی اور جمہوری لیڈربغاوت کے مقدمات کا سامنا کررہے تھے۔اگر جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء نہ آتا تو ہوسکتا تھا کہ ولی خان ، بزنجواور حبیب جالب وغیرہ سب پھانسی کے تختے پر لٹکادئیے جاتے۔ جنرل ایوب اور جنرل ضیاء الحق کی صحبت میں سیاست کے داؤ وپیچ سیکھنے والی بھٹو کی پیپلزپارٹی اور نوازشریف کی مسلم لیگ ن کس طرح جمہوری ذہنیت رکھ سکتے تھے؟۔ جبکہ رسول اللہ ۖ کے دورمیں اعرابی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ الاعراب اشد کفر ونفاقًا ”اعرابی کفر اور نفاق میں بہت سخت ہیں ”تو جنرل ایوب خان سے لیکر جنرل ضیاء الحق ، جنرل بیگ سے لیکر پرویزمشرف تک اور جنر ل اشفاق پرویز کیانی سے لیکر جنرل قمر جاوید باجوہ تک فوجی حکام اور ان کے رفقاء کار جمہوری پارٹیوں کے قائدین کا کیا کہہ سکتے ہیں؟۔ ان میں ضرور اچھے اچھے لوگ بھی ہونگے لیکن نماز پڑھانے والے امام کو معقول تنخواہ اور ڈنڈا رسید ہوگا تو وہ دوسری طرح کی آیت پڑھنے پربھی مجبور ہوں گے۔
سیدھی بات یہ ہے کہ فوجی حکام اور جمہوری پارٹیوں دونوں کا مزا نہیں ہے۔ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔ جنہوں نے ملک کو کھالیا ہے وہ اصولوں کی نہیں مفادات کی جنگ لڑرہے ہیں۔ہاتھیوں کی لڑائیوں میں ملک کے غریب طبقے کا نقصان نہ ہو، جن کو اپنی دو وقت کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہیں ملتی۔ اپوزیشن کی موجودہ تحریک میں کھانے کے دانت نوازشریف اور دکھانے کے مولانا فضل الرحمن ہیں۔ ہمارے ہاں کوئی ڈھکے چھپے نہیں کھلے ڈھلے گیم کھیلے جاتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے پرویزمشرف دور میں پختونخواہ کی حکومت سنبھال رکھی تھی۔ اس وقت این جی اوز دکھانے کے دانت تھے اور بلیک واٹر کھانے کے دانت تھے۔ بیرون ملک سے پاکستان بہت بڑی امداد آئی تھی۔ سندھ کراچی ، بلوچستان، خیبر پختوانخواہ اور پنجاب پورے پاکستان کا حلیہ تبدیل ہوگیا۔یہ پرویزمشرف کا کمال نہ تھا بلکہ غیرملکی ایجنڈے پر پختون قوم کو تباہ کرنے کی قیمت تھی۔ محمود خان اچکزئی کی بات سوفیصد درست ہے کہ بلوچ، سندھی اور پنجابیوں سے گلہ ہے کہ ہمارے پشتون قوم کو تباہ کرنے کی قیمت ریاست وصول کررہی تھی ۔ چیچن ،ازبک اور عرب دہشت گرد بسائے گئے اور پختونوں کی لیڈر شپ، گھر بار اور علاقے تباہ کئے گئے اور کسی نے پشتونوں کے حق میں کسی بڑے شہر میں مظاہرہ نہیں کیا۔ بہت بجا بات ہے لیکن اس وقت تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو ہمیں یاد ہے کہ متحدہ مجلس عمل کی اپیل پر MQM نے کراچی میں مظاہرہ ازبک چیچن کے حق میں کیا۔ قاضی حسین احمد نے بھی الطاف بھائی کا بڑا شکریہ ادا کیا تھا۔ اس دور میں مولانافضل الرحمن سمیت سب نے پختون کے خون سے آنے والے مال ودولت میں اپنا منہ گندہ کیا تھا۔ پورے پاکستان میں اس دور کے اندر بہت ریکارڈ ترقی ہوئی ہے۔ اگر ہمارے فوجی حکام اور سیاستدان وہ پیسہ بیرون ملک منتقل نہ کرتے اور اپنی ذات پر لگانے کے بجائے ملک وقوم ہی پر لگاتے تو پختون کا خون بھی معاف ہوتا۔ سب سے زیادہ قربانی میرے گھر کے خون سے ہوئی ہے۔ میں نے اپنے اخبار ضربِ حق میں اس بات کی مخالفت کی تھی کہ بڑی سازش کے تحت بمباری کرکے قبائلی مجاہدین کا کیمپ تباہ کیا گیا جب کہ بالکل قریب میں ازبک کا کیمپ چھوڑ دیا گیا۔ جس کا انکشاف گورنر خیبر پختونخواہ جنرل اورکزئی نے جمعیت علماء اسلام کے مولانا عصام الدین محسود کے سوال پر جواب میںکیا تھا۔
جب فوج کہتی ہے کہ ”ہم جمہوریت کو سپورٹ کرتے ہیں ” تو زبان کی حد تک بھی جو مارشل لائی نظام کی تائید نہیں کرسکتے تو مدعی سست گواہ چست کی حماقت کرنے والے ٹاؤٹ اگر تنخواہ دار نہیں تو اپنی بکواس سے باز آجائیں۔ سب سے بڑا نقصان فوج کو وہی پہنچارہے ہیں جو سب سے زیادہ حمایت کا دم بھرتے ہیں۔ صحافی وہ بھی کہلاتے ہیں کہ اگر ابھی اپنا بیانیہ پیش کرنا چاہیں تو بڑی بے شرمی سے کہہ سکتے ہیں کہ جنرل قمر باجوہ بے چارے تو ایکسٹینشن کے حق میں نہیں تھے۔ یہ تو پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے مجبور کیا کہ اگلا جرنیل کوئی خر دماغ بھی ہوسکتا ہے جو مارشل لاء کے نفاذ سے بھی دریغ نہ کرے اسلئے مدتِ ملازمت بڑھادی۔ جمہوری حلال زادے جو حرام کا نمک حلال کرنے کیلئے بکتے ہیں وہ نوازشریف سے پیسہ لیکر یہ کہہ سکتے ہیں کہ فوج نے ن لیگ کے رہنماؤں کو اسلئے لندن بھیج دیا تھا کہ نوازشریف جنرل باجوہ کے ایکسٹینشن کی حمایت نہ کریں تو وہیں پر ڈاکٹر عمران فاروق کی طرح دو چار اینٹ مارکر ٹھکانے لگادینا۔جس طرح پارلیمنٹ میں لندن کے فلیٹ کی جھوٹی کہانی پڑھنے پر جنرل شریف اور بعد ازاں جنرل قمر جاوید باجوہ نے عدالت میں قطری خط لکھنے اور پھر واپس لینے پر نوازشریف کو مجبور کیا تھا۔ عوام سب جھوٹ کو سمجھ رہی ہے۔
طالبان و بلیک واٹر کی شکل میں ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور کی بلا بہت مشکل سے اس قوم کے سر سے ٹل گئی تو اب داعش اور طالبان کے نام پر ایک اور مژدہ سنایا جارہاہے۔ شیعہ سنی، مہاجر سندھی ، بلوچ پشتون، سرائیکی پنجابی اور فوجی جمہوری جنگ وجدل کے علاوہ عورت اور مرد کے درمیان بھی تعصبات بڑھ رہے ہیں۔ محسن داوڑ کی باجوڑ میں جماعتِ اسلامی کے نوجوانوں کی طرف سے بے عزتی مہمان ہی کی نہیں میزبان کی بھی بے عزتی تھی، اسلام ہی کی نہیں پختون قوم کی بھی بے عزتی تھی۔ مسلمان ہی کی نہیں انسان کی بھی بے عزتی تھی۔ جماعتِ اسلامی کا یہ بڑاخراب ٹرینڈ ہے۔ جب عمران خان کو پنجاب یونیورسٹی میں الف ننگاکرنے کی خبریں تھیں تو جماعتِ اسلامی پنجابی رہنماامیرالعظیم نے اسلامی جمعیت طلبہ کی مذمت کی لیکن جماعت اسلامی کے پختون رہنما ؤں میں یہ اخلاقی جرأت بھی نہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ”پیسہ آگیا ہے” تو پیسہ کیلئے سب ہوتا ہے۔ مولانا محمد خان شیرانی نے اس خطے اور اسلام کو عالمی قصاب خانہ بنانے کی وضاحت کردی۔
اللہ کا شکر ہے کہ قاتلانہ حملوں میں دونوں قائدین بال بال بچتے رہے ہیں۔ دونوں نے سیاسی میدان میں اتنا کچھ کمالیا ہے کہ مینڈک تو ایک موسم سے دوسرے تک اپنی چربی پر گزاراہ کرتا ہے مگر یہ لوگ زندگی بھربسہولت گزر بسر کرسکتے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اتنے بڑے بڑے فنڈز قوموں کو خریدنے کیلئے بیرون ملک سے آتے ہیں، البتہ افغان حمایت جہاد سے بہت لوگ گنگا میں نہائے اور طالبان مخالف فساد میںبہت لوگ جمنا میں نہائے۔ آنے والی سونامی میں پوری قوم کو ڈبونے کا کام بھی ہوسکتا ہے ۔جب مولانا فضل الرحمن کو نیب کا نوٹس ملااور آرمی چیف سے ملاقات کی خبر آئی تو 500ارب ڈالرز کی قسطوں کے معاملے سے پردہ بھی اُٹھادیا۔
صحافت کی دنیا میں حامدمیر گل سربد کی حیثیت رکھتا ہے۔ مفتی نظام الدین شامزئی کے حوالے سے روزنامہ اوصاف اسلام آباد میں انکشاف کیا تھا کہ” رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے ذریعے واشنگٹن امریکہ سے جہادی تنظیموں کو ڈالر آرہے ہیں جو علماء کرام کو خریدتے ہیں۔ اگر یہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے تو ہم چوراہے کے بیچ میں بھانڈہ پھوڑ دیںگے”۔ حامدمیر نے لکھا تھا کہ ” اگر واقعی یہ لوگ باز نہیں آئیں تو بھانڈہ پھوڑ دینا چاہیے”۔ وسیم بادامی کا معصومانہ سوال یہ ہے کہ جب پیسہ آرہا تھا تو بھانڈہ پھوڑنے نہ پھوڑنے کا کیا تُک بنتا تھا، پھوڑ ہی دینا چاہیے تھا۔ اگر علماء کو نہ خریدتے تو صحافیوں کو بھی خرید سکتے تھے؟۔ پھر حامد میر نے PTVکے ایک چینل ATVپر پیپلزپارٹی کی آخری دورِ حکومت میںانکشاف کیا کہ” بینظیر بھٹو نے امریکہ کے کہنے پر طالبان جنرل نصیراللہ بابر کے ذریعے بنائے تھے”۔ ہوسکتا ہے کہ اسی دباؤ کے نیچے زرداری نے اشفاق پرویز کیانی کو ایکسٹینشن بھی دی ہو۔ صحافیوں سے لیکر سیاستدانوں ،جرنیلوں ، مجاہدین اور علماء تک کس کس پر اعتماد کیا جائے؟۔
صحافت کا شعبہ کرائے اور غلط وکالت کرنے کا نہیں ۔قوم کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچانے کیساتھ سب سے زیادہ نقصان بھی صحافت سے پہنچتا ہے۔ ماضی میں جنگ کا دعویٰ تھا کہ وہ حکومتیں گرانے اور قائم کرنے میں بنیادی رول ادا کرتا ہے۔ جنگ اور جیو نے جتنی مار فوج سے کھائی ہے تو اس سے زیادہ فوج کو نقصان پہنچایاہے اور اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ جھوٹا نواز بھی ریاست کا شوہر بنتا جارہاہے۔
میں سچ بولوں گی اور ہار جاؤں گی وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کردے گا
کرپشن کے حوالے سے ن لیگ کے قائد نوازشریف پر عوام، سیاسی قیادت، صحافت، پارلیمنٹ اور عدالت سب گواہ ہیں، جنرل ضیاء الحق سے لیکر جنرل قمر باجوہ کو ایکسٹینشن دینے تک اس کا ماضی اور حال سب کے سامنے ہے ۔ ماڈل ٹاؤن میں چودہ بندوں کے قتل سے آصف زرداری کا پیٹ چاک کرکے سڑک پر گھسیٹنے اور چوک پرلٹکانے کے بیانات تک اور مولاناطارق جمیل سے ملاقات اورمولانا فضل الرحمن سے لاہور میں نوازشریف ، شہباز شریف اور مریم نواز کی طرف سے ملاقات سے گریز کرنے تک اسکے پلیٹ لیٹس کے اُتار چڑھاؤ کا سارا DNA معلوم ہے۔ مؤمن ایک سوراخ سے دودفعہ نہیں ڈسا جاتا ہے ۔ اگر مولانا فضل الرحمن اسلام آباد کے دھرنے میں گلہ کرتے کہ جمعیت کے کاروان نے کراچی سے لاہور تک سفر کیا ۔
ہم چھالے چھالے پیروں ان سے ملنے آجاتے ہیں
وہ پھولوں جیسے ہاتھوں ہم پر پتھر برساتے ہیں
مولانا فضل الرحمن کو پیپلز پارٹی نے سندھ میں چھوڑ کر رخصت کردیا تھا اور ن لیگ نے لاہور میں بھی ملنا گوارا نہیں کیا ۔ اسفند یار ولی خان مولانا کی آمد سے پہلے اسٹیج پر تقریر کرکے چلے گئے۔ البتہ محمود خان اچکزئی نے اول سے آخر تک اسلام آباد میں بھرپور ساتھ دیا۔ عربی میں مچھلی اور گوہ کے تضاد کو ضرب المثل سمجھا جاتا ہے۔ اسلئے کہ مچھلی پانی سے نہیں نکلتی اور گوہ خشکی میں رہتی ہے۔ بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام کا بہت بڑا اسٹیک ہے۔ محمود خان اچکزئی اگر حکومت میں ہوتے تو جمعیت کو باہر رکھتے اور جمعیت حکومت میں ہوتی تو اچکزئی باہر ہوتے۔ اس دفعہ دونوں مرکز اور بلوچستان حکومت سے باہر ہیں۔
اگر اگلے الیکشن میں مولانا فضل الرحمن مرکز اور اچکزئی صاحب بلوچستان کے اقتدار پر آجائیں تو امید ہے کہ سارا جوش و خروش ٹھنڈا پڑ جائے گا۔ آرمی نے بین الاقوامی بلا سے بچنے کیلئے یہ قربانی دی کہ طالبان سے امریکہ کو مروانے کیلئے چھوڑ دیا جس کی وجہ سے پوری ریاست یرغمال بن گئی۔ پشتون قوم تباہ ہوئی ۔ ملک کو بڑی سطح پر اقتصادی اور اخلاقی نقصان پہنچا۔ جب تک عمران خان آرمی کے خلاف بھرپور طریقے سے بولتا نہ تھا تو لوگوں کو اس پر اعتماد بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ ایم کیو ایم پر جناح پور کے الزام لگاکر ان کی قوت کو کراچی میں پاش پاش کیا گیا لیکن پھر الطاف بھائی کی جماعت کراچی اور ملک کی ایک مضبوط قوت بن گئی۔ ہمارا مدعا یہ ہے کہ قرآن مسئلے کا حل ہے اور سنت اس کا عملی نفاذ ہے۔ دنیا ہمیں تباہ کرنے پر تلی ہے ۔اس سے بچنے کا واحد راستہ اسلام کا حقیقی چہرہ عوام اور دنیا کو دکھانا ہے اور بس۔ سید عتیق الرحمن گیلانی