پشتون قیادت کیلئے آگے نہ آیا تو انجام گلستاں کیا ہوگا؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پاکستان میں سقوطِ ڈھاکہ کا دن سولہ (16)دسمبر سانحہ آرمی پبلک سکول میں تبدیل ہوگیا ہے۔ 2014ء میں 135بچوں سمیت150افراد کی شہادت بڑا سانحہ تھا۔ حالانکہ اس سے پہلے 16دسمبر 2006ء میں باجوڑ مدرسہ کے 80شہداء اوراس سے پہلے ڈھیلہ جنوبی وزیرستان میں ازبک کے مرکز کو چھوڑ کر مقامی قبائل کے کیمپ کو نشانہ بناکر کافی افراد کی شہادت کا سانحہ بھی گزر چکا تھا۔ وانا میں دو تحصیلدار وں کی المناک شہادت کا واقعہ بھی بڑا دل خراش تھا۔ کانیگرم کے مطیع اللہ جان شہید اور ملازئی کے ایک تحصیلدار کی شہادت اس طرح سے ہوئی تھی کہ ان کو قتل کرکے لاشیں مسخ کرکے کنویں میں ڈال دی گئیں۔ کئی روز بعد ان شہداء کو انکے گھروں میں جس حال میں پہنچایا گیا تو زمین بھی لرزگئی ہوگی اور عرش بھی لرزگیا ہوگا لیکن سخت جانوں کے دل میں کوئی جنبش نہیں آئی۔ مطیع اللہ جان برکی شہید کے چچا ڈاکٹرعبدالوہاب نے بتایا کہ ” جیو ٹی وی والے نے پوچھا کہ یہ کس نے کیا ہوگا؟۔ جس کا یہ جواب دیا کہ امریکہ نے گوانتا ناموبے کے جیل سے قیدی رہا کئے ہیں ان کیساتھ تو یہ سلوک نہیں کیا گیا، ہندوستان نے بنگلہ دیش میں پاکستان کے فوجی قید کرلئے تھے ان کے ساتھ بھی یہ سلوک روا نہیں رکھا گیا اسلئے یہ ہندوستان اور امریکہ والے تو ایسانہیں کرسکتے ہیں، مسلمان بھی ایسا نہیں کرسکتا ہے تو میں کیا کہہ سکتاہوں کہ کس نے یہ کیا ہے؟”۔ اگر اس وقت وزیر قوم ہمت کرکے دہشت گردوں سے انتقام لیتے تو جس طرح کا ظلم طالبان نے وزیر قوم کیساتھ روا رکھا ،اس کی نوبت نہیں آسکتی تھی۔ پھر وانا میں علی وزیر کے بھائی ، والد اور خاندان کے بہت سے افراد کو شہید کیا گیا لیکن وزیرقوم نے اٹھنے کی ہمت نہیں کی۔ کوٹکئی جنوبی وزیرستان میں ملک خاندان کا پورا کنبہ اُڑادیا گیا جس میں ایک حافظہ قرآن بچی بھی شامل تھی لیکن محسود قوم نے ہمت نہیں کی۔ وزیر اور محسود قوم کا ٹریک ریکارڈ یہ تھا کہ کبھی بھی اجتماعی ظلم کو موقع نہیں دیا اور نہ تاریخ میں ان کے ساتھ کبھی ظلم روا رکھا گیا ہے لیکن جب طالبان کے سامنے وہ سرنڈر ہو گئے تو کمزوری ، بزدلی اور بے غیرتی کے ریکارڈ توڑ دئیے۔ لیڈی ڈاکٹر کو ٹانک سے اغواء کرکے وزیرستان میں تاوان وصول کیا گیا۔
جب ہمارے گھر پر حملہ کرکے 13افراد کو شہید کیا گیا تو محسود قوم کے بڑے معافی کیلئے طالبان کیساتھ آگئے لیکن جب کانیگرم میں طالبان نے جرگے کی تاریخ دیدی تو طالبان نے پوری قوم کو یرغمال بناکر آنے سے روک دیا تھا۔ برکی دوست کو محسود دوست نے کہا کہ تم لوگ شیعہ کی طرح قوم پرست ہو، جب سے یہ واقعہ ہوا تو آپ لوگ طالبان سے نفرت کرنے لگے ہو، برکی دوست نے کہا کہ ہم تو ہیں شیعہ۔ جب عمران خان کی پختونخواہ میں حکومت تھی تو پنجاب کی پولیس کو دھمکی دیتا تھا کہ تمہارے گلو بٹو کو طالبان کے حوالے کردیں گے۔ عمران خان نے طالبان کو پشاور میں دفتر دینے کی پیشکش بھی کی تھی۔ طالبان نے جی ایچ کیو (GHQ)پر قبضہ کیا، ملتان آئی ایس آئی (ISI)کے دفتر کو اُڑادیا، کراچی میں ائرپورٹ اور فضائیہ کے جہاز تباہ کردئیے۔ پورے ملک کو تہس نہس کردیا اور ہمارے پشاور کے پختون اپنے بچوں کو آرمی پبلک سکول کی تعلیم دیکر فوج اور طالبان سے اظہار محبت اور اظہارِ یکجہتی کررہے تھے۔ سوات سے قبائل کے آخری سرحد وزیرستان تک سکولوں کے کھنڈرات کا کوئی احساس نہیں تھا۔ گھروں سے ایک ایک دو دو بچے کے جنازے بھی بڑی بات ہے لیکن جن کے خاندان سے کئی کئی بے گناہ افراد کے جنازے اٹھے تھے تو ان پر بھی ضمیر کو بیدار ہونا چاہیے تھا۔
آرمی پبلک سکول کے بچوں کے والدین اپنے بچوں کی طرح 2014ء سے پہلے کے مظالم پر بھی رونے کی زحمت کریں۔ صفوت غیور جیسے قابل افسر کی شہادت پر ان کیلئے نشانِ حیدر کے اعزاز کا مطالبہ کریں۔ جس بچے اعتزاز حسین نے باہنوں میں دبوچ کرخود کش کو سینے سے لگاتے ہوئے شہادت پائی اس کو شاباش دیں اور جو بشیر بلور اور ہارون بلور پشاوریوں کی جانوں کیلئے شہادت کی منزل پر پہنچیں ان کو بھی خراج تحسین پیش کریں۔ پاڑہ چنار کے اہل تشیع وزیرستان کے حملہ آوروں کو دست بازو سے نہ روکتے تو پارہ چنار بھی کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا ہوتا۔پی ٹی ایم (PTM)کی لال ٹوپیاں افغانستان کے ہزارہ برادری کی نشانی ہے جن کو طالبان نے بے دریغ قتل کیا تھا۔ جتنی تعداد میں افغانستان کے مہاجر پنجاب اور سندھ میں آباد ہیں انکے بدلے پی ٹی ایم (PTM) کے افراد افغانستان میں آباد ہوسکتے ہیں۔ جس طرح ہندوستان و پاکستان میں مہاجرین کا تبادلہ ہوا تھا اسی طرح افغانیوں اور پاکستانیوں کا بھی ہوسکتا ہے۔
پاک فوج نے کٹھ پتلی سیاستدان بنابناکر پاکستان کو تباہ کردیا ہے۔ اپنے کٹھ پتلیوں کا غصہ پی ڈی ایم (PDM)کی بجائے پی ٹی ایم (PTM)پر نکالنے کی غلطی انتہائی درجے کی حماقت ہے۔ جو پشتون پہاڑی علاقوں سے میدانی علاقوں میں آباد ہوئے ہیں ان کیلئے کوئی تعصبات کی فضاء بنائی گئی توپشتون قوم تباہ ہوجائے گی۔ ایک طرف نیٹو کے گماشتے افغانستان میں جنگ کیلئے تیار بیٹھے ہیں تو دوسری طرف تعصبات کی فضاء بناکر ان کو پہاڑوں میں دھکیلا گیا تو بہت برا ہوگا۔ انگریز کا پورا نظام اس خطے میں ناکام ہوچکا ہے اور اس کی جگہ اس اسلامی نظام کی ضرورت ہے جس میں حکومت کا کام قبضہ مافیا کا کردار ادا کرنا نہیں ہو۔ ادارے اقتدار پر قبضے کی جگہ اپنے اپنے دائرے میں کردار ادا کریں۔ مساجد، سکول ، مدرسہ ،تھانہ ،عدالت ، سول انتظامیہ اور فوج سے خدمت کا کام لیا جائے تاکہ لوگوں میں خوف اور غلامی کا احساس ختم ہوجائے۔
جب پوری قوم دہشت گردی کی پشت پناہی کررہی ہو اور میں کسی اور کی بات نہیں کرتا اپنے گھر کی بات کرتا ہوں تو پھر ریاست بھی اپنے دہشت گرد پالے گی اور ملک گرے لسٹ میں پہنچے گا۔ مولانا فضل الرحمن نے دہشت گردوں کو دجال کا لشکر تک قرار دیا لیکن دجالی میڈیا نے اس کو ہائی لائٹ نہیں کیا۔ ن لیگ اور عمران خان کو اپنی حکومت اور اپنی عزت بچانے کیلئے آرمی پبلک سکول کے بعد پاک فوج کو شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے کی پشت پناہی دی گئی ۔ نیشنل ایکشن پلان میں فوجی عدالتوں کو سزائیں دینے کی اجازت نہ ہوتی تو دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں تھا۔ قومی ایکشن پلان پر سیاستدانوں نے ایک اچھی فضاء بنتے ہی عمل کرنا تھا لیکن جب دہشت گردی کی فضاء ختم ہوگئی تو اپنے سارے کرتوت بھول کر پاک فوج ہی کو بدنام کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ جب تک اپنی پچھاڑی سے غلاظت صاف کرکے درست استنجاء نہیں کیا جائے تو کوئی قوم دوسروں کی امامت کبھی نہیں کرسکتی ہے۔ پشتونوںنے جب دہشت گردی اختیار کرلی تو سرکاری نمبرپلیٹ والی گاڑیاں اسلام آباد میں بھی پرائیویٹ نمبر لگانے پر مجبور تھیں۔ پھرپی ٹی ایم (PTM)نے جب پاک فوج کے خلاف اپنا بیانیہ پیش کرنا شروع کیا تو پنجاب کو بدل ڈالا ہے اور اب اگر شرافت ، انسانیت اور امامت کے صفات سے متصف ہوکر میدان میں نکل آئے تو پوری دنیا کو ظلم وجبر سے چھٹکارا دلانے میں زبردست کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ہماری پشتون قوم سے استدعا ہے کہ پنجاب اور پاک فوج کے خلاف تعصب کا نعرہ چھوڑ کر آگے آئیں اور پاکستان کی حکومت سنبھالیں۔ کشمیر بھی آپ نے فتح کیا تھا اور مینار پاکستان سے نئے انقلاب کی بنیاد بھی آپ رکھ سکتے ہیں۔ پاکستان کو بچانے کا وقت آگیا ہے اور پاکستان کو بچانا پشتونوں کے اپنے مفاد میں بھی ہے جتنی بھی کٹھ پتلی قیادتیں تھیں وہ سب کورٹ میرج والی بیٹیاں بن گئی ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button