شیعہ بھی سخت گیری سے پیچھے ہٹ کر صحابہ کے گرویدہ بن سکتے ہیں!

پہلے مخالف کو ڈنڈے کے زور پر دبایا جاسکتا تھا مگر اب سوشل میڈیا ایسا ہتھیار ہے کہ اگر کوئی خود جھوٹ بول کر اپنا منہ کالا نہیں کرے تو سچ کا راستہ دنیا کی کوئی قوت نہیں روک سکتی ہے،البتہ اُمت مسلمہ کو جھوٹ سے فراغت نہیں!

شیعہ اگر اپنے سچ کو اچھے انداز میں پیش کریں تو سنی بھی نرم پڑ سکتے ہیں اور سنی اپنے سچ کو اچھے انداز میں پیش کریں تو شیعہ بھی سخت گیری سے پیچھے ہٹ کر صحابہ کے گرویدہ بن سکتے ہیں!

اہل تشیع کو تاریخ میں زیادہ تر تقیہ اختیار کرنے پر گزارہ کرنا پڑا لیکن اب انکے پاس ایران کی حکومت ہے۔ البتہ اس کی وجہ سے شیعہ سنی اختلافات میں شدت اپنی انتہاء کو پہنچ گئی ہے۔

آج سوشل میڈیا کا دور ہے اور اگر مل بیٹھ کر اپنے معاملات کو افہام وتفہیم ،تحمل وبرداشت اوراعلیٰ ظرفی کا اعلیٰ ترین مظاہرہ کرکے گزارہ نہیں کیا تو پھر دہشت کی فضاء ایسی وحشت میں بدل سکتی ہے کہ علماء کرام اور ذاکرین کو چندہ دینے والی عوام مذہب اور دینداروں کی شکل وصورت سے بھی نفرت کرنے لگ جائیں گے۔

اگر میں چاہتا تو جمعیت علماء اسلام ف کے پلیٹ فارم سے اپنے لئے بہت آسانی کا راستہ اپنا سکتا تھا مگر میں نے اپنے لئے کوئی الگ پارٹی یا تنظیم بھی نہیں بنائی ہے اور چند افراد کیساتھ مل کر اسلام کی نشاة ثانیہ کی ایسی کوشش میں لگاہوں جو اپنے ثمرات سے عوام کو بڑے فائدے کاباعث بن رہی ہے۔ علماء اور مذہبی طبقات کے غبارے سے ہم ہوا نکالنے میں کامیاب نہ ہوتے تو طالبان اور داعش ہمارے مذہبی طبقات کی اوقات بھی عوام کو دکھا دیتے۔ جب ریاست نے ان کو کھلی چھوٹ دے رکھی تھی تب بھی ہم نے القاعدہ اور طالبان کوانکی کمزوریوں سے آگاہ کیا تھا۔ ہماری تحریک نے سب کو یکساں فائدہ پہنچایا۔ ریاست اور طالبان دونوں نے شدت پسندی کے مقابلے میں اعتدال کو ترجیح دی تھی۔

آج پی ڈی ایم (PDM)اور حکومت وریاست کو بھی اعتدال کی طرف دھکیلنے میں اپنی بساط کے مطابق کردار ادا کیا ہے۔ شیعہ سنی، بریلوی دیوبندی اور حنفی اہلحدیث میں بھی اعتدال کی راہ پر چلنے میں ہم نے کافی سفر طے کیا ہے۔

الم یجدک یتیمًافاٰوٰیO ووجد ک ضالًا فھدٰیO ووجدک عائلًافاغنیٰOفاما الیتیم فلاتقھرOواما السآئل فلاتنھرO واما بنعمة ربک فحدث

” کیا ہم نے آپ کو یتیم نہیں پایا ، پھر ٹھکانہ عطاء کیا اور آپ کو تلاشِ حق میں سرگرداں پایا تو ہدایت عطاء کی اور آپ کو محتاج پایا تو ہم نے مستغنی بنادیا۔پس کوئی یتیم ہو تو مت ڈانٹواورکوئی سائل ہو تو اس کو مت جھڑکو۔اور اپنے رب کی اپنے اوپر نعمت کو بیان کیا کرو”۔ (سورۂ الضحیٰ)

جب انسان نے کوئی خدمت انجام دی ہوتی ہے تو اس کو تحدیث نعمت کے طور پر بیان کرتا ہے لیکن جب کفرانِ نعمت کا مرتکب ہوتا ہے تو کچھ یاد نہیں رہتا ہے اور اللہ کی تعریف نہیں اپنی ثناخوانی کرنے لگتا ہے۔

رسول اللہ ۖ کے دادا عبدالمطلب بھی اللہ ہی کی ربوبیت پر یقین رکھتے تھے ۔ جب ہاتھی والوں نے حملہ کرنے کا پروگرام بنایا تو حضرت عبدالمطلب نے کہا کہ” کعبہ کی حفاظت اس کا اپنا رب کرے گا”۔

توحید پر اتنا پختہ عقیدہ تو آج کے مسلمانوں میں بھی نہیں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کو اللہ نے جس طرح آگ سے بچایا ،وہ قصہ نسل درنسل وراثت میں چلا آیا تھا۔ اسی لئے بنی اسرائیل میں ایک کے بعد دوسری نبوت کا سلسلہ جاری رہا تھا، یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے معجزات کیساتھ بھیج دیا تھا، جبکہ اہل مکہ میں توحید کا عقیدہ اپنے جوبن کیساتھ موجود تھا اسلئے حضرت اسماعیل کے بعد کسی بھی نبی کو قریشِ مکہ میں بھیجنے کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔

جس طرح یہود ونصاریٰ کا دعویٰ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم کے دین پر ہیں اسی طرح سے قریشِ مکہ خود کو حضرت ابراہیم کا اصل وارث سمجھتے تھے۔ مولانا آزاد کے سیکرٹری محمد اجمل نے نبیۖ پر اپنی کتاب میں لکھ دیا ہے کہ ” ایک منصوبہ بندی کے تحت بنوہاشم نے عوام کو جہالتوں سے نکالنے کیلئے رسول اللہۖ کا کردار تشکیل دیا تھا۔ وحی کا دعویٰ عوام میں ایک سیاسی چال کے طور پر کیا گیا”۔ میرا ایک جاننے والا شیعہ علمی گھرانے سے تعلق رکھنے کے باجود بھی یہی نظریہ رکھتا ہے۔اسکے نزدیک مہدیٔ غائب کا عقیدہ بارہ عدد کو پورا کرنے کی وجہ سے ایک مجبوری ہے۔ شیعہ کہتے ہیں کہ غائب ہے اور سنی کہتے ہیں کہ آئندہ پیدا ہوگا مگر سمجھدار لوگ اپنے وقت کو ضائع نہیں کرتے اسلئے خمینی نے خروج کیاتھا۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قرآن نبیۖ پر نازل ہوا تھا اور اب قیامت سے پہلے مہدی کے ہاتھوں نافذ ہوکر قیامت آجائے گی؟۔ پھر اتنے لمبے عرصے تک یہ قرآن صرف اسلئے تھا کہ تلاوت سے ایمان کی روشنی کو حاصل کیا جائے اور سمجھنے سمجھانے کا معاملہ قرآن کو اپنا کاروبار بنانے والوں کے رحم وکرم پر چھوڑا جائے؟۔

قرآن نے رسول اللہۖ و صحابہ کے ذریعے سے وہ انقلاب برپا کیا جسکا انکار کوئی انسان کرے بھی تو نہیں کرسکتا اور جن کا قرآن کے آسمانی صحیفے پر ایمان نہیں وہ بھی اسلام کی افادیت سے انکار نہیں کرسکتے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اُمت نے قرآن کو چھوڑ دیا ہے یا نہیں؟۔ دیوبند کے بڑے شیخ الہند مولانا محمود الحسن جب مالٹا کی جیل سے رہاہوگئے تو امت کے زوال کے دو سبب بتائے ۔ ایک قرآن سے دوری اور دوسرا فرقہ واریت۔ مفتی اعظم مفتی محمد شفیع نے کہا کہ ” فرقہ واریت قرآن سے دوری کا نتیجہ ہے”۔ مفتی شفیع نے مولانا انور شاہ کشمیریکا لکھا کہ ” آخری عمر میں فرمایا کہ میں نے اپنی ساری زندگی فقہ میں ضائع کردی، قرآن و حدیث کی کوئی خدمت نہیں کی”۔ مولانا انور شاہ نے اپنے استاذ شیخ الہند کی بات مانی ہوتی تو آخری وقت میں اپنی زندگی ضائع کرنے پر افسوس نہ ہوتا ۔مفتی شفیع اور مولانا محمد یوسف بنوری نے اپنے استاذ کشمیری سے سبق سیکھ لیا ہوتا تو آج مدارس میں بڑا انقلاب ہوتا۔

یہ تو دیوبندی مکتبۂ فکر کا حال ہے جو قرآن وسنت کے سب سے بڑے علمبردار کہلاتے ہیں۔ بریلوی اور شیعہ فرقوں کا کیا حال ہوگا؟۔ جن کا گزارہ خانقاہ کے پیروںاور محرم کے ذاکرین پر چل رہا ہے؟ دیوبند کی دیکھا دیکھی بریلوی ، اہلحدیث اور شیعہ نے بھی مدارس قائم کرلئے ہیں۔ مولانا الیاس کی تبلیغی جماعت کے طرز پربریلوی کے علامہ الیاس قادری اور اہل حدیث کے مولانا الیاس اثری نے بھی اب اپنی جماعت قائم کی۔ جمعیت علماء اسلام کی طرح جمعیت علماء پاکستان و جمعیت علماء اہلحدیث وجود میں آگئے، اہل تشیع نے بھی تحریک فقہ جعفریہ سمیت متعدد تنظیموں کے نام سے اپنا کام چلایا۔ تمام مکاتبِ فکر کی جماعتوں اور تنظیموں کی روداد پیش کی جائے توپھر جگہ بہت کم پڑجائے گی۔

جب حضرت شاہ ولی اللہ نے قرآن کا ترجمہ کیا تو علماء اسکے پیچھے ہاتھ دھوکے پڑگئے۔ پھر بات سمجھ میں آگئی تو انکے بیٹوں نے اردو میں لفظی و بامحاورہ ترجمہ کرلیا۔ پھر اردو سے اردو کی نقل میں مارکیٹ کے اندر بہت سارے ترجمے آگئے۔ عربی زبان بہت وسیع ہے اور اس میں ایک ایک لفظ کے بہت معانی ہیں اور ایک ایک چیز کے بہت سارے نام ہیں۔ مثلًا شیر کے پانچ سو (500)نام ہیںاور ولی کے پچیس (25)معانی ہیں۔ ایمانکم کے بہت سے معانی ہیں۔ قرآنی آیات میں سیاق وسباق سے معانی متعین کرنے میں زیادہ دشواری نہیں ہے۔

جس طرح مختلف آیات میں اللہ نے قرآن کے نازل ہونے کی نشاندہی فرمائی ،اسی طرح سے اللہ نے انسان کو قرآن اور علم سکھانے کی بھی وضاحت فرمائی۔

الرحمٰن Oعلّم القراٰن O

” رحمان نے قرآن کو سکھایا”۔ ابن عباس کا مشہور قول ہے کہ قرآن کی تفسیر زمانہ کرے گا۔ آج ہمیں دیکھنا ہوگا کہ رحمن کس طرح انسان کو اپنے اپنے دور میں قرآن سکھاتا ہے؟۔

جب قرآن نازل ہوا تو سمندروں میں پہاڑوں کی طرح جہازوں کا تصور نہیں تھا۔ تفاسیر میں کیا لکھ دیا تھا؟۔ ٹھیک یا غلط؟۔ مگر آج قرآن انسان کو خود سمجھ میں آرہاہے اسلئے رحمن جل شانہ کا قرآن سکھانا سمجھ آئیگا۔ عوام کو صرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ پڑھا لکھا طبقہ بہت سمجھدار ہے اور قرآن کی طرف توجہ ہوگئی توپھر امت مسلمہ کی تقدیر بدل جائے گی۔ بعض لوگ جن کی روزی روٹی مذہب سے بندھی ہوئی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ قرآن کی طرف عوام کی توجہ ہوگئی تو پھر یہ ایسا ہوگا جیسے قربانی کے جانوروں کو چھرا دکھا دیا جائے۔اونٹ جیسا کینہ پرور جانور کبھی مالک یا قصائی کو مار بھی ڈالتا ہے۔

میں نے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں داخلہ لیا تو میری حیثیت یتیم کی تھی۔ مطبخ پر چودہ (14) نمبر کمرہ لاوارثوں کا ہوتا تھا۔ اس سے پہلے اسٹیل مل میں نوکری کرتے ہوئے کھلے میدان میں پوڈر پینے والوں کی طرح بھی سویا ہوں۔ گھر سے بھاگا ہوا راہِ حق کی تلاش میں پھرتا تھا تو بہت تجربات کر لئے۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی کمی نہیں چھوڑی ۔ نکل کر خانقاہ سے رسم شبیری ادا کرنے کی کوشش کی تو جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑگیا۔ دربدر مختلف شہروں میں ٹھکانے بنائے،آخر کار کبیر پبلک اکیڈمی گومل میں خدمت کا موقع ملا، اخبار ضرب حق کراچی اور کتابیں لکھ کر شائع کرنے کاموقع بھی ملا اور حاجی عثمان کی خانقاہ سے علماء ومفتیان کے مقابلے میں جیت کا تمغہ بھی اپنے سر پر سجالیا تھا ، جب ڈیرہ اسماعیل خان کے علماء اور ٹانک کے مجاہدین سے پالا پڑا تھا تب بھی اللہ نے سرخرو کردیا تھا۔ آخر میں جب طالبان نے حملہ کیا تو مجھے اللہ نے بچالیا اور ان کو بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مرتبہ جرمنی جانے کا بھی موقع ملا، دبئی میں رہائش، ناروے، سویڈن ، فرانس ، چین دیکھنے کو مل گئے اور مکہ مدینہ کی زیارت کیساتھ بدر اور طائف بھی گیا۔مدارس میں عزت ملی، خانقاہ کی پیری مل گئی ،صحافت اور تصانیف کے مواقع مل گئے ۔ رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلانے کی ہمت کرسکتا ہوں۔

ایک حدیث میں آتا ہے کہ ” میں تمہارے اندر دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہاہوں ایک قرآن ، دوسری میرے اہلبیت”۔ حدیث ثقلین سے سب واقف نہیں ہیں لیکن اہل تشیع کے ہاں اس کی بڑی رودادیں ہیں ۔

سنفرغ لکم ایہ الثقلٰنO

”اے دو ثقلین! عنقریب ہم تمہارے لئے فارغ ہورہے ہیں!” (الرحمن)

سورۂ الرحمان میں انسانوں اور جنات کو مخاطب کرکے ثقلان کا ذکر کیا گیا ہے تو یہ دھمکی ہے یا خوشخبری ہے؟۔ نعمتوں کے بار بار ذکر کرنے سے یہ پتہ چل رہا ہے کہ یہ خوشخبری ہے۔ جس خلافت سے زمین وآسمان والے دونوں خوش ہونگے توشیطان بھی آرام کریگا؟۔

قرآن میں صرف آخرت کے ثواب وعذاب ہی کا ذکر نہیں بلکہ دنیا میں جتنی قوموں کا قرآن نے ذکر کیا ہے وہ دنیا میں ہی عذاب یا خوشی کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ شداد کی جنت اور ابراہیم کو جحیم میں پھینکنے کی بات دنیا کی ہے۔ حجاز کے لوگوں کو قیصر وکسریٰ فتح کرنے کے بعد دنیا بھر کے باغات اور نہریں دنیا میں ملی ہیں۔ علامہ اقبال نے شکوہ میں لکھ دیا ہے کہ کافروں کیلئے دنیا میں حوروقصور اور مسلمان کیلئے فقط وعدۂ حور؟۔ لیکن عرب نے یورپ اور فارس فتح کرکے سب کچھ پالیا تھا۔

آج دنیا کو اسلامی معیشت کا درست نظام دیا گیا تو پھر سودی معیشت سے چلنے والے اور کرپٹ عناصر کی آل اولاد اپنا پیٹ پالنے کیلئے فیکٹریوںو ملوں میں کام کرکے بھی خوش ہونگے کیونکہ روزگار ملا ہوگا لیکن زمینوں اور باغات میں کام کرنے والوں کی قسمت ہی زیادہ جاگے گی۔ کھانے پینے کیلئے فروٹ اور پرندوں اور جانوروں کا گوشت تک میسر ہوگا۔ تعلیم کے حصول کیساتھ طلبہ کو چوبیس گھنٹے ویٹر کا آسان روزگار بھی میسر ہوگا۔ مہمان فیملیوں کیلئے خیموں کا بہترین بندوبست ہوگا جس میں دنیا بھر سے اچھے کردار والوں کو موقع مل جائیگا، بروں کو اجازت ہوگی، نہ وہ فرصت پائیں گے۔

قرآن میں دنیا کے اندر بھی ایک عظیم انقلاب کا ذکر ہے۔ سورۂ رحمن، سورۂ حدید، سورۂ واقعہ ، سورہ ٔدہر اور بہت سی جگہوں پر اس دنیاوی انقلاب کا ذکر ہے جو آخرت کے حوالے سے ممکن بھی نہیں ہے۔ مشرکین و منافقین اور بدوعرب کے لوگوں میں اس انقلاب کا کیا تصور ہوسکتا تھا جو دنیا میں اسلام نے برپا کیا تھا؟۔

آج پاکستان میں اسلامی احکام پر عمل شروع ہو تو دنیا خیرمقدم کرنے پر مجبورہو گی۔ دنیا بھر کا گند ہمارے اندر ہو، ہرطرح کی نالائقی ہم کریں اور توقعات بڑی بڑی رکھیں تو عذاب کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہماری اور ہماری قوم کی اصلاح فرمائے۔ قرآن میں انقلاب کی خبریں ڈھونڈ کر ان پرعمل کرکے جیو!۔ بہت زبردست طریقے سے خوشخبری مل جائے گی۔

NAWISHTA E DIWAR Feburary Breaking News 2021

Leave a Reply

Back to top button