جانِ استقبال ارضِ پاکستان ہے مگر کیسے؟

630
0

یہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا مرکز، پوری دنیا میں خلافت علی منہاج النبوۃ کا قیام یہاں سے ہوگا۔

اسلام کو اجنبیت کے گرد وغبار سے نکالنے کی دیر ہے، عوام کو یکجان ہونے میں دیر نہ لگے گی

دنیا کے سامنے اسلام کا اصل ماڈل پیش کیا جائیگا تو روس وامریکہ نہیں اسرائیل بھی قبول کریگا

اس خلافت کی خوشخبری نبیﷺ نے دی ہے جس سے آسمان و زمین والے خوش ہونگے

اسلام دینِ فطرت ہے، روس وامریکہ، یورپ واسرائیل کے یہود ونصاریٰ کے دانشوروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سودی نظام سے دنیا کی معیشت تباہ ہوجائے گی، دنیا سود کو کم سے کم کرنے پر عمل پیرا ہے ، ہمارے حکمران طبقے بھاری بھرکم سودی قرضے اور علماء و مفتیان سودی نظام کو اسلامی قرار دینے میں مگن ہیں، یہ اس وقت سجدے میں گرے ہیں جب بقول علامہ اقبال کے وقتِ قیام آیا۔ دین میں زبردستی نہیں ہے اور نظام باہمی رضا مندی اور مشاورت سے حکومت تشکیل دینے کا نام ہے۔ روزہ، نماز، حج، زکوٰۃ، نکاح و طلاق، شرعی حدوداور پورا اسلامی ڈھانچہ دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تو جس طرح حبشہ کے بادشاہ نے سورۂ مریم کی تلاوت سننے کے بعد کہا تھا کہ ’’ ہمارا اعتقاد تنکے کے برابر بھی قرآن سے ادھر ادھر نہیں‘‘۔ اسی طرح دنیا بھر کے حکمران بھارت سمیت اسلامی نظام کو اسلام قبول کئے بغیر بھی اپنے ہاں نافذ کرنے پر برضا ورغبت راضی ہونگے۔ اچھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’’مشرکوں سے نکاح مت کرو، ان سے مؤمن غلام اور لونڈیاں بہتر ہیں اگرچہ وہ تمہیں بھلے لگیں‘‘۔ جس کی وجہ سے بھارت کے ہندؤں سے رشتہ ناطہ کرنے سے دور ہیں، کشمیر کا مسئلہ بھی نہ ہوتا تو ہم انکے ساتھ پھر بھی شیروشکر ہوجاتے، جنرل راحیل شریف نے درست کہا کہ ’’کشمیر تقسیمِ ہند کا نامکمل ایجنڈہ ہے‘‘۔
یہ یاد رہے کہ معرکۂ ہند بھارت کی ہٹ دھرمی کے نتیجہ میں فتح مکہ کی طرح ہوگااور مشرکینِ مکہ کی طرح شکست سے پہلے ان کو روحانی و اعصابی شکست ہوگی، اسرائیل کسی مزاحمت کے بغیر بیت المقدس پر جھنڈے کو نصب کرنے دیگا۔ ہندو مشرکین مکہ کی طرح اسلام میں داخل ہونگے اور ہندو مذہب اسلام کی نشاۃ ثانیہ سے ختم ہوجائیگا۔ اسلام زمین میں جڑ پکڑلے گا اور دنیا میں آنے والے بارہ قریش و اہلبیت کے خلفاء وقفہ وقفہ سے دنیا کی تاریخ پر نمودار ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ آخری امیر مہدی تک سلسلہ جاری رہیگا۔ جن دیوبندی اکابرینؒ نے لکھا ہے کہ ’’ چھوٹے بڑے مجدد سے کام نہ چلے گا، اب امت کی اصلاح امام مہدی کے ذریعہ سے ہوگی، جس کی روحانی قوت اتنی زیادہ ہوگی کہ وہ پوری دنیا کے حالات کو بدل دینے کی صلاحیت رکھتا ہوگا‘‘۔ روحانی مشاہدہ کے اعتبار سے اس طرح کی باتیں بڑے بڑے بزرگوں نے بھی لکھی ہیں لیکن یہ سوچ اپنی جگہ پر بہت گمراہانہ تھی اسلئے کہ ایساعقیدہ روحانی قوت کی بنیاد پر ہو تومہدی کی حیثیت تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے بھی بڑھ جاتی ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی گمراہی نہیں ہوسکتی، مولانا مودودیؒ نے اپنی کتاب ’’تجدید واحیائے دین‘‘ میں اس گمراہانہ سوچ کی نفی کی تھی جس میں عوام و خواص مبتلا تھے۔ علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں بھی مہدئ برحق، امامِ زمانہ ، مہدی اور آخرزمانی کے مؤقف کو زبردست طریقہ سے اجاگر کیا ہے۔
قرآن، اسلام ،نبی کریمﷺ کی سیرت اور خلافت کے نظام کیلئے دہشت گردانہ کاروائیوں کی نہیں اس فکر سے پردہ اٹھانے کی ضرورت ہے جسکی وجہ سے اسلام دین فطرت ہونے کے باوجود مذہبی طبقات کی کجروی کا شکار ہوچکا ہے۔ فرقہ واریت کی بجائے اتحاد واتفاق اور وحدت کا راستہ اس وقت سجھائی دیگا جب لوگوں کو راہ دکھائی جائیگی، اہل تشیع سمجھتے ہیں بارہ خلفاء قریش واہلبیت کا ذکر احادیث میں موجود ہے لیکن اہلسنت کے پاس کوئی معقول جواب نہیں، اسلئے اپنے لب ولہجہ میں درشتی اختیار کرلیتے ہیں حالانکہ ان کے ہاں بارہ امام کا جو تصور ہے، عقیدہ اور اصول کے اعتبار سے کلمہ و آذان بھی وقت کے امام کیساتھ بدلتے رہنا چاہیے تھامگر ان کے پاس اس کا معقول جواب نہیں، علاوہ ازیں بارہ اماموں پر امت کے اکٹھا ہونے کی خوشخبری ہے جبکہ اہل تشیع اپنے بارہ امام پر بھی متفق نہیں ہیں۔ اس معقول نقشِ انقلاب سے امت مسلمہ کا مستقبل روش نظر آتا ہے، قرآن وسنت کا راستہ ہدایت کیلئے کافی ہے۔قرآن اتنا بلیغ ہے کہ صحابہ کرامؓ ان پڑھ تھے مگر پھر بھی ہدایت پاکر دنیا پر چھاگئے تھے اگر موجودہ ترقی یافتہ دور میں قرآن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کوئی اہلبیت ذریعہ بن جائے تو قباحت کیاہے؟۔