دیوبندی، بریلوی،شیعہ اور اہلحدیث قرآن سے پاکستان میں انقلاب لائیں: سید عتیق الرحمن گیلانی

181
0

قائد اعظم کا بریلوی اور شیعہ نے محمد علی نام کی وجہ سے ساتھ دیا، اہلحدیث اقلیت میں تھے اور دیوبندی موافق تھے اور مخالف بھی ۔ جنازہ علامہ شبیراحمد عثمانی نے پڑھایا۔ آغا خانی تھے اور بوہری آغا خانیوں کے زیادہ قریب ہیں۔

حجاز مقدس سے اسلام کی نشاة اول ہوئی تھی تو صحابہ انصار ومہاجرین اور قریش و اہلبیت کا خلافت کے مسئلے پر اختلاف تھا لیکن پھر بھی دنیا کی سپر طاقتوں کو فتح کرکے جنت حاصل کی!

آج پاکستان سے اسلام کی نشاة ثانیہ ہوگی تو افغانستان، ایران ، ترکی، سعودی عرب اور تما م مسلم ممالک کیلئے یہ بہترین نمونہ ہوگا اور پھر پوری دنیا کے تمام ممالک اس کو قبول کرینگے۔

قرآن مسلمانوں کا مشترکہ اور بہت بڑا اثاثہ تھا، ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ تمام فرقے قرآن سے اپنی دلیل پکڑتے ہیں۔ قرآن پر کسی کی اجارہ داری نہیں۔ اگر آج کے دور میں بھلے کسی طرح سے بھی عوام الناس کو قرآن کی طرف متوجہ کیا جائے تو ماضی کا بھی درست فیصلہ ہوجائیگا ، حال بھی ہمارا ٹھیک ہوجائیگا اور مستقبل کیلئے بھی ہم ایک مشترکہ لائحہ عمل بناسکیں گے۔

علامہ اقبال کا شکوہ اور جواب شکوہ اس قوم کیلئے بڑا سرمایہ ہے۔ اگر موجودہ زمانے میںشاعرافکار علوی کے گلے شکوے دیکھ لئے جائیں تو بجانظر آتے ہیں۔ قرآن عربی میں ہے مگر عربوں کیلئے نہیںبلکہ ہمارے لئے بھی ہے۔ ہمیں کچھ وقت چاہیے کہ اس کو سمجھ کر اپنا لائحۂ عمل تشکیل دے سکیں۔ فرقوں نے مطالب نکالے لیکن مقاصد توحل ہوئے مسائل حل نہیں ہوئے!۔

اہل تشیع کو قرآن کی سورۂ منافقون میں بڑے صحابہ کے کردار نظر آتے ہیں۔ ان کا اپنا ماحول ہے اور دین میں زبردستی کا تصور بھی نہیں اور انکے عقیدہ سے اہل سنت کو قطعًا کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا البتہ اہل تشیع کی تسکین ہوتی ہے۔ بھڑا س نکلنے کا فائدہ ہو توپھر ہمیں اپنا ظرف وسیع رکھنا چاہیے۔ مجھے پورا پورا یقین ہے کہ اہل سنت کی طرف سے برداشت کا اہل سنت کو بالکل کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور اہل تشیع کی مجبوری ہے۔

اہل تشیع ہمارے مسلمان بھائی ہیں۔ شعراء کے عشق وادب سے بھی ہم کچھ سیکھ لیتے تو ہمارے لئے بڑا اچھا ہوتا۔ اہل اردو کی سب سے بڑی خاتون شاعرہ پروین شاکر نے اپنے بے وفا شوہر سے جس طرح کی محبت کی ہے ،اگر ہم مسلم فرقے ایکدوسرے سے بے وفائی کے باوجود کچھ نہ کچھ ہمدردانہ جذبہ بھی رکھتے تو ہم مذہب کا چہرہ مسخ کرنے میں انسانیت کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ افراد کا بڑا یا چھوٹا مجمع دیکھ کر اپنے اوپر قابو نہیں رکھ پاتے۔

اپوزیشن کی جماعتوں نے پارلیمنٹ کو توڑنے، نئے انتخابات کرانے اور فوج کی مداخلت ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے جس طرح استعفوں ، انتخابات کے بائیکاٹ اور لانگ مارچ و دھرنے کا اعلان کیا تھا کہ ہم وزیراعظم کو پکڑ کرباہر پھینک دیں گے تو اس سے ہماری قوم کے جذباتی ہونے کا پتہ لگایا جاسکتاہے ۔

ایک دو شیعہ علامہ نے اپنی مجالس میں حضرت ابوبکر اور حضرت ابوسفیان کی گستاخی کی تو کراچی میں دیوبندی، بریلوی اور اہلحدیث کے بہت بڑے بڑے جلوس نکالے گئے لیکن کیا یہ سلسلہ رُک گیا؟۔ نہیں بلکہ اہل تشیع نے یوٹیوب پر مزید دِلوں کی بھڑا س نکالی ہے اور دیکھنے والے ان سے بہت متأثر بھی ہورہے ہیں۔ بعض لوگوں کی نفرتوں میں بے پناہ اضافہ ہورہاہے۔

قائداعظم محمد علی جناح کے بارے میں شیعہ نے کہا کہ ہم نے ”علی” نام دیکھ کر حمایت کا فیصلہ کیاتھا اور بریلوی کہتے ہیں کہ ہم نے ”محمد” نام دیکھ کر حمایت کی تھی۔ دیوبندیوں کی جمعیت علماء ہند و مجلس احرار نے مخالفت کی تھی اور جمعیت علماء اسلام نے حمایت کی تھی لیکن مولاناابوالکلام آزادنے مخالفت اسلئے کی تھی کہ وہ مذہبی طبقات کے اسلام کو سیکولر نظام سے زیادہ خطرے کی گھنٹی سمجھتے تھے۔ جمعیت علماء ہند کو قائداعظم کا نظریہ تقسیم ہند کی سازش کے علاوہ کچھ نہیں لگتا تھا۔ جمعیت علماء اسلام ہندو مذہب سے مسلمانوں کیلئے الگ مملکت بنانے کی زبردست حامی تھی۔ لیکن موجودہ جمعیت علماء اسلام کا تعلق اس جمعیت علماء اسلام سے نہیں ہے جس نے پاکستان کی حمایت کی تھی بلکہ اسکا نظریاتی تعلق بھی جمعیت علماء ہند سے ہے۔ جب جمعیت علماء ہند برصغیر پاک وہند کی تقسیم کے حق میں نہیں تھی بلکہ قوم پرست و وطن پرست جماعت تھی تو موجودہ جمعیت علماء اسلام کو بھی ملک کا غدار کہنا بہت غلط ہے۔ پاک فوج کے جن بے دماغ فلاسفروں کی طرف سے جمعیت علماء اسلام کو ملک دشمن قرار دیا جاتا ہے ،ان کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ کسی فوج کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا ہے۔ جب انگریز کے دور میں برصغیر پر انگریز کا قبضہ تھا تو پاک وہند کی فوج کا حلف نامہ انگریز سے وفاداری تھی اور تقسیم کے بعد اپنی فوج پاکستان اوربھارتی فوج انڈیا کی وفادار بن گئی۔

ذوالفقار علی بھٹو اندھوں میں کانا راجہ تھے لیکن اسلام اور سوشلزم کے نام پر فراڈیا تھے۔ بنگلہ دیش میں ہندوستان کے سامنے ہتھیار ڈال کر پاک فوج نے غلط کیا اور بھٹو نے ہندوستان کی قید سے آزادی دلاکر اچھا کیا تھا۔ پھر بھٹو پھانسی کے پھندے پر چڑھایا گیا تو یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ بھٹو مسلمان نہیں تھا اور اسکے ختنے کی تصویر بھی اسلئے کھینچ لی گئی۔ اگر ختنہ نہ ہوتا تو اسکے باپ دادا کو بھی ہندو ثابت کرنا تھا۔ نوازشریف کو بھٹو پرچھوڑدیا گیا جو اسکے باپ دادا کو انگریز کے کتے نہلانے والا کہتا تھا۔ آج سوشل میڈیا پر نوازشریف کی کلاس لی جاتی ہے کہ مودی کے ایجنٹ تم پاک فوج کے خلاف بھونکتے ہو؟۔ تمہارا دادا امرتسر میں طوائف کیلئے پھولوں کے ہار لاکر بیچتا تھا اور تمہارا خاندان اسی حرام کی کمائی سے پروان چڑھا ہے۔

پیپلزپارٹی نے پرویزمشرف کو نکالنے کیلئے مسلم لیگ ق کا ساتھ دینے کے بجائے ن لیگ کیساتھ ملکر پنجاب میں شہبازشریف کو وزیراعلیٰ بنوایا تھا۔ پھر نواز لیگ نے ق لیگ کو ساتھ ملاکر پیپلزپارٹی کو دھکیل دیا تھا اور آج پرویز الٰہی کے ذریعے سے پنجاب اور مرکزمیں تحریک انصاف کی حکومت ختم کرکے اپوزیشن کو اقتدار میں لایا جاسکتا تھا لیکن ن لیگ نے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ خفیہ معاہدہ کرکے ق لیگ کا راستہ روکا ہوا ہے۔ جب پیپلزپارٹی کو پنجاب حکومت سے ن لیگ نے ق لیگ کو ساتھ ملاکر نکال باہر کیا تو پیپلزپارٹی نے مرکز میں پرویز الٰہی کو نائب وزیراعظم بنادیا تھا۔ یہ ن لیگ کی مہربانی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو اسلئے چلنے دیا جائیگا کہ پرویزالٰہی کی انٹری بالکل ہی ختم ہوجائے ۔ یہ بھی ن لیگ ہی کی مہربانی ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے پہلے پی ٹی ایم (PTM)کو پی ڈی ایم (PDM)سے چلتا کردیا تھا اور اب وہ پرویز الٰہی کے خلاف ن لیگ کو خوش کرنے کی سیاست پر گامزن نظر آتے ہیں۔ اگر کھریاں کھریاں کے راشد مراد کی سیاست ن لیگ کے گرد گھومتی تو سمجھ میں آتا تھا کہ مالی مفادات اور نسلی امتیازات کا کوئی چکر ہوگا لیکن جب سلیم صافی اپنے تجزئیے میں ن لیگ کا بوجھ پیپلز پارٹی کے کھاتے میں ڈالتے ہیں تو تحریک انصاف میں جس طرح افضل چن پنجابی ہونے کے باوجود بھی اس کا کردار قابلِ فخر لگتا تھا اور پختونوں کا باعث شرم۔ اسی طرح جیو گروپ میں سلیم صافی بھی مسلم لیگ کیلئے چن کا کردار ادا کرتے تو ہمارے لئے کوئی پختون قابل فخر ہوتا۔ جیو کے صحافیوں کا بھی ن لیگ کیلئے وہ کردارہے جو تحریک انصافی رہنماؤں کا عمران خان کیلئے ہے۔

صحافی عمران خان کیلئے گیلے تیتر سے گیلی بلی کی بات زبانِ زد عام ہوگئی ہے۔ صابر شاکر نے کہا ہے کہ ”پاکستان کی عدلیہ نے امریکہ کا دباؤ قبول کرنے سے انکار کرکے امریکی صحافی کے نامزد ملزم عمر شیخ کو رہا کیا ہے، جب امریکہ عافیہ صدیقی کے بارے میں کہے کہ ہم اپنی عدالت میں مداخلت نہیں کرسکتے توہمارے جج صاحبان کا فیصلہ بھی ہمارے ملک کی خود مختاری کی دلیل ہے۔ اب وہ وقت گیا کہ انکے حکم پر فیصلہ کریں”۔

صابر شاکر کی بات درست ثابت ہوجائے تو منہ میں گڑ شکر، لیکن معاملہ ایسا نہیں، عافیہ صدیقی کوہم نے حوالے کیا تھا، ریمنڈ ڈیوس کو بھی ہم نے حوالے کیا تھا اور ہمارا اپنی عدالتوں پر بھی اعتماد نہیں ہے۔ جب پرویزمشرف کے خلاف فیصلہ آیا تو ڈی جی آئی ایس پی آر (DG-ISPR) کی طرف سے کیا ردِ عمل آیا؟۔ ارشد ملک نوازشریف کے کیس کو سن رہاتھا اور اسکے ساتھ رابطے میں بھی تھا اور فائزعیسیٰ براہِ راست چیف جسٹس بھرتی ہوا اور اسکے ریمارکس نے کھلبلی مچائی یا اسکی بیگم نے لندن میں اپنی پراپرٹی بنائی؟۔ مجید اچکزئی کے بعد کشمالہ طارق کے بیٹے کا معاملہ بھی عدالتوں پر سوالیہ نشان لگائے گا؟۔

اگر سنی شیعہ علماء کرام کسی بھی بہانے سے قرآن کی طرف مائل ہوگئے تو پھر عوام کا شعور بڑھ جائیگا اور اسلامی بینکاری کے نام پر عالمی بینک کے اداروں سے کم ازکم ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح پاکستان کو قبضہ کرنے کی حد سے بچالیں گے۔ہمارا ہدف قرآن کا نظام ہے۔