حریم شاہ مدرسہ میں پڑھی اور مفتی قوی نے ٹی وی پر حلالے کی پیشکش کی

تحفظِ حقوقِ نسواں موومنٹ کی خواتین مذہب پر یقین رکھنے والی عورتوں کو جانور سمجھ کر حلالہ کیلئے کیا علماء ومفتیان کے رحم وکرم پرچھوڑ رہی ہیں؟اور تبدیلی سرکارکے علماء ونگ کا مفتی عبدالقوی ملانی حریم شاہ سے عزت کمارہاہے؟

حریم شاہ نے مدرسہ میں تعلیم حاصل کی ، مفتی عبدالقوی نے ٹی وی پرحلالہ کی پیشکش کی، پھر تحریک انصاف علماء ونگ کا سربراہ بنااور قندیل بلوچ کے قتل نے علماء ونگ سے معزول کیا !

اُمت کا بڑا فتنہ مال ہے۔رشوت، سود، قتل، حرام کاری ، عزت فروشی، ظالموں کی وکالت، ملک وقوم کو لوٹنے ، مذہب کو بیچنے ، غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے اورہرقسم کے جرائم کراتاہے

پاکستان ہی نہیں پوری دنیا میں نالائقی، اندھیر نگری، تعصبات، مفادات اور ظلمات بعضھا فوق بعض (تہہ بہ تہہ اندھیرے)، ضعف الطالب والمطلوب (طالب اور مطلوب دونوں کمزور)ایک کی وکالت بھی ضلالت اور دوسرے کی وکالت بھی خجالت ہے ۔ سیاسی جماعتوں کا کردار بھی قابلِ ملامت، ریاستی اداروں کا کردار بھی قابلِ لعنت، حکمران ہوں یا اپوزیشن ہرشاخ پر الو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہوگا؟۔ آئی ایم ایف سے بھاری بھرکم قرضہ سودپر لیا جاتا ہے اور اتنی ہی رقم متعلقہ کمپنی کوریکوڈٹ پرجرمانہ ادا کرنے کا حکم عالمی عدالت سے ملتا ہے۔ نیب جتنی ریکوری کرتی ہے اتنی رقم براڈشیٹ کے ٹھگوں سے مل کراپنے اصحابِ حل وعقد جعلی کمپنیوں کے مالکان کو ادا کرتے ہیں۔ انسان اشرف المخلوقات اسلئے نہیں کہ اچھے سے اچھے کھانوں کو بدترین کھاد میں بدل کر سرخرو ہوتا ہے یا تازہ ہواؤں سے آکسیجن کوبدبودار ہوا میں خارج کرتا پھرے، یہ اِن پُٹ اور آوٹ پُٹ انسانی ذات کی کمزوری ہے اسلئے اس کو اپنی پاکی اور تعریف کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ خالق کائنات کی تعریف، توصیف اور تسبیحات بیان کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ہمارے پرنٹ میڈیا،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ترجیحات وہی ہیں جن پر صبح شام لعنت و ملامت کا بازار گرم ہے۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کی وکالت میں اچھا ہے کہ پاک فوج کی پاکیزگی بھی بالکل خاکستر ہوگئی کیونکہ بھٹو اورنوازکے بعد عمران کی نالائقی کے پیچھے بھی سارا گند اسی کا ہے۔ عمران خان نے دوسری پارٹیوں کیساتھ اپنے اس کیس کی بھی کھلی سماعت کا کہہ دیا ہے جس کو وہ عرصہ سے چھپاتا پھر رہاتھا اور اس کی وجہ یہ نہیںکہ اگرپاک فوج ساتھ ہو تو پھر کوئی اور کچھ نہیں بگاڑ سکتا بلکہ یہ حریم شاہ کا مفتی عبدالقوی کو چیلنج ہے۔ پہلے تو میڈیا ٹرائل کی بات ہوتی ہے لیکن اب سبھی حضرات گٹروں میں تیراکی کرتے ہوئے اس حمام میں نہیں اس گندے نالے میں سب ننگے ہیں۔

اہم سوال ہے کہ (2016ئ) میں ن لیگ کی حکومت تھی اور اس وقت بھی براڈ شیٹ کے معاملے میں لندن کی عدالت کے اندر کسی بڑی کمزوری کا شاخسانہ لگتاہے۔ پھر(2018ئ) میں عدلیہ کے پاک جج نے نگران حکومت کی طرف سے فیصلہ لندن کی سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا تھا بلکہ رقم ادا کردی گئی۔ ان دونوں اہم موڑوں پر کمیٹی اصل محرکات کا پتہ چلاکر ن لیگ اور نگران حکومت کے کرتے دھرتوں سے ہی رقم وصول کرے۔نگران وزیراعظم ریٹائرڈ جج نے اپنے بڑے اثاثے ظاہر کئے تھے اور ن لیگ اور دوسرے نالائق طبقات آج ریاستِ پاکستان سے زیادہ امیر ہیں۔ اگر سارے کرپٹ عناصر کو خوفِ خدا یاد دلایا جائے تو یہ اپنی حرام کی کمائی کی زکوٰةسے بھی قرضے ادا کرسکتے ہیں اوراپنے محسن ملک پاکستان کا حق نمک ادا کرنے میں کوئی تاخیر نہیں ہوگی۔

پہلے علماء کرام اور اولیاء عظام اپنے بڑے بڑے شہروں کو چھوڑ کر دیہاتی اور پسماندہ علاقوں میں غریبوں کے اندر مذہبی تعلیم وتربیت سے شمعیں جلایا کرتے تھے۔ چراغ سے چراغ جلتے اور لوگوںکو اخلاقیات کی اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم وتربیت ملتی رہتی تھی۔دنیا میں سچ،انسانیت، علم، کردار، تقویٰ، قربانیوں ، معیاری اخلاقیات کی زبردست قدر ومنزلت تھی۔ پھر آہستہ آہستہ ہم تنزلی اور گراوٹ کی منزلیں اترتے ہوئے یہاں تک پہنچے ۔ بقول اقبال

ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دِیا بھی

گھر پیر کا چراغوں سے ہے روشن

شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے فرمایا تھا کہ ” اب دنیا میں اتنا بگاڑ آچکا کہ کسی جماعت سے اصلاح نہیں ہوگی بلکہ معاملہ بگڑتا ہی چلاجائے گا۔ اب امام مہدی جیسی روحانی شخصیت سے ہی دنیا میں انقلاب آئے گا ”۔ آپ کے شاگرد مولانا اشرف علی تھانوی اس قول کو لیکر تصوف وسلوک کی خانقاہ میں بیٹھ گئے۔ دوسرے شاگرد مولانا الیاس نے تبلیغی کام شروع کردیا، ایک شاگرد مفتی کفایت اللہ مفتی اعظم ہند نے فقہ وافتاء کے محاذ پر خدمات انجام دیں، مولانا انور شاہ کشمیری نے درس وتدریس سے بڑے بڑے شاگرد پیدا کئے۔ مولانا حسین احمد مدنی نے جمعیت علماء ہند کے محاذ پر کام کیا اور مولانا شبیراحمد عثمانی نے جمعیت علماء اسلام کے محاذ پر تحریک پاکستان کے پلیٹ فارم سے اپنی جدوجہد شروع کی۔ مولانا خلیل احمد نے کتاب لکھ کر اپنے مسلک دیوبند کا تحفظ کیا۔ اور مولانا عبیداللہ سندھی نے قرآن کی بنیاد پر عوام میں اسلام کی نشاة ثانیہ کی طرف نوجوانوں میں رحجانات کو بڑھایا تھا۔

شیخ الہند کے فیض کو تبلیغی جماعت کی صورت میں دیکھو تو ایک دنیا میں اس کام کو انجام دیا جارہاہے۔ بریلوی مکتبۂ فکر کے مولانا الیاس قادری اور اہل حدیث کے مولانا الیاس اثری نے بھی اسی طرز پر اپنی جماعتیں بنائی ہیں اور مدارس کی شکل میں دیکھو تو دوسرے فرقوں اور مسالک نے بھی ان کی اتباع کر رکھی ہے اور سیاست کی شکل میں دیکھو تو دوسرے بھی میدان میں اُترگئے اور خانقاہوں کی شکل میں دیکھو توپیری مریدی نے بھی جدت اختیار کی ہے۔

اپنے مرشد حاجی محمد عثمانکی شخصیت کو شیخ الہندکے استاذوں کے پیر و مرشد حاجی امداد اللہ مہاجر مکیکی مسند پر بیٹھے دیکھا جہاں مفتی محمد تقی عثمانی و مفتی محمد رفیع عثمانی کے استاذ مولانا عبدالحق کو خلافتِ عظیمہ کا منصب ملا تھا۔ تبلیغی جماعت کے کارکن، مدارس کے اساتذہ ، فوج اور پولیس کے افسروں سے لیکر مدینہ کے عرب تک، جماعت اسلامی واہلحدیث والے بھی حاجی محمد عثمان سے بیعت تھے۔ پھر سقوطِ بغداد کی طرح حالات کا مشاہدہ کیا ہے۔ اکابر کے فتوؤں میں انتہائی درجے جہالت کا مظاہرہ بھی دیکھا ہے۔ مفادپرستی، ہٹ دھرمی اور گرتے ہوئے انسانوں کو اسفل السافلین تک پہنچتے بھی دیکھا ہے۔

جب مولانا فضل الرحمن کا کراچی کے مدارس کے علماء وطلبہ نے پہلی بار لیبیا کے دورے سے آمد کے موقع پر استقبال کیا تو اس وقت انوارالقرآن آدم ٹاؤن نیوکراچی درخواستی کے مدرسے سے طالب علموں کو استقبال کیلئے میں لیکر گیا ۔ جمعیت علماء اسلام کراچی کے مولانا شیر محمد نے مزدا ٹرک مجھے طلبہ کیلئے مہیا کیا تھا۔ انصار الاسلام کی خاص ڈیوٹی میرے ذمہ تھی۔جو ٹرک مولانا فضل الرحمن کیلئے ائرپورٹ پہنچایا گیا تھا تو اس میں علماء ورہنماؤں کے علاوہ کسی اور کو نہیں چڑھنے دینا تھاتو یہ ڈیوٹی میری تھی۔ کراچی کے اکابر علماء سواداعظم اہلسنت (شیعہ سنی فسادات) کے چکر میں قید تھے اور طلبہ کو اسلئے بھیجا گیا تھا کہ مارشل لاء کے دور میں مولانا فضل الرحمن اپنی دھمکیوں سے اکابر علماء کو رہا کرنے کا مطالبہ کرے۔ میں نے اپنے پیر بھائی اعجاز ملتانی کو بھی ٹرک پر چڑھادیا تھا اور جب دیکھا کہ جلوس میت گاڑی کی طرح اپنے جذبات خالی خاموشی کیساتھ جارہاہے کوئی جوش اور ولولہ نہیں ہے تو میں نے جلوس میں نعروں کی گونج کا بھی اضافہ کردیا تھا جس پر مولانا فضل الرحمن نے خوش ہوکر قہقہہ لگایا تھا۔

جب مدارس مولانا فضل الرحمن کے پروگرام میں شرکت پر طلبہ کو نکالتے تھے، تب بھی مدارس کا آخری وسیلہ مولانا فضل الرحمن تھا ۔ آج توسب معترف ہیں۔ ایم آر ڈی (MRD) میں بھی مولانا فضل الرحمن کی جماعت دوسروں سے ممتاز تھی۔ جب نشترپارک کراچی میں ایم آر ڈی (MRD)کا جلسہ ہوا تھا تو بی بی سی (BBC)نے تبصرہ کیا تھا کہ جمعیت علماء اسلام کا جلسہ لگ رہاتھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب بینظیر بھٹو پاکستان سے باہر تھیں اور مولانا فضل الرحمن پر بڑے مدارس کے علماء ومفتیان نے متفقہ کے عنوان سے گمراہی کا فتویٰ لگایا تھا۔پھر جب حاجی عثمان کے معاملے پر ہم نے علماء ومفتیان کی دھجیاں بکھیر دیں تو مولانا فضل الرحمن نے کہاتھا کہ” دنبے کو لٹایا ہے ، ذبح کردو ، ٹانگیں ہم پکڑ لیں گے”۔

مولانا فضل الرحمن نے اس وقت اتنی جرأت پھر حاصل کرلی تھی کہ تقریر میں برملا کہاتھا کہ ”میں اسلامی اقتدار کی جنگ لڑرہاتھا اور قیدوبند کی صعوبت برداشت کررہاتھا اور تم مجھ پر فتوے لگارہے تھے ، تمہارے فتوؤں کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں”۔ آج ریاست اور حکومت کے خلاف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پی ڈی ایم (PDM)کے اصل فوج مخالف بیانیے سے پیچھے ہٹ گئی ہیں۔لسانی جماعتوں کی روح نے پی ڈی ایم (PDM)کے پلیٹ فارم سے اسٹیبلشمنٹ کیخلاف اپنے جذبات کے سمندر میں مدوجذر اُٹھاکر دل صاف کردئیے ہیں۔ چاند کے عروج میں مدوجذر رات کے گھپ اندھیرے میں چاندنی سے مدھم روشنی پیدا کرکے فطرت کے نظارے کو دوبالا کردیتا ہے۔ پاکستان کا سیاسی مدوجذر اچھا تھا ورنہ انڈوں سے نئے نکلنے والے چوزوں نے پی ٹی ایم (PTM)و دوسری لسانی تنظیموں کی شکل میں اپنے جوان جذبے سے مشکلات کا طوفان اٹھا دینا تھا۔

جب سپاہ صحابہ کے بانی مولانا حق نواز جھنگوی اور تحریک جعفریہ میں گرم جنگ لڑی تھی تو مولانا جھنگوی جے یو آئی پنجاب کے نائب امیرتھے۔ ایرانی انقلاب کے لٹریچر اور سپاہِ صحابہ کے ردِ عمل میں مولانا فضل الرحمن نے اعتدال کا کردار ادا کیا۔ کافر کافر شیعہ کافر کا نعرہ مولانا حق نواز جھنگوی جمعیت کے پلیٹ فارم سے نہیں لگاتے تھے اور صحابہ کرام کے خلاف گستاخانہ مہم جوئی کے خلاف بھی مولانافضل الرحمن نے اپنا کردار ادا کیا۔ جب مدارس نے اہل تشیع پر متفقہ فتویٰ لگایا تھا تو مولانا فضل الرحمن اس کا حصہ نہیں تھے اور ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ سے قاضی حسین احمد اور مولانا سمیع الحق کو پذیرائی نہیں ملی۔ متحدہ مجلس عمل کو مولانا فضل الرحمن کی وجہ سے بھرپور پذیرائی مل گئی تھی۔

مولانا سمیع الحق اور جماعت اسلامی نے مدارس اور کالج ویونیورسٹیوں می اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد کے باوجود عوامی مقبولیت کا وہ گراف کبھی نہ بنایا جو مولانا فضل الرحمن کی تقدیر کا حصہ ہے۔ حالانکہ پی ڈی ایم (PDM)کی تحریک کو چھوڑ کر میڈیا ہمیشہ آپ کے پیچھے ہاتھ دھوکے پڑتا ہے۔ اب تو نوازشریف کیوجہ سے کچھ صحافیوں کی مہربانیاں ہیں۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

Leave a Reply

Back to top button