جب ان غلیظ لوگوں سے عوام کی عزتیں حلالہ سے لٹوادیں تب تمہیں ہوش آیاہے؟

لایؤاخذکم…”تمہیں اللہ لغو عہدوپیمان پر نہیں پکڑتا مگر جو تمہارے دِلوں نے کمایا ہے اس پر پکڑتا ہے اور اللہ غفور حلیم ہےOجو لوگ اپنی عورتوں سے نہ ملنے کا عہد کریں توان کیلئے چار ماہ ہیں،اگر آپس میں مل گئے توبیشک اللہ غفور رحیم

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

ہےOاور اگر انکا عزم طلاق کا تھا تو بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہےOاور طلاق والی عورتیں اپنی جانوں کوتین مراحل تک انتظار میں رکھیں اور ان کیلئے حلال نہیں کہ چھپائیں جو اللہ

نے ان کے رحموں میں پیدا کیا ہے اگر وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں اور ان کے شوہر اس میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں اگروہ اصلاح کرنا چاہیں…………O

سورۂ بقرہ کی آیات(224)کے بعد پھر (225،226،227اور228) کو ایک نظر فقہ میں موجود القائے شیطانی کی عینک اتار کر دیکھ لیں۔جب سکول کالج یونیورسٹیاں ،مدارس اور جامعات کا کوئی تصور نہیں تھا تب اللہ تعالیٰ نے ان پڑھ لوگوں کو بھی ان کے ذریعے سے رشدوہدایت کے اعلیٰ درجے پر پہنچایا تھا۔
جب آدمی بیوی کے پاس نہ جانے کیلئے کسی قسم کا بھی کوئی عہد کرتا ہے تو پھر مذہبی بنیاد پر سوچتا ہے کہ عورت سے صلح کرنا حرام تو نہیں ہے؟۔ اللہ نے اس وجہ سے حفظ ماتقدم کے طور پر فرمایا کہ اللہ کو اپنے عہدوپیمان کیلئے ڈھال مت بناؤ کہ تم نیکی ،تقویٰ اور لوگوں کے درمیان صلح نہ کراؤ۔ جس طرح نیکی اور تقویٰ سے پہلوتہی برتنے کیلئے مذہب کا استعمال منع کیا گیا ہے ،اسی طرح سے میاں بیوی میں بھی صلح کا دروازہ بند کرنے کیلئے اللہ نے اپنی ذات اور مذہب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔ اس کا پہلا درجہ یہ ہے کہ مرد اور عورت خود اپنے لئے کوئی ایسا عہد کریں کہ آپس میں صلح نہ کریں گے اور دوسرابھیانک درجہ یہ ہے کہ مذہبی طبقہ یہ فتویٰ سازی کریں کہ ا ب میاں بیوی کے درمیان صلح کی کوئی صورت باقی نہیں رہی ہے۔ قرآن کی آیات بالکل واضح ہیں۔
عورت کو صلح کا فتویٰ نہ دینے پر کتنی اذیت پہنچتی ہے؟ ۔ اس کا اندازہ قرآن کی سورۂ مجادلہ سے لگایا جاسکتا ہے۔ جاہلیت میں ایک مذہبی رسمی فتویٰ یہ بھی تھا کہ شوہر اپنی بیوی کی پیٹھ کو اپنی ماں کی پیٹھ سے تشبیہ دیتا تو وہ حرا م سمجھی جاتی تھی۔ اس شیطانی القا کو اللہ نے واضح کردیا تو فقہاء نے مسائل گھڑے دئیے کہ اگر وہ بیوی کی ران، اگاڑی اور پچھاڑی کو ماں کی …..سے تشبیہ دے تو پھر کیا حکم ہوگا؟ اور ان شیطانی القاؤں کو پھر مذہب کے نام سے دل کے مریضوں اور حلالہ کے ذوق اور ذائقہ سے آشنا لوگوں نے لوگوں میں اپنا اقتدار قائم کرنے کیلئے بعثت کا درجہ دے دیا۔ آج اگرعلماء سوء کا اقتدار ہوتا تو مجھے کربلا کی طرح شہید کیا جاتا۔
یہ شکر ہے کہ ان مذہبی لوگوں کے ذاتی مفادات مذہب سے وابستہ ہیں ورنہ تو وہ لوگوں کو ورغلاتے ہوئے یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ ہمارے آباء واجداد پارسی اور ہندو تھے ،ہم بھی سید عتیق الرحمن گیلانی کے نانا رسول اللہ ۖ کے دین اور قرآن کو چھوڑ کر دوبارہ اپنے آباء واجداد کے مذہب کی طرف لوٹنے کا اجتماعی فیصلہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اپنی کید کے جال میں پھنسا دیا ہے۔
فتاوی قاضی خان ، فتاویٰ تاتارخانیہ اور ہندوستان وکوئٹہ کی خدمات سے چھپنے والے فتوے میں جس طرح میاں بیوی میں شرمگاہ کے حوالے سے بیہودگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلاق اور لونڈی کی آزادی کو یمین قرار دیا گیا ہے تو اس کی وجہ سے مجبوری میں یمین کا اصلی اور صحیح مفہوم نقل کرنے کیلئے اخلاقی تباہی والا فتویٰ نقل کرنا پڑا تھا۔ تاکہ علماء ومفتیان پر اتمام حجت ہو اور عوام بھی حقائق تک پہنچ جائیں۔ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے، خطرہ ہوتا ہے، جس طرح ہماری ریاست کو گھر کے بھیدی نوازشریف اینڈ کمپنی سے خطرہ ہے ،اسی طرح ہم سے مدارس کے نظام کو بھی خطرہ ہے اسلئے ہم پر ایجنسیوں کے ایجنٹ کا الزام لگا کر ہماری تحریک کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ہم ایجنٹ تو کسی کے نہیںمگر خیرخواہ سب کے ضرور ہیں اسلئے کہ نبیۖ نے فرمایاکہ”دین خیرخواہی کا نام ہے”۔
آیت(225) میں اللہ نے واضح فرمایا کہ ” اللہ تمہیں لغو عہدوپیمان سے نہیں پکڑتا ہے مگر جو تمہارے دلوں نے کمایا ہے اس پر پکڑتا ہے”۔ یہاں پر شیطان اپنی القا سے پھر فقہاء اور مفسرین کو تباہی کے راستے پر لے گیا۔ طلاق کی بات کو چھوڑ کر قسم اور حلف کی بحث شروع کردی۔ قسم کی اقسام بنادئیے اور سورۂ مائدہ کی آیت اور سورہ بقرہ کی آیت پر اختلافات کے انبار لگادئیے۔ اگر اصول فقہ میں نصاب کی کتابوں سے بحث کا خلاصہ پیش کیا جائے تو جذباتی لوگوں کو قابو رکھنا مشکل ہوگا اسلئے کہ ایسی واہیات قسم کی بکواس کسی بھی عقل والے کیلئے قابل قبول نہیں ہوسکتی ہے اور لوگ مارپیٹ اور لوٹ مار کیلئے بہانے تلاش کرتے ہیں۔
حالانکہ جب اَیمان (عہدوپیمان) سے حلف مراد ہو تو یہ قسم ہے اور اس پر کفارہ بھی ہے لیکن اگر حلف مراد نہ ہو تو پھر کفارہ نہیں ہے۔ قرآن و حدیث اور فقہ کی کتابوں میں مسائل واضح ہیں لیکن بہت الجھاؤ بھی پیدا کیا گیا ہے۔ ہماری گزارش ہے کہ علماء کرام اور مفتیانِ عظام وقت سے پہلے اقدام اٹھالیں ورنہ تو مفتی تقی عثمانی کو عالمی اداروں کی طرف سے تحفظ اور پناہ کی امید ہوسکتی ہے لیکن عام علما کرام اور مفتیان عظام بیچارے آزمائش اور مشکل میں کیا کرینگے؟۔مجھے یہ خطرہ ہے کہ ہمیں بھی مار پڑے گی کہ کھل کر سب کچھ کیوں نہیں بتایا؟۔ جب ان غلیظ لوگوں سے عوام کی عزتیں حلالہ سے لٹوادیں تب تمہیں ہوش آیاہے؟۔اس میں شک نہیں ہے کہ ہم آہستہ آہستہ دھیمے طریقے سے اپنی تحریک چلانے کا جرم بھی سمجھتے ہیں۔ دو ٹوک انداز میں عوام سے توقع نہیں تھی کہ وہ حق قبول کرینگے یا پھر ہمیں ماریںگے اور دوسرا یہ کہ علماء کو علمی انداز میں سمجھانابھی ضروری تھا۔
مندرجہ بالا آیت میں الفاظ کے معانی بہت واضح ہیں۔ لغو الفاظ کا تعلق بھی طلاق سے ہی ہے۔ جسکے مقابلے میں دل کے گناہ پر پکڑنے کی وضاحت ہے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ لغو الفاظ پر اللہ کی طرف سے پکڑ نہیں ہے لیکن اگر بیوی نے پکڑنے کا پروگرام بنالیا تو وہ پکڑ سکتی ہے ۔ طلاق اور خلع میں حقوق کا فرق ہے۔ شوہر طلاق دے تو عورت کے مالی حقوق بہت زیادہ ہیں اور اگرعورت خلع لے تو پھر عورت کے مالی حقوق کم ہوجاتے ہیں اسلئے اگر عورت طلاق کے الفاظ کا دعویٰ کرے اور شوہر انکار کردے تو پھر گواہی اور شواہد پر فیصلہ ہوگا ۔اگر شواہد سے طلاق کی بات جھوٹی نکلے ، عورت کے پاس گواہ نہ ہوں وغیرہ تو پھر اس پر خلع کا اطلاق ہوگا۔ اس حوالے سے فقہاء نے ایسے بکواس مسائل ایجاد کررکھے ہیں کہ اگر طالبان خیر کی حکومت قائم ہوجائے تو ان تعلیمات کو پڑھانے والوں پر ڈنڈے توڑنا شروع کرینگے کہ ایسے غلیظ گھڑے ہوئے مسائل پڑھاتے ہو؟۔
آیت(226) میں اللہ نے واضح کیا ہے کہ اگر شوہر نے طلاق کا اظہار کئے بغیر بیوی سے ناراضگی جاری رکھی تو یہ نہیں ہوگا کہ ایام جاہلیت کی طرح عورت کو زندگی بھر بٹھاکر رکھا جائیگا بلکہ طلاق کے اظہار کی صورت میں اس کے انتظار کی عدت تین ادوار یا تین ماہ ہے تو طلاق کا اظہار نہ کرنے کی صورت میں عورت کی عدت میں ایک ماہ کا اضافہ ہوگا۔ چناچہ چار ماہ تک عدت ہوگی اور اگر اس میں یہ لوگ آپس میں راضی ہوگئے تو اللہ غفور رحیم ہے لیکن اگر ان کا عزم طلاق کا تھا تو پھر آیت (227) میں اللہ نے سمیع اور علیم کے ذریعے خبردار کیا ہے کہ یہ دل کا گناہ ہے اور اس پر اللہ پکڑے گا اسلئے کہ عورت کو ایک ماہ زیادہ انتظار کروایا ہے۔
اگر قرآن کی واضح آیات سے امت مسلمہ کو رہنمائی فراہم کی جاتی تو ہماری خواتین دنیا بھر میں اپنے حقوق پر بہت خوش رہتیں۔ ناراضگی کی حالت میں چار ماہ کا انتظار کوئی بڑی بات نہیں لیکن یہ طلاق کے حوالے سے انتظار کی عدت ہے اور اگر عورت خلع لے تو صحیح حدیث میں خلع کی عدت ایک ماہ ہے۔ خاتون اول بشریٰ بی بی پر تحریک انصاف کے ایم این اے (MNA) ڈاکٹر عامر لیاقت ، جیو ٹی وی اور مولانا فضل الرحمن نے عدت میں شادی کرنے کا الزام لگایا۔ حضرت امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ ”اگر میرا مسلک حدیث صحیحہ کے خلاف ہو تو اس کو دیوار پر دے مارو”۔ جب میدان لگے گا تو مجھے یقین ہے کہ فقہ حنفی کے مسلک کو جھوٹ پر مبنی قرآن وسنت کے خلاف بنانے والے دُم دباکر بھاگیں گے اور انکے مسلک کو دیوار پر نہیں پیچھے سے دبر پر مارا جائے گا۔ وہ وقت اب قریب دکھائی دیتا ہے۔
قارئین کو پھر تشویش ہوگی کہ ان آیات میں شیطان نے کیا القا کرکے کام دکھایا ہے؟۔ تو عرض یہ ہے کہ ناراضگی کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے چار ماہ انتظار کی مدت رکھی ہے۔ فقہ حنفی والے کہتے ہیں کہ چار ماہ گزرتے ہی طلاق واقع ہو جائے گی۔ پھر میاں بیوی کا آپس میں تعلق حرام کاری ہوگا۔ جمہور فقہاء ، علامہ ابن قیم، اور اہلحدیث کہتے ہیں کہ جب تک طلاق کا اظہار نہ ہو توزندگی بھر میں بھی طلاق نہیں ہوگی۔ اس بڑی تضاد بیانی کی بنیاد یہ ہے کہ حنفی کہتے ہیں کہ شوہر جب چار ماہ تک قسم کھانے کے بعد نہیں گیا تو شوہر نے طلاق کا حق استعمال کرلیا ہے ،اسلئے عورت کوطلاق ہوگئی۔ جمہور کہتے ہیں کہ اگر طلاق کا عزم بھی کرلیا لیکن جب تک زبان سے طلا ق کا اظہار نہیں کرے گا تو مرد نے اپنا حق استعمال نہیں کیا اسلئے عورت کا نکاح بدستو ر باقی رہے گا۔ اسلئے اتنا بڑا تضاد پیدا ہوگیا۔
قارئین کی تشویش کو ختم کرنے کیلئے یہ وضاحت ضروری ہے کہ اللہ نے تو یہاں عورت کا حق بیان کیا تھا،تاکہ تاعمر اور غیرمحدود انتظار کی اذیت سے محفوظ ہوجائے۔ بدبختی میں دور پڑجانے والے فقہاء نے عورت کی اذیت کو نظرانداز کردیا تھا۔ عدت کا تصور مردوں کیلئے نہیں عورتوں کیلئے ہوتا ہے۔ فقہاء نے اس کو عدت سمجھا ہی نہیں ہے اسلئے کہ دین انکے باپ کی کھیتی ہے۔ حالانکہ یہ عدت ہے اور اس انتظار میں اور عدت کے انتظار میں صرف ایک ماہ کی مدت کا اضافہ ہے۔ اگر فقہاء ومفسرین اللہ کی منشاء کے مطابق عورت کی اذیت کو مدِ نظر رکھتے تو آیت میں کسی باغیانہ اختلاف کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا تھا اسلئے کہ عورت اس مدت میں انتظار کی پابند ہے اور اس مدت کے گزرنے سے پہلے باہمی رضا سے صلح کا دروازہ کھلا ہے لیکن اگر اس مدت میں بھی عورت صلح کیلئے راضی نہیں ہے تو پھر اس کو مرد اور ملا مجبور نہیں کرسکتا ہے۔اور اگر اس مدت کے گزرنے کے بعد بھی عورت صلح کیلئے راضی ہے تو پھر شریعت نے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی ہے۔
عورت کا شوہر مرجائے تب بھی عدت کے بعد قیامت تک اس کا نکاح بھی باقی رہتا ہے لیکن اگر عورت بیوہ بننے کے بعد عدت ختم ہونے پر دوسرے سے نکاح کرنا چاہے تو وہ آزاد ہے۔ حکومت پاکستان کا قانون بھی یہ ہے لیکن فقہاء نے ایک طرف میاں بیوی میں سے ایک کے فوت ہونے کے بعد ایکدوسرے کیلئے اجنبی قرار دیا ہے کہ شکل نہیں دیکھ سکتے اور دوسری طرف عین الھدایہ میں لکھا ہے کہ میت مرد کی چیز کا حکم لکڑی کاہے ہے اگر عورت اپنے آگے اور مرد میت کی چیز کو اپنے پیچھے سے ڈال دے تو غسل نہیں ہے۔ العیاذ باللہ
فقہاء کے بلوپرنٹ مسائل کا ذوق دیکھ لو۔ کس طرح سے یہ اپنی کتابوں کو حلالہ کی لعنت کے مزے لینے کیلئے مزین کیاہے؟ ۔ حلالہ کو توکارِ ثواب تک بھی قرار دیا ہے اور مفتی عطاء اللہ نعیمی نے اپنی کتاب میں حلالہ کی وجہ سے نبی ۖ پر بھی بہت شدید حملہ کیا ہے اور نشاندہی کے باوجود بھی کتاب کوپھر چھپوایا ہے۔
جاہلیت میں اکٹھی تین طلاق پر حلالے کا فتویٰ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ کی آیت(228) میں طلاق سے رجوع کیلئے باہمی رضامندی کی شرط پر جاہلیت کا قلع قمع کردیا۔ فقہ حنفی کے مزاج اور اصول کی روشنی میں اس آیت میں اکٹھی تین طلاق پر حلالے کا فتویٰ بالکل بھی نہیں بنتا ہے۔ اور ایک طلاق کے بعد بھی شوہر کو یکطرفہ طور پر رجوع کا حق نہیں مل سکتا ہے۔ قرآن میں دونوں باتیں بالکل واضح ہیں لیکن اگر اس سلسلے میں شیطانی القا سے الٹے سیدھے مسائل کے انبار دیکھ لیں تو قارئین کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ شوہر چاہے تو ایک بار طلاق کے بعد عدت کے آخر میں رجوع کرلے۔ پھر طلاق دے اور عدت کے آخر میں ہی رجوع کرلے اور اس طرح تیسری بار اپنا یہ حق استعمال کرلے جو اللہ نے اس کو نہیں دیا ہے لیکن فقہاء نے شیطانی القا سے اس کو دیا ہے۔ تو عورت عدت کے تین ادوار گزارنے پر مجبور ہوگی۔ علاوہ ازیں یہ کتنی بھونڈی بات ہے کہ اللہ نے تو عدت میں باہمی رضامندی سے رجوع کا حق دیا ہے مگر مولوی شیطان لعین کی بات مان کر عدت تک انتظار اور حلالے کی لعنت کا فتویٰ دیتا ہے۔ جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے اور قرآن کی آیت کے منکر ہیں وہ حلالہ کے نام پر خدمات جاری رکھ رہے ہیں اور جو اہل علم ہیں ،انہوں نے اللہ کی محکم آیات کی وجہ سے ابھی حلالہ کی لعنت کے فتوے چھوڑ دئیے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی کے دارالعلوم کراچی میں بھی وہ خدا ترس ہیں جنہوں نے اپنے طور پر اللہ کے احکام کو جاری کرنیکی کوشش کی ہے مگر ان کی بات نہیں مانی جارہی ہے۔ سانڈ قسم کے لوگوں سے قیمتی جانوں کو بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔ جان کو خطرہ ہو تو اللہ نے کلمۂ کفر کوبھی قابلِ معافی قرار دیا۔ جان بوجھ کر علماء ومفتیان نے ہٹ دھرمی کا سلسلہ جاری رکھا ہے لیکن اللہ کی ذات بہت طاقتور ہے اور وہ ان کا اچانک بڑا مؤاخذہ کرسکتا ہے ہماری کوشش سے بہت لوگ حلالہ کی لعنت سے بچ گئے ہیں۔

NAWISHTA E DIWAR March Ilmi Edition #2. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

جواب دیں

Back to top button