علماء ومفتیان کو اسلام کی درست تعبیرکی طرف آناپڑیگا!

718
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

علماء ومفتیان کو اسلام کی درست تعبیرکی طرف آناپڑیگا!

اداریہ نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی 2020

اللہ نے فرمایا الٰر کتب اُحکمت آےٰتہ ثم فصلت من لدن حکیم خبیرOالاتعبدوا الااللہ اننی لکم منہ نذیر وبشیرO وان استغفروا ربکم ثم توبوا الیہ یمتعکم متاعًا حسنًا الی اجل مسمًّی و یؤت کل ذی فضلٍ فضلہ وان تولّوا فانی اخاف علیکم عذاب یوم کبیرO” یہ کتاب ہے جس کی آیات کو استحکام بخشا گیا ہے ۔پھر خبر رکھنے والے حکیم کی طرف سے اس کی الگ مزید تفصیل بیان کی گئی ہے۔ خبردار! مت پوجو مگر اللہ کو ۔ بیشک میں تمہارے لئے ڈرانے اور خوشخبری سنانے والا ہوں اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی مانگو ۔ پھر اس کی طرف توبہ کرو۔ وہ تمہیں مقررہ مدت تک اچھی گزر بسر سے نواز دے گا۔اور ہر صاحب فضل کو اس کی فضیلت دیدے گااور اگر تم نے منہ موڑا تو میں تم پر بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں”۔ (سورۂ ہود آیات1،2،3)
جب سود کی حرمت والی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ۖ نے مزارعت پر بھی سود کا حکم لگادیا اور فرمایا کہ اپنی زمین کاشت کیلئے مفت دو،یا اپنے پاس رکھو لیکن مزارعت، کرایہ اور ٹھیکے پر دینا سود ہے۔ امام ابوحنیفہ ، امام مالک ، امام شافعی سب کا اتفاق تھا کہ زمین کو مزارعت پر دینا حرام وناجائز اور سود ہے۔ بہت ساری احادیث سے یہ ثابت ہے۔ مولانا محمد یوسف بنوری کے داماد مولانا محمد طاسین نے اس پر اپنی زبردست تصنیف بھی لکھی ہے لیکن وہ گوشۂ گم نامی کے نذر کردئیے گئے تھے۔
امام ابوحنیفہ کے شاگرد قاضی القضاة (چیف جسٹس) و شیخ الاسلام بن گئے تو اس نے مزارعت کو جائز قرار دیا ۔پھر دوسرے مسالک کے علماء ومفتیان کا فتویٰ بھی آہستہ آہستہ صفحۂ ہستی سے مٹتا چلا گیا۔ ایک بڑے عربی عالم ابوالعلاء معریٰ نے ہزار سال سے زیادہ عرصہ پہلے لکھا تھا کہ اسلام نے لونڈیوں کا رواج ختم کردیا تھا لیکن جب عرب حکمرانوں نے یورپ کی سرخ وسفید عورتوں کو دیکھا تو پھر لونڈی بنانے کا جواز شروع کردیا۔ لونڈی اور غلام بنانے کی ایک ہی صورت تھی کہ جنگ کے دوران پکڑے جانے والے مرد اور عورتوں کو قیدی بنالیا جاتا تھا تو انہیں لونڈی وغلام بنانے کا جواز ہوتا تھالیکن اللہ تعالیٰ نے سورۂ محمد میں یہ رسم ختم کر ڈالی۔ فرمایا کہ تمہاری مرضی ہے کہ قیدی فدیہ کے بدلے چھوڑتے ہو یا احسان کرکے مفت میں چھوڑتے ہو۔ اللہ نے تیسری صورت غلام اور لونڈی بنانے کی اجازت ختم کردی۔ چونکہ پہلے سے ایک رسم چلی آرہی تھی کہ جنگوں میں قید ہونے والوں کو لونڈی اور غلام بنایا جاتا تھا۔ اسلئے اسلام نے پہلے اس کی اجازت دی لیکن ایک طرف غلاموں اور لونڈیوں سے نکاح کرنا آزاد مشرک رشتہ داروں سے زیادہ بہتر قرار دیا اور دوسری طرف غلاموں اور لونڈیوں کا نکاح کرانے کا حکم دیا۔ تیسری طرف منکوحہ بیگمات کے علاوہ معاہدہ والی خواتین سے تعلق کی اجازت بھی دی۔ آج ترقی یافتہ ممالک میں بیگمات و گرل فرینڈز یا بوائے فرینڈز کا جو تصور ہے اسلام نے چودہ سوسال پہلے اس آزادی کے ماحول کو پیش کیا تھا لیکن غلاموں اور لونڈیوں کی رسم ختم کردی تھی۔
قرآن نے دودو، تین تین اور چار چارعورتوں سے چاہت کے مطابق نکاح کی اجازت دی اور فرمایا کہ اگر عدل نہ کرسکو تو ایک او ماملکت ایمانکم یاپھر جن سے تمہارا معاہدہ ہوا ہو۔ جاوید احمد غامدی نے کہا ہے کہ قرآن میں ایک ہی بیگم کا حکم ہے اور رسول اللہۖ کی بھی درحقیقت ایک ہی زوجہ رہی ہے۔ باقی ضرورت کے تحت مجبوری کی وجہ سے تھیں۔ حالانکہ اللہ نے آخر میں نبیۖ کو مزید نکاح سے روکا تھا کہ چاہے ان کا حسن اچھا ہی کیوں نہ لگے لیکن معاہدے والی کی اجازت دی ہے۔ ایک طرف جاوید غامدی قرآن وسنت کو اپنی خواہشات میں ڈھال رہاہے ۔ تو دوسری طرف علامہ غلام رسول سعیدی نے علامہ بدر الدین عینی کے حوالے سے لکھ دیا کہ نبیۖ کی 28ازواج تھیںاور27کے نام لکھے ہیںجن میں ایک چھوڑنے پر علامہ سعیدی نے گلہ کیا ہے کہ تعداد پوری نہیں لکھی ہے۔ قائداعظم یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے مسنداحمد کی ایک حدیث دکھائی کہ رسول اللہ ۖ نے ایک بچی کو دیکھا تو فرمایا کہ اگر یہ بالغ ہوجائے تو میں اس سے نکاح کروں گا۔ ہوسکتا ہے کہ علامہ بدرالدین عینی اس بچی کو شامل کرنا بھول گیا ہو، اسلئے تعداد پوری نہیں لکھی۔
علماء ومفتیان کو چاہیے کہ میری زندگی کا فائدہ اٹھائیں ورنہ ہوسکتا ہے کہ پھر بہت گنجلک مسائل کا وہ سامنا بھی نہیں کرسکیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا تھا کہ مجھے وزیرخزانہ بنادو، میں حفاظت اور جاننے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔بخاری نے لکھا کہ ” نبیۖ نے ام حبیبہ سے فرمایا کہ مجھ پر اپنی بیٹیاں پیش نہ کرو” اسلئے کہ سوتیلی بیٹیاں آپۖ پر حرام تھیں۔ جب نبیۖ نے حضرت علی کی ہمشیرہ ام ہانی کو فتح مکہ کے بعد نکاح کی پیشکش کی تو آپ نے اپنے بچوں کی وجہ سے قبول نہیں کی جس پر نبیۖ نے ام ہانی کی تعریف فرمائی۔ لیکن اللہ نے آیات نازل کیں کہ ہم نے وہ چچازاداور خالہ زادآپ کیلئے حلال کی ہیں جو آپ کیساتھ ہجرت کرچکیں۔ پھر آئندہ کسی بھی عورت سے نکاح کا بھی منع کیا لیکن معاہدے والی کی اجازت دیدی۔
علامہ بدرالدین عینی نے ام ہانی کو بھی ازواج مطہرات کی فہرست میں ڈال دیا ہے۔ ان کو ملکت ایمانکم میں داخل کرنا مناسب ہوتا۔فتح مکہ کے موقع پر نبیۖ نے وقتی معاہدے کی اجازت دی تھی۔ علامہ بدرالدین عینی نے امیر حمزہ کی بیٹی کو بھی 28کی فہرست میں شامل کیا ہے ،حالانکہ یہ بھی لکھا ہے کہ نبیۖ نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے فرمایا کہ امیرحمزہ میرے دودھ شریک بھائی تھے اور یہ میری بھتیجی ہے۔ اگر قرآن کی آیات اوربخاری ومسلم وغیرہ کی احادیث سے اپنے معاشرے کے نظام کو درست کرینگے تو دنیا میں اسلام کی بالادستی قائم ہوسکتی ہے۔
جب آزادنہ معاہدے یا ایگریمنٹ کی جگہ لونڈی نے لی تو سلطان عبد الحمید سلطنتِ عثمانیہ کے بادشاہ نے ساڑھے چار ہزار لونڈیاں رکھی تھیں۔ مغل بادشاہوں کی حرم سراؤں میںسینکڑوں من پسند لونڈیا ں ہوتی تھیں۔ محمد شاہ رنگیلاکے بارے میں سعداللہ جان برق نے اپنی کتاب”دختر کائنات” میں لکھا ہے کہ محل کے بالاخانہ پر جانے کیلئے زینے پر ننگی لڑکیاں کھڑی کرتا تھا اور ان کے سینوں کو پکڑ پکڑ کر چڑھتا اور اترتا تھا۔ ایک طرف سنی مکتبۂ فکر کی مستند تفاسیر میں لکھا ہے کہ عورتوں سے فائدے اٹھانے کیلئے الی اجل مسمی ایک مقررہ مدت تک قرآن کی آیت تھی جو عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں موجود تھی اور احناف کے نزدیک قرآن کی آیت خبرواحد بھی ہو تو معتبر ہے ،تو دوسری طرف بخاری میں عبداللہ ابن مسعود سے مروی ہے کہ نبیۖ نے متعہ کی اجازت دی اور پھر آیت پڑھی کہ لاتحرموا ما احل اللہ لکم من الطیبٰت ” حرام مت کروجو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ہے”۔
عبداللہ بن مسعود نے جلالین کی طرح تفسیر لکھی تھی وہ آیت نہیں سمجھتے تھے۔ اللہ نے لونڈی بنانے کو آل فرعون کی ایجاد قرار دیا تو اس طرزِ عمل کی اسلام میں کیوں اجازت دیتے؟۔ جب آزادانہ معاہدے کے حکم پر عمل معطل ہوگیا تو مسلمانوں میں داشتاؤں کا سلسلہ جاری ہوا۔ قرآن میں زنا کی سزا عورت اور مرد کیلئے 100، 100کوڑے ہے۔ سنگساری کی سزا پر یہود عمل نہ کرتے مگر خود ساختہ آیت الشیخ والشیخة ازا زنیا فرجموا ھما(جب بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت زنا کریں تو ان کو سنگسار کردو) بنارکھی تھی۔ نبیۖ نے شروع میں مسلم ویہودی اور عورت ومرد سب کیلئے یکساں عمل کیا مگرسورۂ نور کی آیت نازل ہونے کے بعد یہ حکم معطل ہوا۔