طلاق و رجوع پر قرآن کی واضح آیات سمجھ کر حلالے کی لعنت کیخلاف اعلان کردیں توشیعہ صحابہ کو مان لیںگے!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

حنفی اپنے مسلکی اصولوں کے مطابق واضح قرآنی آیات سمجھ کر بھی حلالہ کی لعنت سے توبہ نہ کریں تو مؤمنین کیسے کہلائیںگے؟

میرے اساتذہ علماء ومفتیان حق بولیںگے مگر جاوید غامدی، شجاع الدین شیخ اور سراج الحق جیسوں کیلئے حق بولنامشکل ہوگا!

میںنے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی ، مولانا درخواستی کے مدرسہ آدم ٹاؤن نیوکراچی، مفتی کفایت اللہکے مدرسہ عربیہ فیوچر کالونی ،مولانا نصراللہ خان توحید آبادصادق آباداور مولانا محمد امین شاہو وام ہنگوکوہاٹ سے تعلیم حاصل کی اور اساتذہ کرام وطلباء عظام کے خلوص و ایمان کی دولت سے واقف ہوں۔ مفتی احمدالرحمن، مفتی ولی حسن ٹونکی، مولانا ادریس میرٹھی، مولانا محمدیوسف لدھیانوی ، مولانا محمد انور بدخشانی،مولانا بدیع الزمان، ڈاکٹر حبیب اللہ مختار ، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر، قاری مفتاح اللہ اور مفتی عبدالمنان ناصر وغیرہ کی شخصیات کوبہت قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا ہے۔اکابر مولانا عبدالکریم بیر شریف ، مولانا خان محمد امیرمجلس تحفظ ختم نبوت کندیاں، مولانا سرفراز خان صفدر، مولانا محمد مراد منزل گاہ سکھر، مولانا عبدالصمد ہالیجوی ، مولانا غلا رسول سعیدی، مولانا شفاعت رسول نوری، ڈاکٹر طاہر القادری ،مولانا محمد امیر بجلی گھر ، مولانا امان اللہ حقانی مروت اور مولانا ایوب جان بنوری سمیت سینکڑوں علماء سے ملنے کا موقع ملا ہے۔ علماء کرام اور مشائخ عظام میں بہت خلوص و اخلاق کا اعلیٰ معیار ہوتا ہے۔ مجھے مدینہ یونیورسٹی میں بھی پی ایچ ڈی (PHD)پڑھانے والے اساتذہ سے بات چیت کا موقع ملا ہے اور ان میں بات سمجھنے کی بھرپور صلاحیت دیکھی ہے۔
البتہ بعض اوقات لوگوں کی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں ، اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین مولانا شیرانی اور موجودہ چیئرمین قبلہ ایاز صاحب کی مجبوریاں بھی میں نے دیکھ لی ہیں۔ حالانکہ یہ بااختیار وذمہ دار عہدہ ہے اگر اس پر آئندہ مفتی محمد سعید خان صاحب کو لگادیا جائے تو مجھے ان میں سمجھ ،خلوص، صلاحیت اور جرأت بھی لگتی ہے۔ وہ مولانا ابولحسن علی ندوی کے خلیفۂ مجاز ہیں اور انقلاب بھی ان کو بڑا اچھا لگتا ہے۔بااخلاق ، باکرادر اوراچھے انسان لگتے ہیں۔
مجھے پورا پورا یقین ہے کہ مخلص علماء ومفتیان نصاب کی تبدیلی کیلئے آج بھی دل میں تڑپ اور زبردست جذبہ رکھتے ہیں لیکن رائے عامہ ہموار کرنے کی دیر لگ رہی ہے اور وہ وقت دور نہیں جب قرآن کی طرف رجوع کرنے کا اعلان مدارس ومساجد سے شروع ہوجائیگا۔ البتہ جن لوگوں نے اپنے لئے دین کے نام پر ایک مخصوص گروہ بنارکھا ہے وہ بہت ہٹ دھرم ہیں۔ میری ڈاکٹر اسرار احمد سے ملاقات رہی ہے وہ اپنے خلوص اور جرأت میں پہلے نمبر پر تھے لیکن انسان میں کچھ نہ کچھ نقائص اورکوتاہیاںبھی ہوتی ہیں۔ وہ ہوتے تو مجھے یقین ہے کہ طلاق سے رجوع کے مسئلے کو سمجھ کر تھوڑی دیر توقف کے بعد حق کا اعلان ضرور کرتے۔
شجاع الدین شیخ نے تنظیم اسلامی کی امارت سنبھال کر ایک اچھے خاصے ادارے کو میرے خیال میں برباد کرکے رکھ دیا ہے ۔واللہ اعلم بالصواب۔سراج الحق صاحب نے بھی جماعت اسلامی کی امارت سیدمنور حسن کی اچانک ہی جماعت اسلامی سے فراغت کی وجہ سے سنبھالی ہے۔ اب پتہ نہیں کہ ان میں بات سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی صلاحیت بھی ہے یا نہیں ہے؟۔ جماعت اسلامی کی اس معاملے پر کوئی مجبوری نہیں ہونی چاہیے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودوی نے جماعت اسلامی جس مقصد کیلئے تشکیل دی ،وہ اقامت دین کا فریضہ ادا کرنے کیلئے طاقت کا حصول تھا لیکن اب لگتا یہ ہے کہ اقامت دین کو بھول گئے ہیں حصولِ طاقت کے پیچھے ڈھول کی تھاپ سے لیکر یوم مئی کے دن لال ٹوپی پہننے تک ہر حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن قرآن کی طرف رجوع کرنیکی توفیق نہیں ہورہی ہے۔ اتحاد العلماء سندھ کے صدر مولانا عبدالرؤف صاحب بہت زبردست انسان تھے لیکن اب پتہ نہیں جماعت اسلامی میں کوئی ہے یانہیں؟ مگر دو دفعہ منصورہ جانے کے باوجود کوئی مجھے نہیں ملا ہے۔
جاوید احمد غامدی نے اکٹھی تین طلاق واقع ہونے کا لکھا تھا اور میں نے ان کے شاگرد ڈاکٹر زبیر احمد کو معاملہ بالمشافہہ سمجھایا بھی اور ان کو سمجھ میں بھی آیا لیکن پروگرام بند ہونے کے خدشہ کا اظہار کرتے ہوئے اس مؤقف کو بیان کرنے سے معذرت کرلی۔ جاوید احمد غامدی نے حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں میں مسلمانوں کو کسی ایک کی اولاد قرار دیکر کہا تھا کہ قرآن میں مختلف قوموں کی باریاں لگنے کا ذکر ہے۔ مسلمان اپنی باری گزار چکے ہیں اسلئے ان کو قیامت تک دوبارہ کبھی حکومت کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ لیکن جب ہم نے انہیں یاد دلایا کہ حضرت نوح سے ہم اور یہودونصاریٰ سب حضرت ابراہیم کی اولاد سے ہیں۔ تو جاوید غامدی نے اپنی غلطی کو برملا تسلیم کرنے کے بجائے کہ واقعی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل کی اولاد شامل تھی۔ حضرت نوح کے مختلف بیٹوں میں ان کو تقسیم کرنا غلط ہے۔ لیکن غامدی نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی غلطی تسلیم نہیں کی۔ اور اس میں ان کی کوئی مجبوری بھی نہیں تھی۔ ابھی اس نے اپنی غلطی کا درست جواب دینے کے بجائے یہ کہاکہ ”مسلمان کس لئے غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ہوسکے تو کوشش کرکے دیکھ لیں” ۔ حالانکہ مسئلہ یہ نہیں تھا بلکہ اصل بات حضرت ابراہیم کی اولاد کی غلط تقسیم تھی۔
اللہ تعالیٰ نے سورۂ حدید میں مسلمانوں کے دو حصوں کا ذکر کیا ہے۔ پہلے بھی عرب کا روم پر غالب ہونا مشکل تھا اور اب اہل کتاب پر دوبارہ غلبے کی بنیاد یہ ہوگی کہ انہوں نے لوہے کو جنگ کیلئے غلط استعمال کرکے تباہی پھیلادی۔ خوف وہراس سے دنیا کو نکالنے کیلئے لوہے کو منافع بخش چیز بنانے کے مشن پر پھر دوبارہ کامیاب ہونگے۔
جب سورۂ بقرہ میں آیات (222) سے (232) تک اور سورۂ طلاق کی پہلی2 آیات میں طلاق اور اس سے رجوع کی اتنی بہترین وضاحت ہے کہ ایک ان پڑھ انسان بھی ان سے رہنمائی حاصل کرکے ایک معاشرتی انقلاب برپا کرسکتا ہے۔ علماء ومفتیان کی اکثریت تو مجبوریوں کا شکار ہے لیکن جاوید احمد غامدی کی کوئی مجبوری نہیں ہے۔ اس کی ہٹ دھرمی کی صرف یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ قرآن کی طرف وہ رجوع کی دعوت دے گا تو پھر اس کے مطالعے اور اجتہاد کی کیا حیثیت باقی رہ جائے گی؟۔ علماء بیچارے تو تقلید کے جال میں پھنس جاتے ہیں اور ان کی نوکری کا معاملہ ہے اور ان کی جگہ کسی دوسرے عالم یا مفتی کو بٹھاکر اس کی روزی پر قبضہ کیا جاسکتا ہے مگرغامدی تو پہلی وحی کی حدیث کے انکار سے لیکر پتہ نہیں کس کس حدیث کا برملا انکار کرتا ہے اور پھر کہتا بھی ہے کہ میں احادیث کو مانتا ہوں۔ غلام پرویز کی فکر پر منہ مارکر ڈکار نہیں لے رہاہے مگر نام بھی نہیں لیتا ہے
قرآن میں طلاق اور اس سے رجوع کا معاملہ بالکل واضح ہے۔ چار کتابوں میں ایک ایک چیز کی تفصیل لکھ دی ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔ اور رجوع صلح کی شرط پر ہے۔ صلح نہ ہو تو دس حلالہ سے بھی اس عورت کو اپنے لئے حلال نہیں کرسکتا لیکن جب صلح کرنے کا پروگرام ہو تو عدت کے اندر اور عدت کے بعد رجوع کیلئے ڈھیر ساری وضاحتیں ہیںاور یہی درسِ نظامی کا تقاضہ ہے۔

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana

Leave a Reply

Back to top button