ظالموں نے خواتین اور تمام مظلوم طبقات کے حقوق دبادئیے

476
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ظالموں نے خواتین اور تمام مظلوم طبقات کے حقوق دبادئیے

عورت کے حقوق کی پامالی!

آج طاقتور طبقات دنیا پر غالب ہیں۔ ظالم کو ظلم سے روکنے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ گھر، محلہ، زون اور شہر سے لیکر صوبائی ، ملکی اور بین الاقوامی سطح تک جبر، زیادتی اور ظلم کا راج ہے۔ جسکے ہاتھ طاقت کا راج ہے اسکے آگے کمزور اپاہج ہے۔ جب قرآن نازل ہوا، لوگوں کے دلوں میں اترا۔ گھر اورمعاشرے سے مظلوم طبقات کو تحفظ دینے کے عملی قوانین بنائے۔ کمزور عورت کو قانون کی طاقت دی اور تمام کمزور طبقات کو مکمل تحفظ دیا۔ عزت کا معیار دولت اور طاقت کو نہیں بنایا بلکہ کردار کو بنایا۔قانون کی نظر میں سب کو برابر کردیا۔ شعور کی دولت عام کردی۔ نسلی بنیاد پر تعصبات کا خاتمہ کیا۔ انسانیت کو معیار ، اخلاق کو بڑا درجہ دیا ۔ مخلوقِ خدا کو عیال اللہ (اللہ کا کنبہ ) قرار دیا۔ ابلیس کے تمام ہتھکنڈوں کو خاک میں ملایا تو دنیا نے دیکھا کہ کمزور عرب کے ہاتھوں قیصر وکسریٰ کی سپر طاقتوں کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ ہمیں اسلام کی نشاة اول کی پیروی کرنی ہے اور اچھی توقعات کیساتھ ان باطل لوگوں سے سمجھوتہ نہیں کرنا، جنہوں نے قرآنی تعلیم کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے سب سے بڑے مدرس علامہ انور شاہ کشمیری نے لکھا ہے کہ ” قرآن میں معنوی تحریف تو بہت ہوئی ہے لیکن لفظی بھی ہوئی ہے، یا تو انہوں مغالطے سے ایسا کیا ہے یا جان بوجھ کر کیا ہے۔ (فیض الباری)
علامہ انورشاہ کشمیری سے عقیدت ومحبت رکھنے والے اس عبارت پر اپنی بڑی دُم دباکر چپ کی سادھ لیتے ہیں مگر اصولِ فقہ میں قرآن کی جو تعریف کی گئی ہے۔ اس میں المکتوب فی المصاحف سے مراد لکھے ہوئے حروف نہیں جس کی وجہ سے فتاویٰ شامیہ اور فتاویٰ قاضی خان کے علاوہ صاحب ہدایہ کی کتاب تجنیس میں سورہ فاتحہ کو علاج کیلئے پیشاب سے لکھنا جائز قرار دیا گیا ۔ مفتی محمود زکوٰة کی کٹوتی پر اور مولانا سلیم اللہ خان ومفتی زرولی خان سودی اسلامی بینکاری سے تائب نہیں کراسکے مگر سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے جواز پر مفتی تقی عثمانی کو ہم نے فقہی مقالات اور ان کی کتاب تکملہ فتح المہلم سے نکالنے پر مجبور کیا۔
اگر قرآن کی تعریف میں متواتر کی قید سے مشہور اور اخبار احاد نکل جائیں ۔ بلاشبہ کی قید سے بسم اللہ نکل جائے تو قرآن کی لفظی حفاظت پر اعتقاد کیسے باقی رہ سکتا ہے لیکن درسِ نظامی میں بہت ڈھٹائی سے پڑھایا جاتا ہے کہ شافعی کے نزدیک قرآن کی طرف منسوب مشہور اور اخبار احاد کی کوئی حیثیت نہیں ،البتہ احادیث کی ہے۔ جبکہ احناف کے نزدیک احادیث کی نہیں لیکن قرآن کی طرف منسوب جھوٹی آیات کی ہے۔ اس سے بڑھ کر لفظی تحریف اور کیا ہے؟۔
ہماراموضوع علامہ انورشاہ کشمیری کی طرف سے وہ معنوی تحریفات ہیں جو عورت کے حقوق کے حوالے سے ہیں۔ ویمن ڈیموکریٹ الائنس کی خواتین سوشل میڈیا کے بعد عدالت اور پارلیمنٹ میں بھی ان مسائل کو لیکر جائیں۔ ہماری طرف سے بھرپور تعان حاصل ہوگا۔ انشاء اللہ
حضرت عائشہ کے دور میں علماء ومفتیان نہیں تھے لیکن بعد والے جمہور نے اماں عائشہ سے عقیدت رکھنے کی وجہ سے تقلید کی اور احناف نے اپنی کم عقلی کے باعث ان کے مؤقف کو قرآن کے خاص عددتین سے متصادم سمجھ کر بالکل غلط ثابت کرنے کی ناکام ، نامعقول اور گھناؤنی کوشش کا آغاز کردیا، جس کے نتیجے میں قرآن عوام میں متروک ہوا۔
اللہ نے آیت 228البقرہ میں واضح طور پر عدت کی وضاحت کردی کہ حیض والی کیلئے تین مراحل ہیں۔ جس کو حمل ہو وہ اپنے حمل کو نہ چھپائے۔ اور عدت میں اصلاح کی شرط پر شوہروں کو ہی رجوع کا حق حاصل ہے۔ اب اگر عدت کے اندر ہی کوئی فتویٰ دیتا ہے کہ صلح کے باجود رجوع نہیں ہوسکتا۔ پہلے مفتی کے حجرے میں حلالہ کی لعنت سے قرآن کی دھجیاں بکھیرنے کی برسات کرنی پڑے گی ۔ پھر وہ عورت روسیاہ ہوکر اپنے شوہر کے پاس جاسکے گی ۔ تو بتانا پڑیگا کہ ” سامنے تو دیکھو، پیچھے تو دیکھو اور آگے تو دیکھو”۔
اللہ نے رجوع کا تعلق عدت اور صلح کیساتھ واضح کیا ہے تو عدت کے اندر صلح کی شرط پر کیا رجوع نہیں ہوسکتاہے اور مفتی نے آخری حد تک ہٹ دھرمی پر قائم رہناہے؟۔
دورِ جاہلیت کی ایک رسم یہ تھی کہ عدت میں شوہرجتنی مرتبہ چاہتا تو رجوع کرسکتا تھا۔ اللہ نے اصلاح کی شرط پر رجوع کا حق واضح کرکے اس رسمِ بد کا خاتمہ کردیا ۔دوسری رسمِ بد یہ تھی کہ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد باہمی اصلاح کی شرط پر بھی رجوع کا دروازہ بند ہوجاتا تھا۔ اللہ نے اس رسمِ بد کو بھی دفن کردیا۔ قرآنی آیت بہت واضح ہے۔ صلح کی جگہ ” اصلاح کی شرط” اسلئے لگادی کہ اگر شوہر نے اصلاح کی بجائے محض صلح کرلی اور اصلاح نہیں کی تو پھر بھی رجوع معتبر نہیں ہوگا۔ اگر شوہر زبردستی کرتا ہے تو یہ اس کیلئے نکاح نہیںحرامکاری ہے۔ اس طرح تو کسی بھی عورت کو زبردستی سے مجبور کرکے اپنی ہوس کا نشانہ بناسکتا ہے لیکن شریعت کا قانون حلال وحرام کے حوالے سے بہت سخت ہے۔ جب عورت کیلئے حمل چھپانا جائز نہیں تو شوہر کیلئے دھوکہ سے صلح کرنے سے عورت کیسے حلال ہوسکتی ہے؟۔ اللہ نے آیت میں اصلاح کی شرط رکھ کر عورت کو کمال کا تحفظ عطا ء کردیا۔
جب ایک طلاق کے بعد بھی اصلاح کی شرط کے بغیر شوہر کیلئے رجوع کرنا حلال نہیں ہے تو پھر اگر وہ اکٹھی تین طلاق دے اور عورت صلح کیلئے راضی نہ ہو تو بدر جہ اولیٰ اس کیلئے رجوع کرنا حلال نہیں ہوگا۔ حضرت عمر کے فیصلے اور حضرت ابن عباس کی روایت میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ اگر عورت صلح کیلئے راضی ہو تو پھر ایک ساتھ تین طلاق کو ایک طلاق شمار کیا جائیگا۔ وہ بھی کم عقل علماء وفقہاء کے پیمانے پر نہیں بلکہ تین مرتبہ طلاق کے فعل کا تعلق قرآن وسنت کے مطابق طہروحیض کے تین مراحل سے ہے۔ حمل میں تین طلاق کا کوئی تصور نہیں اور عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کے باوجود رجوع کا دروازہ بند نہیں ہوتاہے بلکہ صلح کی شرط پر یعنی معروف طریقے سے عدت کے اندر ، عدت کی تکمیل پر اور عدت کی تکمیل کے عرصہ بعد اللہ تعالیٰ نے بار بار واضح الفاظ میں رجوع کی اجازت دیدی ہے۔
حضرت عمر کے فیصلے کی ائمہ اربعہ اہلسنت نے فتویٰ سے تائید کردی تو وہ بھی قرآن کی روح کے عین مطابق ہے اور حضرت علی سے بھی یہ فتویٰ منسوب ہے کہ حرام کے لفظ کو تین طلاق قرار دیدیا۔ اس کا مطلب فیصلے اور فتوے کی وہ صورتیں ہیں جب عورت صلح پر آمادہ نہ ہو۔ تاکہ عورت کی جان شوہر کے جبر سے چھوٹ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی آیت230البقرہ میں فرمایا کہ ” اگر پھر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں حتی کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”۔ اس سے پہلے آیت229کو بھی دیکھ لینا چاہیے کہ کس طرح کی صورتحال کے بعد اللہ نے اس حکم کو واضح فرمایا ہے۔ آیات228،229اور231، 232 کو دیکھے بغیر آیت230پر فتویٰ دینا انتہائی گمراہی ہے اور امام ہدایت وہ ہے جس نے حق و سچ کیساتھ رہنمائی کا فرض ادا کرناہے۔ علماء ومفتیان امام مہدی کے انتظار میں بیٹھے ہیں لیکن قرآن خود بھی قوموں کو ہدایت کا امام بناسکتا ہے۔
علماء سمجھتے ہیں کہ قرآن میں دو دفعہ طلاق رجعی ہے مگر پھر شوہر کااپنی عورت پر تین عدتوں کا حق ہوگا۔ ایک مرتبہ طلاق کے بعد عدت کے آخر میں رجوع کرلے گا۔ یہ ایک عدت ہوگئی۔ پھر دوسری طلاق دیگا اور عدت کے آخرمیں رجوع کرلے گا۔ یہ دوسری عدت ہوئی۔ پھر تیسری مرتبہ طلاق دیگا تو تیسری عدت گزارے گی۔ اللہ نے عورت کو ایک عدت تین مراحل میں انتظار کا حکم دیا اور مولوی نے یہ ایک عدت تین مراحل سے بڑھاکر تین عدتوں9 مراحل تک بات پہنچادی۔ اگر اُم المؤمنین حضرت عائشہ ہوتیں تو فقہاء وعلماء کو قرآن ، عورت اور طلاق وعدت سے یہ کھلواڑ کرنے دیتیں؟۔ جنگ ِ جمل میں قصاصِ عثمانکے مطالبہ سے قرآن اور خواتین کا روحانی قتل کیا کم بات ہے؟۔ صلح حدیبیہ سے پہلے رسول اللہۖ نے حضرت عثمان کے قتل کی جھوٹی خبر پر بیعت لی تھی جو بیعت رضوان کہلاتی ہے۔
رسولۖ نے یہ خبر بھی دی تھی کہ میری امت سابقہ امتوں یہودونصاریٰ کے نقشِ قدم پر چلے گی۔ جن کے علماء نے کتے اور گدھوں کا کردار ادا کیا اور لوگوں نے اللہ کے سوا ان کو اپنا رب بنالیاتھا۔ سوشل میڈیا پر فرقہ واریت کا ناسور پھیلانے کی بجائے قرآن وسنت کے واضح احکام کو پیش کیا جائے تو ناسوری اور نسواری سب راہ پر آجائیں گے۔