صحابہؓ اور اہل بیتؓ کے تنازع سے لے کر شیعہ سنی اور حنفی اہل حدیث کے ایک ایک مسئلے کا حل

85
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مولانا فضل الرحمن،مولانا طارق جمیل، مولانا مسعود اظہر، مولانا معاویہ اعظم، انجینئر محمد علی مرزا، پروفیسر احمد رفیق اختر، مفتی منیب الرحمن، علامہ سعد حسین رضوی، علامہ سیدجواد نقوی ، علامہ شہنشاہ نقوی، علامہ ساجد میرمتحد ہوں!

صحابہ کرام اور اہلبیت عظام میں تنازع سے لیکر موجودہ دور کے شیعہ سنی اور حنفی اہلحدیث ایک ایک مسئلے کا ایسا حل جو سب کیلئے قابلِ قبول نہ ہو تو مجھے گمراہ قرار دیکر پابندی بھی لگائیں

ریاست اور حکومت کی طرف سے انتظام ہو تو نہ صرف پاکستان ،عالمِ اسلام بلکہ پوری دنیا کے تمام مسائل کاسب کیلئے قابلِ قبول حل بھی قرآن وسنت میں موجود ہے۔آؤ ذرا دیکھو!

فلسطین اور کشمیر کے مسئلے سے لیکر پاکستان کی پارلیمنٹ کے مسئلے تک اور حضرت ابوبکر و حضرت علی کے اختلاف سے لیکر موجودہ دور میں سوشل میڈیا پر بھونکنے والے شدت پسندوں تک ایک ایک مسئلے کا حل قرآن وسنت میں ہے لیکن افسوس کہ اجتماعی حیثیت میں ہمارا قرآن کی طرف دھیان تک نہیں گیا۔
دنیا بھر میں حلف اور حق کی گواہی کی ایک تسلیم شدہ حیثیت ہے۔ اللہ نے شیطان کی جماعت کو واضح کیا ہے کہ وہ جھوٹے وعدے کرتے ہیں اور جھوٹے حلف اٹھاتے ہیں۔ اللہ کی جماعت کو واضح کیا ہے کہ وہ حق کی گواہی میں اپنے باپ، بھائی اور قریبی رشتہ داروں کا بھی لحاظ نہیں رکھتے ہیں۔ ہم حلف اٹھانے کو اجتماعی حیثیت میں کوئی اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ وزیراعظم عمران تک کو حلف اُٹھانے میں الفاظ کی دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اہمیت حلف کے معانی نہیں بلکہ الفاظ کی رہ گئی ہے۔ حالانکہ اصل بات حلف نامے میں معانی کی ہوتی ہے۔
جن پر کرپشن کے الزامات ہیں تو نیب اور عدالتوں کو چھوڑ کر ان سے لائیو چینلوں پر حلف لیا جائے۔ نوازشریف پارلیمنٹ کے بیان اور قطری خط کی بھی وضاحت کرے۔ پھر اسکے خاندان اور پارٹی میں موجود ان لوگوں سے گواہی طلب کی جائے جن کی صداقت سے وہ حزب اللہ میں شامل ہوجائیں۔ مسئلے کا یہ ایسا حل ہے جس کا ذکر سورۂ مجادلہ میں قیامت اور دنیا کے حوالہ سے ہے۔
حضرت ابوبکر نے خلافت کا منصب انصار سے اس بنیاد پر جیت لیا تھا کہ امام قریش میں سے ہونگے۔ پھر خلافت راشدہ کا خاتمہ ہوا تو بنی امیہ کا اقتدار پر قبضہ ہوا، بنی امیہ کا دھڑن تختہ بنوعباس نے کیا۔ عباسی اسلئے خلافت کے حقدار قرار دئیے گئے کہ حضرت عباس نبیۖ کے چچا اور علی چچازادتھے، ابوطالب نے اسلام قبول نہیں کیاتھا حالانکہ خلفاء ثلاثہ اور بنوامیہ بھی چچا تھے نہ چچا زاد۔ پھر چنگیز خان کی اولاد ہلاکو خان نے بنوعباس کا دھڑن تختہ کیاتو اسکے بعد ترک عثمانی سلطنت نے خلافت کا منصب سنبھال لیا جو قریش بھی نہیں تھے۔ ترکی بھی خلافت کی بحالی کیلئے پر تول رہا ہے۔ ملاعمر بھی امیر المؤمنین بنے تھے اور داعش، حزب التحریر اور دوسری جماعتیں بھی خلافت کی بحالی چاہتی ہیں۔ جبکہ ایران میں آیت اللہ امام خمینی کا اسلامی انقلاب ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے آزاد کشمیر کوٹلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک دفعہ کشمیر کو مکمل آزاد کردیںگے اور پھر وہ خود فیصلہ کرینگے کہ آزاد رہنا ہے یا پاکستان کیساتھ؟۔ آئی ایس آئی کے سابق افسر طارق اسماعیل ساگر نے اس کو عالمی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا سارا خرچہ رائیگاں جائیگا۔
اگر عالمی طاقتوں نے کشمیر کو آزاد کرنے کا فیصلہ کرلیا تو بھارت پیچھے ہٹ جائیگا اور امریکہ ونیٹو اور اقوام متحدہ کی افواج کشمیرمیں دفاعی امداد کے نام پر اپنے مشن کو پورا کریںگی۔ چین کا راستہ روکا جائیگا۔ اگر پاکستان اسلامی مزارعت کی بنیاد رکھ دے تو بھارتی پنجاب کے سکھ ، مسلمان اور ہندو بھی اسلامی نظام کا مطالبہ کرینگے اور بھارت کو مجبوری میںاس کوتسلیم کرنے کا فیصلہ بھی کرنا پڑیگا۔ جب بھارت کے باسی یقین کرلیںگے کہ اسلام نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے تو پھر وہ محمد شاہ رنگیلا کی عیاشیوں کو دل سے نکال کر اسلام کے گرویدہ بنیں گے۔ پھر بھارت اور پاکستان کی صلح ہوگی اور عالمی قوتیں مداخلت نہیں کرسکیں گی۔
مزارعت سے غریب عوام کو خوشحالی مل جائے گی تو عالمی قوتوں کو فرقہ پرستی اور شدت پسندی کے نام پر استعمال ہونے والا خام مال نہیں ملے گا۔ جب ان کی قوتِ خرید بڑھ جائے گی تو ملز اور فیکٹریاں چلنا شروع ہونگی۔ روزگار ملے گا تو کرپٹ عناصر اپنے نالائق بچوں کیلئے کرپشن سے باز آجائیں گے۔ جب شہری اور دیہاتی زندگی میں خوشحالی کی روح دوڑے گی تو شیطان چھٹی کرلے گا اور زمین پر بسنے والے محنت کش دو حصوں میں تقسیم ہونگے۔ دیہات دنیاوی جنت اور انڈسٹریاں دنیاوی جہنم کا مظہر نظر آئیں گی۔ کاشتکار باغات اور سہولیات سے مالا مال ہونگے تو اسلام کی تعلیم اور نظام کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہوئے نبیۖ پر سلام بھیجیںگے۔ اور جن کرپٹ عناصر سے کرپشن کی رقم چھن جائے گی وہ بادِسموم ، گرمی کی شدت اور ملوں میں کام کرنے کی وجہ سے کالے دھوئیں سے لتھڑے ہونگے ، یہ دھواں ٹھنڈا ہوگا اور نہ ہی فرحت بخش۔ یہ وہ لوگ ہونگے جنہوں نے مسلسل بڑی بڑی کرپشن پر بڑے ہاتھ صاف کرنے پر مسلسل اصرار کیا ہوگا۔ سورۂ واقعہ میں اس کی زبردست تفصیل ہے اور پھر ان کو دوسرے کافروں سمیت دعوت دی جائے گی کہ یہ دنیا کا عذاب تو بہت کم ہے اور آخرت کا عذاب بہت سخت ہوگا۔ جب شجرہ زقوم سے تواضع ہوگی ،جس سے پیٹ بھرے گا اور نہ بھوک مٹے گی۔پھر گرم پانی سے خاطر مدارات ہوگی اور اونٹ کی طرح لیٹ کر پانی پینا پڑے گا۔ جہاں تک سبقت لے جانے والوں کا تعلق ہے تو ان کا کیا کہنا۔ روح اور ریحان ہیں۔یہ صحابہ کرام ، تابعین اور تبع تابعین میں بہت تھے لیکن اسلام کی نشاة ثانیہ میں بہت تھوڑے سے ہونگے۔جب انقلاب آئے گا تو یہ حضرات چارپائیوں پر بیٹھ کر آمنے سامنے گپ شپ لگائیں گے۔ پوری دنیا سے کچھ بھی نہیں مانگا جائے گا۔البتہ اہل لوگوں کو انکا اپنا اپنا منصب دے دیا جائیگا۔ ان کوپھلوں کا جوس نبیز پلایا جائیگا جس سے وہ خمار ہونگے لیکن نہ تونشہ آئیگا اور نہ سر چکرائے گا۔ ان کی اپنی بیگمات حیاء دار اور باپردہ ہوں گی۔ جن کا سورۂ رحمن میں بھی ذکر ہے۔
جہاں تک اصحاب الیمین ہیں تو ان میں غریب امیر بہت بڑی تعداد میں ہونگے اوراصحاب الیمین نبیۖ کوبہت خوشی سے سلام بھیجیںگے۔ ان کی بیگمات بھی بہت اچھی ہوں گی۔ خوشحالی اور فراوانی کے سبب اللہ تعالیٰ ان کو کنواریوں کی طرح بنادینگے۔ دنیا بھر سے جو مہمان فیملیاں آئیں گی ، وہ بہت شریف النفس اور اچھے لوگ ہوں گے اور ان کے بارے میں فحاشی وعریانی پھیلانے کے کوئی تصورات نہیں ہونگے۔ ان کو کسی انسان اور جن نے ناجائز انداز میں کبھی چھوا تک بھی نہیں ہوگا۔ پاکستان جنت نظیر بن جائیگا تو دنیا بھر سے اتنے سیاح آئیں گے کہ ان کو بکنگ کا موقع بھی مشکل ہی سے ملے گا اور دنیا بھر سے جو اچھے لوگ آئیں گے تو اصحاب الیمین کے ہاں ان کیلئے آنے کی گنجائش ہوگی۔ پورے پاکستان کو باغات اور بہتی ہوئی نہروں سے مالا مال کیا جائے گا۔ البتہ انڈسٹریل زون بھی مناسب طور پر ان علاقوں میں بنیں گے کہ جہاں پر شہری آبادیوں کو مناسب روزگار اور دنیا میں ترقی وعروج کے مواقع مل سکیںگے۔
قرآن جب نازل ہوا تھا تو کفار اس پر کبھی یقین نہیں کرسکتے تھے کہ مکہ ومدینہ میں جہاں دریا، نہروں، ندی نالوں اور بہتے ہوئے چشموں کا کوئی تصور نہیں تھا کہ ایک دن وہ بھی آئے گا کہ مسلمان قوم ہمیشہ کیلئے دنیا میں جنت نظیر باغات،دریاؤں، نہروں اور بہتے ہوئے چشموں کے مالک بنیںگے۔ حالانکہ جب سپر طاقتوں کو خلفائ نے شکست دی تھی تو یورپ سے ایشاء تک مسلمان ہمیشہ کیلئے باغات اور نہروں کے مالک بن گئے اور پہلے کوئی کافر اور منافق اس بات کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہوتا تھاکہ نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر صرائے حجاز کے رہنے والے مسلمان کیسے باغات اور نہروں کے مالک بن جائیںگے؟۔ حضرت علی نے زمینوں کو آباد کرکے لوگوں کو مفت دینے کا بڑا مشن اپنے سر لیا تھا۔ جب حضرت سید عبدالقادر جیلانی کے والد صالح جنگی دوست کو بہتے ہوئے پانی میں ایک سیب مل گیا تو بے تکلف کھالیا پھر سوچا کہ کسی کے باغ سے نہر میں گرا ہوگا۔ اور اس باغ کے تعاقب میں نکل گئے۔ جب باغ کے مالک سے اپنی غرض پیش کی کہ سیب کیلئے معافی چاہتا ہوں تو مالک نے کہا کہ اس شرط پر معاف کر سکتا ہوں کہ میری ایک لولی، لنگڑی، اندھی اور بہری بیٹی ہے اس سے شادی کرنا پڑیگی۔
صالح جنگی دوست نے مجبوری میں ہاں کردی لیکن جب دیکھا تو وہ صحیح سلامت بہت خوبصورت لڑکی تھی۔ واپس آکر بتایا کہ میں غلط جگہ پہنچا تھا لیکن اس کو بتایا گیا کہ یہی ہے۔ یہ صفات استعارہ کے طور پر آزمائش کیلئے ذکر کئے تھے۔ اس کے قدم کبھی غلط جگہ کی طرف اُٹھے نہیں، غلط چیز کو ہاتھ نہیں لگا۔ غلط آواز سنی نہیں، غلط چیز دیکھی نہیں ہے۔ حدیث میں ہاتھ ، پیر ، کان اور آنکھ کی بدکاری کا بھی صراحت کیساتھ ذکر ہے۔ حضرت آدم اور حضرت حواء سے اللہ نے فرمایا کہ اس شجرہ کے قریب مت جاؤ۔ یہ شجرۂ نسب کا استعارہ تھا۔ پھر وہ قریب گئے اور عذر پیش کیا کہ ہم بے بس تھے، منصوبہ بندی سے اس حکم کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ قرآن میں اکلا کا ذکر ہے جو کھانے کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے اور کنگھی کیلئے بھی۔ لامستم النساء کے معنی بھی مباشرت کے واضح ہیںلیکن بعض بیوقوف ائمہ فقہ نے اس سے عورت کے اوپر محض ہاتھ لگنا قرار دیا تھا۔اس وقت حضرت آدم و حواء کی غلطی سے قابیل کی پیدائش ہوئی اور انسانوں میں فرشتوں سے بڑھ کر انسان بھی ہوتے ہیں اور شیطان سے بڑھ کر ابلیس بھی ہوتے ہیں۔ قرآن کے آخری الفاظ میں ایسے خناس کا ذکر ہے جو جنات اور انسانوں میں سے ہیں۔
جو سیب غلطی سے صالح جنگی دوست نے کھایا وہ طاقت بن کر شاید سید عبدالقادر کی شکل میں دنیا میں آیا۔ آپ کی ماں حسینی اور باپ حسنی سید تھے۔ طالب جوہری نے لکھ دیا ہے کہ ” دجالِ اکبر سے پہلے مشرق سے دجال آئیگا جسکے مقابلے میں حسنی سید ہوگا اور اس روایت سے مراد سیدگیلانی ہیں”۔ (ظہور مہدی : علامہ طالب جوہری)
جب ہمارے آبا واجداد نے کانیگرم جنوبی وزیرستان کو آباد کیا تو ہماری زمینوں اور پہاڑوں کے نیچے ندیاں بہہ رہی تھیں اور انہوں نے اس میں انواع واقسام کے بڑے باغات لگائے۔ جو آج بھی زندہ و تابند ہ ہیں۔ ہم نے بچپن میں سنا تھا کہ پہلے کانیگرم میں کالے گلاب بھی تھے۔ ہمارے بچپن میں میرے والد صاحب نے بھی گلاب کے پھولوں کی باڑ اور باغ جٹہ قلعہ علاقہ گومل میں لگایا تھا۔ بھائی نے گھر میں گلاب کے ایسے پودے لگائے تھے جو پاکستان ہی نہیں بلکہ فرانس کے شہر پیرس کے ڈزنی لینڈ پارک میں بھی نظر نہیں آئے تھے۔ ہم نے دیوبندی بریلوی علماء کو بلایا تھا کہ عرس، جلسہ ،اجتماع جس نام سے جمع ہونا تمہیں پسند ہو ،آجاؤ اور متحد ہوجاؤ۔ جس کی گواہی اب بھی زندہ رہنے والے دیوبندی اور بریلوی علماء کرام دیں گے۔
مولانا فضل الرحمن کو ہم نے صرف اس بات پر ‘ تنبیہ ‘ کردی تھی کہ اپنی جماعت پر خلافت اور مسلمانوں کی اس جماعت کے بارے میں ان احادیث کو فٹ مت کرو جن میں الگ ہونے کی صورت میں آگ اور جہنم کی وعیدیں ہیں۔ انہوں نے ہماری بات مان بھی لی اور اسکے بعد ان وعیدوں کا ذکر بھی نہیں کیا اور نہ اپنی جماعت پر ان احادیث کا اطلاق کرنے کی جرأت کی لیکن جمعیت علماء اسلام کے علاوہ سپاہ صحابہ کے کارکنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کے علماء ومفتیان کو بھی ہمارے پیچھے لگادیا۔ ٹانک کے مجاہدین کو بھی ہمارے پیچھے لگادیا تھا لیکن آخر کار ہرمحاذ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر ہمارے گھر پر تشریف لائے تو اس کو یہ خوف بھی تھا کہ کھلی کھلی باتیں سننے کو ملیں گی۔ اس کو پتہ نہیں تھا کہ اس کی جماعت کے افراد نے اس کی ساری پسِ پردہ کار گزاری مجھے بتائی ہے اور میں نے اپنے اس بھائی تک کو بھی کچھ نہیں بتایا جو اسکا کارکن رہ چکا تھا، آج بھی محض انقلاب کیلئے معاملات کا انکشاف کرنا پڑرہاہے اور کچھ چھپا ہوابھی نہیں ہے۔

NAWISHTA E DIWAR February Special Edition 2021
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat #imam_e_zamana