لا اسئلکم علیہ اجرًا الا مودة فی القربیٰ کی تفسیر میں پہلے مشرکینِ مکہ مخاطب اور بعد میں مسلمان مخاطب

78
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

صلح حدیبیہ سے پہلے نبیۖ پر ذنب بوجھ کا کیا مطلب تھا، فتوحات کے دروازے کھلنے کے بعد ذنب بوجھ کا کیا مطلب تھا؟

فرقہ وارانہ جہالتوں سے مسلمانوں کو نکالنے کیلئے قومی اسمبلی اور سینٹ میں علم وتحقیق کی روشنی میں قراردادیں پیش کرینگے؟

سورۂ فتح میں فرمایا: انافتحنا لک فتحًا مبینًاO لیغفرلک اللہ…..
”بیشک ہم نے آپ کو کھلی فتح عطاء کی ۔تاکہ آپ کا اگلا پچھلابوجھ آپ سے ہٹادے۔ اور آپ پر اپنی نعمت کی تکمیل کرکے رکھ دے۔ اور آپ کو سیدھا راستہ دکھا دے۔اور آپ کی مدد کرے زبردست مدد۔ وہ اللہ ہے جس نے مؤمنوں کے دلوں پر سکینہ نازل کیا،تاکہ ایمان کا اضافہ ہو،ان کے ایمان کیساتھ۔اور اللہ کیلئے آسمانوں اور زمین کے سب لشکر ہیں۔ اور اللہ جانتا ہے اور حکمت والا ہے۔ تاکہ مؤمنوں اور مؤمنات کو داخل کردے ایسے باغات میں جس میں ہمیشہ رہیں اور ان کی برائیوں کو ان سے دُور کردے۔ اور یہی اللہ کے نزدیک عظیم کامیابی تھی۔ اور منافق مرد،عورتوں اور مشرک مرد ، عورتوں کو عذاب دے جو اللہ سے برا گمان رکھتے ہیں۔ ان کے اوپر برائی کا گھیراؤ مسلط ہے۔ اور اللہ کا غضب ہے ان پر اور ان پر اس نے لعنت کی ہے اور ان کیلئے جہنم مہیا کررکھی ہے۔ اور یہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ اور آسمانوں وزمین کے سب لشکر اللہ ہی کیلئے ہیں۔ اور اللہ تو تھا ہی زبردست حکمت والا۔ بیشک ہم نے آپ کو بھیجا گواہی دینے والااور بشارت دینے والا اور ڈرانے والا۔ تاکہ اے لوگو! تم ایمان لاؤ اللہ اور اسکے رسول پر۔ تاکہ تم اس کی مدد کرو اور اس کی توقیر کرو۔اور تم اللہ کی پاکی صبح وشام بیان کرو۔ بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کررہے ہیں ،بیشک یہ لوگ اللہ سے بیعت کررہے ہیں۔ اللہ کا ہاتھ انکے ہاتھوں کے اوپر ہے۔ پس جو عہد کو توڑیگا تو اپنے نفس کیخلاف عہد کو توڑے گا۔ اور جو اس عہد کو پورا کریگا جس بات پر اس نے اللہ سے عہد کیا ہے تو اس کو عنقریب بہت بڑا اجر دے گا۔(پہلا رکوع)
اسلام میں ایک دور مشکلات کا اور دوسرا دور فتوحات کا ہے۔ رسول اللہۖ کی بعثت سے ہجرت تک ، غزوۂ بدر،غزوہ اُحد وغیرہ اورصلح حدیبیہ تک مشکلات کا دور تھا۔ ان مشکلات کے دور میں بھی رسول اللہۖ پر بہت بڑا بوجھ تھا۔ دین کی تبلیغ اور اسلام کے غلبے کا خواب پورا ہونے کیلئے جس ماحول کی ضرورت تھی وہ میسر نہیں تھا۔ مشرکین مکہ اصل دشمن تھے جنہوں نے حبشہ پہنچ کر نجاشی سے مسلمانوں کی دشمنی کی انتہاء کردی تھی۔ جب قیصر روم کو رسول اللہۖ کے دشمن کی زباں سے حالات معلوم ہونے پر یقین تھا تو رسول اللہۖ کو اپنی تحریک کی کامیابی پر کتنا یقین ہوگا؟۔ تاہم جن مشکلات کا سامنا خاص طور پر اہل مکہ کی طرف سے تھا وہ بہت بڑا بوجھ تھا اور اس بوجھ کو سورۂ فتح میں ذنب کہا گیا۔ جب کوئی انسان کسی مشکل میں پھنس جاتا ہے تو وہ اس کا اظہار اس طرح کرتا ہے کہ بس اللہ میرے گناہ معاف کردے لیکن اس گناہ سے مراد اس طرح کا گناہ نہیں ہوتا جس طرح کے عام گناہوں کا تصور ہے۔ علماء حضرات ایک عام محاورے کی زبان سمجھنے کے بجائے گناہ کاترجمہ کرتے ہوئے نبیۖ کی لغزش، کوتاہی اور گناہ کی مقدار کا پیمانہ لیکر کھڑے ہوگئے۔
رسول اللہۖ کی سیرت اسوۂ حسنہ کو اسلئے اعلیٰ اور مثالی نمونہ نہیں قرار دیا کہ رحمة للعالمینۖ کی زندگی میں کوئی لغزش تھی۔ فلاتمن تستکثر ”آپ احسان اسلئے نہ فرمائیں کہ خیر کثیر کا بدلہ ملے گا” بلکہ بھلائی کے بدلے مشرکینِ مکہ نے جانی دشمن بننا ہے۔ عام قاعدہ جزاء لاحسان الا حسان ہے لیکن جب انسانی زندگی کے معیارات میں فرق ہوتا ہے تو پیمانے جدا جدا ہوتے ہیں اور اللہ نے فرمایا کہ ”ہم تمہیں ضرور بضرور آزمائیں گے خوف میں سے کچھ چیز پر، اموال اور جانوں کی کمی سے اور ثمرات کی کمی سے۔ بشارت دو صبر کرنے والوں کو”۔
ثمرات پھل اور خشک میوے نہیں وہ تو اموال میں شامل ہیں بلکہ تحریک کا اچھا نتیجہ نکلنا ثمر ہوتا ہے۔ نبیۖ کو مکہ میں شعب ابی طالب میں کتنے سال اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قل لااسئلکم علیہ اجرًا الا مودة فی القربیٰ ”کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تحریک پر کوئی صلہ نہیں مانگتا مگر قرابتداری کی محبت چاہتا ہوں”۔ قریشِ مکہ نبیۖ کے قرابتدار ، پڑوسی، ہم زبان ، قوم اور قبیلے سے تعلق رکھتے تھے تو اس میں فطری محبت کا لحاظ ہوتا ہے۔ نبیۖ سے فرمایا کہ اہل مکہ سے اس کا مطالبہ کرو۔ جب صلح حدیبیہ ہوگئی تو نبیۖ نے اطمینان کا سانس لیا کہ دشمن سے خوامخواہ کے خطرات ٹل گئے۔ مسلمان مکہ سے ہجرت کرگئے مگر مدینہ میں بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑا گیا۔ اس کی مثال پاکستان اور بھارت کی ہے۔ اگر ہندوستان سے ایسا معاہدہ ہوجائے کہ ہماری جان چھوٹ جائے تو اس سے پاکستان اطمینان کا سانس لے گا۔ دنیا کے ہر کونے میں پاکستان کا پیچھا کیا جاتا ہے۔
صلح حدیبیہ کو اللہ نے فتح مبین کہا، ابوجندل کو حوالے کرنا دل گردے کا کام تھا مگر صلح حدیبیہ سے بوجھ نبیۖ کا ہٹ گیا اور اس بوجھ کو ذنب کہا۔ فتوحات کا دروازہ کھل گیا تو انصار، مہاجرین اور اہلبیت نے خلافت پر فائز ہوکر دنیا کا نظام سنبھالنا تھا۔ اگر قریش وانصار نے خلافت کے استحقاق کیلئے نبیۖ کے کفن دفن کو پسِ پشت ڈال کر اس فتنہ انگیزی سے نمٹنا تھا تو نبیۖ کو اس کی فکر بھی ضرورتھی۔نبیۖ نے اسلئے مسلمانوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ تمہارے لئے اس مودة فی القربیٰ سے مراد میرے اہلبیت ہیں۔جن میں علی وآل علی شامل تھے۔
نبیۖ پر اسلامی فتوحات کے بعد اپنے خلفاء اور تخت نشینوں کا قرآن و سنت کے اعلیٰ ترین مشن سے پھر جانے کا بوجھ بھی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے نبیۖ کو سورۂ فتح میں یہ بوجھ اترنے کی بھی خوشخبری دیدی۔ نبیۖ نے فرمایا کہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا ہے کہ جسکے کچھ جانشین اسکے مشن پر چلتے ہیں، پھر ناخلف جانشین آتے ہیں جس کام کا ان کو حکم ہوتا ہے وہ نہیں کرتے، جس کا حکم نہیں ہوتا وہ کرتے ہیں۔ نبیۖ کے اس بوجھ کو اللہ نے فتوحات کے حوالے سے ہٹا دیا تھا۔ حضرت عثمان کی شہادت کا سانحہ پیش آیا تھا تو پھر شمع بجھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ پھر علی و حسن کے دَور تک معاملہ چلتا رہا۔ پھر حسن نے صلح کرکے امیرمعاویہ کی امارت پر امت کو متفق کردیا ۔ یزید کے بیٹے معاویہ نے اقتدار چھوڑ دیا۔ ابوسفیان کی اولاد سے اقتدار منتقل ہوکر مروان بن حکم اور اس کی اولاد کا دور شروع ہوا۔ پھر عمر بن عبدالعزیز نے خلافتِ راشدہ کا دور تازہ کیا۔ پھر بنو اُمیہ سے خلافت چھن گئی اوربنو عباس نے خلافت سنبھال لی۔
علی کی اولادکو اسلئے محروم کیاگیا کہ عباس چچا اور علی چچازاد تھا مگر علی کا باپ مسلمان نہیں۔ سلطنت عثمانیہ نے اقتدار سنبھالا تو الائمة من القریش بھول گئے جو انصار کے مقابلے میں ابوبکر و عمر نے پیش کی تھی۔ رسول اللہۖ نے ان ادوار، جبری حکومتوں اور پھر رسول اللہ ۖ نے طرزِ نبوت کی خلافت کا ذکر فرمایا جو پوری دنیا میں قائم ہوگی۔ شیعہ سنی ہی نہیں یہودونصاریٰ اور زمین وآسمان والے سب اس سے خوش ہونگے۔ اسلئے رسول اللہۖ پر آنے والے ذنب بوجھ کو بھی اللہ نے سورۂ فتح میں ختم کردیا تھا۔

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana