انجینئر محمد علی مرزا کی قرآن کے بارے میں جہالت اور کم عقلی کا انوکھا مظاہرہ!

169
0

فرمایا : وینزل الغیث ویعلم ما فی الارحام ”اور وہ بارش نازل کرتا ہے اور جانتا ہے جو ارحام میں ہے” مگر مرزا نے کہا کہ” اللہ جانتا ہے کہ بارش کب ہوگی اور ماں کے پیٹ میں کیا ہے جبکہ سب فرقوں کا ترجمہ غلط ہے”!

مرزا نے تفسیر کی کہ ”قرآن میں ہے کہ بارش کب ہوگی” اور دنیا کو آج بھی پتہ نہیں کہ بارش کب ہوگی۔ الٹراساؤنڈ نے فرقوں کو غلط ثابت کیا ہے، اللہ جانتا ہے کہ کون کافر ہے یا مسلمان”

مرزا جاہل کتابی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ قرآن کے الفاظ کیا ہیں؟۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ” قرآن کی تفسیر زمانہ کرے گا” آج کے زمانے نے قرآن کے الفاظ کی تفسیر کی ہے!

انجینئر محمد علی مرزا نے قرآن کے حوالے سے عوام کی اصلاح نہیں کی بلکہ مزید جہالت کے اندھیروں میں دھکیلا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مرزا میں کتنا خلوص ہے؟۔ یا وہ جاہل اور کم عقل کے علاوہ انتہائی ہٹ دھرم بھی ہے؟۔

انجینئرمحمد علی مرزا نے اپنی ویڈیو میں کہا ہے کہ :

”قرآن کے الفاظ کی ذمہ داری اللہ نے لی ہے ،تمام فرقوں کے علماء کی غلطیوں کا اللہ ذمہ دار نہیں ہے۔ جب سائنس نے ترقی نہیں کی تھی تو علماء نے کاقرآن ترجمہ یہ کیا کہ ”اللہ جانتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں بچہ ہے یابچی ”۔ اب سائنس نے ترقی کرلی ہے اور الٹرا ساونڈ میں بچے اور بچی کا پتہ چلتا ہے۔ اب لوگ سمجھ رہے ہیں کہ قرآن غلط ثابت ہوگیا ہے۔ نہیں جی علماء کا ترجمہ غلط ثابت ہوا ہے۔ قرآن میں یہ تو نہیں ہے کہ بچے اور بچی کا عوام کو پتہ نہیں چلتا ہے ، یہ تو علماء نے ترجمہ غلط کیا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں ہے کہ ماں کے پیٹ میں جو ہے اس کا پتہ لوگوں کو نہیں ہے ،یہ غیب کا علم ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ”تم میں مؤمن بھی ہیں اور کافر بھی ہیں” ۔ اب کوئی بتائے کہ ماں کے پیٹ میں کافر ہے یا مسلمان؟۔ قرآن غلط ثابت نہیں ہوتا ہے۔ جب سائنس نے ترقی نہیں کی تھی توعلماء نے قرآن کا ترجمہ غلط کیا تھا۔

اللہ نے فرمایا ہے کہ ”کوئی نہیں جانتا ہے کہ بارش کب ہوگی” ۔ آج بھی لوگوں کو پتہ نہیں ہے کہ بارش کب ہوگی۔ ایک سال بعد آج کی تاریخ کا پتہ چلتا ہے کہ بارش ہوگی ؟۔ جب مون سون کا علم ہو اور ہواکے رخ سے بادل کا پتہ چلے کہ بارش آرہی ہے تو یہ غیب کا علم نہیں ہے۔ غیب کا علم وہ ہے جو سائنس کے بغیر حاصل ہو۔ اللہ نے غیب کی نفی کی ہے اور یہ غیب نہیں ہے”۔

محترم انجینئرمحمد علی مرزا صاحب !

پہلی بات یہ ہے کہ ہمیں تمہارے خلوص اور علمی محنت پر کوئی شک نہیں ۔ آپ کی ویڈیو دیکھ کر دل میں یہ خواہش اُبھرتی ہے کہ پروفیسر احمد رفیق اختر کی طرح آپ کے درس کابھی حکومت کے اداروں میں سرکاری اہتما م ہونا چاہیے۔ کراچی میں رینجرز سے پروفیسر صاحب نے خطاب کیا تھا۔ قاسم علی شاہ اور پروفیسر احمد رفیق اختر سے زیادہ آپ کی تقریروں سے فرقہ واریت کا ناسور ختم کرنے کی اب ریاستِ پاکستان اور مسلمانوں کو سخت ضرورت ہے۔

فرقہ واریت سے بالاتر نہ سہی لیکن اہلسنت کی کتابوں سے فرقہ پرستی کی جہالتوں کو ختم کرنا مرزا صاحب کے خلوص کا آئینہ ہے۔ اسی طرح اہل تشیع کی کتابوں سے شیعہ میں فرقہ واریت کے جراثیم کم کرنا بھی اچھا ہے۔ انسان بہت کمزور ہے اور یہ کمزوری ہم میں بھی ہے اور مرزا صاحب کی شخصیت میں بھی۔ اہل علم پھلدار درخت کی طرح تواضع سے جھکے ہوتے ہیں۔

قرآن کے الفاظ میں ”بارش کب ہوگی”نہیں بلکہ فرمایا :ان اللہ عندہ علم الساعة وینزل الغیث ویعلم مافی الارحام وماتدری نفس ما ذا تکسب غدا و بای ارض تموت ”بیشک اللہ کے پاس وقت کا علم ہے اوروہ بارش برساتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے اور کسی کو پتہ نہیں کہ وہ کل کیا حاصل کرلے گا اور کس زمین پر مرے گا”۔

مجھے نہیں پتہ کہ کس فرقے کے کس عالم نے قرآن کے ان واضح الفاظ کا غلط ترجمہ کیا ہے لیکن مرزا صاحب نے اپنی ویڈیو میں بالکل غلط ترجمہ کیا۔

قرآن میں جن پانچ چیزوں کا ذکر ہے ۔ آخری دو چیزوں کی نفی ہے کہ ”کوئی نفس نہیں جانتاکہ وہ کل کیا حاصل کرلے گا اور کس زمین پر مرے گا”۔ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے گہری مناسبت رکھتی ہیں۔ دنیا جس رفتار سے ترقی کررہی ہے تو اس بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ آنے والے دورکی ترقی وعروج یا زوال وتنزل کا علم واقعی کسی بھی نفس کیلئے مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ اور اسی کیساتھ” کس زمین میں مرے گا” کا معاملہ بھی واضح ہے کیونکہ جس قدر جہاز، گاڑیوں اور ذرائع آمدو رفت کا نظام بڑھ گیا ہے اور ترقی کی نت نئی ایجادات ہورہی ہیں وہ قرآن کی ان دونوں باتوں کی مزید تفسیر کررہی ہیں۔

جہاں تک پہلی تین چیزیں ہیں تو اللہ نے کسی اور کی نفی نہیں کی ہے بلکہ فرمایا کہ” اللہ کے پاس وقت کا علم ہے، وہ بارش برساتا ہے اور وہ جانتا ہے جو رحموں میں ہے ”۔ ان تین چیزوں میں کسی اور کی نفی نہیں ہے۔ رسول اللہۖ نے فرمایا کہ ” پانچ چیزیں غیب کی چابیاں ہیں اور ان کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے”۔ نبیۖ نے ٹھیک فرمایا اسلئے کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ ”جس دن ملائکہ اور روح چڑھتے ہیں تو اس کی مقدارپچاس (50) ہزار سال ہے”۔ سورۂ معارج کی اس آیت کا مشاہدہ نبیۖ نے معراج کی رات کو کیا تھا۔ البرٹ آئن سٹائن نے نظریۂ اضافیت دریافت کیا اور ریاضی کے حساب سے تصدیق کردی کہ جب چڑھنے کی رفتار تیز ہو تو زمین کے ایک لمحہ کے مقابلے میں تیزرفتاری سے چڑھنے کی مدت اسی (80)سال ہوتی ہے۔ موٹا دماغ رکھنے والے کیلئے یہ بھی ہے کہ دن رات اور ماہ وسال سے زمین کا اپنے محور کے گرد گھومنا اور سورج کے گرد گھومنا ثابت کرتا ہے کہ واقعی وقت غیب کی چابی ہے ۔ رسول اللہۖ نے سچ فرمایا کہ یہ غیب کی چابی ہے اور وقت نے ثابت بھی کردیا ہے۔ دوسری چیز بارش کا نازل ہونا۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”دجال جہاں چاہے گا بارش برسائے گا”۔ اللہ تعالیٰ نے صرف یہ فرمایا ہے کہ ”وہ بارش برساتا ہے” ۔ کسی اورکی نفی نہیں کی ہے۔ نبیۖ نے اس کو بھی غیب کی چابی قرار دیا ہے۔ قرآن نے بادل اور ہر چیزکے مسخر ہونے کا ذکر کیاہے اور بارش سے آسمانی بجلی کا بھی مشاہدہ ہوتا ہے انسان نے بارش سے فائدہ اُٹھاکر مصنوعی بجلی پیدا کرلی ہے اور وقت نے بارش برسنے کو غیب ہی کی چابی ثابت کردیا ہے۔ آج دنیا میں بجلی سے جو دنیا آباد ہے یہ قرآن وحدیث کی زبردست تفسیر ہے۔ تیسری بات اللہ نے یہ فرمائی ہے کہ ” وہ جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے” اس میں بھی کسی اور کی نفی نہیں ہے۔ آج فارمی جانور، پھل اور کھیت سے لیکر ایٹم کے ذرات تک ایٹمی ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک کی دنیا یہ ثابت کررہی ہے کہ ارحام کا تصور وسیع ہے جو غیب کی چابی ہے اور جس طرح انسان اورجانور میں رحم ہے اسی طرح نباتات اور جمادات میں بھی ہے۔ ماں کے پیٹ، انڈے، پھل، گندم، ایٹمی ذرات پر رحم کا اطلاق ہوتا ہے ۔ اور اللہ نے ان نرومادہ کا فرمایا تھا کہ ”اور وہ جو تم نہیں جانتے ”۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی