شیعہ سنی مسئلہ حل نہیں کیا تو پاکستان فرقہ واریت کا شکار ہوجائیگا: عتیق گیلانی

89
0

شیعہ سنی مسئلہ حل نہیں کیا تو پاکستان فرقہ واریت کا شکار ہوجائیگا اور عقائد کے تضادات کے علاوہ یہاں پر بیرونی فنڈ آتا ہے ، چندہ بٹورنے کیلئے بھی یہ پیشہ بن چکا ہے۔ اب اس پر کاری ضرب لگانے کی بہت سخت ضرورت ہے: سید عتیق الرحمن گیلانی

میری تحریروں کو اہلسنت کی طرح اہل تشیع میں بھی پذیرائی ملتی ہے اور میں بنی اُمیہ کے مقابلے میں مظلوم ائمہ اہلبیت علیہم السلام کے دفاع والوں کو چاہتاہوںکیونکہ انسان پھر سید ہوں!

تاہم اہل تشیع کے انداز میں سوشل میڈیا پر جس قسم کی تلخیاں بڑھتی جارہی ہیں اسکا نتیجہ مجھے اتنا بڑا تصادم نظر آتا ہے کہ کیاشیعہ سنی ایکدوسرے کیخلاف صف بندی کرکے کٹ مرینگے ؟

اہل تشیع اوراہل سنت دونوںایک اللہ ، ایک رسولۖ اور ایک قرآن وسنت کو مانتے ہیں۔ صحابہ کرام اور اہلبیت عظام کے درمیان تلخیاں ، لڑائیاں اور مشکلات رہیں۔ قیامت تک وہ تاریخ چھوڑی کہ دونوں کے ماننے والوں میں ایکدوسرے کیخلاف بغض وعناد کے چولہے جلائے جاسکتے ہیں۔ تاہم اہل تشیع کاطرز گفتگو جس تلخی کی طرف بڑھ رہاہے اگر اس کا تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا تو پھر معاملات تصادم کی طرف جائیں گے اور کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی خونریزی کا تدارک نہیں کرسکے گی۔ اسلئے ضروری ہے کہ اہل تشیع کو تھوڑا سا احساس بھی دلایا جائے۔

بہت ہی محبت اور بہت ہی معذرت کیساتھ جب شیعہ جوشِ جذبات میں آکر کہتا ہے کہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ بڑا لیڈر کون تھا؟۔ نبیۖ کو ساتھیوں نے دن کے وقت جنگ میں تنہاء چھوڑ دیا اور بھاگ گئے۔ جبکہ حضرت حسین نے ساتھیوں سے کہا کہ جاؤ اور مشعلیں بھی بجھادیں مگر کوئی چھوڑ کر نہیں گیا ۔تو فیصلہ ہوگیا کہ بڑا لیڈر کون تھا اوراس پر مجمع سے واہ واہ ، واہ واہ ، واہ واہ کی آوازیں بلند ہوتی ہیں۔

اگر رسول اللہ ۖ سے بھی بڑا لیڈر حضرت حسین تھا اور اہل تشیع اس پر خوش بھی ہوتے ہیں تو یہ ان کی مرضی ہے ، دین میں زبردستی کا کوئی تصور نہیں ۔ رسولۖ کا تو ان کو احسا س نہیں اور بھلے نہ ہو۔ یہ اور ان کا مذہب جانے لیکن جب حضرت حسین کی تعریف کچھ اس انداز سے کرتے ہیں کہ جملہ بازیوں سے صحابہ کو تو چھوڑئیے، اس طنز وتشنیع کا نشانہ علی وحسن اور چوتھے امام حضرت زین العابدین سے حضرت مہدی تک سب اس کا شکار بنتے ہیں۔ پھریہ امامیہ نہیں رہتے بلکہ حسینیہ بنتے ہیں۔

ان کے حسینیہ بننے پر بہت خوشی ہوگی اسلئے کہ یزید کے مقابلے میں اگر حضرت امام حسین کی بات ہو تو پھر اس کا تہہ دل سے ہم بھی خیرمقدم کرتے ہیں۔ معاملہ اس سے بھی نہیں بگڑتا کہ حضرت علی سے ابوبکر، عمر اور عثمان کے مقابلے میں محبت کریں۔ حضرت علی کیلئے ترجیحات قائم کرنا بھی ان کا حق ہے۔انصار کے سردار سعد بن عبادہ نے حضرت ابوبکر وعمر کے پیچھے کبھی نماز بھی نہیں پڑھی اور اگر شیعہ حضرت علی کو خلیفہ بلا فصل مانیں تو یہ انکا حق ہے۔ بنی امیہ اور اہل بیت کی جنگوں کا معاملہ تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کی تلخیاں بیان کرنا اور شدید الفاظ میں مذمت کرنا ان کا حق ہے۔

سورۂ محمد کی تفسیر پر اہل تشیع مجھے بڑی داد بھی دیں گے جو اس شمارے کا حصہ ہے۔ دوسری طرف سورۂ حجرات کاترجمہ اور تفسیر بھی لکھ دی ہے جس سے شیعہ حضرات میں کافی حد تک اعتدال بھی قائم ہوجائے گا۔ سورۂ محمد صفحہ نمبردو (2)اور سورۂ حجرات صفحہ تین (3)پر دیکھ لیجئے گا۔ امید ہے کہ شیعہ سنی میں اعتدال کی راہ ہموار ہو گی۔

ایک شیعہ جوان ذاکر نے کہا کہ ” علامہ ابن جوزی اپنے وقت کابہت مشہور عالم تھا اور اس نے حضرت علی کے قول کی نقل اتاری کہ سلونی سلونی قبل ان ….. مجھ سے سوال کرو، اس سے پہلے کہ میں آپ لوگوں کو پھر دستیاب نہ ہوں۔ ایک عورت نے اٹھ کر سوال کیا کہ حضرت علی اس وقت کسی دوسرے شہر میں بہت دور تھے جب حضر ت سلمان کی وفات ہوگئی لیکن جنازہ کیلئے وہاں پہنچ گئے۔ مگر عثمان کی میت تین دن تک پڑی رہی ، علی نے جنازہ کیوں نہیں پڑھا؟۔ کیا حضرت علی نے خود کو اس قابل نہیں سمجھا تھا کہ عثمان کا جنازہ پڑھاتے یا اس کو کافر سمجھتے تھے؟۔ ابن جوزی نے کہا کہ مجھ کو پہلے یہ بتاؤ کہ اپنے شوہر سے اجازت لیکر آئی ہو یا بغیر اجازت کے سوال کیا ہے؟ اس خاتون نے کہا جس کے دل میں اہلبیت کی محبت تھی کہ اگر میں نے اجازت لیکر سوال کیا ہے تو اس کا کیا جواب ہے اور اگر اجازت نہیں لی ہے تو کیا جواب ہے؟۔ ابن جوزی نے کہا کہ اگر تونے اجازت نہیں لی تو تجھ پر لعنت ہو اور اگر اجازت لی ہے تو تیرے شوہر پر لعنت ہو۔ اس عورت نے کہا کہ وہ جو حضرت عائشہ شام میں لڑنے گئی تو اس نے شوہر سے اجازت لی تھی ؟ اور اگر نہیں لی تھی تو اس پر لعنت ہو؟”۔

اہل تشیع کے ذاکرین شیعہ بھائیوں سے داد وتحسین وصول کرتے ہیں اور بھاری بھرکم معاوضہ بھی ۔ اور خوش ہوتے ہیں کہ اپنے مذہب کے اصول وفروغ کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔ دنیا وآخرت میں سرخرو ہونے کا یقین رکھتے ہیں۔

مجھے پتہ ہے کہ اہل تشیع بہت سخت ناراض ہوں گے کہ آج تک سپاہ صحابہ والے بھی ابن جوزی کی طرح جواب دیتے رہے ہیں جس سے شیعہ اپنے عقائد میں مزید پختہ ہوجاتے ہیں اور میرے طرزِ استدلال سے ان کی روٹی روزی بند ہونے کا خدشہ ہوگا۔ لیکن مجھے ان کی قیمتی جانیں بچانے کا کردار ادا کرنا ہے تاکہ گستاخانہ طرزعمل کو آئندہ قرآن وحدیث سمجھ کر بیان نہیں کریں اور قتل وغارتگری کا سلسلہ رک جائے۔

جب صلح حدیبیہ سے پہلے حضرت عثمان کی شہادت کا مسئلہ کھڑا ہوا تو نبیۖکی بیعت حضرت علی سمیت تمام صحابہ کرام نے کی۔ بیعت کا مقصد حضرت عثمان کے قتل کا بدلہ لینا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بیعت پر خوش خبری سنائی : (ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ یداللہ فوق ایدیھم فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ ومن اوفٰی بما عٰھد علیہ اللہ فسیؤتیہ اجرًا عظیمًاO) ” اے نبیۖ! جو لوگ آپ سے بیعت کررہے ہیں تو بے شک اللہ سے بیعت کررہے ہیں۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اُوپر ہے۔ پس جو اس عہد کو توڑے گا تو اس کی عہد شکنی کا اثر کسی اور پر نہیں بلکہ خود اس کے اپنے نفس پر ہی پڑے گا۔ اور جوپورا کرے گاجو اس نے عہد کیا ہے تو عنقریب اس کو بہت بڑا اجر ملے گا”۔ (سورۂ فتح آیت10)

ہمیں تو یہ علم نہیں کہ حضرت عثمان کی شہادت پر حضرت علی نے وہ کردار ادا کیا تھا جو شیعہ ذاکر اپنی زبان سے بہت فخر کیساتھ بیان کررہاہے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ایک غیر جانبدار نومسلم جسکے جگر میں سنی شیعہ ماحول نہ ہو تووہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگا کہ علی نے اس بیعت کو توڑ ا جس کا ذکر قرآن میں ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ علی نے مدینہ چھوڑ کر کوفہ کو دارالخلافہ بنایا اور وہاں اپنے پروردہ لوگوں کے ہاتھوں شہادت پائی اور حسن نے بھی مجبوری میں خلافت سے دستبرداری اختیار کرلی اور امام حسین کو بھی کوفیوں نے بلاکر شہید کردیا۔ مدینہ واپس جانے کی بات بھی تسلیم نہیں کی تھی۔ ہیکل نے حضرت محمدۖ اور حضرت عمرکے نام کو سو (100)شخصیات میں شامل کیا تھا۔

ام المؤمنین حضرت عائشہنے شام کا سفرکیا۔ اس بیعت کی عہد شکنی محسوس کی جسکا ذکر قرآن میں عثمان کی شہادت کا بدلہ لینے کیلئے ہے۔ اُم المؤمنین حضرت عائشہ نے قرآن وسنت کی پیروی میں کوئی غلطی نہیں کی۔ جس نے غلطی کی تھی تو اس نے خود بھگت بھی لیا ہے۔ یہ ایک غیرجانبدار فرد کا تجزیہ ہوگا۔

اللہ تعالیٰ نے سورۂ فتح میں فرمایا : (انا فتحنا لک فتحًا مبینًا Oلیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک و ماتأخر ویتم نعمتہ علیک ویھدیک صراط مستقیمًا O)” بیشک ہم نے کھلی فتح دیدی۔ تاکہ آپ کے اگلے پچھلے ذنب معاف کردے۔ اور آپ پر اپنی نعمت کی تکمیل کردے اور صراط مستقیم پر لگادے”۔

پچھلے ذنب اور اگلے ذنب سے کیا مراد ہے؟۔ اللہ تعالیٰ نے نبیۖ کو حکم دیا تھا کہ وشاورھم فی الامر”اورکسی خاص بات میں مشورہ کرلیا کریں”۔ کیونکہ صحابہ کرام کی یہ خاصیت بیان فرمائی ہے کہ وامرھم شوریٰ بینھم ”اور ان کا امر باہمی مشاورت سے ہوتا ہے”۔ کیا رسول اللہۖ نے حضرت علی کیلئے من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ فرمایا تو یہ ذنب تھا اسلئے کہ مشاورت کے حکم پر عمل نہیں ہوا ؟۔ حدیث قرطاس میں حضرت عمر نے اسلئے کہا کہ ”ہمارے لئے کتاب اللہ کافی ہے”۔ نبیۖ اولی الامر تھے اور اولی الامر کی حیثیت سے جہاں اپنے جانشین کو مقرر کرنے کا حق تھا تو وہاں اختلاف کی گنجائش بھی اللہ نے رکھی تھی اور اولیٰ یہی تھا کہ مشاورت سے ہی آپۖ کام لیتے تو امت کو مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

نبیۖ نے فرمایا کہ ” اگر خیر میرے ہاتھ میں ہوتی تو سب سمیٹ لیتا”۔ اپنے اوپر بات رکھ کر صحابہ امت کو یہ درس دیا کہ خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ ان کی ترجیح سے ٹکراؤ پیدا ہوگا۔ ابوبکر اپنے بعد بیٹے کو مقرر کرتے تو ٹکراؤ پیدا ہوتا اور عمرنے اپنے بیٹے کو نااہل نہ قرار دیا ہوتا تو آپ کے بیٹے پر مشاورت سے اتفاق ہوسکتا تھا۔

( فاعلم انہ لاالہ الا اللہ واستغفر لذنبک وللمؤمنین والمؤمنات واللہ یعلم متقلّبکم ومثوٰاکم O)” پس جان لو !کہ بیشک کوئی الہ نہیں ہے مگر اللہ۔اور اپنے ذنب کیلئے مغفرت طلب کریں اور مؤمنین اور مؤمنات کیلئے بھی۔ اور اللہ جانتا ہے تمہارے پلٹنے اور تمہارے ٹھکانے کو”۔ (سورۂ محمدآیت19)

اللہ تعالیٰ کو پتہ تھا کہ نبی کریم ۖ کو مخاطب کرکے ذنب کیلئے استغفار کی بات ہو اور مؤمنین اور مؤمنات کی مغفرت کا مسئلہ ہو تو اہل تشیع منطقی نتائج نہیں نکالیں گے اور اگر نبیۖ کے کسی صحابی یا خلیفہ راشد پر گرفت کرنی ہو تو زمین وآسمان کی قلابیں ملائیں گے۔ اگر اس آیت میں حضرت علی مخاطب ہوتے تو بھی اہل تشیع اس کو علی کی عصمت کے خلاف قرار دیکر مسترد کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے نبیۖ کو مخاطب کیا۔ مؤمنین نے جس طرح سے حضرت عثمان کی شہادت کا بدلہ لینے سے پلٹ جانا تھا اور کوفہ ٹھکانا تھا اس کا اللہ کو بالکل علم تھا اور اس کو وضاحت کیساتھ بیان بھی کردیا ہے۔

رضی اللہ عنہ کا مطلب دعا دینا نہیں بلکہ یہ سند دینا ہے کہ اللہ ان سے راضی ہوا۔ یہ اس شیعہ کو جواب ہے جس کا درس یوٹیوب پر نظر آتا ہے۔ علیک السلام، علینا السلام اور علیہ السلام تو قبرستان کے مردوں سے لیکر مسلمانوں تک سب میں عام ہے۔ باغ فدک میں امہات المؤمنین کا حق تھا۔ حضرت فاطمہ کی پرورش کا ذمہ حضرت علی نے اٹھانا تھا۔ ازواج مطہرات نے نبیۖ کی میراث پر گزر بسر کرنا تھا۔ حضرت علی کی شخصیت زبردست تھی اسلئے فدک کا مسئلہ چھوڑ دیا ۔ شیعہ عالم نے کہا کہ امام حسن نے امیرمعاویہ سے معاہدہ میں یہ طے کرنے سے انکار کیا کہ معاویہ کی وفات کے بعد حسن خلیفہ ہوگا بلکہ یہ لکھوادیا کہ” جسے مسلمان منتخب کریں”۔حضرت آدم جنت میں ممنوعہ شجر کے پاس گئے لیکن نبوت پر اثر نہیں پڑا۔ حضرت موسیٰ نے بھائی ہارون کو سراور داڑھی کے بالوں سے پکڑلیا تو کیا اس پر جملے کسنے کی کہانیاں گھڑی جائیں؟۔ اگرنبیۖ جانشین نامزد کرتے تو یزید سے لیکر سعودی ولی عہد تک سب کا جواز ہوتا۔ سورۂ نجم میں کبائرگناہ اور فواحش میں اجتناب سے الاالمم کا استثنیٰ ہے جس کی تفسیر ماحول میں مختلف ہے اور اللہ نے فرمایا کہ” اپنی پاکی بیان نہ کرو، اللہ جانتا ہے کہ کون متقی ہے”۔ سورۂ النجم۔ اہل تشیع کے علماء اپنے جاہل ذاکرین کو لگام دے دیں۔

علی کی ہمشیرہ اُم ہانی اولین مسلمانوں میں تھیں مشرک شوہر سے محبت کی وجہ سے ہجرت نہیں کی۔ فتح مکہ کے بعد علی نے قتل کرنا چاہا تو ام ہانی نے نبیۖ سے اپنے شوہر کیلئے پناہ لی۔ شوہر چھوڑ کر گیا تو نبیۖ نے نکاح کا پیغام دیا مگر انہوںنے قبول نہ کیا۔ اللہ نے فرمایا: آپۖ کیلئے چچا کی وہ بیٹیاں حلال ہیں جو آپ کیساتھ ہجرت کرچکی ہیں۔اگر یہ ابوبکرو عمر کی بہن ہوتی تو شیعہ آیات سے توہین آمیز گفتگو کرتے کہ طیبون طیبات ،خبیثون خبیثات اور زانی و مشرک کاایکدوسرے سے نکاح ہے اور مؤمنوں پر اس کو حرام کردیاہے۔شیعہ سنی گمراہی میں نہ بھٹکیں۔ ہدایت کی طرف آجائیں!۔

NAWISHTA E DIWAR Feburary Newspaper 2021