امام عبید اللہ سندھیؒ کے نام پر’’فکرشاہ ولی اللہ‘‘ تنظیم کی گمراہی اور قرآن و سنت کی درست تعبیر: تحریر عتیق گیلانی

1172
0

shah-wali-ullah-fikr-e-waliullah-ubaid-ullah-sindhi-londi-muta-nikah-agreement-zina-biljibr-haq-e-meher

مولاناعبیداللہ سندھیؒ کو امام انقلاب تھے ، انکے بعض افکار سے اتفاق اور بعض سے اختلاف ہے۔ انہوں نے انقلاب کی کوشش کی ہے۔ کسی بات کا معقول جواب نہ ہو تو علماء اور مذہبی طبقہ گمراہی کا فتویٰ لگاتا ہے۔ مولانا سندھیؒ جید عالم تھے مگر آپ نے علماء و مذہبی طبقے کو ناقابلِ اصلاح و سخت الفاظ سے نوازا۔
مولانا سندھیؒ نے لکھا: ’’ شریعت میں بھائی سے بھی اپنی بیوی کا پردہ کرایاجاتاہے ، ہندوستان میں رائج پردہ شرعی نہیں۔ یہ ریاو شرفاء کا پردہ ہے جو خود کو عوام سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ ان کی خواتین بھی عام خواتین سے بدتر ہیں جن کو یہ جھوٹا زعم و تکبر ہے کہ ہم عوام پر فوقیت رکھتے ہیں، عوام کیلئے رائج پردہ ممکن نہیں۔ یہ پردہ غلط ہے۔ جس قوم میں یہ پردہ رائج ہے ان میں زنا کے بجائے لواطت رائج ہے۔ زنا منع ہے مگر غیرفطری نہیں، لواطت صرف منع اور غیر فطری بھی ہے، اسلئے نام نہاد پردے کا تصور ختم کردینا چاہیے۔( تفسیرالہام الرحمن: مولاناعبیداللہ سندھیؒ )
مولانا سندھیؒ نے قرآن و اسلام کا حکم نہیں، اپنی ہی منطق بیان کی ہے۔ ایک جماعت ’’ فکر ولی اللّٰہی‘‘ کے نام سے مولانا سندھیؒ کی منطق پر کام کررہی ہے۔ ان کو گلہ ہے کہ’’ عتیق گیلانی اور اسکے ساتھی علماء کیخلاف سخت لہجہ استعمال کرتے ہیں مگر علماء ان پر فتویٰ نہیں لگاتے ہیں جبکہ ہم انکے ہیں، ہم پر کفرو گمراہی کا فتویٰ لگاتے ہیں‘‘۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’میری امت گمراہی پر اکٹھی نہیں ہوگی‘‘۔ علماء کرام و مفتیانِ عظام اُمت کی اجتماعی ضمیر کی سب سے بڑی آواز ہیں۔سید مودودیؒ ، مولانا سندھیؒ ، غلام احمد پرویزؒ اور دیگر نابغۂ روزگار ہستیاں رہی ہیں لیکن علماء و مفتیان نے انکی گمراہانہ ذہنیت کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔
رسول اللہﷺ پر ہی وحی کا سلسلہ ختم ہوا، غلطیاں انسان سے ہوتی ہیں اور غلطیوں کی وجہ سے اسکے مقام اور مرتبہ پر بھی کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ حضرت آدمؑ کو جس شجرہ کے قریب جانے سے منع کیا تھا کہ ’’ بھوکے ننگے نہ ہوجاؤ‘‘ اور شیطان نے ہمیشہ والے اور نہ ختم ہونے شجرہ کا بتایا تو حضرت آدمؑ نے مغالطہ کھایا اور جنت سے نکالے گئے مگر ان کے مقام پر اثر نہیں پڑا۔ خلیفۃ الارض کا منصب پہلے سے متعین تھا اور اللہ نے وہاں پہنچادیا۔
مولانا سندھیؒ نے لکھا :’’ قرآن وسنت میں جن غلاموں و لونڈیوں کا ذکر ہے ،ان سے مراد دوسری قوم والے ہیں، جہاں ایک قوم کی اجتماعیت ہوتووہاں دوسری قوم والے لونڈی و غلام ہوتے ہیں۔ اپنی قوم کی چار خواتین کا ایک سے نکاح کی گنجائش ہے لیکن دوسری قوم کی لاتعداد اور بے شمار خواتین سے جنسی تعلق رکھنا جائز ہے کیونکہ وہ لونڈیاں ہے‘‘۔ پاکستان دو قومیتوں کے نظرئیے پر بنا تھا پھر بنگالیوں کو غلام ولونڈی کی طرح سمجھا گیا تو مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیااور بڑی رسوائی کا سامنا ہوا۔
مولانا سندھیؒ کی فکر اس بحث کا نتیجہ جو چل رہی تھی کہ قوم مذہب سے بنتی ہے یا وطن سے؟۔ علامہ اقبالؒ و مولانا مدنیؒ اور مولانا آزادؒ و مولانا تھانویؒ کی طرف سے شرعی مباحثے ہورہے تھے، پاکستان بنا تو رات گئی بات گئی، نظریات بھی دفن ہوگئے۔
دورِ جاہلیت میں غلام اور لونڈی کا تصور تھا۔ غلام کو عبد اور لونڈی کو اَمۃ کہا جاتاتھا۔ قرآن میں بھی اس کا ذکر ہے۔ قرآن اللہ کے سوا معبودوں کو نہیں مانتا۔ ایک طرف انکی نفی کرتاہے۔ دوسری طرف عبد نظام کی وجہ سے دوسرے انسان کا غلام ہوتا تھا تو اس غلامی کی حیثیت کو ایک معاہدے میں بدل دیاتھا۔ ایک آدمی کو اپنی گناہوں کا کفارہ ادا کرنا ہوتا تھا تو جتنے پیسوں کیوجہ سے لونڈی یا غلام گروی ہوتے تھے ان کی گردنیں چھڑا دی جاتی تھیں۔ آقا کا عبد سے تعلق اپنے پیسوں کی حد تک ہوتا تھا۔
ملکت ایمانکم قرآن میں لونڈی و غلام کیساتھ خاص نہیں بلکہ پڑوسی ، قرابتدار ، مسافر، کاروبار ی شراکت دار وغیرہ کے علاوہ مختلف انواع واقسام کے عہدوپیمان پر بھی اسکا اطلاق ہوتا ہے۔ متعہ ومسیار اور ایگریمنٹ بھی اس میں شامل ہے۔ قرآن وسنت میں یہ معاہدہ ہے۔ کچھ آیات ملاحظہ فرمائیے!
فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَۃً أَوْ مَا مَلکََتْ أَیْمَانُکُمْ (النساء:3)’’اگر تمہیں خوف ہو کہ عدل نہ کرسکوگے تو ایک ہی سے شادی کرلو یا جو تمہاری عہد و پیمان والی ہوں‘‘۔ امام سندھیؒ کے نزدیک پاکستان میں ایک شخص چار خواتین سندھی، بلوچ، پشتون اور پنجابی سے شادی کرسکتا ہے لیکن ان سے زیادہ نہیں، البتہ بنگالی، ازبک، عرب، یورپین اور دیگر اقوام کی لاتعداد کی حیثیت لونڈی کی ہوگی۔ اس طرح انکے مردوں کی حیثیت بھی غلاموں کی طرح ہوگی، عرب میں بھی یہی صورتحال رائج ہے۔ لیکن مغرب میں ایک شادی اور بہت سی گرل فرینڈز کی حیثیت عہد وپیمان والیوں کی ہے، اسلام میں نکاح کے علاوہ متعہ مسیار والیوں کی تشریح پر سعودی عرب اورایران کو متحد کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں عادلانہ نظام ہوگا۔ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ ( النساء:24)اوربیگمات خواتین سے مگر جو تمہاری عہد وپیمان والی ہوں‘‘۔عرب کے بادشاہ اور بڑے لوگ اپنی طلاق شدہ اور بیوہ بیگمات سے بھی شادی نہیں کرنے دیتے ہیں۔ خواتین بھی بعض اوقات اپنا اسٹس برقرار رکھنے کیلئے بیوہ ہونے کے باوجود کسی ایرے غیرے سے نکاح نہیں کرنا چاہتی ہیں اور ڈھنگ کا کوئی رشتہ ملتا نہیں ہے۔ رشتہ کرنے پر وہ فوت شدہ شوہر کی مراعات ، پینش، جائیداد سے محروم ہوجاتی ہیں تو انکے ساتھ نکاح کرنے کی حرمت کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ اپنی مراعات سے محروم نہ ہوں۔ ایک بڑے سرکاری افسر کی بیوہ سے شادی کا دعویٰ کیا جائے اور وہ حقیقت مان لے تو مراعات سے ہاتھ دھو بیٹھے گی۔ متعہ سے مسئلہ نہ ہو گا۔ قرآن زمان ومکان کی تنگیوں سے بہت بالاتر ہے۔ فَمِنْ مَا مَلَکَتْ أَیمَانُکُمْ مِنْ فَتَیاتِکُمُ الْمُؤْمِنَات( النساء:25)’’پس تم میں سے وہ جوان مؤمن خواتین جو معاہدے ولی ہوں‘‘۔آیت میں یہ پسِ منظر بیان کیا گیا ہے کہ ہر لحاظ سے قابلِ قبول آزاد لڑکیاں اور شادی شدہ خواتین نکاح کیلئے میسر نہ ہوں تو پھر ان لونڈیوں یا متعہ کرنے والیوں سے بھی نکاح کرسکتے ہو۔ جب تم ان سے نکاح کرلو، تو ان کو بھی کمتر مت سمجھو۔ تم بعض بعض سے ہو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کو جانتا ہے کہ نفس کی پیاس بجھانا اور اپنی فوقیت دکھانا تمہارا کام ہے، ایسا قطعی نہیں ہونا چاہیے۔
وَالَّذِینَ عَقَدَتْ أَیْمَانُکُمْ فَآتُوھُمْ نَصِیبَھُمْ ( النساء: 33)اورجن سے تمہارا پختہ معاہدہ ہوتو ان کو ان کا حصہ دیدو‘‘۔ اس میں وراثت کے اعتبار سے ہرقسم کا ایگریمنٹ شامل ہے اور جن خواتین نے مردوں سے کوئی ایگریمنٹ کیا ہو یا مردوں نے خواتین سے کوئی پکا معاہدہ کیا ہو، وراثت میں اس کی قانونی حیثیت کو قرآن نے واضح کیا ہے وراثت کے قانون میں جو وصیت اور قرضہ کا ذکر ہے، یہ معاہدہ بھی اسی کے ضمن میں ہے اور حضرت ابراہیمؑ نے اپنی بیوی حضرت ساراؑ اور ان کی اولاد کو اپنی ملکیت ، جائیداد اور گھر کا وارث بنایا، لونڈی حضرت حاجرہؑ کو وادی غیر ذی زرع میں معصوم بچے اسماعیلؑ کساتھ چھوڑ کر چلے گئے۔ ام المؤمنین حضرت ماریہ قبطیہؓ نے بھی ایک لونڈی کی حیثیت سے زندگی گزاری۔ سورۂ تحریم میں ان کی وجہ سے وہ آیات نازل ہوئی تھیں۔ جس نے انسانیت کی تاریخ کو بدلا۔ حقائق سامنے آگئے تو کارٹون بنانیوالے سورۂ تحریم کی بنیاد پر اسلام قبول کرینگے۔ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِیلِ وَمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ ( النساء:36)اور پڑوسی اور مسافر اور جو تمہارے عہدو پیمان والے ہوں۔یہ آیت انسانی حقوق کے حوالہ سے عالمی نوعیت کی ہے۔ پڑوسی ومسافر کیساتھ تحریری معاہدہ نہیں مگر انکا حق ہے۔ زکوٰۃ کے مصارف میں حادثات کا شکار ہونے والوں کا بھی ذکر ہے۔ دنیا کی سطح پر عالمِ انسانیت کے تمام مظلوم ومجبور وں کی مدد اس میں شامل ہے۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ اپنے مشرک حلیفوں کی وجہ سے نبیﷺ نے توڑ دیا تھا۔ حلف الفضول کی تائیدپر نبیﷺ نے خوشی کا اظہار فرمایا تھا۔
أَوْ بَنِي أَخَوَاتِھِنَّ أَوْ نِسَاءِھِنَّ أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُھُنَّ او التابعین غَیر اُولِی الاربۃ مِن الرِجَال( النور:31)’’یا بھانجوں سے یا اپنی عورتوں سے یا جنکے عہد کی وہ مالک ہوںیا وہ تابع آدمیوں میں سے جو عورتوں میں رغبت نہ رکھتے ہوں‘‘۔
اس آیت میں پردے کاحکم ہے جن میں محارم کا ذکرہے۔ غلام سے زیادہ ملکت ایمانھن سے مرادایگریمنٹ والے مراد لینا جائز ہے۔ جب کسی آزاد عورت کا غلام سے نکاح ہو یا کسی بالادست عورت کا تعلق کسی کمزور حیثیت والے مرد سے ہو جائے تو معاہدے کی ملکیت کی نسبت عورت کی طرف ہوگی، مریم نواز کیپٹن صفدر کی بیگم ہے لیکن شوہر بااختیار نہیں۔
وَالَّذِینَ یَبْتَغُونَ الْکِتَابَ مِمَّا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ فَکَاتِبُوھُمْ ( النور: 33)اور عہد والوں میں لکھت کا معاہدہ کوئی چاہتے ہوں تو ان سے مکاتبت کرو۔اس آیت غلاموں کو آزاد کرنے کے حوالے سے معاہدے کی بات نہیں ہوسکتی ہے، اسلئے کہ غلام کو آزاد کرنے میں ویسے بھی خیر ہے۔ بیوہ و طلاق شدہ کیلئے کوئی آزاد میسر نہ ہو تو مؤمن غلام بھی بہتر ہے۔ اگر غلام بھی صرف پیسے لیکر متعہ کرنا چاہتے ہوں تو پھر اس میں خیر کا پہلو نظر آئے تو ان کے ساتھ مکاتبت تحریری معاہدہ کرنا چاہیے، کیونکہ کل وہ آزاد ہوگا تو اولاد کے حوالہ سے عورت کو پریشانی کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔ اسی طرح کسی غریب سے بھی معاہدے میں متعہ کے حوالہ سے بہت سی چیزیں طے ہوسکتی ہیں۔
یَا أَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا لِیَسْتَأْذِنْکُمُ الَّذِینَ مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ ( النور:58)’’اے ایمان والو! تم سے اجازت طلب کریں جنکے تم عہدوپیمان کے مالک ہو‘‘۔ اس آیت میں غلام مرد ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ غلاموں کو ایک معاہدے کی شکل میں قانونی حیثیت دی گئی ،تاکہ ان سے عبد جیسا رویہ ختم ہو ۔
ھَلْ لَکُمْ مِنْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ مِنْ شُرَکَاءَ فِي مَا رَزَقْنَاکُمْ ( الروم:28)کیا جن سے تمہارا معاہدہ ہے ان میں کوئی تمہارا شریک ہے جو ہم نے تمہیں رزق دیا ؟۔یہاں پر کاروباری شریک مراد ہے۔اپنے حصے میں کوئی شراکت دار کو شریک نہیں سمجھتا۔وَلا تَجعلُو ا اللہ عُرضَۃ لِایمَنِکُم اَن تَبرُوا و تتقوا و تصلحوا بین الناس (البقرۃ: 224) اور نہ بناؤ،اپنے معاہدوں کیلئے اللہ کو ڈھال کہ تم نیکی کرو، تقویٰ اختیار کرو اور عوام کے درمیان مصالحت کرو۔یہ آیت طلاق کی حقیقت کیلئے ایک بنیادی مقدمہ ہے۔ ایلاء، اکٹھی تین طلاق، ظہار، حرام اور طلاق سے متعلق جتنے صریح وکنایہ الفاظ ہیں اس میں ایک عام حکم جاری کیا گیا ہے کہ میاں بیوی صلح کیلئے راضی ہوں تو کسی قسم کے الفاظ کو اللہ کا نام لیکر انکے درمیان رکاوٹ کی بات نہ کرو۔ یہ نیکی ، تقویٰ اور مصالحت میں اللہ کے نام پر کوئی رکاوٹ قرآن کے منافی ہے اور قرآن میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ جہانتک آیت230کاتعلق ہے تو اس سے پہلے اور بعد میں نہ صرف رجوع واضح ہے بلکہ یہ وہ صورتحال ہے جب دونوں ملنا نہ چاہتے ہوں۔ لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللَّہُ بِاللَّغْوِ فِي أَیْمَانِکُمْ ولکن ےؤاخذ کم بماکسبت قلوبکم البقرۃ: 225 نہیں پکڑتا اللہ تمہیں لغو عہدوپیمان سے مگر پکڑتا ہے جو تمہارے دلوں نے کمایا ہے۔اس میں صریح وکنایہ کے الفاظ پرفیصلہ دیا گیاہے کہ علماء کے پیچھے گھومنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔
اِن الذِینَ یَشتَرُون بِعَھد اللہِ وَاَیمانِھم ثَمَناً قَلِیلاً اُولئک لَا خِلاقَ لَھُم فِی الاٰخِرۃِ، آل عمران: 77 بیشک جو لوگ تھوڑی قیمت لیتے ہیں اللہ کے عہد اور اپنے عہد و پیمان سے انکا آخرۃ میں حصہ نہیں ۔ انسان اللہ سے ہرنماز میں بار بار وعدہ کرتا ہے اگر وہ اللہ کے قوانین کو توڑ کر غلط فتوے دیتا ہے تو اس کا آخرت میں بالکل بھی کوئی نہیں ہوگا۔ تدبر کرو!۔ لایؤاخذکم اللہ با للغو فی ایمانکم ولٰکن یؤاخذکم بما عقدتم الایمان فکفارتہ اطعام عشرۃ مساکین من اوسط ما تطعمون اھلیکم او کسوتھم او تحریر رقبۃ فمن لم یجد فصیام ثلاثۃ ایامٍ ذٰلک کفارۃ ایمانکم اذا حلفتم واحفظوا ایمانکم کذٰلک یبین اللہ لکم اٰیتہٖ لعلکم تشکرون (المائدہ: 89)’’نہیں پکڑتا ہے اللہ تمہیں تمہارے لغو عہد پر لیکن جب تم اپنے عہد کو پختہ کرچکے ۔ تو اسکا کفارہ 10 مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے،اوسط درجے کا جو تم اپنے اہل کو کھلاتے ہویا انکا کپڑا،یا کسی کی گردن کو آزاد کرنا ہے ، یہ تمہارے عہدوپیمان کا کفارہ ہے جب تم قسم اٹھاؤ۔ اور اپنے عہدو پیمان کی حفاظت کرو، اس طرح اللہ واضح کرتا ہے اپنی آیات کو ، ہوسکتاہے کہ تم شکر ادا کرو‘‘۔
فقہ اور اصولِ فقہ کی کتابوں میں یمین کو صرف قسم قرار دیا گیا اور بہت فضول قسم کے اختلاف وتضاد کے مسالک ہیں،قرآن کاترجمہ وتفسیر میں بھی اپنے غلط افکار ڈال دئیے گئے ۔ یہ واضح ہے کہ پختہ عہدوپیمان کو توڑنا گناہ ہے لیکن اس پر کفارہ نہیں ہے اور جب ایمان حلف کے معنی میں ہو تو اس پر کفارہ ہے۔ یمین قسم کو بھی کہتے ہیں اور محض عہد کو بھی۔ یہ قرآن میں واضح ہے۔
واللہ فضلکم فی الرزق بعضکم علی بعض فَمَا الَّذِینَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِھِمْ عَلَیٰ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ فھم فیہ سوآء ( النحل:71)اور اللہ نے تمہیں میں بعض کو بعض پر رزق میں فضلیت دی ہے۔ جن لوگوں کو بالادستی ہے اپنے عہد وپیمان والوں کو انکے رزق کو لوٹانے کی تووہ اس میں برابر کے شریک ہیں۔’’ اس آیت کے ترجمہ وتفسیر میں بھی بڑا مغالطہ کھایا گیاہے۔اس میں وضاحت ہے کہ اگر کاروبار میں دوافراد شریک ہوں ۔ ایک کام ایک کرے اور دوسرا کام دوسرا کرے تو جب ایک کو منافع زیادہ ملے تو اس میں جس سے عہد و پیمان ہوا ہے وہ بھی برابر کا شریک ہے۔سیاق وسباق سے یہی اخذ ہوتا ہے لیکن آیت کا سوالیہ نشان بنایا گیاہے کہ کیا غلام بھی تمہارے ساتھ تمہارے رزق میں شریک ہیں پھر کیوں شرک کا ارتکاب کرتے ہو؟۔اس سے پہلے انسان کو رذیل عمر کی طرف لوٹنے کی خبر ہے اور اپنے شریکار کو برابر کا حصہ دینے کیلئے واضح کیا ہے کہ کیا تم اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہو؟۔ پھر ازواج اور بیٹوں وپوتوں کا ذکر کیا ہے۔ جس کا مطلب کاروبارمیں دھوکہ سے روکنا ہے۔ کاروباری شریک کا دھوکہ سے منع کیا گیاہے۔ واوفوا بعہداللہ اذا عٰھدتم اذاوَلا تَنقُضوا الاَیمانَ بَعد تَوکِیدھا (النحل:91)اورپورا کرو اللہ کیساتھ عہد کو جب تم عہد کرواور اپنے عہدکو نہ توڑ و،اس کو پختہ کرنے کے بعد اس آیت میں ایمان سے مراد عہدہی ہے لیکن قسم مراد لیاہے۔
تَتَّخِذُونَ أَیْمَانَکُمْ دَخَلًا بَیْنَکُمْ أَنْ تَکُونَ أُمَّۃٌ ھِيَ أَرْبَیٰ مِنْ أُمَّۃٍ ( النحل:92)کہ عہدوپیمان کو واردات بناؤ کہ ایک فریق دوسرے سے زیادہ نفع حاصل کرلے۔اس میں قسم کے ذریعہ سے نفع حاصل کرنا بھی ہے اور وعدوں سے بھی سیاستدانوں کی طرح دھوکہ دینا مراد ہے۔
وَلَا تَتَّخِذُوا أَیْمَانَکُمْ دَخَلًا بَیْنَکُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌ بَعْدَ ثُبُوتِھَا ( النحل:94)اورنہ بناؤاپنے عہدوپیمان کو واردات آپس میں کہ گراوٹ کا ذریعہ بنے قدم جمنے کے بعد اور پھر تم برائی کے مزے کو چکھ لو ، بسبب اللہ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے۔ اور تمہارے لئے برا عذاب ہوگا۔یہ اخلاقی تربیت ہے کہ جھوٹے وعدوں اور قسموں کو دھوکہ بازی کا ذریعہ نہ بناؤ۔
إِلَّا عَلَیٰ أَزْوَاجِھِمْ أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ فَإِنَّھُمْ غَیْرُ مَلُومِینَ ( المؤمنون:6)جواپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں یا جن سے معاہدہ ہو تو ان پر ملامت نہیں۔وَمَا مَلَکَتْ یَمِینُکَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّہُ عَلیکَْ ( الأحزاب:50)اور وہ جوتیرے معاہدہ کی ہوں جو اللہ تجھے عطا کرے۔ قد علمنا ما فرضنا علیھم فی ازواجھم اوما ملکت ایمانھم لکی لا یکون علیک حرج و کان اللہ غفور اً رحیماً ( الاحزاب:50)بیشک ہمیں معلوم ہے جو ہم نے مقرر کیا ہے،ان پر ان کی بیویوں کا حق مہراور جن سے ان کا عہدو پیمان ہوا ہے ان کا اجر۔ تاکہ تجھ پر کوئی تنگی نہ ہو اور اللہ غفور اور رحیم ہے۔
ولایحل لک النساء من بعدوَلَا أَنْ تَبَدَّلَ بِھِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَکَ حُسْنُھُنَّ إِلَّا مَا مَلَکَتْ یَمِینُکَ ( الأحزاب:52)اوراسکے بعد آپ کیلئے عورتیں حلال نہیں اور نہ یہ انکے بدلے کوئی کرلیں اگرچہ ان کا حسن آپ کو اچھا لگے مگر جو آپ کی لونڈی ہو۔ وَلَا أَبْنَاءِ أَخَوَاتِھِنَّ وَلَا نِسَاءِھِنَّ وَلَا مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُھُنَّ ( الأحزاب:55) اور نہ انکے بھتیجوں سے ،نہ انکی خواتین اورنہ انکی لونڈیوں سے۔ قَدْ فَرَضَ اللَّہُ لَکُمْ تَحِلَّۃَ أَیْمَانِکُمْ وَاللَّہُ مَوْلَاکُمْ ( التحریم:6)اور اللہ نے مقرر کیا ہے تمہارے عہد کوحلال کرنا اوروہ تمہارا مولا ہے۔ نبی ﷺ نے حضرت ماریہ قبطیہؓ کو اپنے اوپر حرام قرار دیا تھا ، اس کو ایمان قرار دیا گیاہے۔ تحلۃ کفارہ کو بھی کہتے ہیں لیکن نبیﷺ نے اس کا کفارہ نہیں دیا۔ اسلئے کہ یہاں کفارہ مراد نہیں بلکہ عہد کو حلال کرنا مراد ہے۔
إِلَّا عَلَیٰ أَزْوَاجِھِمْ أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُھُمْ فَإِنَّھُمْ غَیْرُ مَلُومِینَ ( المعارج:30)مگر اپنی بیویوں پر اور جوان کی عہدوپیمان والی ہوں تو ان پر کوئی ملامت نہیں۔
اصولِ فقہ ، فقہ، تفاسیر کی کتابوں میں قرآن کے مجموعی الفاظ پر نظر دوڑانے کے بعد علمی نکات اخذ کئے ہوتے تو بہت بڑے مغالطے، اختلافات اور تضادات میں مبتلا نہ رہتے۔ غلطی ہونا بڑی بات نہیں لیکن غلطیوں پر اصرار کرنا ابلیسی عمل ہے۔
فقہاء نے قسم کی تین اقسام بیان کی ہیں۔ 1:یمین لغو 2: یمین غموس،3: یمین منعقدہ۔ کس مسلک میں کس قسم پر کفارہ ہے اور کس پر نہیں؟۔ اختلاف کی حقیقت سمجھ کر ہنسی آئے گی۔ یہی نہیں بلکہ سورۂ بقرہ کی آیت229 اور 230 کے درمیان اتصال اور جوڑ پر جس طرح پاگل پن کامظاہرہ کیا گیا ہے ان کو دیکھ شیخ چلی کے لطیفے بھی بھول جاؤ گے۔ قرآن نے وضاحت کیساتھ مسائل واضح کردئیے ہیں ان سے پہلوتہی برتنے کیلئے جان بوجھ کر حماقت کا مظاہرہ نظر آتا ہے۔
متحدہ مجلس عمل کے علماء اور مذہبی جماعتوں کو اگر اسلام کی فکر ہے تو تمام مکاتبِ فکر کیلئے قابلِ قبول مسائل کا حل عوام کے سامنے پیش کریں،میری خدمات حاضرہیں اور مجھے معلوم ہے کہ انہوں نے صرف ووٹوں کی زکوٰۃ لینی ہے اور اتحاد کے نام پر دوسری جماعتوں سے پیسہ بٹور رہے ہیں، اپنے اداروں کیلئے خیرات ، صدقہ اور زکوٰۃ لینا بھی انکا مقصد ہے۔ تاہم پشتون تحفظ موومنٹ کی طرح ہم درست مقاصد کیلئے ان کو بھی سپورٹ کرینگے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے انقلاب آسکتاہے۔
سعودیہ عرب کی حکومت اسلامی تہذیب وتمدن کیلئے سب سے بڑی ماڈل تھی لیکن اب سینما، جوئے کے اڈے اور خواتین کی ریس وغیرہ کے علاوہ تمام حدود وقیود سے نکل رہے ہیں۔ اگر انکے علماء ومفتیان حکومتی فنڈپر صرف قرآن وسنت کی خدمت کرتے تو آج نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ پاکستان میں بالعموم پنجاب میں بالخصوص افسوسناک صورتحال ہے۔ روز بچے و بچیوں کو جبری جنسی زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کیا جا رہا ہے۔ سزاؤں کا کوئی اتہ پتہ نہیں، جرائم کی تشہیر سے جرائم میں اضافہ ہواہے اور نہ کریں تو مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ جبری نظام ہم نے گھر سے سیکھ کر معاشرے میں تشکیل دیا ۔ قرآن کی واضح آیات کے مطابق عورت کو گھر چھوڑنے اور خلع کیلئے حدیث میں ایک حیض کی عدت کافی ہو تو کوئی بیوی کو ایک تھپڑمارنے کی ہمت کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے گا۔ اسلئے کہ عورت چھوڑ کر جاسکتی ہو تو مردتھپڑ نہیں مارے گا۔
اسلام میں جبری زنا کی سزا قتل اور سنگساری ہے۔ پاکستان میں عرصہ تک شکایت کرنے والی خواتین کو بھی قیدکردیا جاتا کہ گواہ لاؤ حالانکہ نبیﷺ نے متأثرہ خاتون سے گواہ طلب نہیں کئے، سچ کا یقین ہونے پر سزا کا حکم دیا لیکن پرویز مشرف کے دور میں مفتی تقی عثمانی نے من گھڑت دلائل دئیے تھے۔
ہمارے ہاں جب خاتون نکاح میں ہو تو اسکے حقوق اتنے غصب کئے گئے ہیں کہ ایک لونڈی بھی اسلام نے اسقدرغلامی میں نہیں پھنسائی ہے۔ طلاق کے بعد بھی نہ بسانے کا ارادہ ہو تو بھی دوسری جگہ شادی کرنے پر مار دیا جاتاہے۔ اس سے بڑی اور بدترین غلامی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ دوسری جانب اس کووہ حقوق حاصل نہیں ہوتے جو ایک منکوحہ کے طلاق کے بعد بھی ہوتے ہیں بلکہ حقوق کے لحاظ سے پھر وہ متعہ والی عورت سے بھی بدتر بنتی ہے۔ خلع کیلئے بھی منہ مانگی قیمت جائز ہوتی ہے۔