سورہ محمد میں دور اول کے مسلمانوں کے بعد بنی اُمیہ کی حکومت کا واضح ذکر

سورۂ محمد میں اللہ نے جو نقشہ کھینچا ہے اس میں دورِ اوّل کے مسلمانوں کے بعد بنی امیہ اور بعد میں آنے والوں کو حکومت دیکر آزمائش سے لیکر موجودہ دور تک دنیا اور آخرت کی کامیابی و ناکامی کے معاملات کا واضح ذکر کیا ہے! سید عتیق لرحمن گیلانی

(الذین کفرواوصدّوا عن سبیل اللہ اضل اعمالہمO والذین اٰمنوا و عملوا الصّٰلحٰت واٰمنوا بما نزّل علی محمد وھوالحق من ربھم کفر عنھم سیآٰتھم واصلح بالھمOذٰ لک بان الذین کفروا اتبعوالباطل وان الذین اٰمنوا اتبعواالحق من ربھم کذالک یضرب اللہ للناس امثالمھمOمحمد)

” جن لوگوں نے کفر کیااور اللہ کی راہ سے روکا ،انکے اعمال گمراہی ہیں اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اعمال کئے اور ایمان لائے اس پر جو محمد(ۖ) پر نازل ہوا اور وہ حق ہے انکے رب کی طرف سے انکے گناہوں کو ان سے دور کردیا اور ان کی حالت کو درست کردیا۔ یہ اسلئے کہ جنہوں نے کفر کیا انہوں نے باطل کی اتباع کی اور جو ایمان لائے انہوں نے حق کی اتباع کی اپنے رب کی طرف سے۔ اسی طرح اللہ لوگوں کیلئے ان کی مثالیں بیان کرتا ہے”(سورہ ٔ محمد)

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہے کہ اہل حق کی حالت اللہ نے ہمیشہ اچھی کردی ہے۔ ان کے گناہوں کو ان سے ہٹادیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نہ صرف ایمان لائے ،عمل صالح کئے بلکہ حق کا بھی بھرپور ساتھ دیا ہے۔ صحابہ کرام کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ سورۂ محمد کے بعد قرآن میں سورۂ فتح ہے جس میں اللہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا ذکر کیا ہے اور ساتھ اس وقت کے منافقین کا بھی ذکر کیا ہے اور مفت خور اعرابیوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ جو قربانی دینے کیلئے تیار نہیں ہوتے تھے لیکن خوشحالی میں شرکت کا خود کو مستحق سمجھتے تھے۔ کفار کے مقابلے میں اللہ نے مسلمانوں کا حال کتنازبردست اچھا کردیا تھا؟۔

(ومنھم من یستمع الیک حتی اذا خرجوا من عندک قالوا للذین اوتوالعلم ماذا قال اٰنفًا اُلئک الذین طبع اللہ علی قلوبھم و اتبعوا اھواء ھم O والذین اھتدوا زادھم تقوٰھم Oفھل ینظرون الا الساعة ان تأتیھم بغتةً فقد جاء اشراطھا فانّٰی لھم اذا جاء تھم ذکرٰھمOفاعلم انہ لاالہ الا اللہ واستغرلذنبک و للمؤ منین والمؤمنات واللہ یعلم متقلبکم ومثوٰکمO سورۂ محمد )

”اور ان میں سے وہ بھی ہیں جو آپ کو سننے کیلئے متوجہ رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب آپ کے پاس سے وہ لوگ نکلتے ہیں تو ان میں اہل علم سے پوچھتے ہیں کہ ابھی ابھی کیا کہا ہے؟۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی اور انہوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی۔ اور جنہوں نے ہدایت حاصل کی ،ہم نے ان کی ہدایت کو مزید بڑھادیا۔ تو کیا یہ اس گھڑی کا انتظار کررہے ہیں کہ اچانک آئے گی؟۔ بیشک اس کی نشانیاں آچکی ہیں۔ پھر جب وہ آجائے گی تو ان کو نصیحت کا کیا فائدہ؟۔ پس جان لو! کہ بیشک اللہ کے سواء کوئی الٰہ نہیں ۔اور اپنے بوجھ کیلئے اللہ سے استغفار کرو اور مؤمنین اور مؤمنات کیلئے بھی۔ اور اللہ جانتا ہے تمہاری قبولیت اورتمہارے ٹھکانے کو جانتا ہے”۔

کفارکو دلچسپی تھی کہ قرآن کے احکام کیا نازل ہو رہے ہیں ۔ مسلمانوں کیلئے قتال اور پھر فتح کا دن کب آئے گا؟۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور منافقوں کو آزمانا بھی تھا تاکہ یہ عذر باقی نہیں رہے کہ کس کو موقع ملا یا نہیں ملاتھا۔ کفارکے دلوں پر مہریں لگ گئیں اور مسلمانوں کی ہدایت میں اضافہ ہوتا چلا گیا تھا۔

(ویقول الذین امنوالولا نزلة سورة فاذااُنزلت سورة محمکة و ذکر فیھا قتال رأیت الذین فی قلوبھم مرض ینظرون الیک نظر المغشیّ علیہ من الموت فاولیٰ لھمO طاعة وقول معروف فاذا عزم الامر فلو صدقوا اللہ لکان خیرلھمO سورۂ محمد)

”اور ایمان والے کہتے کہ کاش کوئی سورة نازل ہو اور جب محکم سورة نازل ہوتی ہے اور اس میں قتال کا ذکر ہوتا ہے تو آپ دیکھ لیںگے کہ جن کے دلوں میں مرض ہے وہ آپ کو ایسی نظر سے دیکھ رہے ہیں کہ ان پر موت طاری ہے۔ پس یہی ان کیلئے مناسب بھی ہے۔ ( اللہ کا قانون یہ ہے کہ ) اطاعت اور معروف قول۔ (اللہ کے احکام اور رسول اللہ ۖ کی فرمانبرداری) جب اولی الامر کسی بات کا عزم کرے۔اگر اللہ کی تصدیق کرتے تو یہ ان کیلئے بہتر ہوتا”۔

مسلمانوں اور کفار میں یہی فرق تھا کہ مسلمان چاہتے تھے کہ قرآن کی سورتوں کا نزول جاری رہے اور وہ کفار جن کے دلوں میں مرض تھا ،وہ اس مصیبت میں رہتے تھے کہ کب ان کی گوشمالی کیلئے کیا حکم نازل ہو۔ جب کوئی محکم سورة نازل ہوجاتی اور اس میں قتال کا بھی ذکر ہوتا تھا تو ان پر موت کے خوف کی کیفیت طاری ہوتی تھی۔ کفارِمکہ کی صلح حدیبیہ سے پہلے اور صلح حدیبیہ کے بعد یہی کیفیت جاری رہی تھی۔

جب اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کے بعد خلفاء راشدین کو خلافت کا موقع دیا تو انہوں نے عدل وانصاف قائم کیا اور کسی پر ظلم وزیادتی نہیں کی۔ حضرت عثمان مدینہ میں شہید ہوگئے اور حضرت علی نے کوفہ میں شہادت پائی۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ جب بنی امیہ کی ظالمانہ حکومت قائم ہوگئی۔ مروان بن حکم نے مدینہ میں صحابہ کرام پر مظالم کے پہاڑ توڑے تھے۔ حجاز مقدس میں اپنے اقتدار کی خاطربڑے مظالم کئے۔ حضرت حسن کی طرف سے حضرت معاویہ کے حق میں دستبرداری خوش آئند تھی مگر بنواُمیہ نے جس طرح کے مظالم صحابہ کرام اور اہلبیت پر روارکھے تھے یہ بالکل غلط تھا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکمO)” پس تم نافرمانی کروگے ،اگر تمہیں اقتدار مل جائے یہ کہ تم زمین میں فساد پھیلاؤ گے اور قطع رحمی کے مرتکب بنوگے”۔ (سورۂ محمد آیت22)

حضرت حسین ابن علی اور حضرت عبداللہ بن زبیر کی المناک شہادتوں سے لیکر کیا نہیں کیا گیا؟۔ کیا یہ فساد اور قطعہ رحمی کا مظاہرہ نہیں تھا؟۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی حکومت قائم ہونے کے بعد منبر ومحراب سے حضرت علی پر سب وشتم اور لعن طعن کے خاتمے کا حکم جاری ہوا۔ یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ قرآن میں جن لوگوں کا بالکل واضح حال بیان ہوا ہے ، ایک عرصہ تک اس کی درست تفسیر اور تعبیر پر بھی پابندی تھی کہ مسلمانوں پر فرعون وہامان اور نمرود وشداد کی آیات فٹ کی جاسکتی ہیں؟۔ نماز میں بسم اللہ تک جہری پڑھنے پر پابندی لگائی گئی تھی اور آج قرآن کی غلط تعبیر وتفسیر میں کئی لوگ اپنے نصاب کی گمراہی کو سمجھنے کے باجود جانتے بوجھتے اعراض کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے سورۂ محمد میں مزید فرمایاکہ ” یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے ،پس ان کو بہرہ بنادیا ہے اور ان کی بینائی کو اندھا کررکھا ہے۔ تو کیا یہ قرآن پر تدبر نہیں کرتے ہیں یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہیں۔ بیشک جو لوگ مرتد ہوگئے اپنے پیٹھ پیچھے اس کے بعد کہ ان کیلئے ہدایت واضح ہوگئی ، شیطان نے ان کو شکنجے میں لیا ہے اوران کو اُمید دلا دی ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے ان لوگوں سے کہہ رکھا ہے جو اللہ کے نازل کردہ دین کو ناپسند کرتے ہیں کہ عنقریب بعض چیزوں میں تمہاری ہم اطاعت کرینگے اور اللہ ان کے خفیہ رازوں سے واقف ہے۔ پھر کیسے ہوگا جب ملائکہ ان کی روح قبض کرتے ہوئے ان کے چہروں پر ماریںگے اور انکے پشت پر ۔ یہ اسلئے کہ انہوں نے اتباع کی جس سے اللہ ناراض ہوتا ہے اور اس کی رضاجوئی سے نفرت کی تو اللہ نے ان کے اعمال کو ضائع کردیا۔ کیا گمان رکھتے ہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے کہ ان کے کھوٹ کو باہر نہیں نکالے گا؟۔ اگر ہم چاہیں تو آپ کو ان کی پیشانیوں سے پہچان کرادیں اورآپ ضرور ان کی بات کے انداز سے ان کو پہچان لیں گے اور اللہ تمہارے اعمال کو جانتا ہے اور ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے تاکہ یہاں تک کہ ہم تم میں سے مجاہدین اور صابرین کو جان لیں۔ اور خبریں ہم نے تمہارے بارے میں دی ہیں تاکہ اس کی آزمائش کریں۔ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور انہوں نے اللہ کی راہ سے روکا اور رسول سے جھگڑا کیا ، اس کے بعد کہ ہدایت ان کے سامنے واضح ہوگئی تو اللہ کو کوئی ضرر نہیں پہنچارہے ہیں اور عنقریب اللہ ان کے اعمال کو ضائع کردے گا۔ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو،اپنے اعمال کو باطل مت کرو۔ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا ، پھر مرگئے اور وہ کفار تھے تو اللہ ان کی مغفرت نہیں کرے گا۔ پس تم اپنی پستی مت سمجھو اور صلح کی دعوت دو، اور تم ہی اُونچے ہو اور اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ اور تمہارے اعمال کو رائیگاں نہ چھوڑے گا۔ بیشک دنیا کی زندگی تو کھیل اور تماشا ہے۔ اور اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگار بنو تو دے گا تمہارا بدلہ۔ اور تم سے تمہارے اموال نہیں مانگے گا۔ اور اگر وہ تم سے وہ مانگ لے تو تمہیں ننگے پاؤں کردے گا تم بخل کروگے اور تمہارے کھوٹ کو باہر ظاہر کردے گا۔ دیکھو یہ تم ہو کہ تمہیں دعوت دی جارہی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ تمہارے اندر وہ بھی ہیں جو بخل کرتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے تو وہ اپنے نفس کیلئے بخل کرتا ہے اور اللہ غنی ہے اور تم محتاج ہو۔ اور اگر تم منہ موڑوگے تو اللہ کسی اور قوم کو تمہاری جگہ بدلے گا اور پھر وہ تمہارے جیسے نہیں ہوں گے” ۔ سورۂ محمد آیت تیئس (23)سے آخر تک

بنوامیہ نے بہت زیادتیاں کیں تو بنوعباس نے ان کی جگہ لی اور بنوعباس نے نااہلی کا مظاہرہ کیا تو چنگیزخان کی اولاد نے ان کا قلع قمع کردیا۔ پھر سلطنت عثمانیہ قائم ہو ئی اور ان کا بھی خاتمہ ہوا۔ اسی طرح فاطمی سلطنت، مغل بادشاہ اور عرب بادشاہتوں کا سلسلہ اور پاکستان میں ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء الحق، بینظیر بھٹو، نوازشریف، پرویزمشرف کے بعد پھر زرداری اور نوازشریف اور اب عمران خان تک بات پہنچی ہے۔ ایران اور افغانستان میں بھی حکومتیں بدلتی رہی ہیں۔ ایک سپر طاقت روس کا خاتمہ ہوا اور امریکہ نے افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کی اینٹ سے اینٹ بجادی ہے۔ برطانیہ کا اقتدار سمٹ گیا تھا۔ جرمنی اور جاپان نے بھی سپر طاقت کا مزہ چکھا تھا اورفرانس کی بھی بہت کالونیاں رہی ہیں۔

اسرائیل بھی عالمی طاقت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ بھارت ہندو کی آزاد ریاست ہے۔ بنگالی بھی پاکستان سے آزادی حاصل کرچکے ہیں اور دنیا میں مختلف لوگوں کی حکومت اور اقتدار کا سلسلہ جاری ہے۔ ترکی بھی اقتدار کے مختلف معاملات دیکھ چکا ہے۔ جب تک مسلمان قرآن کی طرف توجہ نہیں کرینگے تو ان کی تنزلی کا سلسلہ کبھی نہیں رُک سکتا ہے۔ اسماعیل ساگر نے مولانا فضل الرحمن کے انٹرویو پر بہت سخت ردِ عمل دیا جس میںڈاکٹر دانش کے سوال پر یہ جواب دیا ہے کہ ” امریکہ میں جوبائیڈن کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے ہے اور اس پارٹی کی تاریخ یہ ہے کہ جمہوریت کو سپورٹ کرتی ہے اسلئے پاکستان میں جمہوریت کو سپورٹ مل سکتی ہے”۔ لیکن مولانا فضل الرحمن پر سنگین غداری کے مقدمات چلانے کا مطالبہ کرنے والے طارق اسماعیل ساگر نے ریپبلکن پارٹی کے صدر جارج بش کے دور میں بلیک واٹر کے کردار پر یہاں چپ سادھ لی تھی۔ ایک فوجی کا دماغ یہی ہے کہ جس کی بات سمجھ میں نہ آئے تو اس کو دیوار میں چن دو۔ یہ بہت اچھا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض حمید ذمہ دار عہدوں پر ہیں جو اشتعال میں نہیں آتے ہیں۔ پاکستان کسی قسم کی افراتفری کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔

ایک پرامن فضاء قائم ہوئی ہے جس میں فوج کی موجودہ قیادت کا بہت بڑا اہم کردار ہے۔بلیک واٹر کے شرمناک کردار سے ہمیں نجات ملی ہے ، اپنی شدت پسند تنظیموں کا بھی ہم نے خمیازہ بھگت لیا ہے اور اب پاکستان کی تعمیر کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اچھے لوگوں کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور برے لوگوں کو اقتدار بھی دیتا ہے لیکن مشکلات کے اوقات بدلتے رہتے ہیں۔

بہت لوگوں نے اقتدار اور اچھے دنوں کے خواب دیکھ لئے اور اللہ نے ان کو اقتدار دیا بھی لیکن اُمت کی آزمائش میں مزید اضافہ ہوتا چلاگیا ہے۔ پاکستان کی ریاست اب مزید کم عقلوں، مفادپرستوں اور نااہلوں کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں لگ رہی ہے۔

NAWISHTA E DIWAR Feburary Newspaper 2021

Leave a Reply

Back to top button