عورت آزادی مارچ کا ترانہ اور قرآن کی زبردست تائید۔ عتیق گیلانی

735
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

عورت کو خلع کابھرپور حق

اللہ نے عورت کے حقوق پر سورۂ النساء میں فرمایا کہ
ولاترثوا النساء کرھا………..” اور عورتوں کے جبری مالک مت بن بیٹھو اور نہ ان کو اسلئے روکو کہ جو تم نے ان کو دیا ہے ،اس میںسے بعض لے اُڑو۔ مگر یہ وہ کھلی ہوئی فحاشی کا ارتکاب کریں اور انکے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی چیز تمہیں بری لگے اور اللہ اس میں تمہارے لئے بہت ساخیر رکھ دے”۔ (سورۂ النساء آیت نمبر19)
علمائِ حق اور خواتین کے حقوق میں سنجیدہ طبقہ یاد رکھ لے کہ اللہ نے عورت کو جن حقوق دینے کا اعلان کیا تھا، وہ ظالم سماج نے چھین لئے ہیں ۔ قرآن کے تراجم وتفاسیر کو غلط رنگ دیا گیا ۔ جس کی وضاحت بڑاانقلاب ہوگا۔
عربی، اردو میں ”عورت” بیوی کو کہتے ہیں۔ فرمایا: اذا طلقتم النساء ”جب تم عورتوں کو طلاق دو”۔جس سے بیویاں ہی مراد ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح فرمایا کہ عورتوں کے مالک زبردستی سے مت بن بیٹھو اور اسلئے ان کو نہ روکو کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے ، بعض ان سے واپس لے لو۔
عربی ادب کی کتاب قرأت الراشدہ میں ایک چڑیا کی فریاد ہے جس کا ایک زبردست شعر یہ بھی ہے کہ
الحبس لیس مذہبی و ان یکن من ذہبی
” پنجرے کی قید میرا شغل نہیں ،اگرچہ سونے کا ہو”۔
کچھ سرپھری خواتین اسلام کو بدترین ”قید” سمجھ کر اپنی عورت آزادی مارچ منارہی ہیں۔ مسلمان خواتین دنیا بھر کی عورت آزادی مارچ کا حصہ اسلئے بن گئی ہیں کہ اسلام کو پدرِ شاہی کے پالتو ملاؤں نے بالکل غلط پیش کیا ہے۔ سب نہیں جانتے تو اب جان لیں کہ قرآن کے تراجم غیرمسلم کی طرف سے ہوئے تھے مگر مسلمانوں کے ہاں شاہ ولی اللہ نے پہلی مرتبہ ترجمہ کیا تو ملاؤں نے ان کو مرتد اور واجب القتل قرار دیا۔ دو سال تک ان کو روپوش رہنا پڑا تھا۔ شاہ ولی اللہ کے والد شاہ عبدالرحیم نے اورنگزیب کے” فتاویٰ عالمگیریہ ”میں کردار ادا کیا تھا۔ جس میں بادشاہ کیلئے تمام حدودمعاف قرار دئیے گئے ۔ قتل، چوری، زنا کوئی سزا بھی بادشاہ کو نہیں دی جاسکتی ہے۔ اگر اسلام کے درست احکام نافذ ہوتے تواپنے بھائیوں کے قاتل اورنگزیب بادشاہ بھی اسلامی عدالت میں بادشاہ بننے کے باوجود قصاص میں قتل کردئیے جاتے۔ یزید نے شہداء کربلا کے قاتلوں سے کوئی بدلہ لیا ہوتا تو یزید اس قدر بدنام نہ ہوتا لیکن پدرِ شاہی نظام بھی پھر باقی نہیں رہ سکتا تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ نے بھی حضرت عثمان کے قاتلوں کو سزائیں دلوانے کیلئے جنگ برپا کردی تھی۔ طاقتور کبھی سزا کھانے کیلئے تیار نہیں ہوتا ہے۔ فرعون نے ہزاروں بچے قتل کر ڈالے مگرسزا کھانے کا کوئی تصور نہیں رکھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے غلطی میں قتل کا ارتکاب ہواتھا لیکن آپ کو معاف نہیں کرنا تھا۔ اسلام نے قتل عمد اور قتل خطاء کی حیثیت جدا جدا رکھ دی ہے۔ کوئی بھی خوشی سے سزا کھانے کیلئے تیار ہوتا تو حضرت موسیٰ نے بھی راہِ فرار اختیار نہیں کرنا تھی۔ ایک طاقتور صحابی کے بچے نے دوسرے غریب صحابی کے بچے کا دانت توڑ دیا تو یہ قسم کھالی کہ اسکے بدلے میرے بچے کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ مگر نبیۖ نے انصاف ہی قائم کرنا تھا۔ پھر غریب صحابی نے بدلہ لینے کے بجائے معاف کردیا تو نبیۖ نے فرمایا کہ بعض لوگ اللہ کو اتنے محبوب ہوتے ہیں کہ وہ قسم کھالیں تو اللہ ان کی قسم کو پورا کردیتا ہے۔ (صحیح بخاری)
بصرہ کے گورنر حضرت مغیرہ ابن شعبہ کے خلاف چار افراد نے زنا کی عجیب وغریب گواہی دی ،جن میں حضرت ابوبکرہ صحابی بھی شامل تھے۔ آخری گواہ زیاد گواہی دینے آیا تو حضرت عمر نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ اللہ اس شخص کی وجہ سے نبیۖ کے صحابی کو اس ذلت کی سزا سے بچالے گا اور پھر جب وہ گواہی دینے لگا تو حضرت عمر نے بہت زور سے چلا کر کہا کہ تمہارے پاس کیا ہے؟۔ راوی نے کہا ،اس دھاڑ سے قریب تھا کہ میں بیہوش ہوجاتا۔ پھر زیاد نے کہا: میں نے ننگا کولہا دیکھا، عورت (ام جمیل) کے پاؤں اسکے کاندھے پر گدھے کی کان کی طرح پڑے تھے۔ جس پر عمر نے کہا کہ گواہی پوری نہیں ہوئی۔ پہلے تین افراد پر قذف کا حد جاری کیا اور پھر ان سے کہا کہ اگر تم اعتراف کرلو کہ ہم نے جھوٹ بولا ، تو آئندہ تمہاری گواہی قبول کی جائے گی۔
حضرت ابوبکرہ نے کہا کہ میں نے سچ کہا ،اگرآئندہ میری گواہی قبول نہیں کی جاتی تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔ باقی دو افراد نے کہا کہ ہم نے جھوٹ بولا تھا۔ امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے مسلک میں حضرت عمر نے پیشکش کی تھی اسلئے قرآن کی آیت میں جہاں جھوٹی گواہی دینے والے کی گواہی قبول نہ کرنے کا واضح ذکر ہے تو اس کا اطلاق توبہ کے بعد کی صورت پر نہیں ہوتا ہے۔ جبکہ حضرت امام ابوحنیفہ نے پدرِ شاہی نظام کی نفی کرکے واضح کیا تھاکہ قرآن کی آیت میں واضح ہے کہ جھوٹی گواہی دینے والے کی گواہی کبھی قبول نہیں کی جائے گی اسلئے حضرت عمر کے غلط فیصلے کی وجہ سے قرآن کی تعبیر نہیں بدلی جائے گی۔
صحیح بخاری کے مصنف نے بھی حضرت امام ابوحنیفہ کی مخالفت کا ٹھیکہ لے رکھا تھا اسلئے یہ واقعہ تمام کرداروں اور ناموں کیساتھ پیش کیا گیا۔ ائمہ اربعہ کے درمیان جس واقعہ کی بنیاد پر مسلکانہ اختلافات ہیں ،اس کی حقیقت عوام کو سمجھانے کی بہت سخت ضرورت ہے۔ ابوالاعلیٰ مودودی کوئی باقاعدہ عالم نہیں تھے اسلئے انہوں نے اپنی تفسیر میں لکھ دیا ہے کہ ” وہ عورت حضرت مغیرہ ابن شعبہ کی اپنی ہی زوجہ تھی”۔ پدرِ شاہی نظام کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ”علم کی حقیقت کو عوام سے چھپانے کا وطیرہ بنالیا جاتاہے اور بے شعور لوگوں کے مذہبی جذبات کو ایک ہتھیار کے طور پر استحصالی طبقات کیلئے ناجائزہی استعمال کیا جاتاہے”۔
سورہ ٔ النساء کی آیت19میں واضح طور پر اللہ بیگمات کیلئے فرماتا ہے کہ ” عورتوں کے زبردستی سے مالک مت بن بیٹھو اور ان کو اسلئے جانے سے مت روکو کہ جو تم نے ان کو دیا ہے اس میں بعض واپس لے لو”۔ وزیراعظم عمران کے نکاح خواں مفتی سعید خان صاحب سے بالمشافہ ملاقات میں جب کہا کہ اس آیت میں جن عورتوں کے مالک بننے سے روکا گیا ہے ،انہی کے بارے میں یہ فرمایا گیاہے کہ ان کو اسلئے مت روکو کہ جو ان کو تم نے دیا، ان میں سے بعض مال واپس لے لو۔ تو مفتی سعیدخان نے کہا کہ یہ آپ کے نزدیک ہے؟، میں نے کہا کہ آپ ہی بتاؤ کہ ان سے کوئی دوسری عورتیں بھی مراد ہوسکتی ہیں؟۔ تو مفتی صاحب نے کہا کہ نہیں دوسری مراد نہیں ہوسکتی ہیں۔
جب پدرِ شاہی کے ایجنٹ علماء نے آیت کے ترجمے سے راہِ فرار کی گنجائش نہیں دیکھی تو تفسیر لکھ ڈالی کہ آیت کا پہلا جملہ ان خواتین سے متعلق ہے جنکے شوہر فوت ہوجاتے اور زمانہ جاہلیت میں لوگ انکے زبردستی سے مالک بنتے۔ دوسرا جملہ بیویوں سے متعلق ہے۔ حالانکہ دنیا کی کسی بھی زبان میں قرآن کا ترجمہ کرکے یہ باطل معنی مرادلینا ممکن نہیں ہے۔ ایسا کیوں کیا گیا ہے؟۔ اسکے پیچھے ایک بہت بڑا فلسفہ ہے۔ پدرِ شاہی میں مردوں کا عورتوںکو اپنی جاگیر سمجھنے کا تسلسل ہے جس کی قرآن نے بالکل نفی کردی ہے۔
جس دن دنیا نے سمجھ لیا کہ ” عورت مرد کی جاگیرنہیں ہے اور بیوی نہ صرف شوہر کو چھوڑ کر جانے کا حق رکھتی ہے بلکہ حق مہر کے علاوہ شوہر کی طرف سے دی گئی تمام منقولہ جائیداد بھی ساتھ لے جاسکتی ہے” تو دنیا کے تما م شوہروں کا رویہ خود بخود بالکل درست ہوجائیگا۔ ترقی یافتہ دنیا نے بھی پھر اسلام کے عادلانہ نظام کی طرف فوری آنا ہے۔
جب عورت کھلی فحاشی کی مرتکب پائی جائے توپھر شوہر کو (خلع) کی صورت میں بعض چیزیں واپس لینے کا حق ہے۔ پھر بھی تمام چیزیں واپس نہیں لے سکتا، ورنہ تو مرد کپڑے اور جوتے اترواکر ننگا کرنے کو بھی اپنا حق سمجھتے۔ کھلی فحاشی کی صورت میںبھی کسی کو حق مہر واپس لینے کا اللہ نے حق نہیں دیا ہے بلکہ حق مہر کے علاوہ دی ہوئی چیزوں کو واپس نہ لینے کا حکم دیا ہے۔جہاں تک حق مہر کا تعلق ہے تو اللہ نے اسکو ہاتھ لگانے سے پہلے نصف اور ہاتھ لگانے کے بعد پوراپورا دینے کا حکم واضح کردیاہے۔ ظالم سماج نے علماء کو بھی اپنا آلۂ کار بنالیا ہے اسلئے حق کو واضح نہیں کیا گیاہے۔
کاش ! خواتین اسلامی محاذ پر تھوڑی سی توجہ دیں تو پھر صدیوں کی منزلیں مہینوں میں مل سکتی ہیں۔ قرآن ان کے تحفظ سے بھرا پڑا ہے۔ حقوقِ نسواں کو بالکل نظر انداز کرکے قرآنی احکام کو بازیچۂ اطفال بنایا گیا ہے۔