شیعہ سنی اتحاد سے ایران، سعودیہ، عراق ، شام ،ترکی عرب وعجم کاپاکستان امام بن جائیگا.

129
0

شیعہ سنی اتحاد سے ایران، سعودیہ، عراق ، شام ،ترکی عرب وعجم کاپاکستان امام بن جائیگا ،عالم اسلا م ہی نہیںدنیا کا بھی پاکستان نے امام بننا ہے۔پاکستان لیلة القدر کی رات کو اسلام کی نشاة ثانیہ کا خواب دیکھنے کیلئے وجود میں آیا

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

علامہ سید جواد نقوی نے کہا کہ شیعہ ذاکر نے کہا: میں قرآن سے علم کا جلوس اور اسکاراستہ تک ثابت کرتا ہوں۔ الم نشرح لک صدرک۔ علم کا جلوس نشترپارک سے صدر تک !

شیعہ سنی تفاسیر میں جو جو بیانات مرتب ہورہے ہیں، عوام ان کی نکتہ دانیوں میں الجھ کر رہ جاتی ہے لیکن جو آیات محکمات ان کو بھی متشابہات کے درجے تک پہنچاکر ناقابل عمل بنایاہے!

سورۂ نور میں جتنی تاکیدات سے اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ سورة انزلنٰھاو فرضنٰھا و انزلنافیھا آےٰتٍ بینٰتٍ لعکم تذکرونOالزانیة والزانی فاجلدوا کل واحد منھما مائة جلدة ولاتأخذ کم بھما رأفة فی دین اللہ ان کنتم تؤمنون باللہ والیوم الاٰخر ولیشھد عذابھما طائفة من المؤمنینOالزانی لاینکح الا زانیة او مشرکة والزانےة لاینکحھا الا زانٍ او مشرک و حرم ذٰلک علی المؤمنینOوالذین یرمون المحصنٰت ثم لم یأتوا باربعة شہدآء فاجلدوھم ثمٰنین جلدةً ولاتقبلوا لھم شھادةً ابدًا واولئک ھم الفٰسقون
ترجمہ ” یہ ایک سورت ہے ،اس کو ہم نے نازل کیا ہے اور اسے ہم نے فرض کیا ہے اورہم نے اس میں نازل کی ہیں بالکل واضح آیات شایدکہ تم سبق لے لو۔زانی عورت اور زانی مرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور تمہارے دلوں میں ان دونوں کیلئے نرمی نہ ہو ،اللہ کے دین کے معاملے میں۔ اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔اور ان دونوں کے عذاب(سزا) پر مؤمنوں کا ایک گروہ موجود رہے۔ زانی مرد نکاح نہیں کرے مگر زانیہ عورت یا مشرکہ سے اور زانیہ عورت نکاح نہ کرے مگر زانی مرد یا مشرک سے اور یہ مؤمنوں پر حرام کیا گیا ہے۔ اور جو لوگ بیگمات پر تہمت لگاتے ہیں اور پھر چار گواہ نہیں لاتے تو ان کواسی (80)کوڑے مارو اور ان کی گواہی کبھی قبول مت کرو اور یہی لوگ فاسق ہیں”۔
مسلمان معاشرے میں بڑی مدت سے یہ تأثر جم گیا ہے کہ عورت کنواری ہو یا شادی شدہ لیکن جب اس سے بدکاری کا ارتکاب ہوتا ہے تو اس کو جان سے ماردیا جاتا ہے لیکن مردوں کیلئے زنا کار ہونے پر کوئی اخلاقی اور قانونی جرم کی سزا کا کوئی تصور نہیں ہے ۔اسلئے مسلمان معاشرے میں عورتوں کی اکثریت محفوظ اور مردوں کی خطاء کار ہے۔ اگر قرآن کی واضح آیات کے مطابق دونوں کو ایک ہی طرح کی سزاسو (100)کوڑے لگائے جائیں تو اس سے معاشرے میں ایک بہت ہی پاکیزہ ، زبردست اور بہترین فضاء بنے گی۔
سید ابولاعلیٰ مودودی نے اپنی تفسیر تفہیم القرآن میں پہلے زنا سے متعلق یہود ونصاریٰ اور دوسری اقوام کے حوالے سے ایک طویل مضمون پیش کیا ہے۔ پھر اسلام کے حوالے سے بھی فقہی معاملات کا کم وبیش وہی مضمون پیش کیا ہے۔ گویا امت مسلمہ بھی اپنی سابقہ امتوں کے عین مطابق انکے نقش قدم پر اسی طرح اللہ کے دین کے بارے میں گامزن ہے۔
جب معاشرے میں مردوں کا حال بہت خراب ہوگا اور شادی شدہ عورتیں مقید ہوں تو یہ اسلامی معاشرہ کیسے کہلاسکتاہے؟۔ قربان میری گلیوں کے اے وطن کہ خشیت مقید ہیں جہاں سگ آزاد۔ عورت کو سزا مل جاتی ہے لیکن مرد کھلے عام قانون سے بالاتر ہیں۔
جب عورتوں اور مردوں پر اللہ کی بالکل واضح آیت کے مطابق زنا کرنے پر نہ صرف سرعام سو (100)کوڑے برسائے جائیں بلکہ انکا آپس میں نکاح بھی کردیا جائے یا پھر پڑوس کے ملک ہندوستان میں کسی مشرک یا مشرکہ سے نکاح کرایاجائے جہاں وہ فلم انڈسٹری کی مدد سے اپنا پیٹ بھی پالیں تو مسئلہ نہیں ہے ۔معاشرے میں یہ پتہ ہوتا ہے کہ کون بدکار اور کون نیکوکار ہے۔ بدکاروں کی اسلامی معاشرے میں یہی گنجائش ہے کہ وہ آپس میں یا پھر کسی مشرک اور مشرکہ سے اپنا ناطہ جوڑیں۔ اگر قرآن کی ان واضح آیات پر عمل ہوتا توآج مسلم معاشرے میں بے راہ روی اس انتہاء درجہ تک نہ پہنچتی جو کچھ آج ہورہاہے بھارت بھی اپنے ہاں مسلمانوں ہی نہیں بلکہ ہندؤوں پر بھی اس قانون کو جاری کرنے میں دیر نہ لگاتا۔
عورت آزادی مارچ کے شرکاء نے اگر منظم انداز میں خواتین کے تحفظ کیلئے سورۂ نور کا سہارا لیا تو پھر پاکستان میں وہ انقلاب آئیگا جس کا خواب وہ ہزار سال کی جدوجہد کے بعد بھی نہیں دیکھ سکتی ہیں۔ اسلام نے مرد اور عورت کیلئے بدکاری پر یکساں سزا کا حکم دیا ہے اور معاشرے میں عورت کیساتھ نہ صرف یک طرفہ اور بغیر کسی تفریق کے زیادتیاں ہوتی ہیں بلکہ اپنی عزتوں کی حفاظت کرنے والی خواتین انتہائی اذیت کی زندگیاں گزار رہی ہیں اور اس سے نجات کا رستہ قرآن نے دیا ہے۔ پروین شاکر نے عورت کی تہذیب کو نقل کیا ہے کہ ”وہ کہیں بھی گیالوٹا تو مرے پاس آیا، بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی”۔
جب شرعی اور قانونی طور پر بدکار مردوں کو یہ حق ہی نہیں ہوگا کہ وہ پاکدامن عورتوں کو اپنے نکاح میں رکھ سکیں ۔ اللہ نے ان پر یہ حرام کردیا ہوگا تو معاشرے میں پاکیزہ ماحول قائم کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔ بدکارعورتوں کو مرد اپنے نکاح میں رکھنا حرام سمجھتے ہیںمگر خود بدکاری اور بدکرداری کے مرتکب ہونے کا مرد اپنے لئے جواز رکھتے ہیں۔ معاشرے کو اسلامی بنانے کیلئے عورتوں سے زیادہ مردوں کو قربانی کا بکرا بنایا جائے گا۔ انشاء اللہ
بہتان ایک سنگین جرم ہے ، اگر مرد پر لگایا جائے تو اس کی بیوی پر اتنا اثر نہیں پڑتا ہے لیکن جب عورت پر لگایا جائے تو اس کے شوہر پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔ کیپٹن صفدر بھی کہے گا کہ مجھ پر الزام مسئلہ نہیں لیکن سوشل میڈیا پر چھوڑے ہوئے کتوں کے ذریعے مریم نواز کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے شادی شدہ خواتین پر بہتان لگانے کا خاص طور پر ذکر اسلئے کیا کہ مردوں کو اذیت پہنچانے کیلئے انکی بیگمات کو جس طرح گالی گلوچ سے کچلنے کی روش اپنائی جاتی ہے ، یہاں تک کہ کلچر میں عورت بھی بسا اوقات دوسرے کو بیوی کی گالی سے نوازتی ہے۔ حالانکہ عورت کے شوہرکو بھی گالی دی جاسکتی ہے۔ اسی طرح مردوں کو نشانہ بنانے کیلئے عورتوں پر ہی بہتان لگایا جاتا ہے۔ قرآن نے اس کا حل پیش کیا ہے۔
اسلام اتنا عظیم دین ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ پر بہتان لگایا گیا تو بھی اس کی سزا اسّی (80)کوڑے رکھی اور ایک ادنیٰ درجے کی غریب عورت پر بہتان لگایا جائے تو بھی اس کی سزا اسّی (80)کوڑے ہے۔ اسلام کی یہ مساوات دیکھ کردنیا اسلامی انقلاب کو قبول کرسکتی ہے لیکن ہمارا میڈیا اس کو عوام تک پہنچانے سے قاصر ہے۔ روزنامہ پیغامات اخبار پشاور کے چیف ایڈیٹر جناب گل احمد مروت سے میں نے اسلام کے اس آفاقی نظام کا ذکر کیا کہ اگر پاکستان میں اس کو نافذ کیا گیا تو امیر وغریب میں مساوات کی فضاء قائم ہوگی۔ کرپٹ امیروں نے انتخابات ، جمہوریت اور اقتدار کو تجارت بنالیا ہے لیکن آئین میں قرآن اور سنت کی بالادستی ہونے کی وضاحت کے باوجود منافق مولوی اور مذہبی طبقہ بھی حقیقت کی بات عوام کے سامنے نہیں لاتاہے۔ یہاں امیر کی ہتک عزت اربوں میں غریب کی ٹکوں میں بھی نہیں ہے۔ وہ جتنی ہتک عزت کا دعویٰ کرسکتا ہے ،اس سے زیادہ وکیل اور عدالت میں خرچہ آئے گا۔ ایک غریب کیلئے دس ہزار بھی بڑی سزا ہے۔ جیلوں میں بہت سے لوگ اس لئے قید پڑے ہوئے ہیں کہ وہ پانچ سو روپیہ جرمانہ نہیں بھرسکتے ہیں جبکہ مریم صفدر نے ایک دن میں دس (10)کروڑ کی ضمانت عدالت میں جمع کرکے رہائی پالی ۔ اب شاید عدالت کے پاس اتنی رقم نہیں ہے کہ واپس کرکے مریم نواز کو دوبارہ گرفتار کرلے ،اسلئے کہ تیمارداری کا مسئلہ تو نہیں، کب کے نوازشریف باہر چلے گئے ہیں؟۔
اگر مذہبی طبقہ اٹھتا اور قرآنی آیات کے مطابق خواتین پر بہتان لگانے کی سزا کے مطابق ہتک عزت میں امیرو غریب کی تفریق کے بغیر ایک سزا مقرر کرتا اور یہ سزا پیسوں میں نہیں کوڑے لگانے کی صورت میں ہوتی تو سوشل میڈیا پر بھی کوئی غلط الزامات لگانے کی جرأت نہیں کرسکتا تھا۔ معاشرے میں جمود بھی ایک زبردست زلزلے کی طرح ٹوٹ جاتا۔ قرآن میں جس یوم دین یا یوم انقلاب کا ذکر ہے وہ دنیا میں جو قومیں عذاب کا مزہ چکھ چکی ہیں اور فتح مکہ کی طرح انقلاب دیکھ چکی ہیں۔ اس سے دنیا ہی میں عذاب مراد ہے لیکن قرآنی آیات میں عذاب و ثواب سے مراد لوگوں نے آخرت ہی لیا ہے۔
حضرت عمر نے اپنے بیٹے کو زنا پر جان سے مار ڈالا۔ بیگم نے بیچ میں سفارش کرنے کی بات کی تو حضرت عمر نے کہا تھا کہ میں سفارش نہیں مانوں گا۔ اس نے کہا کہ صرف سن لیں،پھر ماننا نہ ماننا آپ کا کام ہے۔ سفارش یہ کردی کہ کوڑے والے آدمی کو بدلتے رہو تاکہ بیٹا دنیا میں عذاب پورا کرلے۔ ایک ہی آدمی نے مارا تو وہ تھک کر زیادہ سخت کوڑے پورے نہیں کرسکے گا۔ بیٹے پر گواہوں کو بھی طلب نہیں کیا جبکہ مغیرہ بن شعبہ پر چار گواہ تھے اور اس کو سنگساری سے بچانے کیلئے تین گواہوں کو اسّی اسّی (80،80)کوڑے مروائے تھے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کا چیئرمین مفتی سعید خان کو بنایا جائے۔ پہلے مولانا محمد خان شیرانی اور اب قبلہ ایاز صاحب روٹیاں توڑ رہے ہیں۔ شیعہ سنی علماء اور ذاکرین حقائق کی وضاحت سے بالکل قاصر نظر آتے ہیں۔ علامہ سید جواد نقوی نے کہا کہ شیعہ ذاکر نے یہ اعلان کیا کہ قرآن میں محرم کا جلوس اور اس کا راستہ بھی موجود ہے۔کراچی میں نشترپارک سے صدر کی طرف ایک جلوس نکلتا ہے ۔ لوگ حیران تھے کہ قرآن میں یہ کہاں ہے؟۔ اس نے کہا کہ الم نشرح لک صدرک میں الم سے علم ہے اور نشرح سے مراد نشتر پارک ہے اور مطلب یہ ہے کہ نشتر پارک سے صدر تک علم کا جلوس۔ یہ سن کر سامعین نے زبردست داد بھی دی اور ان پر وجد کی کیفیت بھی طاری ہوگئی کیا زبردست دلیل نکالی ہے۔
والفجرOولیال عشرOوالشفع والوترOوالیل اذا یسرOھل فی ذٰلک قسم الذی حجرO
” فجر کی قسم اور دس راتوں کی قسم ، جفت اور طاق کی قسم اور رات کی قسم جب آسان ہوجائے۔ کیا اس میں عقل والوں کیلئے کوئی قسم ہے؟”۔
شیعہ علامہ نے کہا کہ فجر سے مراد امام مہدی ہیں۔ دس راتوں سے دس امام مراد ہیں۔ جفت سے حضرت علی و حضرت فاطمہ مراد ہیں اور وتر سے رسولۖ مراد ہیں۔ ان میں چودہ معصومین کا ذکر ہے لیکن اس میں عقل والوں کیلئے قسم ہے۔
سنی علامہ کہہ سکتے ہیں کہ فجر سے رسول اللہۖ کا انقلاب مراد ہے۔ دس راتوں سے عشرہ مبشرہ کے صحابہ کرام مراد ہیں۔ اور جفت سے حضرت حسن و حضرت معاویہ مراد ہیں اور وتر سے حضرت امام حسین یا عمر بن عبدالعزیز مراد ہیں۔ علاوہ ازیں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ فجر سے امام مہدی مراد ہیں۔ پھر دس راتوں سے آئندہ آنے والے دس آل بیت امام مراد ہیں جن سے پہلے رات کی طرح ایک ایک مرتبہ اندھیرا چھا جائیگا۔ پھر جفت سے مراد امام مہدی آخر زمان اور حضرت عیسیٰ مراد ہیں ۔ پھر وتر سے توحید مراد ہے کہ اگر ایک بھی اللہ اللہ کہنے والا دنیا میں موجود ہوگا تو قیامت نہیں آئے گی۔ ہرانقلاب کے عمل کو الفجر سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جس سے پہلے کی رات آسان ہوجاتی ہے ۔ علامہ اقبال نے طلوعِ اسلام کا ذکر کیا ہے۔ ایران کو مشرق کا جنیوا قرار دینے کی خواہش اور نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر مسلمانوں کو ایک ہونے کی دعوت دی ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے سندھ ، بلوچستان، پنجاب ، کشمیر ، پختونخواہ اور افغانستان میں رہنے والی تمام قوموں میں دنیا کی امامت کی صفت کا ذکر سورۂ القدر کی تفسیر کرتے ہوئے کیا ہے۔ جس کو ایران بھی قبول کرلے گا۔ کیونکہ امام ابوحنیفہ ائمہ اہلبیت کے شاگرد تھے۔ مولانا سندھی کی تفسیرمقام محمود میں تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔ اسلامی انقلاب کیلئے ماحول خوشگوار بنانا بہت ضروری ہے۔

NAWISHTA E DIWAR March Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat