گھر کو ٹھیک کرنے کی ضرورت آرمی چیف کے بیان کوغلط انداز دیا جارہا ہے لیکن درست بات بالکل کچھ اور ہے!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پاکستان اسلام کی بنیاد پر بنا اور آئین میں قرآن وسنت کی بالادستی ہے لیکن ہمارے معاشرتی، معاشی، ریاستی اور سیاسی نظام کاقرآن وسنت سے کوئی دور دور کا بھی تعلق نہیں۔ قرآن کے تراجم میں قرآن کے برعکس معاملات پیش ہیں۔ علماء اور مذہبی جماعتوں کو اسلام سے نہیں اپنا مفادپیارا ہے۔ مذہبی رنگ وروپ میں شیطان کی جھلکیاں نمایاں ہیں۔ جن سیاسی جماعتوں کو ریاست سپورٹ کرتی تھی تو ان کی تائید درباری علماء ومشائخ اور جاگیردار طبقات کرتے تھے۔ کانگریس کا منشور یہ تھا کہ انگریز سرکار کی طرف سے خانوں اور نوابوں کو دی ہوئی جائیدادآزادی کے بعد بحقِ سرکار ضبط ہونگی۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے منشور میں یہ نہیں تھا۔ آزادی کے متوالے قائدین ، رہنما اور کارکن بڑی تعداد میں کانگریس کے ساتھی بن گئے اور غدار بنگالی نواب میر جعفر کے متوالوں نے مشرقی اور مغربی پاکستان میں مسلم لیگ کا ساتھ دیا۔ بھارت کے بانی مہاتما گاندھی نے لباس و اطوار میں عوامی رنگ وروپ دھارلیا لیکن قائداعظم محمد علی جناح اور مسلم لیگیوں نے ڈرائنگ روم کی سیاست کرتے ہوئے انگریزی لباس کو ترجیح دی تھی۔
جب مشرقی اور مغربی پاکستان میں سول بیوروکریسی کے ملازم میر جعفر کے پوتے سکندر مرزا نے اقتدارکی صدارت پر قبضہ کیا جس کا تعلق بنگال سے تھا تو آرمی چیف صدر ایوب خان نے اس کے چوتڑ پر لات مار کر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ قائداعظم محمد علی جناح اور نواب زادہ لیاقت علی خان نے جمہوریت کی کوئی داغ بیل نہیں ڈالی تھی۔ جب برطانیہ کی انگریزسرکار نے پاکستان کو آزاد کردیا تو عوام کی تقدیر کے فیصلے سول وملٹری ملازمین اور انگریزوں کے ایجنٹ نواب،سردار اور پیروں فقیروں کے ہاتھ میں آگئے۔ پہلے مارشل لاء چیف صدر ایوب خان نے بنیادی جمہوریت کی بنیاد ڈالی مگردھاندلی اور غلط الزام کے ذریعے فاطمہ جناح کو شکست دی۔ پھر فیئر الیکشن میں شیخ مجیب نے واضح اکثریت حاصل کرلی لیکن مارشل لاء کے پالتو ذوالفقار علی بھٹو نے ادھر ہم اُدھر تم کی پالیسی اپنائی تھی۔
سول وملٹری ملازمین اور سیاستدانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بنگلہ دیش الگ ہوا اور ہمیں تاریخ میں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تو پاکستان کے ادھورے مغربی حصے میں شکستہ دلوں کیساتھ سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹو نے اپوزیشن جماعتوں کیساتھ مل کر (1973) کے آئین کی بنیاد ڈال دی۔ پھر (1977) میں ڈیڈی جنرل ایوب کے نقش قدم پر چل کر ذوالفقار علی بھٹو نے آخری حد تک دھاندلی اور ڈکٹیٹر شپ کے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ مخالف کو کاغذاتِ نامزدگی تک داخل نہیں کرانے دئیے ،بلکہ کراچی سے لاڑکانہ میں آئے ہوئے جماعت اسلامی کے امیدوار کو اغواء کرلیا۔ بلاول بھٹو حقائق سے آگاہی رکھتا ،یا اس میں ضمیرہوتا تو اپنے ڈی این اے (DNA) پر فخر نہیں کرسکتا تھا اسلئے کہ ننھیالی و ددھیالی تاریخ کوئی سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہرگز بھی نہیں ہے۔
جنرل ضیاء الحق نے نوازشریف اور جماعت اسلامی کی جس طرح آبیاری کی تھی ،اس کی ایک جھلک اسلامی جمہوری اتحاد میں جنرل ضیاء الحق کے بعد بھی عدالتی فیصلے کی شکل میں موجود ہے مگراب مفادپرست لوٹوں نے جماعتیںبدل بدل کر جماعتوں کی نظریاتی ساکھ بھی ختم کردی ہے جن کی قیادتوں کا تو پہلے سے مزا نہیں تھا لیکن مخلص مریدوں کی مانندسیاسی کارکنوں کو بھی مخمصے میں ڈال دیا ہے اور اب بھانڈ فیاض الحسن چوہان اور مراد سعید سیاسی رہنما بن گئے ۔ ایم کیو ایم (MQM) قائد الطاف حسین کو ٹی وی ٹاک شو میں ن لیگی رہنما زعیم قادری نے بھینس کہا تو جواب میں مصطفی کمال نے کہا تھا کہ تم نے عورتوں کو استعمال کرکے سعودیہ کا ریلیف حاصل کیا تھا۔ پھر وہی الزام مراد سعید پر بہنوں کے استعمال کے حوالے سے میاں جاویدلطیف نے بنی گالہ پر لگایا۔ حبیب جالب کے اشعار ابھی بھی گونج رہے ہیں کہ” لاڑکانہ چلو ورنہ تھانے چلو”۔سب اس حمام میں ننگے ہیں۔
آرمی چیف کی بات کو وسیع تناظر میں لینے کی ضرورت ہے ۔ سول وملٹری بیوروکریسی، مذہبی وسیاسی جماعتوں ،اپنے تعلیمی ، معاشی، معاشرتی نظام اور تہذیب وتمدن کا بیڑہ غرق ہے اورپھر نہ صرف ایک دوسرے کی پینٹ، شلواراور تہبند کھینچ رہے ہیں بلکہ الزامات کا سارا ملبہ بیرونی ایجنڈے کے سر ڈالتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ ہماری صحافت اور سیاست بڑی منافقت کا شکار ہے کیونکہ مریم نواز کا سینیٹ اپوزیشن لیڈر کیلئے اس قدر مشتعل ہونا اور پسِ پردہ حقائق مثال ہیں۔

NAWISHTA E DIWAR April Edition. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummatorbit

Leave a Reply

Back to top button