عورت آزادی مارچ پر حملہ اور خواتین کی ثابت قدمی!

319
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اللہ نے فرمایا کہ ”اے بنی آدم ! تمہیں شیطان ورغلائے نہیں کہ تمہیں ننگا کر دے جس طرح تمہارے والدین کو ننگا کرکے جنت سے نکلوادیا تھا”۔(القرآن)
ہم جو انسانوں کی تہذیب لئے پھرتے ہیں
ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں
ساحر لدھیانوی نے 1914ء میں یہ غزل لکھی تھی ، عورت آزادی مارچ اس کی عکاسی کرتی ہے۔عصمت شاہجہان کی تقریر غمازی کرتی ہے کہ یہ لوگ ظالمانہ نظام کیخلاف ہیںجس میںعورتوں،بچوں اور خواجہ سراؤں کا استحصال ہورہاہے۔
تشددکے بعدہدیٰ بھرگڑی نے جس تضاد کا ذکر کیا، یہ عورت پن کا کمال ہے ۔ مردوں کی نیچ حرکتوں اور جنسی ہراسمنٹ کا خدشہ غیرتمند عورت کوجتنا خوفزدہ کرتاہے اس کمزوری کے احساس کاتخمینہ جانور سے بدتر بے غیرت مرد نہیں لگاسکتے ۔طالبان نے میری وجہ سے میرے گھر پر حملہ کرکے 13افراد شہید کردئیے۔ میرابھائی، بہن، بھتیجا، بھانجی،ماموں زاداور خالہ زاد ، مسجد کے امام ، گھرکے خادم، دور و قریب کے مہمان محسود، مروت ، جٹ، آفریدی جن میں حافظ، عالم اور مجذوب شامل تھے۔ یہ چھوٹا کربلا برپا ہوا تو ایک بزرگ خاتون میری مامی نے موقع پر طالبان سے کہا کہ تم امریکہ کے ایجنٹ ہو، ڈالر تم نے کھائے ہیں ، اسلام کا تمہیں فکروغم نہیں ۔کوئی بوڑھی عورت نیک نمازی اور پرہیزگار ہو تو خود کش بمباروں، راکٹ لانچروں، بموں اور جدید اسلحہ سے لیس دہشت گردوں کو چیلنج کرتی ہے کہ آبیل مجھے مار۔ اسلام آباد میں مذہبی طبقے نے پتھر، ڈنڈے اورجوتے برسائے تو ایک معمر خاتون ڈٹ کر بیٹھ گئی کہ یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے گھروں میں اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو بھی مارتے ہیں، مجھے یہاں سے نہیں جانا بھلے مجھے بھی ماریں،انہی کیخلاف تو ہمارا احتجاج ہے۔ عوامی ورکر پارٹی کے کارکن قائداعظم یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ سوات کے امجد نے اماں کو اٹھانے کی کوشش کی تو پتھر امجد کے سر پر لگا جس سے اسکے سر میں بہت بڑا گومڑ نکلا۔ جوان لڑکی کو اپنی عزت لٹنے کا جو خطرہ ہوتا ہے بوڑھی عورت کو اسکا خوف نہیں رہتا ۔
کافی عرصہ بیت گیا، ہمارے ساتھ ہونیوالے سانحہ پر ایک آنسو بھی نہیں ٹپکامگر جب اپنی بھتیجیوں کا واقعہ کے بعد ٹانک سے پشاور آتے ہوئے خوف کاماحول سن لیا تو مہینوں آنکھوں کے آنسو پر قابو نہیں پاسکتا تھا۔ جب میرے بڑے بھائی نے مجھے فون کیا کہ اس قربانی سے لوگوں میں امن کا ماحول قائم ہوگا تو یہ سستا سودا ہے تومیں نے عرض کیا کہ ہماری قربانی کچھ بھی نہیں ہے۔جن خواتین کو برہنہ کرکے پنجاب کی سرزمیں پر سرعام گھمایا جاتا ہے جب تک اسکا تدارک نہ ہو ،یہ عذاب ٹل نہیں سکتا ۔ پھر ڈیرہ اسماعیل خان میں لڑکی کو برہنہ کرنے کا واقعہ ہوا۔ جنسی تشدد کے بعد بچوں کو قتل کرنے کے واقعات صوبے صوبے، شہر شہر اور گاؤں گاؤں پہنچ رہے ہیں۔ تماشہ دیکھنے والے سمجھ رہے ہیں کہ ہمارا مستقبل محفوظ ہوگا؟۔ بھارت کا حال بھی لتا حیا کی شاعری میں جھلک رہاہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے مولانا فضل الرحمن کے فتوے سے مذاق مذاق میں خوف کا اظہار کیا تھا مگرمولوی کسی پر فتویٰ بھی لگاتا ہے تو عوام، تھانہ، عدالت ،ریاست اور حکومت اس کی تردید کرنے کی جرأت نہیں کرسکتی ہے۔
عورت آزادی مارچ نے اسلام آباد میں جس طرح جرأتمندانہ کردار ادا کیا ہے تو ہماری حکومت، ریاست، سیاست اور صحافت کی اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ اگلے الیکشن میں خواتین کو جتوائیں۔ جرأتمند خواتین سے گزارش ہے کہ لیفٹ اور رائٹ ونگ کا چکر چھوڑ کر معتدل معاشرے کی تشکیل میں اپناکردار ادا کریں، جس سے تمام باطل قوتوں کو جلد سے جلد شکست کا سامنا کرنا پڑے۔ عوامی ورکر پارٹی پنجاب کے صدر عاصم سجاد سے ایک ملاقات ہوئی تھی لیکن پھر وہ برطانیہ چلے گئے۔
کسی معاشرے میں ظلم کا راج ختم کرنا صرف ریاست کیلئے ممکن نہیں ہوتاہے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں اساتذہ کرام اور طلباء عظام بالکل اولیاء تھے لیکن جب وہاں مردان کے کچھ بدمعاش طلبہ نے اپنا راج قائم کیا تھا تو اللہ کے فضل وکرم سے مجھے اللہ تعالیٰ نے ان کا راج ختم کرنے کی توفیق دی اور میں کامیاب ہواتھا۔
یاا یھا الجیش من نساء اہل المردان
ان کنتم رجالًا فتعالوا الی المیدان
ترجمہ:”اے مردان کی عورتوں کا لشکر اگر تم مرد ہو تو پھر میدان کی طرف آؤ”۔
مولانا نجم الدین مردانی نے شروع سے آخر تک جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں تعلیم حاصل کی، جب وہ مفتی کا کورس کررہاتھا تو مار کٹائی پر فتویٰ لکھ دیا، وحشیانہ پٹائی کو ناجائز قرار دیا۔ طلبہ نے فتوے کی فوٹو کاپیوں سے آئینہ دکھایا تو مولانا نجم الدین کو مدرسہ نے نکال دیا۔ میں نے کہا کہ فتوے کا جواب فتویٰ تھا، مولاناکو نکالنا بہت ظلم ہے۔ مردانی طلبہ نے مجھے بتایا کہ نجم الدین نے مفتی محمد ولی کو دھمکی دی کہ ” ریلوے اسٹیشن پہنچوگے تو میں تمہاری شلوار اتاروں گا”۔ میں نے کہا کہ یہ جرأت تو مدرسے کے چوکیدار کیلئے بھی غلط ہے ۔ میں مفتی ولی سے پہلے اسٹیشن پہنچا تو ڈھونڈنے کے باوجود نجم الدین نہ ملا۔ مفتی ولی صاحب پہنچے تو میرے کلاس فیلو مولانا صادق حسین اور حاجی عبداللہ (خادمِ خاص مولانا بنوری) بھی ساتھ آئے تھے۔مفتی صادق حسین آف ٹل پاڑہ چنار نے بعد میںبتایا کہ وہ اپنے ساتھ پسٹل بھی لایاتھا۔میں نے بعد میں بہانہ سے مردانی طلبہ کی پٹائی لگائی اور ان کو چیلنج کیا ، انہوں نے جب مفتی ولی کو ایکشن لینے اورداد رسی کیلئے میرے اشعار دئیے تو مفتی صاحب گنگناتے ہوئے میرے اشعار درسگاہ میں پڑھتے تھے جس کی وجہ سے مجھے ان طلبہ پر رحم آیا۔
ہم نے عورت آزادی مارچ سے پہلے کراچی، کوئٹہ ،لاہور، سکھر، خیرپور، نواب شاہ ، حید ر آباد اور اسلام آباد میں نوشتۂ دیوار خوب پھیلانے کی کوشش کی۔ جس میں عورت آزادی مارچ کی زبردست حمایت اور مذہبی طبقے کے ایمان کا پول کھول کر بڑی حوصلہ شکنی کی تھی۔ اگر ہم چاہتے تو عورت آزادی مارچ کی دھجیاں بکھیرنے کی سرخیاں لگاکر خراج کی خیرات وصول کرسکتے تھے مگر ضمیر کا شفاف آئینہ بفضل تعالیٰ اتنا باریک ہے کہ بڑے حادثے کے بعد مظلومیت کی ہمدردی کا اظہار بھی غبارکی مانندایک بڑا بوجھ لگتا تھا۔ کمزوروں پر طاقت آزمائی بڑے کمینے لوگوں کا کام ہے۔
لاہور عورت مارچ میں آپ نیوز ٹی وی چینل نے میرا مختصر انٹرویو ریکارڈکیا مگر ایک جملہ نشر کیا ۔ مبشر لقمان اس کونشر کرکے علماء سے رائے مانگ لیں۔ عورت مارچ میں یہ پلے کارڈ بھی تھا کہ اسلام نے ہمیں حقوق دئیے مگر مسلمان نہیں دیتا ۔ میں نے بہت کھلے الفاظ میں کہا تھا کہ عورت آزادی مارچ انقلاب ہے، عورت اپنے حق کیلئے نہیں اُٹھے گی تو مردوں نے ان کو حق نہیں دینا ہے۔ ایک طاقتور مرد کو قرآن کہتا ہے کہ اپنی بیوی کیساتھ کسی کوکھلے عام رنگ رلیاں مناتے ہوئے پکڑلو تو فحاشی کی بنیاد پر اس کو چھوڑ سکتے ہو مگر قتل نہیں کرسکتے۔ لیکن طاقتور مرد کہتا ہے کہ میں قرآن کا حکم نہیں مانتا ہوں ، لعان کرنے کی بجائے اس کو قتل کروں گا۔ مولوی اور معاشرہ کبھی نہیں کہتا کہ قرآن کا حکم نہیں مانتا اسلئے کافر وفاسق ہوگیا۔ دوسری طرف طاقتور مرد کسی عورت کی عزت زبردستی سے اسکے کمزورخاوند کے سامنے لوٹتا ہے اور وہ انصاف لینے جب اسلامی عدالت پہنچ جاتے ہیں تو زبردستی سے زیادتی کرنے والوں کی داد رسی تو بہت دور کی بات ہے، الٹا شکایت کرنے والوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ چار مرد گواہ لیکر آؤ۔ نہیں تو حدِ قذف کی سزا بھی کھاؤ۔ کیا مولوی کایہ اسلام قابلِ قبول ہوسکتا ہے؟۔