اچکزئی پر صحافیوں کی بھرمار یا نیازی نے ڈالاہتھیار؟

117
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
تاریخ: 15دسمبر2020

ایک پر تکلف دعوت میں ساری چیزیں چھوڑ کر صرف ”مرچ” کے پیچھے کوئی بھی ہاتھ دھو کے پڑجائے تو یہ طوطا جانی صحافی کا حق ہے۔ پی ڈی ایم (PDM)کے جلسے اور محمود خان اچکزئی کی تقریر میں صرف اس بات کے پیچھے پڑجانا کہ ”لاہوریوں کی توہین کی گئی ہے۔” باقی ساری باتیں چھوڑ دینا انصاف کا تقاضہ نہیں مگرتحریک انصاف کی ضرور ت ہوسکتی ہے۔ جس نیازی پر نازاں تھی اپنی ریاست اس نیازی نے وقت سے پہلے ہتھیار ڈال دئیے۔ میانوالی کے لڑاکو اصیل مرغے اور دلیر انسان بہت مشہور ہیںلڑائی اور بہادری میں۔ لگتا یہ ہے کہ جس عمران خان نیازی کو اپوزیشن سے لڑانے کیلئے میدان میں اتارا گیا تھا آج وہ فارمی برائیلر مرغا ثابت ہوتا ہے ،یہ مرغے نسل کیلئے ہوتے ہیں اور نہ لڑانے کیلئے بلکہ صرف ذبح کرنے اورکاٹنے کیلئے قصائی کی دکانوں پر ملتے ہیں۔ بعض لوگ شوق سے ان کو پال لیتے ہیں، یہ ریسلینگ کیلئے بلکہ تھوڑی ریس مارنے پر بیہوش ہوجاتے ہیں۔
عمران خان نے جب ڈی جے (Dj)بٹ اور بٹ کڑاہی والے کو گرفتار کیا تو قوم کو لگا کہ یہ مرغا تو لڑنے کے بجائے اپنی ایک ٹانگ پڑ کھڑا ہوگیا۔ پھر اس نے پی ڈی ایم (PDM)کے جلسہ کے موقع پر اپنی کابینہ میں تبدیلی کرلی تو عوام کو لگا کہ مرغے نے اپنا سر ٹانگوں کے نیچے دیدیا ہے۔ پھر جب اپنے پالتو کتوں کیساتھ تصاویر میڈیا پر شیئر کردیں تو پتہ چلا کہ مرغا آرام سے سو بھی رہاہے۔ جس کا نتیجہ یہی نکلتاہے کہ عمران خان نیازی نے فیصلہ کیا ہے کہ جو اسٹیبلشمنٹ لائی ہے وہ خود ہی اپوزیشن سے نمٹے گی ، کراچی میں بھی کام دکھا چکے ہیں۔ وہ جو کہتا تھا کہ چھوڑوں گا نہیں، اب سب کچھ ان کے ذمہ چھوڑ کر بیٹھا۔
عمران خان طالبان زدہ لوگوں کو خوش کرنے کیلئے کہتا تھا کہ ایاک نعبد و ایاک نستعین” ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں”۔ لیکن پھر اپنی بیگم بشریٰ بی بی کے کہنے پر جس طرح مزار کے آگے ہاتھوں کے پاؤں بناکرخود کو ایک جانور کی شکل میں پیش کیا تو بس اس کی ایک دُم نہیں تھی جس کو ہلا کر دکھاتا، باقی اس نے پورا سین کرلیا تھا۔ پاک فوج تو عقل سے بالکل پیدل ہے لیکن اچھے اچھے بھی عمران خان کی باتوں کے شکار ہوگئے تھے۔ پنجاب کا تو مزاج یہ ہے جو اقبال نے بتایا:
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کرلے کوئی منزل تو گزرتاہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد
تأویل کا پھندا کوئی صیاد لگادے
یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد
لاہوریوں کو اسٹیبلیشمنٹ کے گماشتوں ذوالفقاربھٹو کے پنڈی میں پٹھانوں کی موت تو چھوڑیں شریفوں کی طرف سے ماڈل ٹاؤن میں پولیس کی کھلی فائرنگ سے بھی 14قتل یاد نہیں ہیں لیکن اچکزئی کمال کرتے ہیں بابڑہ کے شہداء کی یاد کرانے میں؟۔ بابا یہ پنجاب کے لوگ ہیں زیادہ تحقیق میں نہیں پڑتے، موٹی موٹی تازہ تازہ باتیں سمجھ لیں تو بھی غنیمت ہے۔ مینار پاکستان میں جمعیت علماء اسلام نے انتخابی سیاست چھوڑ کر انقلابی سیاست کا اعلان کرنا تھا۔ مرکزی شوریٰ نے مولانا محمدمراد سکھرکی رائے چھوڑ کر مولانا محمد خان شیرانی کے مشورے پر فیصلہ دیا تھا کہ انقلابی سیاست کا آغاز کرنا ہے لیکن پھر فوج نے راتوں رات مولانا فضل الرحمن کو تنہائیوں میں لے جاکر سمجھا دیا تھا اور جمعیت نے وہ اعلان نہیں کیا جس کیلئے وہ آئے تھے۔ میں نے دن رات ایک کرکے یہ فیصلہ کیا کہ ماہنامہ ضربِ حق کراچی کا نیا ایڈیشن چھاپ کر لاہور پہنچ جاؤں، رات کو جہاز کی ٹکٹ بھی سستی ہوا کرتی تھی، فلائیٹ کے ذریعے ہم رات گئے فجر سے پہلے پہنچ گئے اور پھر نماز فجر کے بعد ناشتے پر رؤف کلاسرا کے شہر لیہ کے فیض محمد شاہین سے ملاقات ہوئی۔ گپ شپ میں جلسے کا انتظار کرتے کرتے دن گزرتا گیا، دوپہر سے جلسہ شروع ہوا، خطیبوں نے لمبے لمبے خطابات کئے لیکن شام کو اعلانِ انقلاب ٹال دیا گیا۔ جمعیت کے انقلابی لوگوں نے سمجھ لیا کہ عوام کیساتھ مولانا فضل الرحمن نے ہاتھ کرلیا ہے مگر اس کی وجہ نہیں سمجھ سکے۔ یہ تو نہیں ہوسکتا تھا کہ مولانا سے وجہ پوچھ لی جاتی ،جو ہوا ہوگیا۔
میں صبح صبح پہلے دوست کے پاس پہنچ گیا جو ملتان کے رہنے والے تھے اور پھر یہ پتہ چلا کہ ان کی مسجد ہیرہ منڈی میں ہے۔ شام کو بہت تھکا ہوا تھا مگر وہاں واپس نہیں گیا،پہلے پتہ ہوتا تو بھی نہ جاتا۔ مغرب کی نماز سے پہلے ہم داتا دربار کی مسجد میں گئے۔ بہت سخت تھکان تھی، نہیں معلوم تھا کہ مینار پاکستان کے پارک کا نام منٹو پارک ہے۔ مسجد میں سر قبلہ کی طرف کرکے لیٹ گیا تو ایک لاہوری نے آکر مجھ سے پوچھا کہ منٹو پارک میں آئے تھے؟۔ میں نے کہا کہ نہیںاورکیوں؟۔ اس نے کہا کہ مزار شریف کی طرف پیر ہیں ،ان کارُخ دوسری طرف کردو۔ میں نے بلا تأمل حکم مان کر پیروں کا رخ دوسری طرف کیا اور پھر اس کو پوچھا کہ ” جب نمازی سجدے میں جاتے ہیں تو پھر اپنے پیروں اور توپوں کا رُخ مزار شریف کی طرف نہیں کرتے؟۔ اسکے پاس جواب نہ تھا۔
محمود خان اچکزئی کی تقریر کا خلاصہ یہی تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کی تاریخ انگریزسے لیکر پاکستان بننے کے بعد اور آج تک جس طرح سے رہی ہے لاہوریوں کا اپنا کردار بدلنا ہوگا لیکن گلی کوچوں میں بھونکنے والے صحافیوں ہی نے نہیں اچھے بھلے صحافیوں نے بھی محمود خان اچکزئی کی زبردست کلاس لے لی۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ ایوب ہزارے کا تھا، یحییٰ خان پشاور کا قزلباش تھا لیکن اسٹیبلشمنٹ کا مرکز پنجاب تھا۔ بنگلہ دیش ٹوٹا تو اس کی وجہ احساسِ محرومی تھی۔ محمود اچکزئی اگر اپنے بچپن کی یتیمی اور ریاستی مظالم کا ذکر کرتا اور مریم نواز عمران خان کو طعنہ دیتی کہ ”تم نے کہا تھا کہ نہیں چھوڑوں گا” ۔ اب تم بتاؤ کہ ہم باپ بیٹی تمہارے اقتدار میں آنے سے پہلے گرفتار تھے۔ میرا باپ تو بیماری کا بہانہ کرکے چلا گیا اور میں باپ کی بیماری میں تیمار داری کیلئے رہا کی گئی تھی اور آزاد ہوں تو تمہارا یہ کہنا کہ نہیں چھوڑوں گا ، کہاں گیا؟۔ تو لوگوں کو جلسے میں بڑا مزہ آجاتا اور بک بک کرنے والوں کو بھی اپنی نوکری دونوں طرف سے پکی کرنے کا موقع بھی نہ ملتا۔
اللہ نے قرآن میں غزوہ بدر کیلئے فرمایا کہ ” میں نے تمہاری نظروں میں کافروں کو کم کرکے دکھایا اور کافروں کی نظروں میں تمہیں کم کرکے دکھایا، اگر ایسا نہ کرتا تو پھر تم پھسل جاتے اور لڑ نہ پاتے”۔ پی ڈی ایم (PDM)کا جلسہ مخالفین کی نظروں میں ایک دوسرے کیلئے جیسا بھی تھا لیکن لگ رہاہے کہ آنے والے وقت میں مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے ریاست کیساتھ ایک بڑا تصادم ہوگا۔ یہ ریاست اور سیاست کا وہ کھیل ہے جو اپنے منطقی انجام کی طرف جارہاہے۔ جو جیت گیا عوام اسکے ساتھ ہوگی۔ چڑھتے سورج کے پچاری بھی اسی کو سلام کریںگے۔ نیازی کی تقریریں اس وقت دھرنے میں زیادہ پسماندہ تھیں جب ڈاکٹر طاہر القادری نے اس کو چھوڑ دیا تھا۔ میڈیا روز چینلوں پر تماشا لگاتا تھا لیکن کچھ بنتا نہیں تھا، جبکہ اکیلے مولانا فضل الرحمن کا دھرنا عمران خان کو ہلانے کیلئے کافی تھا، اس وقت اچکزئی کی بات مانتے اور فیصل مسجد تک بھی جلوس لے جاتے تو نیازی نے ہتھیار ڈالنے تھے۔ مولانا بہت بڑا سیاسی کھلاڑی ہے، اس کی چاہت تھی کہ نوازشریف کے شیر اور شیرنیاں بھی نکل آئیں لیکن جب شیر پنجرے میں ہوتا ہے تو ڈھیر ہوتا ہے۔ اب نوازشریف باہر بیٹھ گیاہے ۔ مولانا فضل الرحمن خالی دھمکی دیتا تھا کہ اگر فوج نے مداخلت کی تو پھر وہ بھی نشانہ ہوگی۔ آئی ایس پی آر (ISPR)آصف غفور نے تو اس وقت کہا کہ ”ہم آئندہ انتخابات میں نہیں آئیں گے”۔ ایک طرف نئے فوجی افسروں کی ترقی تو دوسری طرف پنجاب سمیت اپوزیشن کی ساری جماعتیںہیں۔ دمادم مست قلندر ہوگا۔عوام تنگ آمد بہ جنگ آمد اور عمران خان نے اپنی خواہش پوری کرلی ،وزیراعظم بن گئے۔ہنوز دلی دور است والوں کو آئندہ پتہ چلے گا۔