اللہ تعالیٰ نے مردوں پر حق مہر کو فرض کیا ہے۔ یہ ہے اس کا درجہ

ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف..” اورانکے مردوں پر معروف طریقے سے ویسے ہی حقوق ہیں اور مردوں کا ان پر ایک درجہ ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے،طلاق دومرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یااحسان

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

کیساتھ چھوڑ ناہے اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ جوبھی ان کو دیا کہ اس میں سے کچھ واپس لو مگر یہ کہ دونوں کو خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیںگے اوراگرتم ڈرو کہ اللہ کی حدود

پردونوں قائم نہ رہ سکیںگے تو دونوں پر حرج نہیں عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں،یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز نہ کرو اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تووہی لوگ ظالم ہیںO

صفحہ نمبر( 3)کے نچلے حصے پر سورہ ٔبقرہ کی آیت(228)کا کچھ حصہ رہ گیا تھا وہ بھی درج بالا سرخی میں نقل کردیا۔ جس طرح سے طاقتورحکمران اور اسکی رعایا کے ایکدوسرے پر حقوق ہوتے ہیں لیکن حکمران اپنے درجے کا خیال رکھے بغیر رعایا کے حقوق کو غصب کرلیتا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں پختون قبائل مرگئے۔ پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بج گئی لیکن ن لیگ نے نہیں کہا کہ اگر مزید قتل اور غارتگری کا سلسلہ جاری رہا تو پھر ہمیں پاکستان نہیں چاہیے۔ مریم نواز نے جیل کے واشروم میں خفیہ کیمروں کاالزام لگایا کہ تصویریں اتاری گئیں ہیں لیکن پھر بھی ن لیگ نے یہ نہیں کہا کہ عزت کی قیمت پر پاکستان نہیں چاہیے ۔ پنجاب کے غیورخطیب اور آزادی کے مجاہد سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے فرمایا تھا کہ جب انسان کی جان پر آجائے تو اپنے مال کو قربان کرکے اپنی جان بچائے اور جب اس کی عزت پر بات آجائے تو اپنی جان دیکر اپنی عزت بچائے اور جب ایمان پر آجائے تو اپنامال،اپنی جان اور عزت سب کچھ اس پر قربان کردے۔
مکافاتِ عمل بھی ایک چیز ہے۔ بینظیر بھٹو کی ننگی تصاویر سے کردار کشی ہوئی ہے اور بلاول بھٹو زرداری کیساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ اب ایسا نہ ہو کہ وقت پر مریم نواز کیساتھ بھی کوئی معاملات پیش آجائیں۔ زمانے کے زناٹے دار تھپڑ بہت بے رحم موجوں کی طرح بڑے بڑوں کا بیڑہ غرق کردیتے ہیں۔اسلامی جمہوری اتحاد کے صدر غلام مصطفی جتوئی الیکشن ہار گئے اور سینئر نائب صدر مولانا سمیع الحق نے آئی جے آئی (IJI) پنجاب کے صدرنوازشریف کیلئے وزیراعظم کی سیٹ چھوڑ دی تھی ، جب مولانا سمیع الحق نے سودی نظام کو ختم کرنے کے وعدے پر زور دیا تو میڈم طاہرہ سے اس کی عزت تارتار کردی گئی۔ (1988) میں عابدہ حسین نے جھنگ سے دونوں نشستوں کو جیتا تھا۔ جس نشست پر مولانا حق نواز جھنگوی کو شکست دی تھی وہی اپنے پاس رکھی تھی۔ مولانا حق نواز جھنگوی نے اعلان کیا تھا کہ شیعہ مجھے اپنا ووٹ نہ دیں۔ پھر (1990) میں جھنگ کی ایک نشست پر مولانا ایثار الحق قاسمی آئی جے آئی (IJI)کی ٹکٹ پر کھڑے تھے اور دوسری نشست پرعابدہ حسین آئی جے آئی (IJI)کی ٹکٹ پر کھڑی تھیں۔ مولانا حق نوازجھنگوی جمعیت علماء اسلام (ف) پنجاب کے نائب صدر تھے اور مولانا ایثارالحق قاسمی سپاہِ صحابہ کے قائد بن گئے تو آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے اہل تشیع سے اتحاد کے باوجود جمعیت علماء اسلام ف کے مولانا فضل الرحمن پر کفر کا فتویٰ اسلئے لگایا جارہاتھا کہ وہ شیعہ کو کافر نہیں کہتے۔ جب یہ نعرہ عروج پر تھا تو (1992) کی ابتداء میں اپنی کتاب ” عروج ملت اسلامیہ کا فیصلہ کن مرحلہ” میں سوال اٹھایا کہ سعودی عرب اہل تشیع کو حرم میں داخل ہونے دیتا ہے وہ کافر نہیں اور مولانا حق نواز جھنگوی کے قائد مولانا فضل الرحمن کافر؟۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ مولانا فضل الرحمن کی سرپرستی میں قاضی عبدالکریم کلاچی نے مجھ پر یہ فتویٰ لگایا کہ شیعہ کے کفر پر اجماع ہے اور اس اجماع کو نہ ماننے کی وجہ سے یہ شخص گمراہ ہے۔ اگر فضل الرحمن گروپ والے تائید کرتے ہیں تو وہ قادیانی کا بھی استقبال کریںگے۔مجھ سے زیادہ بڑا فتویٰ مولانا فضل الرحمن پر لگادیا تھا ۔ جب ہم نے فتوے کا پوسٹ مارٹم کیا تو قاضی عبدالکریم نے فتویٰ مجھ پر لگایا تھا اورمعافی مولانا عبدالرؤف گل امام جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر سے مانگ لی۔ جس نے مجھے حوصلہ دیاتھا اور لکھا کہ قاضی صاحب بھونڈی حرکتیں چھوڑ دو۔
عمران خان نے نجم سیٹھی پر (35)پنکچر کا الزام لگایا تھا اور جب(2018) کے الیکشن ہوئے تو (35)سے زیادہ پنکچروں کاسہارا لیا جو جہانگیرترین کے جہاز سے پہنچارہے تھے۔ تحریک انصاف کے وزیر ریلوے اعظم سواتی نے ایم ایم اے (MMA) کے ارکان اسمبلی کو خرید ا ،پھر جمعیت علماء اسلام (ف) میں شامل ہوگئے۔ پاکستان میں کوئی کرپٹ بیوروکریٹ ریٹائرڈ ہونے کے بعد اپنے پاس زیادہ پیسے دیکھتا ہے تو الیکشن لڑتا ہے اور جب ہار جاتا ہے تو پارٹی اسکو اس خرچہ کے بدلے سینیٹر بنادیتی ہے۔
سینیٹ کے الیکشن میں وزیراعظم عمران خان نے جس طرح کی قلابازیاں کھائی ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ اگر عمران خان اعلان کردیتا کہ اکثریت تو یوسف رضا گیلانی کی ہے اور غلطی سے ووٹ کٹ گئے ہیں وہی چیئرمین ہیں تو مولانا عبدالغفور حیدری کی پیشکش سے یہ زیادہ بہتر ہوتا۔ اب تو ایسا ہے کہ جیسے دولتی مارکر جے یو آئی اور پیپلزپارٹی کو پی ڈی ایم ( PDM)کی طرف دھکیل دیا ہو۔سیاست میں ایک عمران خان سے کچھ لوگوں کو امید یں تھیں وہ سامنے آگیا ہے۔ہمارے حکمران اورسیاسی و مذہبی رہنماؤں کا مزہ نہیں ہے لیکن کارکن بہت اچھے ہیں۔
سورۂ بقرہ آیت(228) میں مردوں پر عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں، جیسے ان پر ہیں۔ جس طرح حکمران طبقہ عوام کے حقوق غصب کرتا ہے اسی طرح علماء نے خواتین کے حقوق غصب کردئیے ہیں۔ مرد کو طلاق اور عورت کو خلع کے حق میں دیکھا جائے تو مردوں کا ایک درجہ زیادہ ہے لیکن عورت کے حقوق زیادہ ہیں۔ عورت ایک مرتبہ شادی کرلیتی ہے اور اسکے بچے ہوجاتے ہیں تو طلاق پر بڑی مشکل کا شکار ہوجاتی ہے لیکن مرد کو زیادہ فرق نہیں پڑتا ہے اسلئے اللہ تعالیٰ نے مردوں پر حق مہر کو فرض کیا ہے۔ یہ ہے اس کا درجہ ۔ باقی حقوق کے حوالے سے اللہ نے واضح کیا ہے کہ دونوں کے ایکدوسرے پر ایک جیسے معروف حقوق ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جب مردیا عورت کی پوزیشن مضبوط ہوتی ہے توپھر اس کا اپنا ایک اثر ہوتا ہے۔ مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی مثال بہت واضح ہے۔
البقرہ آیت(229) میں پہلے فرمایا کہ ” طلاق دو مرتبہ ہے ،پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ چھوڑ دینا ہے”۔ اس میں راکٹ سائنس نہیں ہے کہ مطلب سمجھنے کیلئے بڑی ڈگریوں کی ضرورت ہو۔ آیت (228) میں عدت کے تین مراحل (تین طہر وحیض ) کی وضاحت تھی اور دوبارہ اس عدت میںمرحلہ وار تین مرتبہ طلاق کا ذکر ہے۔ جب حضرت عبداللہ بن عمر نے اتنے بڑے مسئلے کو نہیں سمجھا تو رسول اللہۖ غضبناک ہوگئے اور پھر رجوع کا حکم دیا اور عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کی وضاحت فرمادی ۔ اس حدیث کو صحیح بخاری میں کتاب التفسیر سورۂ طلاق، کتاب الاحکام ،کتاب الطلاق اور کتاب العدت میں مختلف الفاظ میں نقل کیا گیا ہے۔ ایک صحابی نے پوچھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے ؟۔ تو نبیۖ نے فرمایا کہ آیت (229 ) البقرہ میں دومرتبہ طلاق کے بعداو تسریح باحسان (یاپھر احسان کیساتھ چھوڑ دو) ہی تیسری طلاق ہے۔ کوئی بھی عام انسان آیات کے تسلسل سے کوئی دوسرا نتیجہ نہیں نکال سکتا ہے۔ رحمة للعالمینۖ کا عبداللہ بن عمر پر غضبناک ہونا بھی اس بات کی نشاندہی ہے کہ قرآن کی سورۂ بقرہ اور سورہ ٔ طلاق میں عدت کے دوران مرحلہ وار طلاقوں کا تصور بالکل عام فہم تھا۔ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ عبداللہ بن عمر نے تین طلاقیں دی تھیں۔ محمود بن لبید کی روایت میں ایک شخص کی طرف سے ایک ساتھ تین طلاق پر نبیۖ کے غضبناک ہونے کا ذکر ہے کہ آپ ۖ نے فرمایا کہ میں تمہارے درمیان میں ہوں اور تم اللہ کی کتاب کے ساتھ کھیل رہے ہو؟۔ جس پر ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل کردوں؟۔
حضرت عمر نے ہی عبداللہ بن عمر کی اطلاع دی تھی، جب رسولۖ غضبناک ہوگئے تو حضرت عمر نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟۔ احادیث پر شروع میں پابندی لگائی تھی اسلئے معاملات نایاب ہوگئے۔ حضرت حسن بصری نے کہا کہ ایک شخص نے مجھے کہا کہ ابن عمر نے تین طلاق دی تھیں ،پھر(20)سال تک کوئی شخص نہیں ملا جس نے اس کی تردید کی ہو۔ بیس سال بعد ایک اور شخص نے بتایا کہ ایک طلاق دی تھی۔ احادیث کی روایات پر صحیح تبصرہ کیا جائے تو ان کو اہلحدیث بھی نہیں مانیں گے۔ ابن عمر نے قرآن کے خلاف اہل کتاب سے بھی شادی کو ناجائز قرار دیا اور جماع فی الدبر کی بات بھی ان کی طرف منسوب ہے۔
عبداللہ بن عمر کی طرف منسوب بخاری میںہے کہ ” اگر میں دو مرتبہ کے بعد تیسری مرتبہ طلاق دیتا تو پھر مجھے اللہ کے رسول ۖ نے رجوع کا حکم نہیں دینا تھا”۔ اس روایت سے بھی قرآن کی تردید نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کا مطلب یہی ہے کہ مرحلہ وار دوبار طلاق کے بعد تیسری بار طلاق دیتا تو نبیۖ رجوع کا حکم نہ دیتے۔ یہ بھی ان کی اپنی فقہ ہے جبکہ حضرت عمر نے فرمایا کہ ”اس کو طلاق کی بات سمجھ میں نہیں آتی ہے اور آپ لوگ کہتے ہو کہ اس کو مسلمانوں کا خلیفہ بنادوں۔ اس کو خلیفہ بنانے پر میں نے پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے”۔
مذہبی بہروپیوں میں نااہل جانشینوں کا تسلط ایک عام سی بات ہے۔ جس کا نتیجہ امت بھگت رہی ہے۔ اگر مفتی محمد شفیع نے مفتی تقی عثمانی کو جانشین بنایا ہے تو معاوضہ لیکر بینک کے سود پر ایصال عذاب ملے گا۔اگر دو مرتبہ طلاق کے بعد یہ لیا جائے کہ تیسری بار عدت میں بھی رجوع نہیں ہوسکے گا تو پھر آیت (228) سے اس کا بڑا تضاد ثابت ہوگا۔ الگ الگ تین بار طلاق کے باوجود بھی عدت میں اگر رجوع کا دروازہ بند کردیا جائے تو قرآن میں بہت بڑا تضاد ثابت ہوگا۔ اللہ کی طرف سے یہ مراد بھی نہیں ہے کہ تیسری مرتبہ کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔
البتہ جب مرحلہ وار دو مرتبہ طلاق دینے کا فیصلہ کیا جائے پھر اگر رجوع کرنا ہو تو معروف طریقے سے رجوع ہوسکتا ہے۔جس کا مطلب باہمی رضامندی ہے۔ احناف کے نزدیک اگر رجوع کی نیت نہ بھی ہوتو شہوت کی نظر پڑنے یا نیند میں ہاتھ لگنے وغیرہ سے رجوع ہوجائیگا اور امام شافعی کے نزدیک نیت نہ ہوتو اس کے ساتھ جماع کرنے سے بھی رجوع نہیں ہوگا۔ یہ باتیں فقہ کی معتبر کتب میں موجود ہیں۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے شعبہ تحقیقات نے بھی اسے شائع کیا۔ معروف کی جگہ پر شیطانی القاکے منکر نے مذہب کا روپ دھار لیا ۔
جب تین مرتبہ مرحلہ وار طلاق دینے کا فیصلہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے اسکے بعد مزید فرمایا ہے کہ ” تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے کہ اس میں سے کچھ بھی واپس لو۔ مگر یہ کہ دونوں کو خوف ہو کہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیںگے………..”۔ طلاق کے فیصلے کے بعد حق مہر کے علاوہ عورت کے اس حق کو بھی محفوظ کیا گیا ہے کہ شوہر نے جو کچھ بھی دیا ہے اس میں سے کچھ واپس نہیں لے سکتا ہے۔ لیکن بعض اوقات کوئی ایسی چیز بھی ہوسکتی ہے کہ اگر وہ واپس نہیں کی گئی تو پھر طلاق کے بعد دونوں میں اختلاط کی وجہ سے وہ چیز اللہ کی حدود کو توڑنے کا خدشہ بن سکتی ہو۔ ایسی صورت میں اگر فیصلہ کرنے والے بھی یہ خدشہ محسوس کریں تو پھر شوہر کی دی ہوئی اس چیز کو عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں دونوں پرکوئی حرج نہیں ہے۔ آیت کا مطلب بالکل واضح ہے لیکن افسوس کہ فقہ اور اصولِ فقہ کی کتابوں میں حماقت کی انتہاء کرتے ہوئے یہاں خلع مراد لیا گیا ہے۔ فدیہ اور معاوضے میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔
مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ اس آیت کا ترجمہ کرنا بڑا دشوار ہے مگر جماعت ِ اسلامی کے بانی مولانا مودودی نے اس کا ترجمہ یوں کردیا کہ ” عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کرلے ”۔ مولانا مودودی سید زادے تھے ،اگر وہ زندہ ہوتے تو اپنے ترجمے وتفسیر کی اصلاح کا اعلان کرتے لیکن اب جماعتِ اسلامی نے مولانا مودودی کو پیغمبر کے درجے پر فائز کردیا ہے۔ جب تک جماعت اسلامی کو پاک فوج کی طرف سے آرڈر نہ دیا جائے انہوں نے یہ غلطی جوں کی توں جاری رکھنی ہے۔ جس غلطی کا ارتکاب مولانا مودودی نے کیا تھا ، اب مفتی تقی عثمانی نے بھی آیات کے ترجمے و تفسیر میں بڑی تحریف کی ہے۔
علامہ تمنا عمادی بڑے حنفی عالم تھے اور انہوں نے قرآن اور اصول فقہ کی بنیاد پر اپنی کتاب ” الطلاق مرتان ” میں احادیث کا انکا ر کیا اور اس آیت سے خلع مراد لینے کے بعد یہ قرار دیا کہ حلالہ اس صورت میں ہوگا جب عورت نے خلع لیا ہوگا۔ اس کی کتاب کی ہمارے استاذ نے بہت تعریف کی تھی ۔ غلام احمد پرویز کی طرف سے انکارحدیث کا فتنہ بعد میں آیا لیکن احناف کی اصول فقہ میں حدیث کا انکار ہی تو پڑھایا جاتا ہے۔حالانکہ قرآن ، احادیث اور ائمہ اربعہ کے مؤقف میں فرق نہیں تھا البتہ بعد کے علماء وفقہاء نے افراط وتفریط کی رسیاں کاٹی ہیں۔

NAWISHTA E DIWAR March Ilmi Edition #2. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

Leave a Reply

Back to top button