اللہ نے طلاق اور اس سے رجوع کا معاملہ جس طرح واضح کیا،اسی طرح صحابہ اور مفافقین کا معاملہ واضح کیا

71
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

جس طرح سنی علماء ومفتیان قرآن کی واضح آیات سے محض اسلئے انحراف کررہے ہیں کہ انہوں نے اپنا ایک ماحول بنالیا ہے۔

اسی طرح سے شیعہ صحابہ کرام کے بارے میں واضح آیات سے اپنے ماحول کی وجہ سے بہت ہی واضح انحراف کررہے ہیں۔

سنی علماء ومفتیان طویل عرصہ سے طلاق اور اس سے رجوع کے مسئلے کو قرآن کی واضح آیات میں دیکھنے کا صرف نام لینے سے بھی بدک رہے ہیں۔ وہ قرآن کی آیات اور مسلمانوں کی عزت و حرمت کی پامالی کا لحاظ نہیں کرتے ہیں اور اپنے ماحول کو اس پر قربان نہیں کرسکتے ہیں۔ کیا ان کا ماحول، ان کا دھندہ اور معاشرے میں ان کی ساکھ قرآن اور مسلمانوں کی عصمت دری سے زیادہ عزیز ہے؟۔
سپاہ صحابہ اور اس کے سرپرست اہل تشیع کو قرآن سے مانوس کرنے کیلئے پہلے خود تو قرآن کی طرف متوجہ ہوں۔ استاذ مفتی محمد نعیم نے طلاق سے رجوع کا مسئلہ قرآن سے سمجھنے کے باوجود اعلان اسلئے نہیں کیا کہ جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ کراچی کو دیوبندی وفاق المدارس سے نکال دینگے۔ کیا وفاق المدارس اور علماء ومفتیان کی صفوں میں رہنا حمایت قرآن سے زیادہ اہم ہے؟۔ حلالہ کے نام پر عورتوں سے جبری مذہبی اور مسلکی متعہ کیا جارہاہے جاہل معاشرے کے جاہل افراد کوایک طویل عرصہ سے حلالہ کی لعنت کا شکار بنایا جارہاہے۔ جس دن سنی مکتبۂ فکر کے علماء ومفتیان اپنے لوگوں پررحم کھاکر قرآن وسنت کی طرف رجوع کا اعلان کر ینگے تو اہل تشیع کے علماء وذاکرین کو بھی یہ توفیق ملے گی کہ قرآن کی طرف رجوع کرکے اپنی مجالس میں صحابہ کرام کے فضائل اپنے لوگوں کے دلوں میں بٹھا دینگے۔
جب تک سنی اپنے ماحول کی قربانی نہیں دیں گے تو شیعہ سے اپنے ماحول کی توقع رکھنا بھی غیرت کا تقاضہ نہیں ہے۔ ایک عرصہ سے ہم نے قرآن وسنت اور اصولِ فقہ کی متفقہ تعلیمات سے طلاق اور اس سے رجوع کا مسئلہ واضح کیا ہے لیکن پھر بھی وفاق المدارس اور تنظیم المدارس ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مدارس ہمارے لئے واحد ذریعہ معاش، شہرت، اعتماداور عزت ہے۔ جب تک کوئی متبادل چیز سامنے نہ آئے اپنے ماحول سے کیسے ہم جدا ہوسکتے ہیں؟۔ پھر شیعہ کو بھی یہ مہلت دینی ہوگی۔
اہل تشیع کے مخالفین دو طرح کے ہیں۔ ایک ان کو صحابہ کرام کے دشمن اوربدترین گمراہ سمجھتے ہیں۔دوسرے ان کو ایران کے مجوسی اور وہ منافقین سمجھتے ہیں جنہوں نے اسلام کا لبادہ اُوڑھ کر عرب اور مسلمانوں سے ایران کی اس شکست کا بدلہ لینا ہے جو صحابہ کرام نے کسریٰ ایران کو دی تھی۔ اول الذکر سپاہ صحابہ، دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث ہیں جنہوں نے محرم میںحضرت ابوبکر اورحضرت ابوسفیان کے حق میں کراچی کے اندر بڑے بڑے جلوس نکالے تھے اور یہاں تک کہ بعض لوگوں نے یزید زندہ باد کے نعرے بھی لگائے تھے۔ یہ لوگ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ اہل تشیع صحابہ کرام میں سے کسی کی شان میں بھی گستاخی نہ کریں۔ پیپلزپارٹی کی رہنما شہلا رضا نے معاویہ کے ساتھ حضرت نہیں کہا تو مجبوراً پھر حضرت معاویہ کہہ کر یہ وضاحت کردی کہ ”میں نے عمران خان کے الفاظ کو نقل کرتے ہوئے نام اس طرح لیا، میری یہ اوقات ہے کہ خلفاء کے حوالے سے کوئی بات کہہ دوں۔ نہ مجھے تاریخ کا زیادہ پتہ ہے”۔
اگر صحابہ کرام کے فضائل میں قرآنی آیات سے اہل تشیع کے علماء وذاکرین اپنی عوام کو آگاہ کرنا شروع کردیں تو پھر اہل سنت و اہل تشیع شیروشکر ہوجائیں گے۔ لیکن جب سنی طلاق سے رجوع کے مسئلہ پر قرآنی آیات کی طرف رجوع کرکے اپنی شادی شدہ خواتین کی عزت و ناموس اور غیرت و عصمت بچانے میں ماحول کی بھی قربانی نہیں دے سکتے تو شیعہ اپناماحول کیوں چھوڑیں گے؟۔
پہلے آپ اور پہلے آپ کا مسئلہ اس وقت تک دونوں فرقوں کے درمیان چلے گا کہ جب سعودیہ ،ایران ،پاکستان اور ترکی سمیت تمام مسلم ممالک کو یہودونصاریٰ اپنا غلام بنالیںگے۔ یا پھر عوام اور ہماری ریاستوں وحکومتوں میں شعور بیدار ہوگا۔ حلالے کی لعنت اور صحابہ کرام سے عنادکی بیخ کنی میں ایک بیدار قوم کی طرح کردار ادا کریں گے۔
وزیراعظم عمران خان کو ریاست کے حساس اداروں نے اُمت مسلمہ کو مشکلات سے نکالنے پر آمادہ کیا ہے لیکن یہ ان دونوں حکومت وریاست کے بس کی بات نہیں ہے۔
کالعدم سپاہ ِ صحابہ اہل سنت کے علامہ احمد لدھیانوی نے پشاور میں وفات یوم صدیق اکبر کے موقع پر حکومت کو اپنا پیغام دیا کہ ہم کسی سیاسی جماعت(تحریک انصاف) کے اتحادی نہیں ۔ ا ہلسنت والجماعت (PDM) سے زیادہ خطرناک ثابت ہوگی۔ حکومت اپنے وزیروں اور مشیروں کا رویہ درست کرلے۔پہلے کالعدم سپاہ صحابہ عمران خان کے اتحادی کی حیثیت سے مولانا فضل الرحمن کی ہر معاملے میں مخالفت کررہی تھی۔اب شیعہ مشیروں کا غلبہ لگتا ہے۔
اہل تشیع کے دوسرے مخالف غلام احمد پرویز کے ذہن سے تعلق رکھنے والا جدید تعلیم یافتہ طبقہ ہے۔ جو شروع سے شیعہ کو ایرانی مجوسیوں کی سازش سمجھتے ہیں۔ وہ یہاں تک کہتے ہیں کہ صحاح ستہ حدیث کی چھ کتابیں بھی اہل سنت کی نہیں ہیں بلکہ یہ ایرانی مجوسیوں کی سازش ہیں۔ جاوید احمد غامدی بھی صحیح بخاری ومسلم کی احادیث کو منصوبہ بندی سے ایک گہری سازش سمجھتے ہیں۔ امام خمینی نے کہا تھا کہ میری قوم نبیۖ کی قوم سے اچھی ہے۔ سورۂ محمد کے آخرمیں ثم لایکون امثالکم ” پھروہ تمہارے جیسے نہیں ہونگے” سے مراد ایرانی قوم کو صحابہ کرام کے مقابلے میں لیا ہے۔
پھر آخر میں سوال پیدا ہوگا کہ حضرت علی، حسن ، حسین اور بنوعباس تک رہنے والے بارہ امام بھی تو عرب تھے مگر ان ائمہ نے اپنا فرض پورا نہیںکیا۔ حالانکہ امام خمینی پر فرض بھی نہیں تھا تو انقلاب لایا۔ عراق پر امریکہ نے حملہ کیا تو شیعہ نے ساتھ دیا۔ سعودیہ پر امریکہ حملہ کرکے مکہ مدینہ شیعہ کے حوالہ کردینگے تو بنی امیہ نے مکہ میں حضرت ابوبکرکے نواسے عبداللہ بن زبیر ، نبیۖ کے نواسے حسین کوکربلا میں شہید کردیا توصحافی کو ٹکڑے کرنیوالے ولی عہد کو کیوں نہ مارا جائے؟۔ اگر ابھی نہ جاگے تو ہم ایک بہت ہی زیادہ تاریک خطرناک مستقبل کی طرف جارہے ہیں۔