حکومت، عدالت اور ہماری پیاری ریاست!

283
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

حکومت پر براجمان حکمران اپنا حکم جاری کرتے ہیں کہ ” ناجائزمنافع خوری پر دکانداروں کو قید وجرمانہ کی سزا دی جائے”۔ مجسٹریٹ ریڑی بان، چھابڑی فروش اور جھگی نمادوکانوں پر چھاپہ شریف مارتے ہیں اور بہت ہی مشکل حالات میں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے والوں کو پکڑ لیتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جنوبی وزیرستان سے ایم این اے کا الیکشن لڑنے والے ناکام امیدوار نے بھی پونے دوکروڑ روپے خرچ کئے تھے اور کامیاب ہونے والے نے یقینا زیادہ خرچہ کیا تھا لیکن اس الیکشن میں نوازشریف نے آئی ایس آئی سے 95لاکھ وصول کئے تھے۔
پھر جب نوازشریف کی حکومت کرپشن پر ختم کردی گئی اور پیپلزپارٹی نے بدنام لندن فلیٹ کاکیس بنایا۔ پھر ن لیگ کو اقتدار میں لایا گیا اور پیپلزپارٹی پر کیس بن گئے۔ پرویزمشرف کی حکومت میں بھی لندن فلیٹ کا کیس چلا، پھر سعودیہ جلاوطن ہونے کے بعد کیس ختم ہوا۔ جب پھر زرداری کی حکومت آئی تو شہبازشریف نے چوکوں پر لٹکانے اور سڑکوں پر گھسیٹ گھسٹ کر مال نکالنے کی جذباتی تقریریں کیں۔ پھر ن لیگ کی حکومت آئی اور نوازشریف نے میڈیا کے علاوہ پارلیمنٹ میں بھی اپنے تحریری بیان میں 2005ء میں سعودیہ کی وسیع اراضی بیچ کر 2006ء میں لندن فلیٹ خریدنے کا ٹوپی ڈرامہ رچایا۔ پھر قطری خط پیش کیا اور پھر قطری خط سے بھی لاتعلقی کا اظہار کردیا۔ ایسے میں قوم اور ہماری ریاست نے مل جل کر عمران خان کوہی اقتدار کے لائق سمجھ لیا اور عدالت نے صادق امین کے طور پر اندھوں میں راجہ سمجھ کر قبول کیا۔
آج ہماری پیاری ریاست نے پھر سے چینی اور آٹا بحرانوں میں قوم کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والی تبدیلی سرکار کے چہیتوں کو طشت ازبام کردیا ہے۔ پرویزمشرف کے دور سے اب تک جہانگیر ترین، خسروبختیار اور مونس الٰہی سب وہی چہرے ہیں چشم بد دور۔واہ نیازی واہ!