ریاست مدینہ کرونا حقائق کے تناظرمیں

415
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ” جہاں وبائی مرض ہو تو وہاں سے کوئی دوسری جگہ نہ جائے اور نہ کوئی وہاں جائے”۔ چین کو پتہ چلا کہ ”ووہان میں وبائی مرض کرونا پھیل گیا ہے تو وہاں سے نکلنے اور وہاں جانے پر پابندی لگادی”۔ ساڑھے چودہ سو سال پہلے ریاستِ مدینہ نے جس کی نشاندہی کی تھی چین نے موجودہ دور میں اس پر عمل کرکے نجأت حاصل کرلی۔ ایران نے اپنی زیارات کو شفاء کا ذریعہ سمجھا اور حدیث کو نظر انداز کردیا تو تباہی مول لے لی ۔ ٹرمپ کو مذاق سوجھا تو اس کی شلوار بقول عمران خان نیازی کے گیلی ہوگئی ہے۔ اٹلی،اسپین، فرانس اور جن ممالک نے اس کو سنجیدہ نہیں لیا تو اس کی بہت بڑی سزا بھی بھگت رہے ہیں۔
قرآن نے سود کو اللہ اور اسکے رسولۖ سے اعلانِ جنگ قرار دیا ۔ کافرممالک میںشرح سود بالکل زیرو ہورہی ہے اور مسلم ممالک میں شرح سود خاص طور پر پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ عمران خان مسلمان ہے جسے دیکھ کر شرمائے ریاستِ مدینہ کا یہود؟۔پاکستان میں جس طرح سیاست میں سرمایہ کاری کرکے بہت زیادہ شرحِ سود اٹھایا جاتا ہے اس کی مثال ہماری پیشہ وارانہ جمہوریت ہے۔ پہلے ہندو بنیے کا سود مشہور تھا۔ اسی طرح مشرکینِ مکہ بھی سودخوری میں مبتلا تھے۔ریاستِ مدینہ میں یہود کا سود اپنی انتہاء کو پہنچا ہوا تھا۔ آج ریاستِ مدینہ میں صادق وامین رسول اللہ ۖ کی نہیں بلکہ ریاستِ مدینہ کے یہودکی یاد تازہ کی جارہی ہے۔
اسلامی انقلاب عقائد نہیں نظام کیخلاف تھا۔ مدینہ میں رسول اللہۖ پر سود کی حرمت والی آیت نازل ہوئی تو آپۖ نے زمین کو مزارعت اور کرایہ پر دینا سود قرار دیا۔ مکہ فتح ہوا تو پہلے اپنے چچا عباس کا سود، جاہلیت کے خون میں پہلے چچا کا خون معاف کردیا۔پاکستان میں اسلامی انقلاب جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کیخلاف آئیگا اور محنت کشوں کی چاندنی ہوگی۔

کورونا خودکش حملے کی طرح دہشتگردی ہے ؟

جب نبیۖ نے فرمایا کہ متعدی مرض وبا سے ایسے بھاگو جیسے جنگلی شیر سے بھاگتے ہو تو پھر کورونا وائرس میں غفلت کا مظاہرہ کرنا خود کش حملوں کی طرح دہشت گردی ہے۔ امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو امت مسلمہ کے جذبات طالبان کے حق میں اور امریکہ کے خلاف تھے۔جنرل پرویزمشرف نے مجبوری میں امریکہ کا ساتھ دیا تو پاک فوج کی اکثریت کا جذبہ عوام کی طرح امریکہ کے خلاف اور طالبان کی حمایت میں تھا۔ ریاست کا حکم امریکہ کیساتھ تھا اور ریاست کا جذبہ طالبان کیساتھ تھا۔ جس کی وجہ سے جی ایچ کیو پر قبضہ سمیت پورے ملک کو بہت نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ 70ہزار سے زیادہ پاکستانی لوگ جان سے گئے۔
آج پاک فوج کورونا وائرس کے خلاف دل وجان سے عوام کیساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ کورونا وائرس دہشتگردی سے زیادہ مہلک و خطرناک ہے۔ امریکہ نے افغانستان، عراق اور لیبیا کا بیڑہ غرق کیا تو دنیا کو دہشت گردی نے اپنی لپیٹ میں لیا۔ دہشت گردی ظلم وجبر کانتیجہ تھی اور کورونا وائرس کے خلاف دہشتگردی نہیں ہمدردی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ عالمِ انسانیت کو اس زریںموقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شَر کی قوتوں کو شرمندہ کرنا چاہیے۔اگر پاکستان میں کوئی اچھا حکمران ہوتا تو سب سے پہلے تمام گھروں کو راشن اور علاج کی سہولت فراہم کرکے اپنی حدود میں رہنے کی تلقین کرتالیکن لگتاہے کہ پاکستان میں وائرس پھیلانے کی دانستہ کوشش ہورہی ہے اور خاندانی منصوبہ بندی کی جگہ کرونا وائرس سے آبادی کم کرنے کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔ چین سے طلبہ واپس لائے جاتے مگر چین نے خود واپس نہیں کئے۔ ایران میں زائرین کو رکھا جاسکتا تھا مگر زائرین کو واپس لایا گیا۔جب تک وائرس پھیل نہ جائے عمران خان اطمینان کا سانس نہ لے گا اسلئے قرضہ معاف کرانے اور چندہ بٹورنے کا یہ واحد ذریعہ ہے۔

 

علماء کے انوکھے اور نوکیلے فتوؤں کی یہ بھرمار؟
علامہ اشرف جلالی بریلوی بمقابلہ پیر ذوالفقاردیوبندی

جب کوروناوائرس کیوجہ سے تبلیغی جماعت مشکل میں آئی تو بریلوی مکتب کے مولانا اشرف جلالی کی ویڈیو سامنے آئی کہ علامہ ابن سرین نے بدعقیدہ افراد کی طرف سے روایت و آیت کو بھی سننے سے انکار کردیا تھا، ہم اہلسنت ٹھیک کرتے ہیں کہ تبلیغی جماعت اور دیوبندیوں سے قرآن وسنت کی تبلیغ نہیں سنتے۔ دیوبند مکتب کے پیرذوالفقار نے ایک حدیث تبلیغی جماعت پر چسپاں کردی کہ نبیۖ نے فرمایا کہ ایسے لوگ ہونگے جو انبیاء اور شہداء نہیں ہونگے مگر ان پر انبیاء اور شہداء بھی رشک کرینگے۔ یہ وہ ہونگے جو عوام کے دلوں میں اللہ کی محبت ڈالیںگے اور اللہ میں لوگوں کی محبت ڈالیںگے، ان کو معاصی ترک کرنے کی دعوت دیکر۔ یہ تبلیغ والے ہیں اور وہ سب علماء ومشائخ بھی اس میں داخل ہیں جو یہ کام کررہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن وسنت کے ذریعے مسلمانوں کو ہٹ دھرمی کی تعلیم نہیں دی ۔ بدر کے قیدیوں پر مشاورت کے بعد فیصلہ ہوا تو اللہ نے قرآن میں تنبیہ فرمائی، احد کے بعد جذباتیت کے مظاہرے پر اللہ نے برعکس فیصلہ دیا۔ سورۂ مجادلہ میں عام فتوے کے برعکس وحی نازل ہوئی ۔ صلح حدیبیہ میں نبیۖ نے زبردست حوصلے کا مظاہرہ کیا۔ اگر تبلیغی جماعت کی شوریٰ فیصلہ کرتی اور اپنے ترجمان کے ذریعے عوام کو مطلع کرتی کہ” ہم سے غلطی ہوئی ہے، دین اور دنیا سے ہم جاہل ہیں۔ حکومت کی بات مان کر ہمیں اجتماع نہیں کرنا چاہیے تھا اور پھر اجتماع کے بعد جماعتوں کی تشکیل ہماری غلطی اور ہٹ دھرمی تھی جس کا ہم نے خمیازہ بھگت لیا ”۔ تو سب لوگ تبلیغی جماعت کی تعریف کرتے لیکن مولانا نعیم بٹ نے ہٹ دھرمی سے ترجمانی کرتے ہوئے اپنی اصلیت واضح کردی۔ بریلوی، دیوبندی ،شیعہ،اہلحدیث اور جماعت اسلامی روایتی ہٹ دھرمی چھوڑ کر قرآن وسنت کے واضح احکام پر عمل کریں۔

 

پاکستان کی ریاست شوگر مافیا کی لونڈی ہے؟
کیا ہم اپنی حالت بدلنے کی صلاحیت نہیں رکھتے؟

پاکستان نازک موڑ پر کھڑا ہے، کچھ لوگوں کو ن لیگ نے خرید لیا ہے جو یہ چاہتے ہیں کہ اس حکومت کو چلتا کرکے ن لیگ، ق لیگ اور تحریک انصاف کے لوٹے مل کر ایک بار پھر مشترکہ حکومت قائم کریں۔ چاہے نئے انتخابات کے ذریعے ہو یا اسی سیٹ اپ میں تبدیلی کا تقاضہ پورا کیا جائے۔ جب جہانگیر ترین اور عمران خان کو نکال باہر کیا جائیگا تو تختِ لاہور ، پنجابی اور اسٹیبلشمنٹ کی تثلیث کو وہ لوگ صلیب کی طرح پوجنا شروع کردینگے جو فوج کی سخت مخالفت کرکے نوازشریف کیلئے کام کررہے ہیں مگر دوسری طرف پاکستان توڑنے کیلئے یہ سازش کافی ہوگی اسلئے کہ عمران خان نیازی اور جہانگیر ترین کوسائیڈ لگانے پر لسانی طاقتوں کو تقویت ملے گی۔ جب الیکشن کی سیاست کرنے والوں کی اکثریت مفادپرست ہے اور فوج کے کندھے پر چڑھ کر سب حکومت میں آتے ہیں تو ایک ایمرجنسی حکومت کے ذریعے سے مخلص عوام کو ہی اعتماد میں لیا جائے۔ قرآن وسنت کی طرف توجہ کی جائے، مساجد سے نیک لوگوں کو اسلام کی درست تعلیم سمجھائی جائے ، علماء ومفتیان کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے۔ سماجی کارکنوں کی زبردست سرپرستی کی جائے اور ملک کی تقدیر بدلی جائے۔
کسی کا کوئی ذاتی ایجنڈہ کامیاب نہیں ہوسکتا ہے۔ سول وملٹری اور عدالتی بیوروکریسی کے علاوہ صحافت اور سیاست کے میدان سے اچھے لوگوں کو پاکستان میں نظام کی تبدیلی پر لگانے سے ہی انقلاب برپا ہوسکتا ہے۔ کورونا وائرس ہمیں ایک قوم اور جماعت بن کر رہنے کیلئے ہی رحمت بن کر آیا ہے۔ وحی کا سلسلہ بند ہوچکا ہے، سب میں خوبیاں اور کمزوریاں ہیں اورسب کو ایک پلیٹ فارم سے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ عمران خان اپنی پارٹی کو خوش رکھنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا ہے تو نالائق قوم کو کس طرح متحد کرسکتا ہے؟۔