عمران خان کی پہلی اولاد بھی ناجائز ہے اور پہلی حکومت بھی ناجائز ہے۔ چیئر مین پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن

135
0

وہ پشتون نہیں بے غیرت ہے جو پی ٹی آئی کا سپورٹر ہے۔چاہے خٹک ہو، مروت ہو یا بنوچی ہو یا پھر بیٹنی ہو۔جو عمران خان دلّے کو وٹ دے

مولانا فضل الرحمن نے مولانا امان اللہ حقانی کی یاد میں ایک تقریب سے لکی مروت میں خطاب کیا

مولانا فضل الرحمن نے لکی مروت میں مولانا امان اللہ حقانی کی یادگارمیں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”وہ پشتون نہیں جو عمران خان کا سپورٹر ہو، چاہے وہ خٹک ہو، مروت ہو ، بنوچی ہو یا بیٹنی ہو”۔ عمران خان کی پہلی اولاد بھی ناجائز تھی اور پہلی حکومت بھی ناجائز ہے”۔ مولانا فضل الرحمن سے مروت قوم کے بعض لوگ بہت شدومد کیساتھ گلہ کررہے ہیں لیکن مولانا نے پشتون قوم کو غیرتمند قرار دیکر پاکستان کی دوسری قومیتوں پر سوال کھڑا کردیا ہے۔ مولانا کے اس بیان کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پنجابی، سرائیکی، بلوچ ، ہزارے وال ، کراچی کے مہاجر اور سندھی تو ویسے بھی بے غیرت ہیں اسلئے کہ ان کی اپنی جماعت کے راشد سومرو نے بھی لاڑکانہ میں پی ٹی آئی کا ساتھ دیا ۔ باقی قوموں کو اثر نہیں پڑتا ہے لیکن پشتون بے غیرت ہیں جو عمران خان کا ساتھ دیتے ہیں اور اس پر تفصیل سے صفحہ نمبر2میں روشنی بھی ڈالی ہے۔
پاک فوج، حکومت، اپوزیشن، پی ٹی ایم اورایم کیو ایم،بلوچ اور سب لوگ یہ آیات غور سے پڑھ لیں!
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُکَ قَوْلُہ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَیُشْہِدُ اللّٰہَ عَلٰی مَا فِیْ قَلْبِہ وَہُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ (204) وَاِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ (205) وَاِذَا قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہَ اَخَذَتْہُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُہ جَہَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِہَادُ (206) وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَآئَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ رَئُوْف بِالْعِبَادِ (207) یَآ اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّةً وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ اِنَّہ لَکُمْ عَدُوّ مُّبِیْن (208) فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْ بَعْدِ مَا جَآئَتْکُمُ الْبَیِّنَاتُ فَاعْلَمُوا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْز حَکِیْم (209) ہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ یَّاْتِیَہُمُ اللّٰہُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَآئِکَةُ وَقُضِیَ الْاَمْرُ وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ (210) اور لوگوں میں بعض ایسا بھی ہے جس کی بات دنیا کی زندگی میں آپ کو بھلی معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنے دل کی باتوں پر اللہ کو گواہ کرتا ہے، حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے اور جب پیٹھ پھیر کر جاتا ہے تو ملک میں فساد ڈالتا اور کھیتی اور نسل کو برباد کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتااور جب اسے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر تو اپنی عزت کا مسئلہ سمجھ کر اور بھی گناہ کرتا ہے، سو اس کیلئے دوزخ کافی ہے اور البتہ وہ برا ٹھکانہ ہے اور بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضا جوئی کیلئے اپنی جان بھی بیچ دیتے ہیںاور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔اے ایمان والو! اسلام میں سارے کے سارے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو، کیوں کہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔پھر اگر تم کھلی کھلی نشانیاں آجانے کے بعد بھی پھسل گئے تو جان لو کہ اللہ غالب حکمت والا ہے۔کیا وہ انتظار کرتے ہیں کہ اللہ ان کے سامنے بادلوں کے سایہ میں آ موجود ہو اور فرشتے بھی آجائیں اور کام پورا ہو جائے اور سب باتیں اللہ ہی کے اختیار میں ہیں( سورۂ بقرہ کی ان آیات کی روشنی میں سب اپنے اپنے گریبان میں جھانک لیں)