سندھ میں کوئی ذمہ دار یہ نہیں کہتا کہ پاکستان توڑینگے آپ دو کوڑی کے آدمی کو کھڑا کردیتے ہیں، رسول بخش پلیجو

173
0

سندھ میں کوئی ذمہ دار یہ نہیں کہتا کہ پاکستان توڑینگے آپ دو کوڑی کے آدمی کو کھڑا کردیتے ہیں، رسول بخش پلیجو

رسول بخش پلیجو کا ویڈیوبیان، جنرل حمیدگل کی موجودگی میں بڑ ے تلخ حقائق
ملکیت کی اقسام ہیں ذاتی ، خاندانی، قومی ، قبیلے کی ملکیت ، بلوچستان میں مری قبیلے کی ملکیت ہے۔ کارپوریٹ پراپرٹی ، قومی اور بین الاقوامی بھی ہوتی ہے۔ کوئی کہتاہے کہ ملک کے اس ٹکڑے کو میں یہ کرنا چاہتا ہوں تو دنیا کو بچانے والے کہتے ہیں کہ آپ یہ نہیں کرسکتے، بالکل یہ آپکا ملک، آپ کی حدود ہیں لیکن اس میں وہ کام نہ کریں کہ جس سے دنیا کے لوگوں کا وجود اسکی بھلائی خطرے میں پڑ جائے سب لوگوں کا ایکدوسرے پر انحصار ہے اورایک دوسرے کے حقوق کے تحفظ پر دنیا بنی ہے۔سندھی دنیا میں چھوٹی قوم ہے اور ہم پانچ ہزار برس سے اس علاقے پر رہ رہے ہیں اور لوگ بھی ہیں جرمن ، فرنچ ، جاپانی ۔ اگر کوئی نعرہ بلند کرے کہ دنیا انسانوں کی ہے بنی آدم علیٰ یک ود یگرم، اسلئے فرانس کے سارے وسائل سارے انسانوں کے ہوگئے تو فرانس میں لوگوں کو آنے کیوں نہیں دیتے؟ ۔ہم سے بہتر مسلمان حرمین شریفین کے محافظ ہیں یہ لیکچر انہیں کیوں نہیں پلایا جاتا کہ یہ سرزمین جہاں پر لوگ آتے ہیں غریب اور مسلمان تو ان کو تم حقوق کیوں نہیں دیتے ان کو شہریت کیوں نہیں دیتے؟۔ کہتے ہیں کہ ہم نے فیصلہ کرلیا تھا ۔ کس نے فیصلہ کرلیا تھا ہم کو پاکستانی بنانے کا؟
The bunch of rural ….. destory PakistanThe criminal gang with responsible for killing million of people
اس بنچ کو آپ نے حق دیا کہ ہم نے فیصلہ کرلیا ۔ یہ ہم کون ہیں جو ہماری ملکیت کا فیصلہ کریں؟ یہ سرزمین ہماری ہے۔ تو جناب! سندھ کی سرزمین کی حفاظت کیلئے ہمارے آباو اجداد نے مغلوں سے لڑائیاں کیں، افغانوں سے ، سلطانوں سے ، روس سے ، ہماری عورتیں، بچے لے گئے، ہمارے خون کی ندیاں بہیں، ہم کیوں لڑے ؟ اگر ایک دن یہ ہونا تھا کہ دنیا میں جو ملک سے غداری کرے ،ملک کے لوگوں کو خون میں نہلائے، وطن سے بے وفائی کرے وہ یہاں آکر اس سرزمین کے وسائل سے فیضیاب ہوسکتا ہے، تو پھر ہم نے یہ قربانیاں کیوں دی تھیں؟۔ پھر قومیت کیا ہے؟۔جہاں مسلمان کا حوالہ ہے تو مسلمان تو ایک قوم ہے۔ یہ کس نے ہمیں او ر آپ کو حق دیا کہ ہم کہیں کہ یہ پاکستانی قوم ہے۔ کیا قرآن میں پاکستانی قوم سے کوئی واقفیت رکھتا ہے؟۔ کیا اسلامک لاء او رشریعت محمدی کے مطابق دنیا میں کوئی واحد اسلامی ملک ہوسکتا ہے؟۔ یہاں تو ایک خلیفة المسلمین ہوتا ہے نبی کا جانشین۔ دنیا میں اگر اسلامی اور مسلمان مملکت بنی ہے تو وہ ایک ہے۔ حضور کی روش اور حضور کی سنت پچاس مملکتوں کوقبول نہیں کرتی۔ آپ یہ تو نہیں مانتے۔ اگر سارے لوگوں کو میرے ملک پر قبضہ کرنے کا حق ہے ۔میرا ذاتی، اجتماعی ، قومی وطن نہیں۔ پاکستان بننے کے دن 14اگست کو بے وطن بن گیا ، میرا مال مالِ غنیمت بن گیا، جو بھی جہاں سے آئے جس جنرل کی مرضی ہو میرے ملک ، میرے دریا، میری آباد ی ، میرے بچوں کے رزق پر قبضہ کرلے ، بانٹ دے، سخاوت کردے تو کیا اسلئے میں نے پاکستان بنایا؟، یہ تھا پاکستان کا مفہوم ؟،یہ اسلام سکھایا جاتا ہے، جو ان لوگوں نے اسلام کی تشریح کی، جس نے پاکستان کو 25برسوں کے اندر تباہ کردیا۔ آج بھی یہ دہشت گردی قائم کئے ہوئے ہیں۔آج بھی ملک کو آگ میں دھکیل رہے ہیں۔ concentration camp نازی کیمپ قائم ہیں، وہ لوگ ہمیں اسلام آئین سکھاتے ہیں، جنہوں نے پاکستان کو سرِ بازار رسوا کیا، ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ ان پر فخر کرو۔ بنگال میں بفضل تعالیٰ ہم سے بہتر مسلمان ہیں ۔ ہم اسلام کا ٹھیکہ اٹھائیں کہ ہم ان سے بہتر ہیں۔ کیا وہ مسلمان نہیں جن کو قتل کیا گیا؟، جن کی عورتوں کو ذبح کیا گیا، جنکو کنوئیں میں ڈالا گیا۔ جنہوں نے انکو ذبح کرنے ان کی عصمت باختگی کرنے میں مدد دی ہم فخریہ اعلان کرتے ہیں کہ یہ ہماری طرح پاکستانی ہیں، ہم نے ریپ کیا وہ ہمارے ساتھ تھے، تو وہ ہمارے بھائی ہیں ان کو بلالو۔ This is a matte of shame…. 1940کے ریزولوشن کے تحت پاکستان میں شامل ہوئے کسی جنرل نے حکم نہیں دیا ،یہ آپ اس وقت تشریح کرتے کہ مسلمان کون ہوگا… ملک میرا ہوگا، تمہاری زمین کو میں فتح کرونگا، میں دور سے اچکوں اور بدمعاشوں کو بلا کر پورے ملک کو تقسیم کردونگا، پھر پاکستان میں شامل ہوتے توہم مجرم ہوتے۔ ہمارے ساتھ فراڈ ہوا، مس گائیڈ کیا گیا ہمیں کہا گیا کہ یہ اسلام کا ملک ہوگا، بھائی چارہ ہوگا، تمہارے حقوق کا تحفظ ہوگا، جمہوریت ہوگی، اسلام کے درخشاں اصولوں پر عمل ہو گا۔ یہ نہیں کہا گیا کہ جنرل اپنی فاشسٹ آئیڈیا لوجی کے تحت حکم دینگے کہ اسلام یہ ہے۔ اسلام ہمیں کوئی نہیں سکھا سکتا۔ ہم سب سے بہتر اسلام کے طالبعلم ہیں۔ پتہ ہے کہ اسلام کی روح کیا ہے، ہم عمر کو جانتے ہیں، ہم سارے اصحاب کے کردار اور انکے نکتہ نظر سے اچھی طرح سے واقفیت رکھتے ہیں۔ ہمیں یہاں لوگوں سے سیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ اسلام کی روح اور رول کیا ہے۔ جمہوری رول کیا ہے؟ جناب من! سندھ میں ہمارے پاس مخصوص زمین ، وسائل ہیں، اگر پشتون بھائی آتے ہیں تو یہ ہمارے ساتھ دوستی نہیں، مجبوری ہے جبر ہے۔ پاکستان بنا کر ٹریپ کرکے آپ ہمیں آنکھیں دکھاتے ہیں کہ جی پشتون بھی آئیگا۔ پنجابی کیوں آتا ہے؟ یعنی ایک ہمارے ساتھ زیادتی اور اس کو آپ دلیل بناتے ہیں کہ دوسری بھی ہوگی پھر تیسری پھر چوتھی بھی ہوگی۔ یہ صحیح نہیں ۔ آپ آج جو کریں کرسکتے ہیں ۔یہ جابرانہ رویہ ہے جو پاکستان بننے کے پہلے دن سے ہی اختیار کیا گیا۔ آپ پچاس لوگ لیکر کسی ملک میں گھس جائیں اور کہیں کہ ہم نے جارحیت نہیں کی ۔ آپ لوگوں کے ہجوم لیکر منگولوں کی طرح کسی ملک میں گھسیں پھر کہیں کہ ہم مسلمان بھائی آگئے۔ یہ جارحیت ہے ہم پرجارحیت ہوئی پاکستان بننے کے بعد۔ ہمارے وسائل پر قبضہ،ہمارے شہر چھین لئے، ہمارے ساتھ دھوکہ ، فراڈ، دہشت گردی استعمال کی گئی۔ آج ہم اپنے شہروں میں کیوں رہیں؟ ۔ ہم یتیم ہیں مسکین ہیں آنکھیں ہماری نیچے ہیں، ساری دنیامیں ہندوستان کے جو بدترین جراثیم تھے دہشتگردی، نفرت، مذہبی تعصب کے، جودرندوں کی طرح لڑتے ہیں، یہاں یہ روایت نہیں، یہاں کسی ہندو کو کسی نے نہیں مارا، کیونکہ ہم تہذیب یافتہ قوم ہیں۔ انسان کی عزت اور تقدس کا احساس ہے۔ ہمارے محلے میں جو آدمی رہتا ہے وہ محفوظ رہتا ہے۔ ہم بچوں کو ، عورتوں کو قتل نہیں کرتے، چھاتیاں نہیں کاٹتے، اسلام اسطرح نہیں پھیلاتے۔ تبلیغ اس طرح جائز نہیں سمجھتے کہ تمconcentration campحراستی کیمپ بناؤ، ٹارچر کیمپ بناؤ، لمبی تقریریں کرو، یہ قرآن ہے؟ یہ قرآن کی بے عزتی ، قرآن کی توہین ہے۔ ایسے نا مقدس اور ناپاک کام میں ایسی مقدس چیز کا نام لیا جائے۔ ہمارے ساتھ بین الاقوامی جرم کیا جارہا ہے۔ بین الاقوامی جرم ہٹلر کرتا تھا اسکے پاس بھی دلائل تھے… میں جرمنی گیا سارا ریکارڈ موجود ہے، بڑی دلیلیں اس کے پاس تھیں۔ کولون میرا ہے یوگو سلاواکیہ میرا ہے۔ بس ختم اینڈ۔ اس پر میں حملہ کرونگا، اس کو ختم کرنا ہے…۔ آپ آج بوتے ہیں تو کل نتیجہ ہوگا۔ آپ بورہے ہیں طاقت کے زور پر ۔ پنجاب کے وزیر اعظم سندھ کیخلاف پہلے دن سے حرکتیں کررہے ہیں۔ ایک گٹھ جوڑ ہے سندھ کیخلاف۔ شہر کھینچ لو، شہروں میں دہشتگردی کرو، لوگوں کی جماعتیں بناؤ، اندر سے ایجنسیز بناؤ، سارا دن ایجنسیز کہتی ہیں کہ ہم بغاوت کرتے ہیں ہمارے بھائیوں میں سے سندھ میں ایجنٹ بنائے، جو سارا دن کہتے ہیں کہ ہم پنجاب کو تباہ کرینگے۔ جو کہتے ہیں ہم پاکستان کو توڑینگے۔ وہ ناچ رہے ہیں یہ کس کے ایجنٹ ہیں؟ اسلام آباد کے ایجنٹ ہیں۔ سندھ نہیں کہتا، میں چیلنج کرتا ہوں کہ سندھ میں کوئی ذمہ دار آدمی یہ کہے کہ پاکستان کو توڑنا چاہتے ہیں یہ کونسل کا ممبر تو بن کر دکھائے۔ یہ ایجنسیز کی مہربانیاں ہیں۔ یہ آپ کی نوازشیں ہیں کہ آپ دو کوڑی کے آدمی کو کھڑا کردیتے ہیں کہ پاکستان کو توڑینگے ، تاکہ آپ کو موقع ملے آرمی لائیں، آپ ہمیں پاکستان دشمن، پنجاب دشمن ، عوام دشمن، قاتل ، بھارتی ایجنٹ، را کا ایجنٹ ثابت کریں۔ ہم اچھی طرح سمجھتے ہیں جناب من ! ہم تعلیمافتہ ہیں جاہل نہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ آج انٹیلی جنس کی اسٹریٹیجیز کیا ہیں؟ ہم پڑھے ہوئے ہیں ہم tacticsحربے جانتے ہیں۔ ہم ڈائریکشنز جانتے ہیں۔ قطرہ قطرہ کرکے آپ ہمارے جسم میں زہر ڈال رہے ہیں۔ ایک لاکھ آگیا ،دو لاکھ آگیا، کوئی پرواہ نہیں اسلام کا دامن بہت وسیع ہے۔ آپکا دامن کیوں وسیع نہیں ؟۔ ہمارے لئے ایک نوکری نہیں چھوڑتے ۔ فوج میں ایک لیفٹیننٹ دینا نہیں چاہتے۔ آپکے دامن کی وسعتوں کو کیا ہوگیا؟۔ آپ تو ایک پرائم منسٹر کو برداشت نہیں کرسکتے کہ دو دن کیلئے وہ پرائم منسٹر بن جائے۔ ہمارے لئے تو سینٹ میں سیٹ نہیں۔ ہمارے لئے پاکستان میں کوئی جگہ ہو تو دکھائیں۔ سندھ کیلئے آپکے دامن میں کیا ہے؟، ہمیں سخاوت کاسبق پڑھارہے ہیں۔ سندھی کہتے ہیں کہ ماما کے گھر مہمان آئے تو میرے دل کو کوئی اندیشہ نہیں ۔آپ اپنے مال پر کچھ سخاوت کرکے دکھائیں جناب! تو ہم دیکھیں، ہمارے بھائی ہندوستان میں تھے، 1940 ریزولوشن میں ایک آدمی کو سندھ لانے کیلئے ایگریمنٹ نہ تھا۔ ہم ان پڑھ نہیں، وکیل قانوندان ہیں۔ آپ کی تشریح ہم نہیں مانتے۔ آپ کہاں تھے جب پاکستان بن رہا تھا؟، لوگ جیلوں میں جارہے تھے تو آپ انگریز بہادر کے سامنے اپنے فلسفے جھاڑ رہے تھے۔ آپ تو دشمن کے کیمپ میں تھے۔ آپ ان کو سبق سکھاتے تھے جو جیلوں میں تھے۔ میں بچہ تھا ، ہم لڑے جلوس نکالے ، ہم نے 1946ء آرمی ونیوی کا جو انڈین باغی تھا، جلوس نکالا تھا کراچی میں آپ کہاں تھے؟۔ آپ تمام معزز اور قابل احترام جرنیل کہاں تھے؟۔ سندھ ایگریمنٹ یہ ہے کہ ایک بھی آدمی کو سندھ کے وسائل پر متصرف ہونے کا حق نہیں دیا گیا۔ پھر راستہ بند ہوگیا کہ اس تاریخ کے بعد لوگوں کا منتقل ہونا بند ہوجائیگا۔ آپ نے وہ بھی توڑ دیا اس کے بعد۔ ہندوستان میں تو لاکھوں مسلمان ہیں ۔ دس کروڑ مسلمان ابھی ہندوستان میںہیں۔اگریہ بہاری حضرات ہمارے بھائی جنہوں نے کچھ کارہائے نمایاں اسلام اور پاکستان کیلئے انجام دیا، جو ساری دنیا میں مشہور ہیں اگر وہ حق رکھتے ہیں تو10 کروڑ مسلمان جو ہندوستان میں ہیں اسلامی مملکت میں رہنے کا حق کیوں نہیں رکھتا؟۔ آپ تو کل کھڑے ہونگے کہ یہ مسلمان ہے ہمارا دامن وسیع ہے۔ پھر پنجابی حضرات آپکے رہنے کی جگہ بھی نہیں ہوگی۔ آپ سخاوتیں کریں تو آپ مینورٹی میں بدلو گے۔ اگر 10کروڑ آیا تو تم کہاں جاؤ گے؟۔ آپکے دماغ چھوٹے ہیں، تاریخ نہیں پڑھی۔ آپ توکہتے ہیں ون ٹو تھری لیفٹ رائٹ مارچ ہوگا۔ جو بڑاتیر مارا، ہم نے بنگال میں دیکھا ، آپکی فہم و فراست، آپکے مشورے کہ قہر خداوندی بن کر ٹوٹ پڑو۔ قہر خداوندی بنکر ٹوٹ پڑے پاکستان کی سالمیت اور بقاء پر ۔ پاکستان کی حدود پر آپ ٹوٹ پڑے اور پوری دنیا میں آپ نے رسوا کردیا۔ ہم کہتے ہیں ان لوگوں کو مت لاؤ۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ آپ اسلئے لارہے ہیں تاکہ سندھی لوگوں کو جیسے میرے بھائی نے کہا کہ آپ سزا دے سکیں۔ آپ ہمیں پاکستان میں فٹ نہیں دیکھتے ہم آپ کو نہیں بھاتے۔ ہمیں پسند نہیں کرتے۔ جس طرح بنگالیوں کو تہہ تیغ کرنے کے منصوبے اور سازشیں بنارہے تھے ،پہلے دن سے آپ سندھ کیخلاف سازشیں بنا رہے ہو۔ آپ کی ہر ادا، نظریہ آپ کی ہر دلیل آپ کی ہر تشریح بتاتی ہے کہ آپ سندھ کو نیست و نابود کرنے پر تلے ہیں۔ اس کیلئے آپ نے دلائل کے ابنار لگائے اور آہستہ آہستہ ہمیں پیرالائز کررہے ہیںاور سائیکالوجیکل پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ سندھی نوکری نہیں کرتے؟۔ آپ دیں میں آپ کو پانچ ہزار نوجوان دیتا ہوں کہاں ہے نوکری؟۔ سب لے گئے آپ۔ میں دیتا ہوں نوجوان۔ لیفٹیننٹ چاہئیں میجر کیلئے کوالیفائڈ چاہیے میں۔ آپ ہمیں اقلیت میں بدلنا چاہتے ہیں۔ میں 20سال پہلے لکھ چکا ہوں ۔ اسٹیبلشمنٹ بڑی گھناؤنی سازش کرکے سندھی لوگوں کے حق پرست انسان دوست مہذب وجود کو برداشت نہیں کرتی۔ آپ اپنے آپ کو خاص مخلوق سمجھتے ہیں کہ دنیا کو فتح کرنا ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ خداوند عالم نے آپ کو حاکم کا منصب عطا کردیا کہ لال قلعے پر جھنڈا لہرائیں گے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ لال قلعے پر جھنڈا لہرانے والوں میں سے ہم نہیں۔ ہم انسانی قدروں پر یقین رکھتے ہیں ، جمہوریت اور پر امن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور آپ سمجھتے ہیں کہ اس کیلئے یہ فٹ نہیں ۔ اسلئے تہہ تیغ کرنا چاہتے ہیں۔ آپ دلائل لاتے ہیں دنیا بھر سے دہشتگرد جمع کرنا چاہتے ہیں۔ آپ نے ان کو ہتھیار بند کیا یہ سارا کھیل آپکا ہے۔ پہلے دن سے پتہ ہے کہ ہم سے یہ ملکیت لیکرکنگال اور فقیر کرکے بے وطن کررہے ہیں۔ یہ ڈاکو آپکے پالے ہیں۔ آپ طاقت کے زور پر دہشت کریں، یہ دلائل ہم جانتے ہیں؟بنگالی مسلمان نہیں؟ انکے ساتھ کیوں نہیں رہے؟ کیا ضمانت کہ ہمیں خون میں ڈبونے کیلئے نہیں آئیں گے؟۔ کیا ضمانت ہے کہ کل آپ سے ملکر ہمارے یہاں وہی حالت اور وہی ڈرامہ نہیں کرینگے جو پہلے کیا، جو آج کیا جارہا ہے؟۔ کراچی پری ویو ہے جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔ 20برس سے ٹریلر آپ دکھارہے ہیں دہشتگردی کا، آپ نے سنا، پنجاب میں ایسی کوئی بات ہو؟ جو کراچی میں ہو رہی ہے۔ عورتوں کی چھاتیاں کاٹی جاتی ہیں ؟۔ پنجاب ، سرحد ،بلوچستان، سندھ میں یہ روایت ہے؟ عورتوں کی تذلیل کی یہ روایت ہے؟ یہ ٹارچر جس میں مشینیں لیکر گھساتے ہیں یہ کون ہیں؟ یہ ہمارے زبردست آدمی ہیں جو سکھاتے ہیں کہ اس طرح سے لوگوں کو دشمن بنایا جائے۔
جناب عالی! ہم اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ یہ سندھیوں کیساتھ ظلم، بین الاقوامی جرم ہے۔یہ مظلو م محکوم اور پر امن قوم کا وجود مٹانے کی سازش کی بہت بڑی کڑی ہے۔ ہم پنجاب کی عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ آپ غور کریں ، آج ہمارے پاس وہ الفاظ نہیں کہ ہم آپ کو متاثر کرسکیں کیونکہ آپکے پاس طاقت ہے۔ پنجاب کی عوام نہیں کیونکہ آپ تو خود محروم ہیں۔ حکمران طبقوں کے پاس طاقت ہے اور انکے دماغوں میں بڑے بڑے خواب ہیں ساری دنیا پر حکومت کرنے کے۔ ہٹلرسے بڑے خواب ۔ ٹھیک ہے، آپ یہ سمجھیں اخلاقاً کہ ہم آپکے ساتھ ہوئے مشکل وقت میں پاکستان ہمارے بغیر بن نہیں سکتا تھا۔ قائد اعظم ہم نے دیا۔ پاکستان کا پہلا ریزولوشن ہم نے دیا۔ پہلا تخت گاہ ہم نے دیا،میزبانی کیلئے راستوں پر ہم کھڑے تھے۔ دیگیں ہم نے پکائی تھیں، اپنے ہم زبانوں کیلئے نہیں جیسے پنجاب میں آئے ۔ ان کیلئے جن کی زبان ہماری نہیں تھی ۔ ہم سے نفرت کرتے تھے ہمیں دراصل فتح کرنے آئے مگر ہم نے اپنے دل ان کیلئے کھول دئیے۔ یہ نہیں کہ فصاحت و بلاغت سے متاثر ہوئے لمبی دھارائی، تقریریں اور ڈانس سے ہم متاثر ہوئے۔ ہم سیدھے لوگ دیہاتی ہیں یہ تقریریں ہمارے لئے وقعت نہیں رکھتیں۔ ہم انسان کا دل دیکھتے ہیں۔ دیکھا کہ مظلوم ہیں تو اپنا دل پیش کیا۔ آج ہمارے ساتھ یہ سلوک ہورہا ہے کیا اسکا کوئی نتیجہ نہیں ہوگا؟۔ آج آپ جو بورے ہیں، کیا کل نہیں کاٹیں گے؟ تاریخ میں کوئی بھی ایسا فعل نہیں ہوتا جس کا نتیجہ نہ ہو۔ آج نہ ہو تو کل ہوگا ،کل نہ ہو تو پرسوں ہوگا۔