مذہبی مدارس میں سمجھ بوجھ کے باوجود حلالہ کرنے اور کروانے والے علماء و مفتیان لعنت کے مستحق ہیں

211
0

اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنَاتِ وَالْہُدٰی مِنْ بَعْدِ مَا بَیَّنَّاہُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتَابِ اُولٰئِکَ یَلْعَنُہُمُ اللّٰہُ وَیَلْعَنُہُمُ اللَّاعِنُوْنَ (159) اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَبَیَّنُوْا فَاُولٰئِکَ اَتُوْبُ عَلَیْہِمْ وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ (160)
بے شک جو لوگ ان کھلی کھلی باتوں اور ہدایت کو جسے ہم نے نازل کر دیا ہے اس کے بعد بھی چھپاتے ہیں جو ہم نے لوگوں کیلئے کتاب میں واضح کر دیاہے، یہی وہ لوگ ہیں کہ ان پر اللہ لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کرلی اور اصلاح کر لی اوراس کا اعلان بھی کر دیا پس یہی لوگ ہیں کہ میں ان کی توبہ قبول کرتا ہوں، اور میں بڑا توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہوں۔سورہ بقرہ آیات 160-159

کتاب ”عورت کے حقوق” میں قرآن کی آیات اور احادیث اور اصولِ فقہ کے مسلمہ قواعد اور درس نظامی کے حوالے سے بالکل واضح کردیا ہے کہ اسلام نے جاہلیت کا حلالہ بالکل ختم کردیا تھا لیکن صحابہ کرام اور ائمہ اربعہ کے بالکل برعکس اسلام اجنبی بنادیا گیا۔ پھر بہت بعد کے فقہاء نے نہ صرف حلالہ کا جواز نکالا ، بلکہ اس کو کارِ ثواب بھی قرار دے دیا ۔ آج مدارس قرآن وسنت کی تعلیمات کے خلاف میاں بیوی میں تفریق اور حلالہ سینٹر بن چکے ہیں۔ جناب سینٹر مشاہداللہ خان ن لیگ کے رہنما سینٹ اور قومی اسمبلی میں یہ مسئلہ اٹھائیں۔ مولانا فضل الرحمن کو ہمارے ساتھ میڈیا پر بٹھائیں۔ مدارس کے علماء ومفتیان نے بھی حقائق کو سمجھ لیا ہے لیکن بعض اپنے مفادات کی وجہ سے مجبور ہیں اور بعض حلالہ کی لذت آشنائی سے محظوظ ہیں۔ جب تک ان کو بلڈوزر کے نیچے کچلنے کا خوف نہ ہو ، یہ ملعون اللہ کے احکام کو ماننے کیلئے کبھی آمادہ نہیں ہونگے۔ عورت جہالت کی وجہ سے قرآن وسنت کی غلط تشریح وتعبیر کی وجہ سے ہی حلالہ کی لعنت کا شکار ہورہی ہے۔ مدارس کے دارالافتاء کی حالت دیکھی جائے تو خواتین نے ایک ساتھ تین طلاق کی وجہ سے فتوؤں کی لائن لگارکھی ہوتی ہے۔ بڑے مدارس کا باشعور طبقہ اور مفتی صاحبان اس گھناونے کھیل کو سمجھ چکے ہیں لیکن سانڈ قسم کے مفتیوں کی دارالافتاؤں میں حکمرانی ہے۔ ریاست جس طرح پیپلزپارٹی اور ن لیگ سے نہیں ڈرتی لیکن مولانا فضل الرحمن کے مذہبی فتوؤں سے خائف ہے، اسی طرح مدارس کے شریف علماء ومفتیان بھی اپنے بدمعاش اور بدقماش طبقے سے عاجز نظر آتی ہے۔ ہماری مولانا فضل الرحمن سے استدعا ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں کیلئے اقتدار کی راہیں ہموار کرنے کے حوالے سے مذہبی کارڈ کو استعمال کرنے کے بجائے دین کی حقیقت سے حقیقی انقلاب کی طرف رجوع کریں۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کی کتاب” عصر حاضر حدیث نبوی علی صاحبہا الصلوٰة والسلام کے آئینہ میں” مدارس کے جاہل علماء ومفتیان اور سیاست میں دین کی پاسبانی کی جگہ دنیا داروں سے مل کر خیانت کا ذکر ہے۔ اپوزیشن اور حکومت دونوں اقتدار کا کھیل کھیل رہی ہیں۔ علماء ومفتیان نے سودی نظام تک کو جائز قرار دیا ہے۔ مولانا مفتی محمود ، شاہ احمد نورانی اور مولانا مودودی موجود ہوتے تو ”عورت کے حقوق” کتاب کی وضاحتوں کے بعد یقینا حقائق کو مانتے اور سودی نظام کو جواز فراہم کرنے کو اسرائیل کی تسلیم سے بھی بدتر قرار دیتے۔ جن کو دیکھ کرشرمائے یہود نے اسرائیل اور مسئلہ کشمیر کو اپنے جرائم چھپانے کیلئے ڈھال بنایا ہوا ہے۔ ان لوگوں کو پیرا شوٹ کے ذریعے وہاں پہنچایاجائے تاکہ جہاد کا حق اداکریں اور یہاں فضول کی قوالیاں نہ گائیں۔