کیا کمی ہے انمیں، کیا شکایت ہے ان سے؟ راحیل شریف کے چاہنے والے…. وہ کرپٹ نہیں ہے اور وہ خوشامدی نہیں ہے، نواز شریف کے چاہنے والے

626
0

8th_Coloumn_August2016

بعض لوگ چاہتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف زیادہ حقدار ہیں کہ اشفاق کیانی کیطرح مزید 3سال ایکسٹینشن ملے ۔ اور بعض لوگ نواز شریف کی خواہش کیمطابق نہیں چاہتے کہ انکو مزید وقت ملے۔ دونوں کا مکالمہ دیکھ لیجئے

نواز شریف نے چوہدری سرور کو امپورٹ کیا اور پھر عدالت کے حکم پر مجبور ہوکر رفیق رجوانہ کو گورنر بنایا کیسی جمہوریت ہے پنجاب کے بارہ کروڑ عوام میں ن لیگ کیلئے ایک بے ضرر تابعدار سا گورنر مشکل ؟ پرویز مشرف کو بھی تو تم نے ہی نامزد کیا تھا اور آخر کار جس پر اعتماد کرو گے وہ بھی تو بستر گول کرسکتاہے۔ جیو کے خبرناک میں ترکی کی فوج کو عبرتناک بناکر اپنی فوج کی بڑی توہین کردی ہے میڈیا پر خرچہ کیا ہے

فوج کیلئے باہر سے سربراہ لانے کیلئے قانون سازی ہوسکتی ہے اور رفیق رجوانڑاں جیسا کوئی مل سکتا ہے رفیق تارڑکے ہم نام رفیق رجوانہ پر بہ مشکل اعتماد کیا ، چوہدری سرور کے بعد کس پر کیسے اعتماد کرتے؟ یار تم نے مشکل میں ڈالا ، تمہارے خلاف ہی قانون سازی کرنی پڑ رہی ہے نہیں تو وزیر اعظم لندن جائیگا جنرل راحیل نے بھی تو سعودیہ کی حمایت یافتہ اور مصر کی فاتح فوج سے ملکر دھمکانے کا سلسلہ جاری رکھا

جنرل کیانی کا اپنے بھائی کامران کیانی ، نوازشریف کا اپنے بچوں سے کیاتعلق؟۔ حالانکہ یہ قیامت میں ہوگا: یوم یفرالمرء من اخیہ وامہ وابیہ و صاحبہ و بنیہ ’’اس دن فرار ہوگا آدمی اپنے بھائی ، اپنی ماں،اپنے باپ ، اپنی بیوی سے‘‘(القرآن)۔
خلیفہ سوم حضرت عثمانؓ بذاتِ خود بہت مالدار تھے لیکن حکومت میں آنے کے بعد ان پر اقرباء پروری کے الزام لگے اور بات مسندِ خلافت پر شہادت تک پہنچی، داڑھی میں پہلا ہاتھ حضرت ابوبکرؓ کے بیٹے نے ڈالا ۔نبیﷺ زکوٰۃاسلئے قبول نہ کرنا چاہتے تھے کہ انسان انہ لحب الخیر لشدید’’مال کی محبت میں سخت ہے‘‘۔ اللہ نے حکم دیا تونبیﷺ نے اپنے اقارب پر زکوٰ ۃ حرام کردی۔ حضرت عثمانؓ اللہ کا حکم سمجھ کر اقارب پر احسان کرتے ۔ سیاستدان ، جرنیل اور بیوروکریٹ یہ اعتراف کرلیں کہ وہ مال چاہتے ہیں اور اقرباء کے نوازنے کی بات فطری ہے، اللہ نے فرمایا: لاتزکوا انفسکم ’’ اپنی پاکی بیان نہ کرو‘‘۔
چھوڑدیں کہ کس سیاستدان، جرنیل اوربیوروکریٹ نے کیا کیا؟۔ہرن مملکت بچے دیتی ہے۔ شیر، چیتے اوربھیڑئیے اسی پر پل رہے ہیں،قرآن میں سدھائے ہوئے جانور کا شکارحلال ہے مگر افسوس ہے کہ تعلیم وتربیت کا معیار نہیں اسلئے سب ہی بے سدھ ہیں۔ تربیت یافتہ کتے اور باز کا شکارحلال مگر آوارہ کتے اور گدھ کاراج ہوتو پاکستان کا کیا ہوگا؟، بڑے لوگوں کے بچے باہر اور ویزہ لگنے میں دیر بھی نہیں لگتی، عوام کی کمزوری پر حکمرانی ہے۔ قرضہ بے تحاشہ بڑھتا جارہا ہے، غریب کا بچہ باہر سے کماکربھیج رہا ہے، کرپٹ مافیہ دولت منتقل کررہاہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت گرنے سے جو سہارا ملا، اسکا فائدہ نہیں اٹھایا غیرملکی بینک موجودہیں، پیسہ باہر منتقل کرنا مسئلہ نہیں رہا۔سرکاری اثاثے بیچ کر اور اندرونی بے تحاشہ اور بھاری سود پر قرضہ لیکر آئی ائم ایف سے وقتی طور پر جان چھڑانا مسئلہ کا حل نہیں بحران کھڑا ہواتو مشکل پڑیگی بلکہ دیوالیہ ملک کو قرضہ بھی نہ مل سکے گا۔ سید عتیق گیلانی