سورۂ نجم کے حوالے سے القائے شیطانی کااصل جھگڑا کیا ہے؟

مولانا مودودی اور دیگر مفسرین میں عقل وعلم کا کیا فرق تھا اورسورۂ حج میں سورۂ نجم کے حوالے سے القائے شیطانی کااصل جھگڑا کیا ہے؟، آج جماعت اسلامی اور تمام مدارس کے علماء کرام کا فرض ہے کہ مل بیٹھ کر معاملات حل کریں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مودودی کی عقل تیز اور حق پرست انسان تھے مگر علم کمزور تھااور مدارس کے علماء ومفتیان کے ہاں علم تھا مگر عقلی صلاحیتوں سے بالکل محروم ،پیدل اور تقلیدی روش کے انتہائی درجہ پابندتھے!

اگر امت مسلمہ نے اپنی موٹی موٹی غلطیوں کی اصلاح کرکے قرآن کی طرف رجوع نہیں کیا تو پھر ہم بڑے عذاب سے بھی دوچار ہوسکتے ہیںلمحوں نے خطا کی ہے صدیوں نے سزا پائی!

ہندوستان میں قومی اسمبلی کی ایک ہندو خاتون کہہ رہی تھی جس کا تعلق بھی اپوزیشن سے تھا کہ ایک ساتھ تین طلاق پر مسلمانوں کو سزا دینے کا قانون اسلام کے منافی ہے۔ اس سے میاں بیوی کے درمیان دشمنی مزید پکی ہوجائے گی اور قرآن میں جو طلاق کے بعد عدت و رجوع کے اعلیٰ وارفع قوانین موجود ہیں وہ صرف دیکھ لئے جائیں وہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہندو، عیسائی اور دنیا بھر کے غیرمسلموں کیلئے بھی طلاق ،رجوع اور عدت کے حوالے سے یہ قابلِ قبول ہیں بلکہ زبردست اور بہترین ہیں ،ان کو دنیا کا کوئی انسان مسترد نہیں کرسکتا ہے۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ پاکستان بلد طیب مکہ اور مدینہ کی طرح ہے لیکن یہاں پر ابوجہل، ابولہب اور رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے کردار کے لوگ ریاست، حکومت، اپوزیشن، قوی سیاسی و مذہبی جماعتوں اورفرقہ پرستوں وقوم پرستوں کی شکل میں مخلص اور اچھے لوگوں پر مسلط کئے گئے ہیں۔ چن چن کر گندے اور ناپاک لوگوں کو بااختیار اور ذمہ دار جگہوں پر تعینات کیا جاتا ہے۔الا ماشاء اللہ
مجھے تو یہ خطرہ لاحق ہوگیاہے کہ کہیںہندوستان کے ہندو مسلمان بن کر اسلام نافذنہ کردیں اور پھر پاکستان کو فتح کرکے یہاں بھی اسلام نافذ کردیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی و موجودہ قبلہ ایاز صاحب اسلام کے نام پر روٹی اور بسکٹ توڑنے کیلئے بیٹھے ہیں۔ ان سے وہ ہندو خاتون لاکھ درجے بہتر ہے جو دنیا کو قرآن کی فطری طلاق کو قانون بنانے کا کہہ رہی تھی۔ ہمارا اسلام عقل، علم ، غیرت، حیاء ، شرم اور منطق سے عاری ہے۔
رسول اللہ ۖ کی تمنا تھی کہ بیت المقدس کی جگہ خانہ کعبہ کو مسلمانوں کا قبلہ بنایا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے آپۖ کی یہ آرزو بالکل پوری کردی اور ساتھ میں یہ بھی واضح کردیا کہ ” نیکی یہ نہیں ہے کہ مشرق یا مغرب کی طرف رُخ پھیرو، بلکہ نیکی یہ ہے کہ جو اللہ سے ڈر گیا”۔ حضرت امام حسین کو اپنے کنبہ اور ساتھیوں کے ساتھ شہید کرنے والے یزیدی لشکر نے سمجھ لیا تھا کہ مسلمان پہلے گمراہ تھے اسلئے وہ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے اور پھر راہِ ہدایت پر آگئے اسلئے قبلہ بدل دیا لیکن اللہ نے کہا کہ نیکی کا مدار تقوی پر ہے ،مشرق یا مغرب کی جانب اپنا رُخ پھیرنا نہیں ہے۔ یزیدی لشکر سمجھ رہاتھا کہ ہم قبلہ رُخ ہوکر نماز پڑھتے ہیں یہ نیکی ہے، باقی رسول خداۖ کے کنبے کو شہید کرنے سے اسلام پر اثر نہیں پڑتا ۔ رسول اللہۖ کی تمنا یہ نہیں تھی کہ اہل قبلہ ظالم اور مظلوم ایک ہوجائیں گے بلکہ دنیا سے ظالمانہ نظام ختم کرنا مقصد تھا اور مسلمانوں نے القائے شیطانی سے سمجھ لیا ہے کہ اہل قبلہ ظلم، منافقت اور خناس ہونے کی آخری حد پار کرے تو بھی اس کی ماں کا شوہر اور وہ اس کا سوتیلا یا حقیقی بیٹاہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ نہیں!، نہیں!،ہرگز نہیں!، اصلی وسوتیلے باپ کا ظالم ہونا الگ بات ہے لیکن اہل قبلہ کا یہ مسئلہ نہیں ہے۔ جس کے اندر کردار ہوگا نیکی ہوگی وہی اچھا ہے، قبلے سے کوئی فرق پڑتا تو جب ابوجہل وابولہب کا قبلہ خانہ کعبہ تھا تو رسول خداۖ کا قبلہ اس وقت بیت المقدس تھا۔ اہل قبلہ کے نام پر دھوکہ دہی کی گنجائش بالکل بھی نہیں۔
جس طرح رسولِ خداۖ کی تمنا قبلہ بدلنے کی تھی اور اللہ نے اس آرزو کو پورا کردیا، اسی طرح رسول اللہۖ کی ایک تمنا یہ بھی تھی کہ عورت کیساتھ بہت زیادہ ظلم ہوتا ہے، اس ظلم کا خاتمہ ہو۔ ایک ساتھ تین طلاق پر حلالہ کی لعنت اور بار بار مرد کو رجوع کا حق وغیرہ بڑا ظالمانہ نظام ہے اور اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولۖ کی اس تمنا کو بھی بھرپور طریقے سے پوراکردیا مگر القائے شیطانی نے وہ گل کھلائے ہیں کہ آج مسلمان قرآن کو چھوڑ کر اس شیطانی مہم جوئی کے دریائے مُردار میں غوطے کھا رہے ہیں۔
حضرت امام حسن نے اپنا اقتدار امیرمعاویہ کے حوالے کرتے ہوئے جن شرائط کو پیش کیا تھا،ان میں بنیادی باتیں دین کی پاسداری اور تحفظ کا معاملہ تھا۔ حضرت امام حسین نے بھی مدینہ سے کوفہ جانے کا عزم اسلئے کیا تھا کہ اسلام کے احکام پر القائے شیطانی کے غلبے کا خطرہ تھا۔ رسول اللہۖ کے ساتھیوں نے حبشہ ہجرت کی تو اس وقت سورۂ نجم کے حوالے سے مشرکینِ مکہ نے شیطانی القا کا جھوٹا پروپیگنڈہ کیا تھا جس کی وجہ سے حبشہ ہجرت کرنے والے غلط فہمیوں کا شکار ہوئے تھے۔ پھر رسول اللہۖ کو اللہ تعالیٰ نے مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔ جب انگریز ہندوستان کوچھوڑ کر جارہاتھا تومسلمانوں نے اپنے دین کو تحفظ دینے کیلئے پاکستان بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ آج ہندوستان کے پنجاب میں جوان لڑکیوں اور جوان لڑکوں کے درمیان جس طرح سے کشتی ہوتی ہے ،اگر پاکستان نہ بنتا اور جنرل ضیاء الحق کوشش نہ کرتے تو حقوق کی جنگ لڑنے والی عورت آزادی آٹھ مارچ پر ” میرا جسم میری مرضی”کے غلط الزام بھی نہیں لگ سکتے تھے جس میں جبری جنسی تشدد کیخلاف آواز اُٹھائی جاتی ہے۔
سید مودودی نے اپنی عقل اور دینی غیرت کو بروئے کار لاکر سورۂ حج کی آیت کی تفسیر میںنہ صرف اکثر مفسرین کی طرف سے اس کی تردید کی تصدیق کی ہے بلکہ ان کی تردید کو ناکافی قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ” اگر اس کی سند صحیح ہوتی تو پھر اس شیطانی قصے کو مان لیا جاتا؟۔ اور محض اس وجہ سے اس کا انکار کرنا کہ اگر یہ مان لیا جائے تو پھر دین کا سارا معاملہ مشکوک ہوجائے گا۔ان لوگوں کیلئے تو فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے جو ایمان کیلئے پر عزم ہوں مگر ان کیلئے یہ فائدہ نہیں کہ جو دین کے منکر ہیں یا پھر تحقیق کرکے راہِ حق کے متلاشی ہیں۔ وہ کیوں اس عذر کو قبول کریںگے کہ یہ قصہ مان لیا تو دین پر اس کا منفی اثر پڑے گا۔ وہ تو کہیں گے کہ اگر تمہارے دین پر کوئی اثر پڑتا ہے تو بھلے پڑے ،ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔ ہم تمہارے دین کے غلط معاملات کے محافظ نہیں ہیں۔
مولانا مودودی نے جن اکابر مفسرین کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے دو باتیں کی ہیں ۔ایک یہ کہ اگر اس قصے کی سند صحیح ہوتی تو یہ اکابر مان لیتے؟۔ محض اس وجہ سے انکار کیا ہے کہ اس کی سند ان کے نزدیک درست نہیں ہے۔ پھر ان پر دوسرے لمحے میں سانپ کی طرح پلٹ کر یہ وار کردیا ہے کہ ا کابر مفسرین نے انکار کی وجہ یہ بتائی ہے کہ اگر ہم نے اس کو مان لیا توسارے دین پراس کا بہت برا اثر پڑے گا اور ان کی اس بات سے ایمان کیلئے پرعزم لوگ مطمئن ہوجائیں گے لیکن کفار اور تحقیق کرکے حق تک پہنچنے والے اس سے مطمئن نہ ہوںگے۔
مولانا مودودی کی اپنی باتوں اور الزام میں بہت بڑا تضاد اور غلط بیانی ہے اور اس کی وجہ کوئی سازش نہیں بلکہ وہ کم عقلی ہے جس پر بھروسہ کرکے وہ دین کی خدمت کرنا چاہتے تھے۔ اگر اکابر کے ہاں اس قصے کی سند صحیح ہوتی تو پھر مان لیتے اور یہی دیانتداری کا تقاضہ بھی ہوتا۔ دین میں لوگ عقل نہیں روایت کے تابع ہوتے ہیں۔ رسول اللہۖ کو مذہبی اقوال کے ذریعے یہ روایت پہنچی تھی کہ ”اگر شوہر اپنی بیوی کو اپنی ماں کی طرح حرام قرار دے تو وہ حرام ہوجاتی ہے اور نبیۖ نے اس روایت پر بھروسہ کرتے ہوئے ایک خاتون کو مذہبی فتویٰ دینے پر اصرار بھی فرمایا لیکن اس خاتون کو اپنا حال اور مستقبل اس مذہبی فتوے میں تاریک نظر آرہا تھا اسلئے وہ نبیۖ کیساتھ اپنے حق کیلئے مسلسل الجھ گئی تھی ۔ اس مجادلہ کے دوران اللہ تعالیٰ نے سورۂ مجادلہ کے ذریعے سے عورت کے حق میں وحی نازل فرمائی اور اس مذہبی روایتی فتوے کی بہت زبردست الفاظ میں تردید فرمادی ہے۔ سورۂ مجادلہ کے علاوہ سورۂ احزاب کی آیات بھی دیکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے کہ اس وقت کفار اور منافقین کی کیفیت کیا تھی۔ جس میں اللہ نے حکم دیا کہ ” اے نبی! اللہ سے ڈرو،اور اتباع مت کرو کافرین ومنافقین کی ۔ جو اللہ نے آپ پر احکام نازل کئے ہیں اسی کی اتباع کریں …………..”۔
دین کا تقاضہ یہی ہوتا ہے کہ عقل سے زیادہ روایت پسندی پر بھروسہ کیا جاتا ہے۔ اکابر مفسرین نے بہت دیانتداری کیساتھ جب یہ دیکھ لیا کہ اس قصے کی سند میں کوئی جان نہیں ہے تو اس کو مسترد کردیا۔ اگر مولانا مودودی نے دیوبند کے رسالے میں ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کرنے کے بجائے درسِ نظامی کی تعلیم بھی اساتذہ کرام سے حاصل کی ہوتی تو پھر روایت کی سند کی قیمت کا بھی اس کو پتہ چل جاتا۔ درسِ نظامی کے تعلیمی بورڈ میں شامل نصاب کی کتابوں میں قرآن کی جو تعریف پڑھائی جاتی ہے اس اصولِ فقہ میں قرآن کریم کے حوالے سے ایسی آیات ہیں جو متواتر نہ ہونے کی وجہ سے قرآن کی غیرمتواتر آیات سمجھی جاتی ہیں اور ان میں خبر احاد اور خبر مشہور کی آیات شامل ہیں۔ حنفی فقہاء کے نزدیک خبراحاد کی آیات معتبر ہیں لیکن امام شافعی کے نزدیک خبر احاد کی آیات پر بھروسہ کرنا ہی دین میں تحریف اور بہت بڑا کفر ہے۔ امام شافعی کے نزدیک خبر واحد کی حدیث معتبر ہے لیکن آیت معتبر نہیں ۔ جبکہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک خبرواحد کی آیت بھی معتبر ہے لیکن حدیث معتبر نہیں ہے۔
دین کا سارا ڈھانچہ عوام اور خواص میں جاہلانہ اور منافقانہ روش کا شکار ہے مگردین کے نام پر اپنے مفادات اُٹھانے والے حقائق کی طرف توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ حضرت امام شافعی نے سورۂ نجم کے حوالے سے القائے شیطانی کے غلط پروپیگنڈے کی طرح ان تمام خبرواحد اور مشہور آیات کو بھی القائے شیطانی ہی قرار دیا تھا جو صحابہ کرام کے مختلف مصاحف کی طرف منسوب تھیں۔ اگر ان کو بھی آیات مان لیا جاتا تو پھر قرآن کے تحفظ پر ایمان باقی نہیں رہتا تھا۔ عالمِ حق کا کردار ادا کرنے کا یہ صلہ امام شافعی کو دیا گیا تھا کہ ان پر رافضی ہونے کی تہمت لگادی گئی تھی۔ حالانکہ آج بھی انہی کا نظریہ، عقیدہ اور عالمِ حق کردار اسلام اور ایمان کی درست ضمانت ہے۔ اصولِ فقہ میں ان کا مؤقف بھی پڑھایا جاتاہے اور حنفی مؤقف بھی پڑھایا جاتاہے۔ مثلاًحنفی مسلک یہ ہے کہ قرآن میں کفارے کے روزے میں تسلسل کا ذکر نہیں ہے لیکن خبرواحد کی آیت میں ہے اسلئے حنفی مذہب میں تین روزے کا تسلسل بھی ضروری ہے لیکن امام شافعی کے نزدیک خبر واحد کی آیت معتبر نہیں ہے اسلئے کفارے میں روزے کا تسلسل نہیں ہے۔
مولانا مودودی کے پاس عقل تھی مگر علم نہیں تھا اسلئے تجدیدواحیائے دین کی محنت میں کامیابی حاصل کرنے کے بجائے اپنے ناقص علم سے مزید گمراہی کا عوام کو شکار کردیا ہے۔ علماء نے تقلیدی ذہنیت کی وجہ سے اپنی صلاحیتوں کو ختم کیا ہے اور مدارس کو احیائے اسلام کے بجائے دین وایمان کا کباڑ خانہ بناکر رکھ دیا ہے۔ ہمارے اندر اپنی جانوں سے زیادہ دین اور ایمان کے تحفظ کا جذبہ نہ ہوتو پھر ہم کس بات کے مسلمان ہیں؟۔ ہمیں کوئی قتل کرنا چاہتا ہے تو اپنا شوق ضرور پورا کرلے لیکن یزید یت حسینیت کا دعویٰ کرے تو یہ بہت بڑی منافقت ہے۔

NAWISHTA E DIWAR March Ilmi Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

جواب دیں

Back to top button