سورۂ حج کی آیت (52) کی تفسیر پر یہ پورا شمارہ ہے مگر اس رکوع اور پہلے و بعد کے رکوع میں بھی معاملہ واضح ہے۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

جس رکوع میں سورۂ حج کی آیت(52)ہے وہ بھی اس آیت کے مفہوم کو واضح کرنے کیلئے کافی ہے ۔ اسی رکوع میں آیات(49، 50اور51)ہیں۔ فرمایا:
” کہہ دیجئے کہ اے لوگو! بیشک میں تمہارے لئے کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ پس جن لوگوں نے ایمان لایا اور اچھے عمل کئے تو ان کیلئے مغفرت ہے اور عزت کی روزی ہے۔ اور جن لوگوں نے کوشش کی کہ ہماری آیات کو مغلوب کریں تو یہی لوگ جحیم والے ہیں”۔ ان تینوں آیات میں جو مقدمہ ہے وہ اللہ کی طرف سے نبیۖ کو کھلم کھلا ڈرانے والا ہونا ہے۔ پھر ایمان و عمل صالح والوں کو مغفرت اور عزت کی روزی کا وعدہ ہے۔ پھر ان لوگوں کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کو شکست دینے کے درپے ہیں کہ یہ اصحاب جیحم ہیں۔
سورۂ نجم کی آیات اور القائے شیطانی کی یہاں کوئی گنجائش نہیں نکلتی ہے مگر اس کو زیرِ بحث لایا جائے تو جن کفارِ مکہ نے القائے شیطانی کا جھوٹا پروپیگنڈہ کیا تھا ،ان کا انجام بھی سامنے ہے اور جن لوگوں نے ایمان و صالح عمل کی راہ اپنائی تھی وہ تاریخ میں ایک روشن باب بن گئے۔ بے آب وگیاہ حجاز کے مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں سپر طاقت بناکر کہاں سے کہاں پہنچادیا تھا؟۔
اس مذکورہ رکوع سے پہلے والے رکوع میں اپنے علاقوں سے ظلم کیساتھ نکالے جانے والے مظلوموں کا ذکر ہے اور پھر مختلف قوموں میں ایکدوسرے کے خلاف مدافعت کا جذبہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے قوموں کی تقدیریں بدلنے کا ذکر ہے۔جس کی وجہ سے مختلف مذاہب کی عبادتگاہوں کی اللہ نے حفاظت کی ہے۔ پھر ان اچھے لوگوں کا ذکر ہے کہ اگر ان کو ٹھکانہ مل جائے تو نماز قائم کرنے اور زکوٰة ادا کرنے کا فریضہ ادا کریں اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فرض پورا کریں۔ پھر اللہ نے فرمایا ہے کہ”( اے نبی!) اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلارہے ہیں تو آپ سے پہلے قوم نوح ، عاد اور ثمود نے بھی ایسا کیا۔ اور قوم ابراھیم وقوم لوط اور اصحاب مدین نے بھی ایسا کیا۔ اور موسیٰ کو بھی جھٹلایاگیا لیکن پہلے میں نے کفار کو مہلت دی اوران کو پکڑ لیا۔تو پھرکیسی تھی عقوبت؟۔ پھر کتنی بستیاں تھیں جن کو ہم نے ہلاک کر ڈالا، پھر وہ اپنے تختوں پرتلپٹ پڑی ہوئی تھیں اور ویران کنویں اور عالی شان بنگلے ۔ کیا وہ زمین میں سیر نہیں کرتے؟۔ تاکہ ان کے دل ہوں جس سے وہ سمجھ پائیں اور انکے کان ہوں جس سے وہ سن سکیں۔ لیکن بیشک آنکھوں کی بصارت اندھی نہیں ہوتی مگر وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہوتے ہیں اور یہ آپ سے عذاب کی جلدی چاہتے ہیں اور اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے۔ اور بیشک ایک دن تیرے رب کے پاس ہزار دنوں کے برابر ہے جو تمہارے شمار کے برابر ہیں اور کتنی بستیاں تھیں جن کو میں نے مہلت دی اور وہ ظالمہ تھی پھر میں نے اس کو پکڑ لیا اور میری طرف ٹھکانہ ہے ”۔
انبیاء کرام کی قوموں نے بہت جلدعذاب کا مشاہدہ دیکھ لیا اور مشرکین مکہ نے بھی بہت جلد اپنے انجام کی خبر پالی۔ رسول اللہۖ رحمت للعالمین تھے اس لئے آپ کے خلفاء عظام نے بہت جلد دنیا کی سپر طاقتوں کو بھی شکست دی تھی۔ سورۂ حج کی آیت(52)سے پہلے والے رکوع کے بعد جس پسِ منظر میں یہ آیت نازل ہوئی ہے وہ ایک ہزار سال بعد دیکھنے کی ضرورت ہے۔ نبیۖ کی تمنا کیا تھی اور آپ سے پہلے کے انبیاء ورسولوں کی تمناؤں کیساتھ بعد کے ناخلفوں نے کیا سلوک کیا؟۔ اس میں القائے شیطانی کے تصورات کیا تھے اور ہمارے قرآن کیساتھ کیا ہوا؟۔ اور ہم اس القائے شیطانی کے کیسے شکارہوئے اور اللہ نے ہمارے لئے بچاؤ کے کیسے راستے پیدا کئے ہیں؟۔نبیۖ کی یہ بھی تمنا تھی کہ بیت المقدس کے بجائے خانہ کعبہ البیت العتیق کی طرف نماز میں رخ کیا جائے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا تھا۔ نبیۖ کی ایک تمنا یہ بھی تھی کہ لوگ ایک ساتھ تین طلاق میں حلالہ کی لعنت سے بچ جائیں اور اللہ نے اس کا بھی بندوبست کیا تھا۔ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دیگر انبیاء کرام کی قوموں نے اپنی اپنی شریعتوں کو مسخ کرکے رکھ دیا اور اس میں القائے شیطانی کا بڑا عمل دخل تھا تو ہمارے ساتھ بھی وقت گزرنے کیساتھ ساتھ یہی کچھ ہوا ہے۔
ہم قرآن کی محکم آیات کی روشنی میں ان لوگوں کو شکست دے سکتے ہیں جن کے دل ودماغ پر القائے شیطانی نے دین کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ مؤمن القائے شیطانی کے مقابلے میں محکم آیات کو مان لیں گے۔

NAWISHTA E DIWAR March Ilmi Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

جواب دیں

Back to top button