علتِ مشائخ کی تباہ کاریوں سے زمین پر لرزہ طاری؟

489
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

کچھ عرصہ پہلے فیصل آباد کے معروف جامعہ کے مہتمم شیخ الحدیث مولانا نذیراحمد کے خلاف فجر کی نماز کے بعد ایک طالب علم نے کھڑے ہوکر گواہی دی کہ مجھے جبری جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔پھر یکے بعد دیگرے ایک اچھی خاصی تعداد نے اپنی شکایت روتے ہوئے سنائی۔ شیخ الحدیث مولانا نذیر احمد مفتی محمدتقی عثمانی کا دوست تھا۔ 25سے 30 بچوں نے اپنے اوپر جنسی تشدد کی گواہی دی۔ شیخ الحدیث نذیر احمد کے بیٹوں نے اپنے باپ سے تنازعہ کیا اور فیصلے کیلئے مفتی محمد تقی عثمانی کو بلایا تھا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن وسنت میں علماء ومفتیان کے ہاں اس بات پر کیا سزا ہوسکتی ہے۔ اس کا بالکل بہت سادہ اور واضح جواب یہ ہے کہ ہر بچے اور لڑکے کو چار چار گواہ پیش کرنے ہونگے، تب ہی کسی سزا کا تصور ہوسکتا ہے لیکن اگر کوئی اپنے خلاف جبری جنسی تشدد کی شکایت نہ کرے تو پھر ”میرا جسم میری مرضی” کی گونج اپنی قومی اسمبلی میں بھی قادر پٹیل اور مراد سعید کے حوالے سے سنائی دیتی ہے۔
گوجرانوالہ سے تبلیغی جماعت کے کارکن سید زاہدشاہ گیلانی نے مختلف عوامی اور سرکاری حلقوں میں ناظرہ قرآن کا درس شروع کیا تو علماء کو کام پسندآیا مگر حسدبھی رکھا۔ زاہد گیلانی نے بتایا کہ علماء نے کہا کہ قوم لوط کاعمل علتِ مشائخ ہے۔ 17مارچ کو حافظ آباد سے خبر میڈیا پرنشر ہوئی ” 13 اور 16 سالہ دوبھائیوں کو جنسی تشدد کے بعد قتل کرکے پھینکا گیا ”۔ رحیم یار خان میں 10 سالہ بچی کو جنسی تشدد کے بعد قتل کیاگیا۔ڈارک ویب کا کارکن گینگ سمیت پکڑاگیا۔ تسلسل سے جنسی تشدد جاری ہے۔ قوم تماشہ دیکھ رہی ہے۔عورت مارچ نے جنسی تشدد اور پدرِ شاہی نظام کیخلاف نعرہ بلند کیا تو ریاست، صحافت، سیاسی ومذہبی پنڈتوں نے دوسرا رنگ دینے کی کوشش کی اور یہ تأثر قائم کردیا کہ یہ بیہودہ خواتین اپنے جسم کو پیش کررہی ہیں۔
چلو مان لیا کہ یہ خود کو پیش کررہی تھیں حالانکہ سلیم فطرت خواتین ایسا نہیں کرسکتی ہیں لیکن جبری جنسی تشدد کیخلاف توکم ازکم آواز اٹھارہی تھیں۔ ”جب فرشتے لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط علیہ السلام کے پاس عذاب دینے کیلئے آئے تو قوم نے کہا کہ ہم ان سے بدفعلی کرینگے۔ حضرت لوط ؑنے کہا یہ میری بیٹیاں ہیں اگر تم کرتے ہو۔ کہنے لگے کہ ہمیں ان سے غرض نہیں، یہ آپ جانتے ہیں“(قرآن)۔ بدکردار قوم کیساتھ حضرت لوطؑ کی پردہ دار بیوی بھی ملی ہوئی تھی۔پھر اللہ نے ان پر عذاب نازل کیا تو بیوی بھی اس کی لپیٹ میں آگئی۔یہ تو اللہ ہی جانتا ہے کہ حیا مارچ کے نام پر مولوی اور جماعتِ اسلامی والوں کی بیگمات بگڑی تھیں یا جن خواتین کیلئے مذہبی طبقے نے معاشرے میں یہ تأثر قائم کیا کہ خبیث مردخبیث عورتوں کیلئے ہیں؟۔
دریا میں پشاور کے کارخانوں مارکیٹ کا کیمیکل اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت ساراگٹر سسٹم ڈالا جاتا ہے۔ یورپ میں جتنے لوگ کرونا وائرس سے مرتے ہیںاگر ان کو ہمارا پانی پلایا جائے تو اس سے کئی گنا شرح اموات میں اضافہ ہوگا۔ جب بنی اسرائیل کی حالت ناقابلِ اصلاح ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے چالیس سال تک جنگل میں رہنے کی سزا دی۔ کروناسے زیادہ خطرہ پچاس سال سے زیادہ عمر والوں کیلئے ہے۔ جبری جنسی تشدد ، غلامانہ نظام اور محنت کش طبقات کی زندگیوں کا اجیرن ہونا بہت بڑا المیہ ہے۔ کرونا پر قابو پالیںگے لیکن جب تک ظلم وستم کے خاتمے کیلئے ایک مشترکہ لائحۂ عمل تشکیل نہ دیا جائے تو ایکدوسرے کی مخالفت سے کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔
خلیل الرحمن قمر نے ڈرامے لکھے مگر قرآن وسنت اور انسانی فطرت سے انحراف کی چالیں نہیں دیکھی ہیں۔ جنرل پرویزمشرف کے دور میں خواتین تحفظ بل منظور کرنے کی بات ہوئی ، جس کی بنیاد یہ تھی کہ 80فیصد سے زیادہ خواتین جیل میں بند تھیں کہ ان کیساتھ جبری جنسی زیادتی ہوئی تھی اور جب چار عادل گواہ پیش کرنے سے قاصر رہیں تو اُلٹا انہی کو قید کردیا گیا۔ حدود آرڈینینس میں تبدیلی کی بات ہوئی تو شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے اسکے خلاف بہت بھونڈے انداز میں لکھ دیا۔ جس کو جماعت اسلامی نے چھاپ کر بڑے پیمانے پر اس کی تشہیر کردی۔ اس وقت ہم ضرب حق کے نام سے اخبار نکالتے تھے۔ ہم نے ایک پمفلٹ لکھ کر مفتی تقی عثمانی کے دانت کھٹے کردئیے تھے۔ اسی لئے زرداری کے دور میں خواتین تحفظ بل کی کسی نے مخالفت نہیں کی ۔ قرآن میں زنا بالجبر کی سزا قتل اور حدیث میں سنگساری ہے ۔
اگر خواتین کو مغربی نظام اور مغربی لبادہ کسی قدر زنا بالجبر سے تحفظ دے اور برقعہ یا اسلامی نظام جبری جنسی زیادتی سے تحفظ نہیں دے سکتاتو آج چند خواتین ہیں ، کل خواتین کی بڑی تعداد ہوگی، انکا راستہ جبر وتشدد کے ذریعے سے نہیں روکا جاسکے گا۔
انسان کو زیادہ غیرت اپنی بیوی پر آتی ہے مگر ایسے بھی ہیں جن کو بیوی توکیا خود پر بھی غیرت نہیں آتی اسلئے کہ ان کی فطرت مسخ ہے ۔جو بیوی پر غیرت نہیں کھاتا بلکہ اس کو استعمال کرتا ہے تو اس کو دیوث کہتے ہیں۔ اشرافیہ کا گراف غیرت کے لحاظ سے افق پر نہیں۔ علتِ مشائخ نے مذہبی طبقے کا ضمیرمردہ بنایاہے۔ اسلام آباد عورت مارچ کیخلاف نکلنے والا مذہبی طبقہ غیرت رکھتا تو جنسی تشدد میں قتل کے خلاف عوام کو جلسے جلوسوں کی شکل میں احتجاج کیلئے ضرور نکالتالیکن وہ ایسا نہیں کرتے ہیں۔
ہمارے وزیرستان کےMNA پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر نے اسلام آباد عورت مارچ میں شرکت کی ، جس پر اسٹیج سے ان کا شکریہ بھی ادا کیا گیا مگر جب اس نے حالات کا جائزہ لیا تو موقع پر رفوچکر اور نو دو گیارہ ہونے میں عافیت جانی۔ فوج کیخلاف نعرہ لگانے والے کیلئے عورت مارچ میں مذہبی طبقہ کیخلاف کھڑا ہونا خالہ جی کا گھر نہ تھا۔ علی وزیر نے قومی اسمبلی میں کہا ”جو کچھ کہوں گا سچ کہوں گا۔سچ کے علاوہ کچھ نہیں کہوں گا۔ قبائلی علاقوں کے بڑے پاک فوج کی حمایت کی وجہ سے طالبان نے شہید کئے۔ میرا خاندان بھی فوج کی حمایت کی وجہ سے شہید کیا گیا”۔ حالانکہ اس میں کوئی صداقت نہیں ۔ البتہ جن لوگوں نے یہ الزام لگایا تھا کہ فوج اور طالبان نے ملکر ان کو شہید کیا ہے تو اس کی نفی ہوگئی ۔ شمالی و جنوبی وزیرستان میں وزیر قبائل نے بڑے پیمانے پر طالبان کی حمایت کی۔ ڈاکٹر گل عالم وزیر پہلے طالبان کیساتھ تھا اور اب علی وزیر کا ساتھی ہے۔ منظور پشتین کی بات درست ہے کہ ”ہم ظلم کیخلاف ہیں ، ظلم کوئی بھی کرے تو اسکے خلاف ہیں”۔ مذہبی طبقہ کا ظلم سامنے نہ لایا جائے توہم ایمان نہیں بچاسکتے ۔ مخصوص طبقہ کو ٹارگٹ کرنے کا اچھا نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ پاکستانی آئین اور ہمارے معاشرے کی بنیاد اسلام ہے اور اسلام کوعلماء نے مظلوم بنایا ہوا ہے۔ پاکستان میں جہیز اور حق مہر کے نام پر خواتین کو فروخت کرنے کا جس طرح کا ظلم معاشرے میں روا رکھا گیا ہے اور ان کی عزتوں کو حلالہ کے نام پر جس طرح سے لوٹا جارہاہے ۔ جبری جنسی زیادتی کو جس طرح قانونی تحفظ حاصل ہے۔ جب تک ان تلخ حقائق کو ہم درست طریقے سے ختم کرنے کا ٹھوس لائحۂ عمل تشکیل نہیں دیتے ،تو ہمارے مردہ معاشرے میں احسا س کی روح نہیں جاگ سکتی ہے۔
فوج، عدالت، سول بیوروکریسی ،سیاستدان، صحافی اورعلماء کرام ایک پیج پراس خطرناک وائرس کرونا سے بڑھ کرجرائم اور ظالمانہ رویوں کے خلاف قومی ایکشن کی تیاری کریں۔ قرآن وسنت ہی سے ظلم وجبر کے نظام سے چھٹکارامل سکتا ہے۔جب مذہبی لوگوں نے دہشت گردی کے ذریعے پوری دنیا کو ہلا ڈالا تودنیا میں اسلام بہت بدنام ہوا، لوگوں کو مسلمانوں سے نفرت ہونے لگی ۔ قرآن وسنت کے فطری قوانین کو دنیا میں متعارف کرایا گیا تو اسلام سے باغی اور تمام انسان اسلام کو پسند کرینگے۔