بیت المقدس کی فتح سمیت پوری دنیا میں عالمی خلافت قائم ہونے کا وقت بالکل آن پہنچا ہے!

40
0

ان ھٰذا القراٰن یھدی للتی ھی اقوم ویبشر المؤمنین الذین یعملون الصٰلحت ان لھم اجرًا کبیرًاO
بیشک یہ قرآن رہنمائی ہے زیادہ اقامت کی اور بشارت دیتا ہے مؤمنوں کو جو صالح عمل کرتے ہیںبڑے اَجر کا۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پاکستان فرقہ واریت کے لحاظ سے نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر ہم نے صحیح کردار ادا کیا تو بیت المقدس کی فتح سمیت پوری دنیا میں عالمی خلافت قائم ہونے کا وقت بالکل آن پہنچا ہے!

اسلام کی نشاة ثانیہ ہوگی تو پورا ہندوستان دین فطرت کی سب سے زبردست آماجگاہ بن جائیگا۔ پاکستان میں ملحد طبقہ اسلام دین فطرت کو سمجھنے کے بعد روس کی اشتراکیت کو چھوڑ دیگا۔

اللہ تعالیٰ نے سورۂ بنی اسرائیل میں فرمایا:”پاک ہے وہ جو لے گیا رات کو اپنا بندہ، مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے ارد گرد کو اس نے برکت دی ہے۔ تاکہ ہم آپ کو اپنی نشانیوں میں سے دکھائیں۔بیشک وہ سننے دیکھنے والا ہے۔ اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کو بنایا بنی اسرائیل کیلئے ہدایت۔ خبردار! میرے علاوہ کسی کو وکیل مت بناؤ۔ یہ نسل تھی جن کو ہم نے نوح کیساتھ سوار کیا۔ بیشک وہ شکرگزار بندہ تھا۔ پھر ہم نے بنی اسرائیل کیلئے کتاب میں فیصلہ لکھا کہ تم ضرور دو مرتبہ فساد کروگے اور اپنی بہت بڑی بڑائی کامظاہرہ کروگے۔ جب تمہارے (فساد برپا کرنے کا) کا پہلا وعدہ آئے ،تو ہم تم پر سخت جنگجو قوم بھیج دیںگے ، پس تمہارے دیار میں ہر طرف پھیل جائیںگے۔ اور گویا کہ وعدہ پورا ہوچکا ہے۔ پھر اس کی گیند کو انکے خلاف تمہاری عدالت میں ڈال دیںگے۔ اور تمہاری امداد کریںگے، اموال اور بیٹوں سے اور تمہیں واضح مؤثراکثریت سے نوازیں گے۔پھر اگر تم اچھائی کروگے تو اپنے لئے کروگے اور اگر برائی کے مرتکب ہوگے تو اس کا نتیجہ مرتب ہوگا۔پھر جب دوسرا وعدہ آجائے تاکہ تمہارے چہروں کو سیاہ کردے۔ تاکہ وہ مسجد میں داخل ہوں جیسے وہ پہلے داخل ہوچکے تھے تاکہ مسمار کریںتم نے جو بڑائی اختیار کررکھی تھی اچھی طرح سے مسمار کرنا۔ ہوسکتا ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم کرے۔ اور اگر تم پھر اپنی روش کی طرف لوٹوگے تو ہم بھی لوٹیںگے۔ اور ہم نے جہنم کو کافروں کیلئے چٹائی بنارکھا ہے۔ بیشک یہ قرآن رہنمائی کرتا ہے اس راہ کی جو سب سے زیادہ اقامت والا ہے۔ اور بشارت دیتا ہے مؤمنوں کو جو صالح عمل کرتے ہیں،بیشک ان کیلئے بڑا اجر ہے۔ اور بیشک جن لوگوں کا آخرت پر ایمان نہیں ہے ،ان کیلئے ہم نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے”۔
سورۂ بنی اسرائیل کے اس پہلے رکوع میں بہت کچھ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کا ماحول دکھایا توروم یورپ اس وقت ایک سپر طاقت تھی اور دوسری سپر طاقت ایران تھی۔ جس طرح روس وامریکہ دو سپر طاقت تھیں۔ قیصر روم بڑا اچھا بادشاہ تھا ،اگر رسول اللہۖ کی دعوت قبول کرنے کیلئے اس کے مشیراور وزیر اور قوم کے افراد مان جاتے تو ان کی طاقت تہس نہس نہ ہوتی۔ پھر ان کا سابقہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر فاروق اعظم ، حضرت علیفاتح خیبر اور حضرت خالد بن ولید جیسے لوگوںسے کردیا تھا۔ نبیۖ کے غلام حضرت زید ، حضرت بلال، حضرت عمر کے غلام ابولؤلو فیروز، حضرت علی کے غلام اشتر سے لیکر محمود غزنوی کے غلام ایاز تک مسلمانوں کا بہت شاندار ماضی علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں بیان کیا ہے۔
دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحرِ ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے
اگر چہ تاریخ میں مسلمانوں کے مدوجزر اُتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہاہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو زمین پر اجارہ داری کا ٹھیکہ نہیں دیا ہے،جب اصولوں کی خلاف ورزی ہو،تو عروج والی قوم کو ذلت ورسوائی کی شکست کا سامنا ہوتاہے۔
متعصب سنی شیعہ اسلامی تاریخ اور صحابہ کرام واہل بیت کے حوالے سے پاکستان میں فضاؤں کو آلودہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ پاکستان کی ریاست اور حکومت کیلئے اپنے وزن پر کھڑا رہنا مشکل ہوگیا ہے تو دوسری طرف فرقہ وارانہ تقاریر، جلسے جلوس، سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ علامہ سیدجواد حسین نقوی و دیگر حضرات نے برطانیہ کی ایم سولہ (MI6)کے ملوث ہونے کا بھی انکشاف کیا ہے۔ امریکہ، بھارت، اسرائیل اور ایران وسعودی عرب پر بھی الزامات لگائے جاتے ہیں۔
ہمیں صرف شیعہ سنی فسادات کا ہی راستہ نہیں روکنا ہے بلکہ دیوبندی بریلوی اور حنفی اہلحدیث کے اختلافات کو بھی ختم کرنا ہے۔ دیوبندی دیوبندی، شیعہ شیعہ، اہل حدیث اہل حدیث اور بریلوی بریلوی کو بھی آپس میں کھلا چھوڑ دیا جائے تو فسادات کی حد تک بات پہنچ سکتی ہے۔ اگر ہم نے قرآن وسنت کی راہ اپنائی تو مسلمان، یہود، نصاریٰ ، صابئین کو بھی اتحاد واتفاق اور وحدت کی راہ پر ڈالا جاسکتا ہے۔ ہندو، سکھ اور بدھ مت کے لوگوں سے بھی مسلمان امن وسلامتی کا رشتہ قائم کرسکتے ہیں۔
سورۂ بنی اسرائیل میں امن وسلامتی کابڑا پیغام ہے۔ رحمت للعالمینۖ سے فرمایا کہ” میرے بندوں سے کہہ دیجئے کہ وہ بات کریں جو اچھی ہو۔ بیشک شیطان انکے درمیان تنازعہ کھڑا کرنا چاہتا ہے اور بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے”۔( آیت53)
یہاں غلط بات سے روکا گیا تا کہ باہمی تنازعہ اور فتنہ وفساد اُبھرنے کا اندیشہ نہ ہو۔ فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے والے قرآن کے پیغام کو اچھی طرح سے سمجھیں۔ موجودہ دور سے لیکر صحابہ واہل بیت تک ایسی فضاء بنانے سے گریز کرنے کی سخت ضرورت ہے جس کی وجہ سے فتنے وفسادات ، جھگڑے اور باہمی نفرتوں کے اندیشے ہوں۔
اگلی آیت میں یہ پیغام مزید زبردست اور بہت واضح ہے کہ ” تمہارا رب تمہیں زیادہ جانتا ہے ، اگر وہ چاہے تو تمہارے اوپر رحم کرے یا چاہے تو تمہیں عذاب دے، اور ہم نے آپ کو ان پر وکیل بناکر نہیں بھیجا ہے”۔ (بنی اسرائیل آیت54)
سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ گزشتہ ادوار سے لیکر آج تک اللہ اپنے بندوں سے مخاطب ہے کہ وہ تمہیں زیادہ جانتا ہے اور چاہے تو رحم کرے یا عذاب دے۔ اس بات سے ہمیں یہ پتہ چلنا چاہیے کہ کونسا فرقہ ، جماعت اور گروہ اللہ کے نزدیک برحق ہے یہ اللہ ہی زیادہ جانتا ہے۔ نہ ہمیں آپس میں لڑنے جھگڑنے کی ضرورت ہے اور نہ صحا بہ کرام و اہل بیت اور اکابرین یا دوسرے مذاہب کے لوگوں کیلئے اللہ کے رحم اور عذاب کے ہم ٹھیکہ دار ہیں۔ جب رسول اللہۖ سے فرمایا گیا ہے کہ آپ کا کام کسی کی وکالت کرنا نہیں ہے۔ یعنی صرف حق کا پیغام پہنچانا ہے۔ تو پھر ہماری کیا اوقات ہے کہ کسی کی وکالت یا مخالفت کرکے تنازعات کھڑے کرنے شروع کریں؟۔ جب انسان کو اپنا مفاد ملتا ہے تو فرقہ وارانہ اور مذہبی تنازعات کو پیٹ کیلئے ترجیح دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا:” اور تیرا رب خوب جانتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔اور بیشک کہ ہم نے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت دی اور داؤد کو زبور دی۔ کہہ دیجئے کہ پکارو،ان لوگوں کو جن کو تم اسکے علاوہ کچھ سمجھتے ہو ۔پس وہ قدرت نہیں رکھتے تم سے تکلیف اٹھانے اور نہ بدلنے کی۔ یہ تو وہی ہیں جو پکارتے ہیںتلاش کرتے ہیں اپنے رب کی طرف وسیلہ ۔ کون ان میں زیادہ قریب ہے اور وہ اس کی رحمت کے امیدوار اور عذاب سے ڈرتے ہیں۔بیشک تیرے رب کا عذاب تھا ڈرنے کے لائق۔ اور بیشک کوئی ایسی بستی نہیں مگر قیامت کے دن سے پہلے ہم نے ان کو ہلاک کرنا ہے یا سخت عذاب دینا ہے۔ یہ پہلے سے کتاب میں لکھا ہے۔ اور ہمیں نہیں روکا نشانیاں بھیجنے سے مگر یہ کہ پہلے لوگ اس کو جھٹلا چکے ہیں۔ اور ہم نے ثمود کو اونٹنی دی تو اس پر انہوں نے ظلم کیا۔ اور ہم نے نشانیاں نہیں بھیجیں مگر لوگوں کو ڈرانے کیلئے۔ اور جب ہم نے آپ سے کہا کہ بیشک تیرے رب نے لوگوں کااحاطہ کررکھا ہے۔ اور ہم نے اس خواب کو نہیں بنایا جو آپ کو دکھایا مگر لوگوں کیلئے آزمائش اور قرآن میں شجر ہ ملعونہ کو۔ اور ہم انہیں ڈراتے ہیں ان میں اضافہ نہیں ہوتا مگر بڑی سرکشی کا۔ اور جب ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو، تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے۔ اس نے کہا کہ کیا میں اس کو سجدہ کروں جس کو مٹی سے بنایا ہے؟۔ پھر بولا: کیا آپ نے اس کو دیکھا ہے ،یہ وہی ہے جس کو مجھ پر عزت دی ؟۔ اگر آپ مجھے مہلت دیں قیامت کے دن تک تو اس کی نسل کشی کرکے رکھ دوں گا مگر ان میں سے تھوڑے۔ فرمایا کہ جاؤ جس نے ان میں سے تیری اطاعت کی تو بیشک جہنم تمہارا بدلہ ہے ،بھرپور طریقے کا بدلہ۔ تو ان میں جس کو پھسلاسکتا ہے اپنی آواز سے، اور ان کو کھینچ لا اپنے سواروں اور پیادوں سے ۔اور ان کو شریک کر اموال واولاد میں اور وعدہ کر ان سے۔ اور ان سے شیطان کا وعدہ نہیں ہے مگر دھوکے کا۔ بیشک میرے بندوں پر تیرا بس نہ چلے گااور تیرے رب کی وکالت کافی ہے”۔( بنی اسرائیل آیت55سے65 )
ان آیات میں امت مسلمہ کیلئے بڑے زبردست حقائق ہیں۔ بعض انبیاء کرام کو بعض پر فضیلت دی ۔ حضرت داؤد کو زبور دی تھی۔ حضرت داؤد وسلیمان کو منصبِ خلافت وبادشاہت بھی عطاء کیا گیا اور نبوت بھی۔ فضیلت کا اصل معیار تخت شاہی نہیں بلکہ منصب نبوت ہے۔ خلفاء راشدین و اہل بیت کی فضیلت پر جھگڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جن شخصیات کو اللہ کے علاوہ پکارا جاتا ہے تو ان کو نعرے لگانے دو لیکن وہ ان کی مشکلات کو ختم نہیں کرسکتے ہیں ۔ وہ خود اپنے لئے رحمت کا وسیلہ اور عذاب سے بچنے کا خوف رکھتے تھے۔ جو اپنے لئے اللہ سے رحمت کی امید اور عذاب کا خوف رکھتا ہو تو اس کو پکارنے سے کیا ملے گا؟۔مشرکینِ مکہ نے حضرت ابراہیم کے نام پر بت نصب کررکھا تھا۔ بنی اسرائیل بھی شخصیت پرستی اور شخصیت سوزی کا شکار تھے۔ عیسائی حضرت عیسیٰ سے دلی عقیدت رکھتے تھے لیکن یہود مقابلے بازی میں حضرت عیسیٰ کی توہین کرکے حضرت عزیر کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے تھے۔ حالانکہ یہود کے پاس حضرت موسیٰ ، حضرت سلیمان، حضرت یوسف جیسی شخصیات بھی تھیں۔ جو علماء دیوبند رسول اللہۖ کی ولادت کا دن نہیں مناتے ہیں وہ یوم صدیق اکبر اور یوم فاروق اعظم مقابلے میں مناتے ہیں اور اگر یہی حال رہا تو وہ وقت دور نہیں کہ ابوسفیان وہندہاور مروان ویزیدکے دن بھی منانا شروع کریںگے۔
خلافتِ راشدہ،بنوامیہ ،بنوعباس کے بعد مکہ ، مدینہ، کوفہ، بغداد اور (1857ئ) کی جنگِ آزادی میں برصغیرپاک وہند کے بہت سے شہروں کو تخت وتاراج کیا گیا۔ پھر امریکہ نے افغانستان، عراق ، لیبیا اور شام کو تباہ کردیا۔ اس سے پہلے بیروت اور دیگر شہروں کی خونریزی کی تاریخ بھی موجود ہے۔ شیطان نے جس طرح انسانوں کی نسل کشی کا عہد کیا تھا وہ اس پر عمل پیرا ہے اور نسلِ انسانی ہی اس کی آلۂ کار بنتی ہے۔ اگر انسانوں کو شیطانی دھندے سے خبردار نہیں کیا گیا تو یہ سلسلہ بہت تیزی کیساتھ بڑھے گا اور ہمارے خطے کے علاوہ دنیا میں دوسرے ممالک اور قوموں کی بھی خیر نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نبیۖ کو خواب دکھانالوگوں کی آزمائش قرار دیا اور اسی طرح شجرہ ملعونہ کو بھی آزمائش قرار دیا جس کا ذکر قرآن میں ہے ۔بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کے سفر کا ذکر ہے۔ جہاں ارد گرد کا نورانی ماحول اللہ تعالیٰ نے دکھایا تھا۔ پھر وہ بھی مسلمانوں نے دیکھ لیا کہ جب مسجد اقصیٰ کو مسلمانوں نے پہلی مرتبہ بنی اسرائیل کی سپر طاقت کو شکست دیکر فتح کیا تھا۔ آنے والے وقت میں پھر توقع ہے کہ مسجد اقصیٰ پھر مسلمانوں کے ہاتھ سے فتح ہوگی لیکن اس مرتبہ بنی اسرائیل کیساتھ اللہ کی مہربانی سے رحم کا سلوک کیا جائے گا۔
جس طرح نبوت کیلئے معاشرے کے شریف ترین خاندان سے تعلق فطری بات تھی، اسی طرح اگر حضرت ابوسفیان کی بات کو مثبت انداز میں لیا جاتا کہ قریش کے کمزور ترین خاندان سے حضرت ابوبکر کے مقابلے میں بنوہاشم کے حضرت علی منصبِ خلافت پر فائز ہوں تو اسکے نتیجے میں شاید حضرت عثمان کی اتنی جلد تختِ خلافت پر شہادت، مسلمانوں کا آپس میں قتل و غارتگری میں مبتلا ء ہونا اور خلافت پر بادشاہت کیلئے خاندانوں کا قبضہ ہونا ممکن نہ ہوتا۔ہمیں ایک طرف اس بات کو اجاگر کرنا ہوگا کہ حضرت ام ہانی نے حضرت محمدۖ کے رشتے کو فتح مکہ کے بعد بھی قبول نہیں کیا تو یہ بنی ہاشم کی نسل میں سرداری کے جینز تھے اور یہ بھی سراسر غلط ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ کی عمر نکاح کے وقت صرف چھ (6)سال اور رخصتی کے وقت فقط نَو (9)سال تھی۔ اس سے یہ تأثر قائم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر کے قبیلے کی کوئی حیثیت بالکل بھی نہیں تھی اسلئے کہ اتنی کم عمری میں لڑکی کا بیاہ کرنا کسی خاندان کی گراوٹ ہے۔ہم نے ناقابلِ تردید تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ حضرت عائشہ کی عمر نکاح کے وقت سولہ (16)سال اور رخصتی کے وقت اُنیس (19)سال تھی۔ جس سے حضرت ابوبکر کا سردار ہوناہی ثابت ہوتا ہے اور قبیلے میں کسی نقص کا احساس نہیں ہوتا ۔ حضرت عائشہ نے تیسری زوجہ ہونے کی حیثیت سے نبیۖ کے گھر میں اُنیس (19)سال کی عمر میں قدم رکھا تھا۔ میری اپنی ماں نے بھی اسی کے لگ بھگ عمر میں تیسری بیگم کی حیثیت سے میرے والد کے گھر میں قدم رکھا تھا اور میرے نانا کانیگرم کے خان اور میرے والد کے قریبی عزیز بھی تھے۔
بنی اسرائیل خاندانی وجاہت میں شیطان کی طرح مبتلاء ہوگئے تو ان پر ذلت اور مسکنت مسلط کردی گئی۔ وزیرستان کے محسود ، برکی اور پیر بھی جب امن وامان کی نعمت کے ناشکرے بن گئے تو ذلت ورسوائی کے مقام پر پہنچ گئے۔ اب سنورنے کا موقع ہے۔

NAWISHTA E DIWAR February BreakingNews Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat