دنیا میں ایک انقلابِ عظیم کی واضح خبر

304
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن تقویٰ والوں کیلئے بھی ہدایت کا ذریعہ ہے اور عوام الناس کیلئے بھی ہے

قرآن امت مسلمہ کیلئے قرون اولیٰ سے درمیانہ زمانے تک ھدی للمتقین اور درمیانہ زمانے سے آخری دور تک ھدیٰ للناسپوری عالم انسانیت کیلئے ہدایت کا ذریعہ ہے۔دنیا کی قوموں پر زوال وعروج کے مختلف ادوار آتے رہتے ہیں۔قرونِ اولیٰ کا زمانہ بہ لحاظِ تقویٰ اپنی انتہاء کو پہنچا ہوا تھا۔ ایک ادنیٰ صحابی کے تقویٰ کو اولیاء کے بڑے سے بڑے گروہ بھی پہنچ نہیں سکتے ہیں، یہ اٹل بات ہے۔ پھر بتدریج تابعین، تبع تابعین دور بہ دور ، زمانہ بہ زمانہ اس طرح تقویٰ کا معیار مولانا شاہ احمد نورانی کے باپ مولانا عبدالعلیم صدیقی، شیخ الحدیث مولانا زکریا،مولانا محمد یوسف بنوریکے دور سے ہوتے ہوئے ہمارے مرشد حضرت حاجی محمدعثمان کے دورتک جا پہنچا۔ملا عمر مجاہد اور دوسرے نیک لوگوں کی جگہ اب ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ تقویٰ نہیں شعور وآگہی کا دور آگیا ہے ۔ مفتی محمودکیلئے تقویٰ معیارتھا مگر مولانافضل الرحمن کو تقویٰ نہیں شعور پر گزارہ کرنا ہے۔ طالبان رہنما جو برقعہ پوش خواتین سے ڈنڈے کی زبان پر بات کرتے تھے،اب ننگی ٹانگوں والیوں کے سامنے اپنی مرضی سے بیٹھ جاتے ہیں۔

 

مساجد میںنماز باجماعت اور جمعہ کی چھٹی کا فتویٰ دینے والے پھر کیوں گئے؟

آج سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ رمضان شریف میں عوام کی روحانی غذاء مساجد میں نماز باجماعت اور تراویح کی فکر کرنیوالوں کا اپنا حال یہ ہے کہ معاوضہ حاصل کرنے کیلئے سود کو جواز دے دیا ہے۔ مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن کو عوام کے تقوے کی فکر ہے؟۔یا مذہب کے نام پر کاروبار، دھندے اور مذہبی لوگوں کے جذبات کیش کرنے کا جذبہ ہے؟۔ فتویٰ تودیا تھا کہ نماز باجماعت اور جمعہ کی جگہ ظہر کی نماز باجماعت گھر میں پڑھو!۔ پاکستان میں کورونا کی شرحِ اموات بہت کم تھی تو گھروں میں نماز کا فتویٰ دیدیا اور جب شرح اموات بڑھ گئی توپھر دوبارہ لاک ڈاؤن توڑنے اور نماز باجماعت، جمعہ اور تراویح کی فکر کے جذبات اُبھرے؟۔ جب شکوک وشبہات تھے کہ بیماری ہے یا ڈرامہ ہے تو گھروں میں نماز پڑھنے کی ہدایت دی؟ اور جب یقین کرلیا کہ واقعی بیماری ہے تو عوام کی روحانی غذاء کا درد پیٹ میں اُٹھ گیا ہے؟۔
چلو اس وقت تو تمہاری فطری مجبوری تھی کہ مجاہدین طلبہ کو جہاد کے فتوے دیتے تھے مگر اپنے بچوں کو شہادت کی منزل پر پہنچانے کا اہتمام کرنے سے ڈرتے تھے؟۔ جب تک ریاست کی طرف سے دہشتگردوں کے خلاف نیک نیتی سے اقدامات اٹھانے کی فکر سامنے نہیں آئی تو تم نے مساجد،بازاروں، اداروں اور پاکستان کے چپے چپے پر خود کش حملے ، ریموٹ بم دھماکے اور چھاپہ مار کاروائیوں کے خلاف کبھی فتویٰ نہیں دیا۔ مفتی رفیع عثمانی میڈیا پر کہتے تھے کہ اس جہاد کو ہم ناجائز نہیں کہہ سکتے۔ مولانا طارق جمیل کہا کرتا تھا کہ ہماری منزل ایک ہے، صرف راستے جدا ہیں۔ طارق اسماعیل ساگر آج پاکستان میں بلیک واٹر کا انکشاف کررہے ہیں لیکن جب دنیا میں انقلاب آئے تو بہت سے رازوں سے پردہ اٹھے گا۔ سیاستدان، علماء ومفتیان اورحکمران اپنی اپنی زبانوں سے ضرورعجیب وغریب حقائق سے پردہ اٹھائیں گے۔

 

مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا کہ قرآن کا پہلامخاطب عرب اور دوسرا عالمگیر ہے

خواب کے نبوت کا چالیسواں حصہ ہونے سے مراد وحی کا سلسلہ نہیں غیب کی خبر!

قرآن کا اگلا دور انسانی شعور کے دور میں ایک عظیم انقلاب برپا کریگا؟۔اب تو لوگ سمجھتے ہیں کہ ان پڑھ دورِ جاہلیت کے بدو عربوں کو ایک عظیم رہبر انسانیتۖ نے اپنے ساتھیوں کی تربیت کرکے فاتح عالم بنادیا لیکن اس وقت دنیا پسماندہ تھی۔ ظلم وجبر تھا۔بڑاانسانیت سوز معاشرہ تھا جس میں نسبتاً بہتر لوگ پذیرائی پالیتے تھے۔ خلافتِ راشدہ سے بنی امیہ وبنی عباس کے دور میں زیادہ فتوحات ہوئیں اور خلافت عثمانیہ کے دور میں تو سب سے زیادہ علاقے پر قابو پالیا گیا۔ جدید ترقی یافتہ دنیا میںانسانیت، عدل وانصاف اورجمہوریت کے اصولوں سے مالامال مغرب کو پسماندہ مسلمانوں کے زیراثر آنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن سالگتا ہے۔اب بھی امریکہ ، یورپ اور مغربی ممالک نے شعور کی کمی کی وجہ سے مسلم دنیا کو شکست سے دوچار کردیا۔ کورونا وائرس کے دور میں ہمارا کام شعور کی تحریک ہونا چاہیے۔ جب نبیۖ نے اپنی حیات طیبہ (زندگی)میں لوگوں کو وبا سے بچنے کیلئے کوئی دعا، دم اور وظیفہ تلقین نہیں فرمایا تھا؟۔ حضرت عبیداللہ بن جراح ، حضرت معاذ بن جبل اور دیگر بہت سارے جلیل القدر صحابہ نے وبا سے شہادت پائی تو مفتی تقی عثمانی کے ذریعے تبلیغی جماعت کے بزرگ کو نبیۖ نے کسی خواب کے ذریعے تبلیغی جماعت کے کارکنوں کو مروانا تھا؟۔ اور مراکز بند کروانے تھے؟۔
صحابہ نے نبیۖ کے خواب کی بنیاد پر سمجھا کہ اسی سال عمرہ کرینگے توصلح حدیبیہ کا معاہدہ کرنا پڑگیا۔اللہ نے فرمایا لقد صدق اللہ رسولہ الریا بالحق لتدخلن المسجد الحرام ان شاء اللہ اٰمنین محلقین رء وسکم ومقصرین لاتخافون فعلم مالم تعلموا فجعل من دون ذٰلک فتحًا قریبًاO …” بیشک اللہ نے رسول کو سچا خواب دکھایا ، تم ضرور مسجد حرام میں داخل ہوگے انشاء اللہ امن کیساتھ سرکے بال منڈاتے اور کم کرتے ہوئے۔تمہیں کوئی خوف نہ ہوگا۔ پس اللہ جانتا ہے جس کو تم نہیں جانتے۔ پس اللہ نے اسکے بغیر تمہیں عنقریب فتح دیدی۔ وہ اللہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیج دیا ہے تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کردے اور اللہ کی گواہی کافی ہے۔ محمدۖ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کیساتھ ہیں، کافروں پر سخت ،آپس میں ایکدوسرے پر رحم کرنے والے ہیں آپ ان کو دیکھوگے رجوع ،سجود، فضل چاہنے والے اللہ سے اور اس کی رضامندی، سجود کے اثرات سے انکے چہروں پر نشان ہیں، یہ وہ جن کی صفات توراة اور انجیل میں ہیں۔ گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی پھر اس کی کمربنائی ،پھر مضبوط کردی، پھر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی جو بھلی لگتی ہے کاشتکار کو،تاکہ کفار انکے پھلنے پھولنے پر غصہ کھائیں۔ وعدہ کیا اللہ نے ایمان والوں اور عمل صالح کرنے والوں سے ان کی مغفرت اور اجرعظیم کا”۔
سورہ فتح کی ان آیات میں ایک بات یہ ہے کہ اللہ نے اپنے رسول ۖ کو سچا خواب دکھایا تھا۔ جس کی تعبیر عنقریب پوری ہوگی جس کو صحابہ نے نہیں جانا لیکن اللہ جانتاتھا۔ صحیح بخاری کی روایت ہے کہ نبی ۖ نے فرمایا کہ حضرت عائشہ کی تصویر خواب میں دکھائی گئی ۔ اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو پورا ہوگا اور شیطان کی طرف سے ہے تو پورا نہیں ہوگا۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ خواب رحمانی اور شیطانی دونوں ہوسکتے ہیں۔نبیۖ نے درست فرمایا کہ نبوت میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہ گیا ہے مگر مبشرات یعنی رویائے صادقہ۔یہ بھی فرمایا کہ سحری کے وقت میں زیادہ ترخواب سچے ہوتے ہیں اورفرمایا کہ خواب نبوت کا چالیسواں حصہ ہے۔
اگر نبوت کا چالیسواں حصہ رہتا ہے تو ختم نبوت پر ایمان باقی رہتاہے؟۔ نبوت سے مراد وحی ، رسالت ، نبوت کا معروف معنیٰ نہیں بلکہ نبوت غیب کی خبروں کو بھی کہتے ہیں۔

 

صحابہ کے دور میں دین تمام ادیان پر غالب نہیں ہوا، یہ وعدہ پوراہوناباقی ہے!

سورہ فتح کی آیات میں ایک اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور دین حق کے غلبے کا تمام دنیا اور تمام ادیان پر جو وعدہ کیا تھا ، اس کا پورا ہونا ابھی باقی ہے۔ شاہ ولی اللہ نے بھی یہ لکھ دیا کہ آئندہ خلافت علی منہاج النبوة قائم ہوگی تو یہ وعدہ بھی پورا ہوجائیگا۔ (ازالة الخفائ) ان آیات کی ایک بات یہ بھی ہے کہ اللہ نے صحابہ کرام کی مثال کھیتی سے دی ،پہلے کونپل نکالا، پھر کمر کس لی،پھر مضبوط کرلی ،پھر اپنے تنے پر کھڑا ہونے کا وقت آیا جس سے کھیتی والا خوش ہوا،اور انکار کرنے والوں کو جلن لگ رہی تھی۔ جلن سے گویا گندھک کی شلواریں پہنی تھیں۔ پیٹ جلتا ہے تو بار بار قضائے حاجت کیلئے جانا پڑتا ہے ، دشمن کے پیٹ میں مروڑ اٹھتا ہے۔
ہم نے دیکھا کہ ہزاروں افراد خانقاہِ چشتیہ میں نماز، ذکر واذکار، تعلیم وتعلم، تلاوت قرآن اور ایمان ویقین کے روحانی محافل میں مشغول رہتے ۔ خواب ومشاہدات کا سلسلہ بدستورتھا لیکن پھر اچانک سازش شروع ہوئی، فتوے لگ گئے اور لہلاتے کھیت نیست ونابود ہوگئے۔ جس دن انقلاب آگیا تو سربستہ راز کھل جائیںگے۔ یوم تبلی السرآئر Oفمالہ من قوة و لاناصرO”جس دن پوشیدہ رازوں سے پردہ اُٹھ جائیگا تو اس کیلئے کوئی قوت ہوگی اور نہ مدد گار ہوگا”۔ (سورۂ الطارق)۔ یوٹیوب پر مفتی تقی عثمانی کو دنیا کا پہلا نمبر طاقتور انسان قرار دیا گیاہے۔ مولانا فضل الرحمن ، مفتی منیب الرحمن، قاری حنیف جالندھری وغیرہ کو بھی وہ تخلیہ میں بٹھادیں اور کچھ معاملات واضح کردیں۔ مفادات ، شہرت، دھونس دھمکی کو چھوڑدو۔ ہم نے خانقاہ کا انتقام نہیں لینا: والذی اخرج المرعٰی Oفجعلہ غثآئً احوٰیO ”اورجس نے نباتات اُگائیں اور پھر ان کو سیاہ کوڑا بنادیا”۔ (سورة الاعلیٰ)مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی کے استاذ مولانا عبدالحق اور میرے استاذ مولانا فضل محمدسب گئے۔

 

قرآن میں جس طرح نماز جماعت کا ذکر ہے اسی طرح انفرادی نماز کا بھی ہے!

سورہ ٔالاعلیٰ اور اسکے بعد سورۂ الغاشیہ، سورۂ الفجر ، سورۂ البلداور سورۂ الشمس میں انقلاب کی زبردست خبر اوراوصاف ہیں۔ جناب علی محمد ماہی نے اپنی کتاب ”سرالاسرار المعروف یوم الفصل ”میں کیا لکھ دیا مگر ہم نے اپنی آنکھوں سے قیامت کا منظر دنیا میں اپنی گناہگار آنکھوں سے اسوقت دیکھا ،جب بڑے بڑے نام نہادعلماء وصلحاء کے چہروں سے نقاب اٹھتے دیکھے۔
سیذکر من یخشٰی Oویتجنبھا الاشقیOالذی یصلی النار الکبرٰی Oثم لایموت فیھا و لایحےٰیOقد افلح من تزکّٰی O وذکر اسم ربہ فصلّی Oبل تؤثرون الحےٰوة الدنیاOوالاخرة خیر و ابقٰی Oانّ ھٰذا لفی الصحف الاولیٰ Oصحف ابراہیم وموسٰیO”عنقریب نصیحت حاصل کریگا جو ڈرتا ہے اور گریز کریگا جو بدبخت ہے۔ جو بڑی آگ میں جائیگا، جس میں نہ مرے گا اور نہ زندہ ہوگا۔ تحقیق کہ فلاح پاگیا جس نے تزکیہ حاصل کیا اور اپنے رب کا نام لیا اور نماز پڑھ لی بلکہ تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو اور آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ یہی بات پہلے صحائف میں بھی ہے۔ ابراہیم کے صحیفوں میں اور موسیٰ کے صحیفوں میں۔(سورةالاعلیٰ)۔ قرآن کریم کی آیات صرف پہلے ادواراور آخرت کیلئے نہیں بلکہ ہردور کے ہر ماحول کیلئے ہیں۔ان آیات میں نماز باجماعت نہیں بلکہ انفرادی نماز کا ذکر ہے۔اور یہ واضح ہے کہ حقیقی خوف رکھنے والا نصیحت حاصل کرلے گا اور بدبخت اجتناب کریگا۔ یہی با ت پہلے صحیفوں ابراہیم وموسیٰ کے صحیفوں میں بھی ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ فلاح اس شخص نے نہیں پائی جس نے تزکیہ حاصل نہ کیا اور نماز پڑھ لی بلکہ فلاح اس نے پائی جس نے تزکیہ حاصل کیا ، پھر نماز پڑھ لی۔جعلساز دکانداروں اور مولویوں کے نماز کی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔ یہی یاد رکھئے گا۔

 

قرآن میں جہاں دوسری باتوں کا ذکر ہے وہاں کورونا عالمگیر وباکا ذکر بھی ہے!

معمولی معمولی باتوں کا ذکر قرآن میں ہے۔ کائنات پھیلنے کا ذکر ہے۔ آسمان سے لوہا اترنے کا ذکر ہے۔ پانچ چیزوں کا ذکر ہے جس کو نبیۖ نے مفاتیح الغیب قرار دیا۔ ساعة کا علم، وہ بارش برساتا ہے، جو ارحام میں ہے اس کو جانتا ہے اور تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ کل کمائے گا اور کس زمین پر مرے گا۔ پہلی بات ثابت ہوگئی کہ الساعة کا علم غیب کی چابی ہے اور یہ نبیۖ نے اسلئے فرمایا تھا کہ معراج کی رات نظریہ اضافیت کا راز کھل گیا تھا۔ بارش برسنے سے آسمانی بجلی گرتی ہے جس کی وجہ سے الیکٹرک کی تسخیر نے دنیا کو غیب کی چابیوں سے آگاہ کیا اور ارحام میں صرف انسان نہیں بلکہ حیوانات ، نباتات اور جمادات سب شامل ہیں ۔ آج فارمی جانور، پرندے ،نباتات ،ایٹمی طاقت ،الیکٹرانک کی دنیا نے ثابت کردیا کہ واقعی غیب کی چابی یہی ارحام کا علم ہے۔ قرآن کی تفسیر اور حدیث کی تشریح زمانے نے کردی ہے۔
کورونا ایک عالمی وبا ہے تو کیا اس کا ذکر قرآن میں نہیں ہوگا؟۔ قرآن میں عذاب کا تعلق دنیا اور آخرت کیساتھ ہے۔ جب آدمی غریب ہوتا ہے اور دو وقت کی روٹی کیلئے ترستا ہے پھر خوشحالی کیلئے نذریں مانتا ہے لیکن خوشحالی کے بعد سب کچھ بھول جاتا ہے۔ مولانا مودودی اور حاجی عثمان نے ایک مشکل دور کے بعد آسانی بھی دیکھ لی ۔ ہم نے بھی غربت اور بھوک دیکھ لی تھی اور اپنا گزارہ کرنے کے علاوہ سب کچھ غریبوں پر بانٹنے کی نذریں مانی تھیں مگر وہ وعدہ کیاجو وفا ہوجائے۔ آج شکر ہے کہ بڑے پیمانے پر بینک بیلنس نہیں ورنہ پتہ نہیں قربانی سے بھی گریز کرتے۔ اللہ نے فرمایا: ” وہ نذروں کو پورا کرتے ہیںاور اس دن کے شر سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہر جانب پھیلی ہے ۔کھانا کھلاتے ہیں اپنی چاہت سے مسکین، یتیم اور قیدی کو۔بیشک ہم تمہیں اللہ کیلئے کھلاتے ہیں کوئی بدلہ اور شکریہ تم سے نہیں چاہتے ہیں۔

 

علامہ طالب جوہری نے اپنی کتاب” ظہور مہدی” میں سید گیلانی کا ذکر کیا ہے

ہیں اپنے رب سے اس بدنما بہت لمبی مدت والے دن کے شر سے ”۔ (سورہ ٔالدھر)
یہ آیات موجودہ دور میں کورونا کے معاملے کو بہت زبردست طریقے سے اجاگر کرتے ہیں اور مساکین ، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلانا اس موقع پر بہت اہمیت کا حامل ہے۔ لوگوں میں زمانے کے اس موڑ پر احساسات اجاگر ہورہے ہیں۔ جہانگیر ترین سمجھتا ہوگا کہ عمران خان کو جہازوں میں گھمانے اور خرچے کرنے کے بجائے غریب غرباء کے کام آتے۔ کاشتکاروں ہی کو حدیث کے مطابق پوری فصل دیدیتے تو ایک انقلاب اور حقیقی تبدیلی آسکتی تھی۔ انتخابات کے موقع پر ایک ہی قومی اور صوبائی حلقے میں مولانا فضل الرحمن کے بیٹے کو جمعیت کے صوبائی ممبر سے ٹانک میں تین ہزار کم ووٹ ملے۔ اس نے کہا کہ میں نے خرچہ زیادہ کیا تھا۔ دونوں کے مجموعی خرچے سے ایک ایک ووٹ لاکھ لاکھ روپے کا پڑا تھا۔آج کاغریب بدحال ہے۔
ایک عظیم انقلاب سے پہلے کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کا ذکر قرآن میں ہوسکتا ہے؟۔ علی محمد ماہی نے کیا لکھا تھا ؟۔ مجھے معلوم نہیں مگر اپنے خاص علم کا اظہار کرکے اس نے داد کیا پائی تھی ، مجھے یہ بھی نہیں معلوم ۔ البتہ 1988ء میں لکھی گئی کتاب ” سرالاسرار المعروف یوم الفصل ” کو قرآن کی سورتوں سے جوڑنا علم الاعداد کے حساب سے اسکا اپنا فن تھا۔ انقلاب سے پہلے کورونا وائرس کی وبا نے لوگوں کو مہدی کی یاد دلائی۔ علامہ طالب جوہری نے” ظہورِ مہدی” کے حوالہ سے1987ء میں کتاب شائع کی جس میں مشرقی دجال کے مقابلہ میں حسنی سید کا ذکر ایک روایت میںہے۔ علامہ طالب جوہری نے لکھا کہ ”اس سے مراد سید گیلانی ہیں”۔
شیعہ سنی ، دیوبندی ، بریلوی، اہلحدیث اور جماعت اسلامی والے سب قرآن واحادیث کی طرف متوجہ ہوں اور اسلام کے غلبے کیلئے پاکستان سے جدوجہد کا آغاز کردیں۔

 

کوروناوائرس کی شکل میڈیا پر خاردار جھاڑ کی طرح ہے۔ضریع یہی تو ہے !

فرمایا: ھل اتٰک حدیث الغاشےةOوجوہ یومئذٍ خاشعةO………’ ‘ کیا آپ کو چھا جانے والی کی خبر پہنچی ہے؟۔کچھ چہرے اس دن خوفزدہ ہوں گے۔ عمل کرنے والے تھکے ہوئے ہونگے۔ ان کو چشمے کااُبلا ہوا پانی پلایا جائیگا۔ان کیلئے کھانا نہیں ہوگا مگر خاردار جھاڑ۔ جو نہ موٹا کرے گا اور نہ بھوک سے چھٹکارا دلائے گا۔بعض چہرے اس دن تازہ ہونگے اور اپنی محنت پر خوش ہونگے۔ وہ عالی درجہ باغات میں ہونگے۔ اس میں لغو بات نہیں سنیںگے۔ (جس طرح آج کل کی الیکٹرانک اور سوشل میڈیا بکواسیات کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں)اس میں چشمے بہتے ہونگے۔ اسکے اندر اونچی مسندیں ہوں گی اور پیالے رکھے ہونگے۔ گاؤ تکیوں کی قطاریں لگی ہونگی۔ نفیس ماربل وٹائیل کے فرش بچھے ہوںگے۔ کیا وہ اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے کہ اس کو کیسے پیدا کیا؟ اور آسمان کی طرف کہ کیسے اونچا کردیا ؟، اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے جمالیا؟۔اور زمین کی طرف کہ کیسے بچھادی؟۔پس آپ ان کو نصیحت کیجئے، بے شک آپ نصیحت کرنیوالے ہیں۔ان پرآپ جبری مأمور نہیں۔ (خود کش حملوں اورجمعیت علماء اور اسلامی جمعیت طلبہ کی طرح) مگر جس نے منہ موڑا اور انکار کیا تو اللہ بڑا عذاب دے گا۔ ان لوگوں نے ہماری طرف پلٹنا ہے اور ہم پر ان سے حساب لینا ہے”۔ (سورۂ الغاشیہ)
کورونا وائرس کی خار دار جھاڑ تصویر کی شکل میں میڈیا پر دکھائی جارہی ہے۔ کتنے لوگ اس کی وجہ سے تکلیف میں مبتلاء ہیں۔ پوری دنیا کو لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ سورة کے آغاز میں جس طرح چھا جانے والی کی بات کی خبر پہنچنے کا ذکر ہے اور پھر بعض چہرے خوفزدہ ہونے اور بعض کے تروتازہ ہونے کا ذکر ہے اس کا تعلق دنیا ہی کے معاملے سے معلوم ہوتا ہے۔ دانشور وعلماء اور امت مسلمہ کے اصحاب حل وعقد مشاورت سے اپنے معاملات درست کرنے پر توجہ دیں!