خواتین کی طرف سے اپنے حقوق کی جنگ کو اللہ نے سورہ مجادلہ میں دوام بخشا۔ عتیق گیلانی

502
0

 تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

سورۂ النساء آیت19میں پہلی بات تویہ واضح ہے کہ عورت (بیوی) مرد کی جاگیر نہیں ۔ جبری ملکیت کے تصور کو اسلامی معاشرے سے بالکل حرفِ غلط کی طرح مٹادیا جائے۔
جب غیر مسلموں نے قرآن کے تراجم کرلئے تو ان پر اسلام اور مسلمانوں کی فتوحات کاراز کھل گیا۔ شاہ ولی اللہ نے دیکھا کہ اسلام مخالف پادریوں سے علماء اسلئے شکست کھاتے ہیں کہ وہ کوئی بات کرتے ہیں کہ قرآن میں یہ لکھا ہے تو علماء انکار کردیتے ہیں کہ قرآن میں ایسا کچھ نہیںلیکن جب قرآن کھول کر دیکھتے ہیں تو وہ بات قرآن میں ملتی ہے۔ اور اسی وجہ سے علماء کو شرمندگی کا سامنا ہوتا ہے پھر شاہ ولی اللہ کو پتہ چلا کہ ان پادریوں نے اپنی زبانوں میں قرآن کا ترجمہ کررکھا ہے۔علماء میںان کے مقابلے کی صلاحیت پیدا کرنے کیلئے پھر شاہ ولی اللہ نے بھی قرآن کا ترجمہ کرلیا۔
سیدا بوالاعلیٰ مودودی نے لکھا کہ ” کیا وجہ ہے کہ شاہ ولی اللہ کے خاندان کا تقویٰ وکردار بھی قرون اولیٰ کی یادگار تھا، یہاں مسلمانوں کی حکومت بھی تھی لیکن انگریز نے ہم پر اپنا تسلط جمالیا اور شاہ ولی اللہ کے افکار ناکام ہوئے؟”۔
انگریز اسلئے کامیاب ہوا کہ انسانی حقوق کے حوالے سے قرآن کا پیغام سمجھا۔ خواتین نے جب اپنے حقوق کیلئے وہاں جنگ لڑی تو حقوق دیدئیے۔ اسلام کی حریت فکر سے سبق حاصل کیا اور اپنی تقدیر بدل دینے میں دیر نہیں لگائی۔ جبکہ ہم مذہبی بحثوں میں اُلجھ گئے اور جب انگریز چھوڑ کر گیا تو پھرہم فرقوں ، مسلکوں اور جماعتوں میں بٹ کر رہ گئے۔
ایک طرف سورۂ النساء میں قرآن کہتاہے کہ (اے مسلمانو!) تم عورتوں( بیویوں) کے زبردستی مالک نہ بن بیٹھو ۔ تودوسری طرف علماء کہتے ہیں کہ شوہر بیوی پر لونڈی کی ملکیت سے بھی زیادہ حق رکھتا ہے۔ آزاد عورت بیوی فدیہ دیکر خلع حاصل کرسکتی ہے جبکہ لونڈی کودوسرا شخص بھی آزاد کرسکتا ہے۔ آزاد عورت (بیوی) کو فدیہ دیکر بھی شوہر نے نہیں چھوڑنا ہو تو شوہر کو پھر بھی مکمل اختیار حاصل ہے۔
مولوی یہ بالکل فضول بکواس کرتاہے کہ اسلام نے یہ حق مردوں کو عورت کی بھلائی کیلئے دیا ہے اسلئے کہ مولوی کا مستند فقہی مسلک یہ ہے جس پر وہ انگریز کے دور میں بھی اپنا فتویٰ دیتا تھا اور آج بھی یہی فتویٰ دیتا ہے کہ ”اگر شوہر نے بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دیدیں تو بیوی اس پر حرام ہوگی لیکن اگر شوہر نے انکار کردیا کہ اس نے تین طلاقیں نہیں دی ہیں تو پھر بیوی کو دو گواہ لانے پڑیںگے اور اگر اس کے دو گواہ نہ ہوئے تو پھر اسلامی عدالت شوہر سے حلف لے گی اور اگر اس نے حلف دیا تو عورت اس پر حرام ہوگی مگر اسکے نکاح میں رہے گی۔ پھر عورت کو چاہیے کہ وہ فدیہ دیکر خلع حاصل کرے لیکن اگر شوہر خلع نہ دے تو عورت بدکاری پر مجبور ہے”۔ (حیلہ ٔناجزہ: مولانااشرف علی تھانوی)
جب عدالت سے خلع کا فیصلہ بڑی مشکلات کے بعد ہوتا ہے تو مدارس فتویٰ دیتے ہیں کہ طلاق نہیں ہوئی ہے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے اپنا فتویٰ بدل دیا ہے مگر مفتی محمد تقی عثمانی نے سود کو حلال قرار دینے کے باوجود اپنا فتویٰ نہیں بدلا ہے۔ پھر شیخ الاسلامی کا منصب بھی خطرے میں پڑجائیگا۔ یہ مفتی نہیں استحصالی طبقات کے گماشتے ہیں۔
جب سورۂ النساء کے مطابق بیوی شوہر کی جاگیر نہیں ہوگی تو ماؤں کی کوکھ سے آزاد منش بچے جنم لیںگے اور سماج سے غلامی کے نظام کو بیخ وبن سے اُکھاڑ یںگے۔ جب شوہر کے تین طلاق کی ملکیت کا تصور ختم ہوگا تو عورت کے خلع میں مذہبی طبقہ رکاوٹ نہیں کھڑی کرسکتا اور پھر حلالہ کے نام پر شکار ہونے والی خواتین کی بھی بڑی بچت ہوگی۔
جو خواتین مذہب سے بغاوت پر اُتر آئی ہیں تو مولوی کے خودساختہ مذہب سے ان کی بغاوت کا خیر مقدم ہی ہونا چاہیے۔ اللہ کا دین اسلام ایسا ہے جس کو دیکھ کر غیرمسلم اور تمام باغی خواتین قرآن وسنت کی تعلیم کو اپنا منشور بنالیں گی۔ اگر جمعیت علماء اسلام کے دھرنے میں سازش سے کچھ لوگ طالبان کے جھنڈے لاسکتے ہیں تو عورت آزادی مارچ میں بھی کچھ سازشی عناصر اپنے بیہودہ پوسٹر لاسکتی ہیں۔
ہم شیر و ہرن کو ایک گھاٹ پر پانی پلانے کی طرح علماء اور عورت آزادی مارچ کے آرگنائزروں کو اکٹھا کرینگے۔ ہم نے دیکھ لیا کہ مذہب مخالف جذبہ رکھنے والا کہہ رہا تھا کہ ”عورتوں کیوجہ سے میں مذہبی طبقہ سے مار نہ کھاتا اور ایک لڑکی تاڑ لی تھی کہ ہلا گلا ہو تواسے اٹھاکر رفو چکر ہوجاؤں”۔ یہ قائداعظم یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک سیکولرقوم پرست پختون کا حال تھا۔
مرد اور عورت زندگی کے جزو لاینفق لازم وملزوم ہیں اور دونوں کے درمیان ایک بالکل آزاد معاہدے کی سخت ضرورت ہے۔ترقی یافتہ ممالک نے عورتوں کو مردوں کے مساوی حقوق دئیے ہیں۔ عورت کو معاشرے میں قانون کے ذریعے تحفظ اور انصاف کا ماحول فراہم کیا ۔لیکن اسلام نے خواتین کو مساوی نہیں بلکہ زیادہ حقوق دئیے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب رشتہ کے بعد طلاق ہوجاتی ہے تو اس کے تمام برے نتائج کا خمیازہ عورت ہی کو بھگتنا پڑتا ہے۔ رسول اللہ ۖ نے خاتون کو مروجہ مذہبی فتویٰ دیا کہ شوہر کی طرف سے ماں کی پیٹھ سے تشبیہ دینے کے بعدعورت حرام ہوجاتی ہے تو اللہ نے اس خاتون کے حق میں فتوی دیدیا۔ اس سورة کا نام مجادلہ ہے۔ عورت کی طرف سے جھگڑنے کا معاملہ اللہ نے قرآن کی زینت بنایا۔ حضرت خولہ بنت ثعلبہ سے جب سامنا ہوتا توحضرت عمر احترام کیلئے کھڑے ہوجاتے،کیونکہ اسی کی وجہ سے سورۂ مجادلہ نازل ہوئی تھی۔
پدرِ شاہی کے نوکروں کی اوقات کیا ہے کہ خواتین کو اپنے حقوق مانگنے پر کھڑے ہوجاتے ہیں؟۔ پاک فوج کا کمال ہے کہ خود کش حملوں کا ماحول ختم کردیا ہے مگر مولوی تو اس کی تائید کرتا تھا، امن کی فاختہ مولاناطارق جمیل نے کہا تھا کہ دہشت گردوں اور ہمارے راستے الگ ہیں مگر منزل ایک ہے۔ دہشت گرد تبلیغی جماعت کا عسکری ونگ تھے۔
سور ةٔ النساء کی آیات نمبر21,20,19میں خواتین کے جن حقوق کا تحفظ ہے اگر اس کی سمجھ خواتین کو آجائے تو پوری دنیا میں اسلام کا ڈنکا بجانے میں دیر نہیں لگائیں گی۔
ایک غلط فہمی دور ہونی چاہیے کہ البقرہ کی آیت229 میں خلع کا کوئی تصور ممکن ہی نہیں ہے لیکن پدرِ شاہی نے یہ غلط تصور عرصہ سے مسلط کیاہے۔ خلع کا ذکر سورۂ النساء کی آیت 19میں ہے جہاں عورت کو نہ صرف جانے کا حق دیا گیا ہے بلکہ شوہر کی طرف سے حق مہر کے علاوہ تمام منقولہ جائیداد بھی لے جانے کا حق دیا گیا ہے، فحاشی کی صورت میں بھی بعض چیزیں لے جانے کا حق دیا گیا ہے۔ رخصت کرتے وقت اچھا برتاؤ رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔ جدائی کا یہ فیصلہ برا لگنے کے باوجود اللہ سے زیادہ خیر کی امید کا یقین دلایا گیا ہے۔ جبکہ آیات 21اور22میں طلاق کا حکم واضح کیا گیا ہے۔جس میں حق مہر کے علاوہ تمام دی ہوئی اشیاء منقولہ وغیرمنقولہ تمام دی ہوئی جائیداد میں سے کچھ بھی اس کا شوہر واپس نہیں لے سکتا ۔ جس کا ذکرالبقرہ آیت 229 میں بھی ہے۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے ان آیات کی تفسیر وترجمہ میں انتہائی دجل سے کام لیا ہے۔
خلع کی صورت میں عورت کو شوہر کی طرف سے دی ہوئی غیر منقولہ جائیداد سے دستبردار ہونا پڑے گا لیکن طلاق کا معاملہ بالکل جدا ہے۔ طلاق کی صورت میں گھر عورت ہی کا ہے اور دی ہوئی تمام منقولہ وغیرمنقولہ جائیداد بھی واپس نہ لینے کا بھی حکم ہے۔ کھلی فحاشی کی صورت میں گھر کا معاملہ الگ ہے لیکن اللہ نے شوہر کو اپنے مفاد کی خاطر بیوی کو تہمت کا نشانہ بنانے پر بے غیرتی و تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
عورت ماں بنتی ہے ، مردباپ بنتا ہے۔ماں بچوں کو پیٹ میں رکھنے سے دودھ پلانے اور بھوکے بچے کی خاطر بار بار نیند سے جاگتی ہے تو دوسری طرف باپ پر بہت سی ذمہ داریاں اللہ نے ڈالی ہیں۔ میری پہلی وائف سندھی ہیں جنکے آباد و اجداد کا تعلق لاڑکانہ اور شکار پور سے ہے۔ قوموں ، زبان اور کلچر کے فرق کے باوجود اپنی بیگمات سندھی اور بلوچ کی رفاقت بفضل تعالیٰ بالکل مثالی ہے۔ عورتوں کے حقوق ہی سے اسلام کا بول بالا ہوگا۔ حضرت یعقوب کی دوسری بیگم نہ ہوتی تو یوسف پیدا نہ ہوتے ۔ حضرت ابراہیم کی دوسری سے اسماعیل پیداہوئے۔ میں اپنے باپ کی تیسری بیگم کا بیٹا ہوں۔ہم صدیوں سے جس وزیرستان میں ہیں ۔ ہمارا کردار بھی کوئی مثالی نہیں ہے مگر خواتین کے حقوق کے حوالے سے بہت سی برائیوں سے ہمارا خاندان وزیرستان میں رہتے ہوئے بھی مختلف ہے۔ انشاء اللہ ہم اپنا پورا کردارادا کرنیکی کوشش کرینگے۔