جیو اور جنگ گروپ کا فریضہ، سپریم کورٹ آف پاکستان کا فریضہ، شریعت کورٹ پاکستان کا فریضہ ، رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کا فریضہ اور اسلامی مدارس کا فریضہ. فیروز چھیپا

766
0

ماہنامہ نوشتہ دیوار کے مالیاتی امور کے مہتمم فیروز چھیپا نے اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے فرمائش کی ہے کہ حضرت مفتی حسام اللہ شریفی مدظلہ العالی عرصہ چالیس سال سے زیادہ جنگ گروپ کے ہفت روزہ اخبار جہاں کراچی میں قرآن و سنت کی روشنی میں نکاح و طلاق اور دیگر شرعی مسائل کے جوابات دیتے رہے ہیں ۔ مفتی صاحب کا تعلق دیوبندی مکتبہ فکر اور حنفی مسلک سے ہے ۔ ان کا نام بھی شیخ العرب و العجم مولانا حسین احمد مدنی نے رکھا ہے اور ان کو 1962ء میں مولانا احمد علی لاہوری ؒ نے اپنی طرف سے مسائل کے جواب کا فریضہ سونپا تھا۔ روز روز کراچی ، ملک بھر اور دنیا کے کونے کونے میں طلاق کے مسائل رونما ہورہے ہیں ، نکاح ٹوٹا نہ ہو ، حلالہ کی ضرورت نہ ہو اور فتویٰ حلالہ کا دیا جائے تو اس سے آسمان اور زمین والے لرزتے ہونگے۔ جیو اور جنگ گروپ کا فرض بنتا ہے کہ مفتی حسام اللہ شریفی کی طرف سے تائید اور تصدیق کے بعد قرآن و سنت کے مطابق طلاق کے مسائل کی عوام میں زبردست طریقے سے تشہیر کریں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر میاں بیوی کے درمیان جدائی اور حلالہ کے معاملات سامنے آتے ہیں میڈیا بھی حق کو پوشیدہ رکھنے کا ذمہ دار ہوگا ۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جناب انور ظہیر جمالی اور لاہور، کراچی ، پشاور ، اسلام آباد اور کوئٹہ کے چیف جسٹس حضرات سے اپیل ہے کہ وہ شریعت کورٹ کے مشیر اور سپریم کورٹ کے مشیر حضرت مفتی حسام اللہ شریفی کی تائید اور تصدیق سے مرتب ہونے والی قرآن و سنت کی تحقیقات پر فیصلہ صادر کرنے کیلئے خصوصی طور پر مشاورتی اجلاس بلوائیں یا جو بھی ان کا طریقہ کار ہے۔ اور قرآن و سنت کے ذریعہ سے طلاق اور خلع کے مسائل حل کرنے کے احکام پاکستان بھر میں نافذ کردیں اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کریں۔
جب قرآن و سنت سے روز روشن کی طرح واضح ہے کہ عورت خلع کی حقدار ہے اور مرد کی طرف سے ایک ساتھ تین طلاق کا تصور صرف اس صورت میں ہے جب بیوی صلح کیلئے راضی نہ ہو۔ اسکے علاوہ رجوع کی گنجائش ڈھیر ساری آیات سے ثابت ہے۔ جو لوگ صلح و رضامندی کے باوجود طلاق ، حرمت اور حلالہ کا فتویٰ دیتے ہیں وہ قرآن و سنت کی سراسر خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اگر قانون کی طاقت سے ان ظالموں کو نہ روکا گیا تو قیامت میں ذمہ دار بچ نہ سکیں گے۔
سعودی عرب نے کچھ عرصہ قبل ایک مجلس کی تین طلاق پردنیا بھر کے علماء کو بلوا کر فتویٰ طلب کیا تھا جس میں علامہ ابن تیمیہ کے فتویٰ کے برعکس حنفی فقہ کے مطابق ایک ساتھ تین طلاق کے فتوے پر اتفاق کیا گیا۔ اس میں شاید اہل تشیع کو اپنے حدود میں رکھنے کا بھی خیال رکھا گیا۔ رابطہ عالم اسلامی تحقیقات قرآن و سنت کے رکن حضرت مولانا مفتی حسام اللہ شریفی کی طرف سے جس تحقیق کی زبردست تائید و تصدیق ہوئی ہے اس میں دوسرے مسالک کی طرح اہل تشیع اور اہل حدیث کی فکر کو بھی بہترین انداز میں رد کردیا گیا ہے۔ اگر رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ دوبارہ اس فکر پر غور کرلے تو امید ہے کہ نہ صرف ایک ساتھ تین طلاق کے غلط فتوے سے رجوع کا معاملہ سامنے آئے گا بلکہ ایک طرف حضرت عمر فاروقؓ کے اقدام کی زبردست تائید ہوگی کہ بیوی کی رضامندی کے بغیر شوہر رجوع کا حق کھودیتا ہے تو دوسری طرف قرآن و سنت ہی کا بول بالا ہوگا اور تمام فرقے اور مسالک اس کے سامنے بہت خوشی کے ساتھ نہ صرف سرنگوں ہوں گے بلکہ اتحاد و اتفاق اور وحدت ملی کا بھی مظاہرہ کریں گے۔ امت مسلمہ کیلئے یہ اقدام قرآن و سنت کی طرف رجوع کا زبردست ذریعہ ہوگا۔