رسول اللہۖ کی تمنامیں شیطان کے القا کی مداخلت اور اللہ کی طرف سے آیات کی حفاظت

پچھلے شمارے میں قرآن میں سورۂ حج (کی آیت52) میں رسول اللہۖ کی تمنامیں شیطان کے القا کی مداخلت مگر اللہ کی طرف سے آیات کی حفاظت پر کچھ وضاحت کی جو ایک مقدمہ تھا ،اب مزیداور بنیادی وضاحت ملاحظہ فرمائیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے حقوق کا تحفظ فرمایا اور نبیۖ نے عورتوں کے حقوق کیلئے اپنی آخری وصیت فرمائی لیکن شیطان نے اپنے القا سے امت مسلمہ کا کیسے بیڑہ غرق کیا؟

رسول اللہۖ اپنی خوشی سے رفیق اعلیٰ کی طرف گئے۔شیعہ حدیثِ قرطاس کا گلہ کریںمگر علی کے بعد امام حسن کی امامت کو بھی مانیں ،اپنا کلمہ وآذان بھی عراق وایران کیمطابق کریں!

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:” اور (اے نبی مکرمۖ) ہم نے آپ سے پہلے نہیں بھیجا کوئی رسول اور نہ نبی مگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے اس کی تمنا میں القا کردیا۔ پس اللہ مٹاتا ہے جو شیطان القا کرتا ہے پھر اپنی آیات کو محکم کردیتا ہے۔ اوربہت جاننے والا حکمت والا ہے۔Oتاکہ شیطان کی ڈالی ہوئی بات کو فتنہ بنادے، ان لوگوں کیلئے جن کے دلوں میں مرض ہے اور جن کے دل سخت ہیں۔ اور بیشک ظالم بہت دور کی شقاوت(بدبختی) میں ہیںOاور تاکہ جان لیں وہ لوگ جن کو علم دیا گیا ہے کہ بیشک حق تیرے ربّ کی طرف سے ہے۔ پھر اس پر ایمان لائیں اور اس کیلئے ان کے دل جھک جائیں۔اور بیشک اللہ ہدایت دیتا ہے ان لوگوں کو جنہوں نے ایمان لایا ہے صراط مستقیم کی طرف”۔ سورہ ٔ حج
سورہ حج کی مندرجہ بالا آیات (52،53،54)میں پہلی آیت(52)ہے۔ جس میں رسول اور نبی کی تمنا میں شیطانی القا کی بات واضح ہے۔ اب یہ شیطانی القا کیا ہے؟۔ اس پر مفسرین نے آپس میں بہت اختلاف کیا ہے۔
مولانا سید ابولاعلی مودودی نے اسکے حاشیہ نمبر(97)اور(98)میں لکھا ہے کہ تمنٰیکا لفظ عربی زبان میں دو معنوں کیلئے استعمال ہوا ہے۔ ایک معنیٰ تو وہی ہے جو اردو میں لفظ تمنا کے ہیں ، یعنی کسی چیز کی خواہش اور آرزو کرنا۔ دوسر ے معنیٰ تلاوت کے ہیں، یعنی کسی چیز کو پڑھنا۔ ”تمنا کا لفظ اگر پہلے معنیٰ میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ شیطان نے اس کی آرزو پوری ہونے میں رخنے ڈالے اور رکاوٹیں پیدا کیں۔ دوسرے معنیٰ میں لیا جائے تو مراد یہ ہوگی کہ جب اس کلام الٰہی کو لوگوں کو سنایا ،شیطان نے اس کے بارے میں شبہے اور اعتراضات پیدا کیے، عجیب عجیب معنیٰ اس کو پہنائے اور ایک صحیح مطلب کے سوا ہر طرح کے الٹے سیدھے مطالب لوگوں کو سمجھائے۔ (تفہیم القرآن جلدسوم)
مولانا مودودی نے اس (آیت 52)کی یہ تفسیر لکھ کرکوئی حوالہ نہیں دیا ہے مگر ایک لفظ کے دو معانی نکال کر دونوں کی الگ الگ تفسیریں لکھ دی ہیں، اس میں بدنیتی کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا ہے لیکن اس تفسیر میں تضاد بھی ہے اور تضاد ہی اس بات کو واضح کرنے کیلئے کافی ہے کہ ایک صحیح مطلب کی نشاندہی نہیں ہے۔
مولانا مودودی نے تمنا اور تلاوت دونوں مفہوم اسلئے مراد لئے ہیں کہ جن تفاسیر کی انہوں نے تردید کی ہے تو ان میں دوچیزیں تھیں۔ جبکہ تمنا کے معنی تمنا ہی کے ہیں،تلاوت کے ہرگز نہیں ہیں۔ سورہ نجم کے حوالے سے جس تلاوت کا غلط بہتان مشرکینِ مکہ نے لگایا تھا وہ تو آیت کے ظاہری مفہوم سے بھی مراد نہیں ہوسکتا ہے اور سورۂ نجم کا اپنا مفہوم بھی اس بہتان کی تردید کیلئے کافی ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ پہلے انبیاء اور رسولوں کیلئے ایسی کونسی تمنائیں تھیں جن میں شیطان نے مداخلت کی تھی؟۔ حقیقت جاننے کیلئے ہمیں قرآن وسنت سے ایسی تمناؤں کا نمونہ پیش کرنا ہوگا جس میں شیطان نے مداخلت کی ہو۔ اسی طرح پہلے انبیاء کرام کے حوالے سے بھی ایسی تمنا کا واضح مفہوم پیش کرکے ثابت کرنا ہوگا کہ یہ ان کی تمنا تھی اور یہ اس میں شیطان کی مداخلت تھی۔
حضرت آدم کا شجرہ ممنوعہ کے قریب نہ جانے کی تمنا میں شیطان کا القا تھا۔ جب رسول اللہۖ سے حضرت خولہ نے ظہار کے حوالے سے عرض کیا تو ایک خود ساختہ شریعت کے گھمبیر ماحول میںرسول اللہۖ کی تمنا یہ تھی کہ خواتین کو اس مصیبت سے چھٹکارا ملے لیکن ساتھ ساتھ خود ساختہ شریعت میں شیطان کے سخت ترین القا کا بھی مسئلہ تھا۔ جب عورت نے اپنے حق کیلئے مجادلہ کیا تو انسانی فطرت اور شریعت مقدسہ کا تقاضہ یہی تھا کہ عورت کو اس مصیبت سے چھٹکارا مل جائے ، دوسری طرف خود ساختہ شریعت اور اس میں شیطانی القا کا تقاضہ یہ تھا کہ عورت اس مصیبت سے نجات نہ پائے۔
جب رسول اللہ ۖ کی تمنااور شیطانی القا کی کشمکش جاری تھی تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے سورۂ مجادلہ کی آیات نازل کرکے القائے شیطانی کا خاتمہ کیا اور اپنی آیات کو محکم کردیا۔ رسول ۖ کی تمنا اور شیطان کے القا کی اس مثال سے یہ ثابت ہوگیا کہ رسول اللہۖ کی تمنا میں شیطانی القا سے کیا مراد ہے اور اللہ نے اپنی آیات کو کس طرح سے محکم کردیا تھا۔ یہ آیت(52)کی تفسیر ہے اور پھر آیت (53)میں جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے یا جو منافق ہیں اور جو کافر ہیں انہوں نے اس حکم سے فتنے میں پڑکر کیا کردار ادا کیا۔ تو اس کی واضح مثال سورۂ احزاب میں ہے کہ اللہ نے نبیۖ سے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی اتباع مت کرو۔ جو اللہ نے نازل کیا ہے اسی پر فیصلہ کرو۔کافی ہے اللہ کی وکالت ۔ اللہ نے کسی آدمی کے سینے میں دو دل نہیں رکھے ہیں کہ ایک دل سے ایک عورت کیلئے بیوی کا جذبہ رکھتا ہو اور دوسرے دل سے اسی عورت کیلئے ماں کا جذبہ رکھتا ہو۔ جن بیویوںسے تم نے ظہار کیا ہے ،اللہ نے ان کو تمہارے لئے ماں نہیں بنایا ہے اور نہ منہ بولے بیٹوں کو حقیقی بیٹے بنایا ہے۔
رسول اللہ ۖ کے دل میں تمنا تھی کہ اگر زید طلاق دینے سے نہیں رُک سکا تو اس کی دلجوئی کیلئے خود شادی کرلیں مگر ساتھ ساتھ یہ ماحول بھی تھا کہ اس وقت لے پالک یا منہ بولے بیٹے کو بھی حقیقی بیٹے کی طرح سمجھا جاتا تھا اور اس کی طلاق شدہ بیوی کو بھی حقیقی بہو کی طرح سمجھا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہۖ کے دل میں یہ تمنا خود ہی پیدا کی تھی لیکن شیطان نے اپنے القا کے ذریعے سے خوف پیدا کردیا تھا کہ لوگ کیا بولیں گے؟۔ اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں پر آسانی پیدا کرنے کی سبیل نکالی اور اس ماحول کو ختم کردیا اور جس تمنا کو نبیۖ چھپارہے تھے تو اللہ نے اس کو ظاہر کردیا۔ اس واقعہ کو اللہ نے اہل علم کیلئے دلیل بنایا کہ بیشک حق نبیۖ کے رب کی طرف سے ہے اور مؤمنوں کے دل اس حقیقت کیلئے جھک گئے اور اللہ ہدایت دینے والا ہے ایمان والوں کو صراط مستقیم کی طرف۔
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ صحابہ کرام نے طوعاً وکرھاً نبیۖ کی سیرت اور قرآن کو مان لیا ؟۔ حالانکہ کفار اور معاندین کا اعتراض آج تک ختم نہیں ہوا کہ حضرت زید کی بیوی سے طلاق کے بعد کیسے شادی کرلی؟۔
اس کا جواب بہت کرارا ہے کہ وہ لوگ جو اپنے حقیقی باپ کی بیگمات سے شادی کرنے کو جائز بلکہ اپنا حق سمجھتے تھے لیکن منہ بولے بیٹے کی طلاق شدہ بیوی سے نکاح کرنے کو حرام سمجھتے تھے۔ مؤمنوں کی تو دل وجان سے اصلاح ہوگئی۔ انہوں سورۂ حج کی آیت54کے عین مطابق حق بات کو دل سے قبول کرلیا اور صراط مستقیم کی ہدایت بھی مل گئی ۔ اگررسول اللہۖ چاہتے تو پھر حضرت زنیب کو حضرت زید کے نکاح میں دینے کے بجائے خود بھی نکاح میں لے سکتے تھے اور ایک طرف حضرت زینب نے یہ قربانی دیدی کہ جس پر غلامی کا دھبہ تھا تو اس کے نکاح میں جانا قبول کیا۔ جس کی وجہ سے اللہ نے ام المؤمنین کے شرف سے نواز دیا اور ان کی یہ قربانی بہت کام آئی۔ دوسری طرف مؤمنین کیلئے شریعت کا روشن راستہ واضح ہوگیا کہ باپ کی منکوحہ سے نکاح کرنا غلط اور منہ بولے بیٹے کی طلاق شدہ سے نکاح درست ہے۔ تیسری طرف رسول اللہۖ کی تمنا میں جس طرح شیطان نے اپنا القا کیا تھا کہ لوگ کیا کہیںگے؟ ۔اور اللہ نے فرمایا کہ وتخشی الناس واللہ احق ان تخشٰہ ” اور آپ لوگوں سے ڈر رہے تھے اور اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرا جائے”۔ (سورہ الاحزاب)
صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہۖ کیلئے سب سے زیادہ سخت یہ آیت تھی اگر آپ کسی آیت کو چھپانا چاہتے تو اسی کو چھپاتے”۔ حضرت عائشہنے اس تناظر میں کہا کہ اللہ نے قرآن میں رسول اللہ ۖ سے فرمایا کہ بلغ مانزل الیک ان لم تبلغ فما بلغت رسالتہ واللہ یعصمک من الناس ”تبلیغ کریں جو اللہ نے آپ پر نازل کیا ہے ،اگر آپ نے (اللہ کی نازل کردہ آیات کی) تبلیغ نہیں کی تو آپ نے اس کی رسالت کو نہیں پہنچایا اور اللہ آپ کی لوگوں سے حفاظت کر یگا”۔ اہل تشیع کا دعویٰ ہے کہ ”یہ آیت حضرت علی کی ولایت پرنازل ہوئی ، رسول ۖ کی یہ تمنا یہ تھی کہ علی ہی کو خلیفہ بنایا جائے مگر شیطان نے حدیث قرطاس میںمزاحمت کی۔ قریش میں اہل بیت کی خلافت مأمور من اللہ تھی”۔ رسول اللہ ۖ کے بیٹے کو اللہ نے بچپن میں اٹھالیا تھا اور آپۖ نے فرمایا کہ ہر نسب باپ کی جانب منسوب ہوتا ہے لیکن فاطمہ کی اولاد میری جانب منسوب ہوگی۔ حضرت علی اور حضرت ابوطالب کی دوسری اولاد سادات نہیں کہلاتے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے منصب امامت سے سرفراز فرمایا تو آپ علیہ السلام نے بھی دعا فرمائی کہ ”اور میری اولاد میں سے بھی”۔ اللہ نے فرمایاکہ ” میرا وعدہ ظالموں کو نہیں پہنچے گا”۔ حضرت ابراہیم کیساتھ بڑا مشروط وعدہ کیا گیا اور پورا ہوا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے کہا کہ اللہ آپ نے مجھ سے میرے بچوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا؟۔ اللہ نے فرمایا کہ وہ تیرے اہل میں سے نہیں ہے ،وہ عمل غیر صالح ہے۔ جس پر حضرت نوح نے معافی مانگ لی اور حضرت داؤد کے دل میں اوریا مجاہد کی بیگم سے شادی کی تمنا شیطان نے ڈال دی تھی اور اللہ نے (99) دنبیاں اور ایک دنبی سے تنبیہ فرمائی تو آپ نے اللہ سے معافی مانگی اور اللہ نے معاف کردیا۔ شیعہ سنی اپنے پرانے جھگڑوں کو اب چھوڑ دیں اور اپنے اپنے مکاتبِ فکر کی شریعت کو قرآن کی آیات اور سنت کے مطابق درست بنائیں تو جس کی بات فطری اور درست ہوگی وہ قبول کرنے میں عوام کو کوئی عذر نہیں ہوگا۔اگر حنفی علماء صحیح راہ پر آگئے توپھر بازی لے جائیںگے۔
عورت کے حقوق طلاق وخلع اور ماملکت ایمانکم کی تفسیر میں حنفی مسلک کی درست تعبیراسلام کو دنیا بھر میں مقبول بنادے گا۔ عراق میں یزیدی فرقہ اپنے منفردعقائد رکھتا ہے۔جوقرآن ،عیسائی اور ہندومذہب کاملغوبہ ہیں۔ دین میں زبردستی نہیں۔ ایک پرامن فضا کی ضرورت ہے۔قرآن میں اہلبیت یا قریش کے امام بننے کی وضاحت حضرت ابراہیم کی دعا تک ہے اور احادیث میں بھی اس کی وضاحت ہے ۔ابوجہل اورحضرت ابوبکر میں واضح فرق تھا، یزید و حسین میں فرق تھا اور خلافت عثمانیہ کے خلفاء قریش نہ تھے اور سعودیہ اور ایران کی حکوت میں بھی قریش واہلبیت کا خلیفہ ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگرخلافت کی اہلیت ہوگی تو دنیا میں اللہ موقع دیگااور اہلیت ہو لیکن اللہ نے موقع نہیں دیا تو اس کا گلہ عوام سے اس وقت بنتا ہے کہ جب معاملہ انسانوں کے ہاتھ میں ہو۔ اگرمعاملہ انسانوں کے ہاتھ میں ہو تو پھر اللہ کی طرف سے اہلیت کو انسانوں میںبھی ثابت کرنا ہوگا۔ اہل تشیع کا ائمہ اہلبیت کو چھوڑ کر علیولی اللہ کہنا عراق اورایران کے شیعہ سے بھی مختلف ہے۔امام حسن کو بھی تسلیم کرنا ہوگا۔

NAWISHTA E DIWAR March Ilmi Edition #2. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

جواب دیں

Back to top button