شیعہ سنی مسئلہ کا دانشمندانہ حل اور قرآن کی طرف اُمت کابڑازبردست رجوع!

36
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

وقل لعبادی یقولوا التی ھی احسن ان الشیطٰن ینزع بینھم ان الشیطٰن کان للانسان عدوًا مبینًاO
ربکم اعلم بکم ان یشأ یرحمکم او ان یشأ یعذبکم وما ارسلنٰک علیھم وکیلًاO ا لقراٰن

اور(اے رسول ۖ) میرے بندوں سے کہہ دیجئے کہ وہ بات کریں جو بہتر ہو ۔ بیشک شیطان انکے درمیان تنازع کھڑا کرنا چاہتاہے اور بیشک شیطان انسان کیلئے کھلا دشمن ہے۔

تمہارا رب تمہیں خوب جانتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تمہارے اوپر رحم کرے یا وہ چاہے تو تمہیں عذاب دیدے اور ہم نے آپ کو ان پر وکیل بناکر نہیں بھیجا ہے۔بنی اسرائیل (53،54 )

اہل تشیع کی چار معروف شخصیات ہیں۔ حضرت ابوطالب علیہ السلام، حضرت مولیٰ علی علیہ السلام ، حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام۔
حضرت ابوطالب اہل مکہ کے مسلمانوں اور مشرکین کے اندر مشترکہ عزت کے نقیب تھے۔ رسول اللہۖ نے اللہ کے حکم سے مزاحمتی تحریک شروع کردی تو حضرت ابوطالب کا کردارحضرت محمدرسول اللہۖ کیلئے سب سے زیادہ نمایاں تھا۔ شعب ابی طالب میں تین سال تک مشرکینِ مکہ کا بائیکاٹ برداشت کیا۔ رات کو سونے کے بعد حضرت علی اور نبیۖ کی جگہ تبدیل کرواتے تاکہ حملہ آور حضرت رسول خداۖ کی جگہ پر حضرت علی کو شہید کردے۔ اپنے سب سے چہیتے بیٹے کو رسول خداۖ پر قربان کرنے کے جذبے سے عالمِ اسلام کے مسلمانوں کو سبق کیا ملتا ہے؟۔
رسول اللہۖ کا ایک مشن تھا اور اس مشن کیلئے حضرت ابوطالب نے فرزند کی قربانی دینا گوارا کرنے کی ٹھان لی تھی۔ یہ سبق حضرت ابراہیم کا اپنے فرزنداسماعیل کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے سے ملا تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ نے اس خواب کی تعبیر کیلئے حکم دیا کہ حضرت اسماعیل کو اپنی والدہ محترمہ کیساتھ وادی غیرذی زرع مکہ میں چھوڑ آنا تو حضرت ابراہیم نے حکم کی تکمیل کردی۔ حضرت ابراہیم کے دوسرے فرزند حضرت اسحاق کے بیٹے حضرت یعقوب اور پوتے حضرت یوسف کو بھی نبوت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت داؤد و حضرت سلیمان اور حضرت موسیٰ وحضرت عیسیٰ تک بنی اسرائیل میں ہزاروں انبیاء آئے لیکن حضرت اسماعیل کی نسل میں کوئی نبی، خلیفہ اور بادشاہ و حکمران نہیں آیا ،یہاں تک کہ اسلام نے پوری دنیا کو نور سے رونق بخش دی۔
حضرت یوسف کو بھائیوں نے ویران کنویں میں ڈال دیا مگر حضرت محمدۖ کیساتھ چچا ابوطالب نے اپنے بیٹے سے زیادہ محبت دینے کا ثبوت پیش کیا۔ایثار کا یہ جذبہ قریش کو وراثت میں ملا تھا۔ آج علماء کرام کیلئے مدظلہ کی دعا کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور نبیۖ کیلئے حضرت ابوطالب کا سایہ ٔ عاطفت ابر رحمت تھا۔ ابوطالب نے نبیۖ کی جو پرورش کی تھی ،اس کا اثر حضرت علی میں اتنا ہرگز نہیں تھا۔ نبیۖ نے صلح حدیبیہ کی تمام شرائط صرف اسلئے مان لیں کہ یہ ابوطالب کی مفاہمت کی تربیت تھی۔ حضرت علی نے انکار کیا کہ محمد سے رسول اللہ کے لفظ کو نہیں کاٹوں گا۔ حضرت عمر اور تمام صحابہ سراپا احتجاج تھے ۔ وحی کی رہنمائی بھی نہیں ملی تھی۔ حضرت ابوطالب نے جس تربیت کا اہتمام کیا تھا اس کا نتیجہ فتح مبین کی صورت میں اللہ نے دکھادیا۔
حضرت ابوطالب کی صاحبزادی ام ہانیکا نبیۖ نے رشتہ مانگاتو حضرت نے انکار کردیا۔ بیٹے علی سے زیادہ بیٹی ام ہانی کی قربانی نہ تھی۔ لیکن ابوطالب نے درست سمجھ لیا تھا کہ نبیۖ کو مالدار خاتون کی ضرورت ہے جس کی کفالت کیلئے کام کی ضرورت نہ ہو۔حضرت ام ہانی کا نکاح جس مشرک سے کردیا ،وہ فتح مکہ کے بعد بھی مسلمان نہیں ہو ۔ ام ہانی کی اپنے شوہر سے وفاداری کا یہ عالم تھا کہ ہجرت بھی نہیں کی اور جب شوہر چھوڑ کر گیا تو نبیۖ کا رشتہ پھر بھی قبول نہیں کیا تھا۔
صلح حدیبیہ کے وقت قریش مکہ کا حلیف قبیلہ بنوبکر اور مسلمانوں کا حلیف قبیلہ بنو خزاعہ تھا۔ معاہدے میں حلیف قبائل کو بھی شامل کیا گیا، جب قریشِ مکہ نے اپنے حلیف قبیلے کا ساتھ دیکر معاہدہ توڑ دیا تو مسلمانوں نے اپنے حلیف قبیلے کی وجہ سے حضرت ابوسفیان کی طرف سے صلح حدیبیہ کا معاہدہ قائم رکھنے کی استدعا مسترد کردی تھی۔ جب صلح حدیبیہ قائم تھا تو ہجرت کرکے آنے والی خواتین کو واپس کرنے سے انکار کیا گیا،تاکہ ان پر کوئی تشدد نہ ہو۔ مسلمانوں کو حق مہر ادا کرکے نکاح کی اجازت دی گئی اور انکے کافر شوہروں کو ان کا حق مہر لوٹانے کا حکم دیا گیا۔ پھر مسلمان مردوں کو یہ حکم دیا گیا کہ کافر عورتوں کو تم اپنے نکاح میں مت رکھو۔ ان سے حق مہر واپس لے لو ،جیسا کہ کافر مردوں کو چھوڑ کر آنے والی عورتوں کا حق مہر لوٹانے کا حکم ہے اور یہ تمہارے ہی درمیان اللہ کا فیصلہ ہے۔ اگر تمہاری کافر عورت تمہیں حق مہر نہ لوٹائے تو اس کا بدلہ نہ لو اور جو عورتیں اپنے شوہروں کو چھوڑ کر آئی ہیں ان کو انکے مثل واپس کرو۔ اللہ سے ڈرو۔( سورہ ٔ الممتحنة)
علماء نے قرآن کی تفاسیر میں ڈنڈیاں ماری ہیں۔ قرآن نے جس اعلیٰ معیار کا اخلاق پیش کیا آج ہندوستان کے ہندو، سکھ اور بدھ مت کو ان اعلیٰ اقدار سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے۔ مشرکینِ مکہ کی بیگمات مسلمان بن کر آرہی تھیںتو یہ جاہلانہ غیرت کیلئے بڑا چیلنج تھا لیکن اللہ نے مسلمانوں کو اپنی کافر بیگمات چھوڑنے کا حکم دیکر جاہلانہ غیرت کو پنپنے کا موقع نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمان عورتوں کویہ حکم نہیں دیا کہ اپنے کافر شوہروں کو چھوڑ کر ہجرت کرو۔ پاکستان کے جاہل مسلمانوں کی غیرت اسلام نہیں جہالت کی وجہ سے ہے ۔ قائداعظم کی بیگم رتن بائی پارسی تھیں۔
مالدار علماء کی اکثریت اپنی بیٹیوں کا مستقبل روشن کرنے کیلئے دنیا دار کو دیتے ہیں لیکن نبیۖ کے غریب جانشینوں کو نہیں دیتے ، یہ ابوطالب کی سنت پر عمل ہے۔
جب انصار و قریش میں خلافت پر تنازعہ کھڑا ہوا لیکن حضرت ابوبکر کے حق میں فیصلہ ہوگیا تو حضرت ابوسفیان نے حضرت علی سے کہا کہ خلافت قریش کے کمزور قبیلے میں گئی، اگر آپ کہیں تو سواروں اور پیادوں سے میدان بھر دوں؟۔ حضرت علی نے اس شیطانی پیشکش کو یکسر مسترد کردیا۔ اگر حضرت علی نے تعاون نہ کیا ہوتا تو پھر قیصر وکسریٰ کی سپر طاقتوں کو شکست نہیں دی جاسکتی تھی۔ حضرت علی نے حضرت عمر سے کہا کہ آپ جنگوں میں بذاتِ خود تشریف نہ لیجائیں۔ حضرت عمر کی وفات پر حضرت علی نے حضرت عمر کی زبردست تعریف کی تھی۔حضرت عثمان کی شہادت کے وقت چالیس یا ستر دن تک محاصرہ ہوا تھا لیکن بنی امیہ کے افراد نے خلیفۂ سوم کو بچانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ حضرت علی اور حسن وحسین کا کردار نمایاں نظر آتا ہے۔ خلافتِ راشدہ کے دور میں جس طرح حضرت علی کے کردار کو نمایاں حیثیت حاصل تھی ، اسی طرح بنوامیہ کا اقتدار حضرت حسن کے کردار سے ہی ممکن ہوسکا تھا۔ پھر یزید کے دور میں امام حسین کا کردار سب سے نمایاں تھا۔
امام زین العابدین سے امام حسن عسکریاور پھر امام محمد مہدی کی غیبت صغریٰ و کبریٰ تک ائمہ اہلبیت ظاہری خلافت کے منصب سے محروم رہے ہیں۔ آئندہ آنے والا وقت بتائے گا کہ مہدیٔ غائب کے ظہوراور حضرت عیسیٰ کے نزول کا وقت کب آئے گا؟۔ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ شاہ ایران کے خلاف آیت اللہ خمینی نے انقلاب برپا کردیا تھا مگر ہمارے والے شاہ سعود کی گائے کا دودھ پی پی کر ابھی تک جوان نہیں ہوئے ہیں۔
اہل تشیع جن شخصیات کو اپنا سرمایۂ دین وملت سمجھتے ہیں یہ اہل سنت کیلئے بھی ویساہی سرمایۂ دین وملت و افتخار ہیں۔ جن ذاکرین عزاداری نے مذہب کیساتھ ساتھ اپنامعاشی معاملہ بھی بنارکھا ہے یہ ان کا حق ہے لیکن جن اہل تشیع نے اسلام کو اپنا مشن سمجھ رکھاہے وہ زیادہ لائق تحسین وافتخار ہیں۔ علامہ سید حیدر نقوی کی مجالس میں ذاکرین جایا کریںگے تو ان میں اعتدال بھی آئے گا اور مزاحمت ومفاہمت کی منزل بہت بہتر انداز میں حاصل کر سکیں گے۔اگر انہوں نے ہمیشہ اپنوں کو پٹوانے اور مروانے کا سلسلہ اپنے مفادات کی خاطر جاری رکھا تو پھر یہ امت تنزلی کی مزید منازل سر کرتی رہے گی۔

NAWISHTA E DIWAR February BreakingNews Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat