عورت حقیقی اسلام سے بہت جلد اپنی منزل پاسکتی ہے!

404
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

عورت حقیقی اسلام سے بہت جلد اپنی منزل پاسکتی ہے!

اداریہ نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی 2020
طلاق و خلع کا علماء نے بالکل غلط تصور بنا رکھا ہے اسلام کا تصوردنیا کیلئے قابل قبول ہے۔ خلع وطلاق کے احکام سورۂ النساء آیت 19اور20،21 ہیں۔ ہدیٰ بھرگڑی حقائق کی طرف توجہ کرکے ایک عورت کی حیثیت سے ان کو دیکھ لے۔
عورت کا ترانہ کہ ”ہم کسی کی جاگیر نہیں،ہم انقلاب ہیں”۔اللہ نے فرمایا: ولاترثواالنساء کرھًا ……….. آیت19النسائ۔ ” اور تم عورتوں کے زبردستی مالک نہ بن بیٹھواور نہ اسلئے ان کو جانے سے روکو کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ، بعض واپس لے لو۔ مگر یہ کہ وہ کھلی فحاشی کا ارتکاب کریں۔ اور ان سے اچھا برتاؤ کرو، ہوسکتا ہے کہ تمہیں وہ (خلع یعنی علیحدگی کی وجہ سے) اچھی نہ لگیں تو ہوسکتا ہے کسی چیز کو تم برا سمجھو اور اللہ تمہارے لئے اس میں بہت سا خیر رکھ دے”۔( آیت19النسائ)
1: پہلا حق عورت کو یہ دیا گیا ہے کہ وہ مرد کی جاگیر نہیں ہے، جب بھی وہ چھوڑ کر جانا چاہیں تو شوہر کو چھوڑ کر جاسکتی ہیں۔وہ بالکل آزاداور خود مختار ہیں۔
2: دوسرا حق ان کو یہ دیا گیا ہے کہ خلع کی صورت میں تمام وہ منقولہ اشیاء ساتھ لے جاسکتی ہیں جو اس کو حق مہر کے علاوہ شوہر کی طرف سے ملی ہیں۔
3: فحاشی کی صورت بعض اشیاء کو وہ حق مہر سمیت اپنے ساتھ لے جاسکتی ہیںاور بعض اشیاء کو شوہر روک سکتا ہے کیونکہ شوہر نے وفاداری کیلئے دی ہیں۔
4: خلع کی صورت میں عورت کا چھوڑ کر جانا برا لگے تو بھی ان سے اچھا برتاؤ کرنے کی تلقین ہے، خوش اسلوبی سے رخصت کیا جائے۔یہ قرآن کا حکم ہے۔
5: عورت خلع کا اقدام کرے تو اس میں خیر کثیرہے ،اگر عورت کو خلع کا اس طرح سے حق حاصل ہو تو تشدد اور دوسرے ناخوشگوار واقعات کا خاتمہ ہوجائے گا۔
سورۂ النساء کی آیات20اور21میں طلاق کے احکام بیان کئے گئے ہیں۔
خلع میں شوہر کی طرف سے دی ہوئی منقولہ اشیاء عورت کی ملکیت ہیں لیکن غیرمنقولہ اشیاء مکان، دکان اور باغ وغیرہ کو واپس کرنا ہوگا۔ جبکہ طلاق کی صورت میں شوہر نے جتنی منقولہ اور غیرمنقولہ اشیاء دیں اگرچہ بہت ساری ہوں لیکن ان کو واپس نہیں لے سکتا ہے۔ مکان ، دکان، فیکٹری، باغ، زمین اور تمام دی ہوئی چیزیں چاہے بڑے خزانے ہی کیوں نہ ہوں ، طلاق کی صورت میں واپس نہیں لے سکتا۔ گھر عورت کا ہوتا ہے مگر خلع کی صورت میں چھوڑ کر جانا ہے اور طلاق کی صورت میں عورت کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لاتخرجوھن من بیوتھن ولایخرجن الا ان یأتین بفاحشة مبینة” ان کو ان کے گھروں سے مت نکالو اور نہ وہ خود نکلیں مگر یہ وہ کھلی ہوئی فحاشی کی مرتکب ہوں”۔(سورۂ طلاق آیت1) آیت میں نہیں کہا گیا ہے کہ شوہر اپنے گھروں سے ان کو نہ نکالیں بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو۔ یعنی گھر عورت کا ہے لیکن کھلی فحاشی کی صورت الگ ہے۔
آیت20اور21النساء میں مردوں کو غیرت دلائی گئی کہ بیگمات پر تھوڑے مفاد کی خاطر فحاشی کا الزام نہ لگاؤ۔ فحاشی پر عورت کو گھر سے نکالا جاسکتا ہے ۔وہ نکل بھی سکتی ہے لیکن حق مہر اور دوسری دی ہوئی چیزوں سے پھر بھی محروم نہیں کیا جاسکتا۔ گھر سے محروم کرنا ہو تو اس کیلئے عدالت میں لعان کے پل صراط سے گزرنا ہوگا البتہ اگر عورت خود ہی گھر چھوڑنے پر فحاشی کی وجہ سے دستبردار ہوجائے توبھی ٹھیک ہے۔
نبیۖ کی ازواج مطہرات کے حجرے انکے اپنے تھے۔ اُم المؤٔمنین حضرت حفصہ بنت عمر نے نبیۖ کیساتھ لڑائی کی تھی کہ میرے حجرے میں حضرت ماریہ قبطیہ کے ساتھ مباشرت کیوں کی؟۔ جس پر سورۂ تحریم نازل ہوئی۔ حضرت عائشہ کے حجرے میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی تدفین حضرت عائشہ ہی کی اجازت سے ہوئی۔ حضرت فاطمہ نے باغِ فدک میں اپنی وراثت کا مطالبہ کیا لیکن گنبدِ خضریٰ اور دیگر امہات المؤمنین کے حجرات میں وراثت کا دعویٰ نہیں کیا۔
نام نہاد شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے سورۂ النساء کی آیت20میں دئیے ہوئے زیادہ سے زیادہ مال کو صرف حق مہر کیساتھ خاص کرکے دجال سے بھی بدتر کا کردار ادا کیا ہے۔ حق مہر کا تعلق تو ہاتھ لگانے سے پہلے نصف اور ہاتھ لگانے کے بعد پورا پورا ہونے میں کوئی ابہام نہیں ۔قرآن کی آیات میں بالکل واضح ہے۔ شوہر اگر عورت کو طلاق دیتا ہے تو یہ اس کی مرضی ہے لیکن دی ہوئی چیزوں کو واپس لینے کا اس کو اختیار نہیں ہے۔ اللہ نے اس کی کھل کر وضاحت کردی ہے۔ کیا مفتی تقی عثمانی کو اگر لوگوں نے تحائف وہدیات دئیے ہوں تو اس بنیاد پر واپس لے سکتے ہیں کہ اب یہ نالائق ثابت ہوگیا ہے؟۔ شوہر بھی بیوی سے کوئی دی ہوئی چیز واپس نہیں لے سکتا ہے۔ عورت کی حرمت وعزت کا اللہ نے بڑا احترام رکھا ہے۔ صرف زبانی نکاح سے بھی مقررکردہ آدھا حق مہر اور رخصتی و جماع سے پورا حق مہر مرد کو دینا فرض ہے۔
ہدی بھرگڑی نے ٹھیک کہا کہ” عورتوں کے حقوق کیلئے سیکولر اور قوم پرست پارٹیاں سامنے نہیں آتی ہیں جبکہ فیمنسٹ ہر جگہ کھڑی ہوتی ہیں”۔ خواتین کے حقوق کی جنگ لڑنے والیاں مولوی نہیں اسلام کی طرف آئیں ،پھر دیکھ لیں کہ اسلام ان کو وہ حقوق دیتا ہے کہ سمجھ میں آئیں تو دنیا کی خواتین انہی حقوق کا مطالبہ کریںگی۔ حج و عمرہ کے معاملہ میںخواتین اپنے لئے الگ وقت میں طواف اور خاندان کیلئے حجرِ اسود کو چومنے کی اچھی ترتیب کا مطالبہ کرکے تاریخ کا پہیہ گھماسکتی ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کے نکاح خواں مفتی سعیدخان سے بالمشافہ ملاقات میں سورہ النساء کی آیت19میں خلع پر بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ آپ کا مطلب یہ ہے کہ اس سے بیگمات مراد ہیں؟۔ میں نے کہا کہ میرے مطلب کو چھوڑ دو کیا اس کا کوئی دوسرا مطلب بھی ہوسکتا ہے تو انہوں نے اعتراف کیا کہ دوسرا مطلب نہیں ہوسکتا ہے۔ عورتوں کو قرآن وسنت کے مطابق خلع کی آزادی اور یہ حقوق مل جائیں اور پھر طلاق میں بھی انکے حقوق قرآن کے مطابق محفوظ ہوجائیںتویہ بڑا بریک تھرو ہوگا۔ اس سے زیادہ حقوق عورتوں کو معاشرہ دینا بھی چاہے تو قبول نہیں کریں گی۔
مولوی صاحبان کے دماغوں میں تقلید ی مکڑیوں نے جالے بنارکھے ہیں۔ اللہ نے فرمایا: ” طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے رجوع یا احسان کیساتھ رخصت کرو اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ جوبھی ان کو دیاہے کہ اس میں سے کوئی چیز بھی واپس لو۔ مگر یہ کہ دونوں کو خوف ہو کہ اس چیز کواگر واپس نہیں دیا گیا تو دونوں (رابطہ کی وجہ سے) اللہ کے حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے اور اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیںگے تو اس چیز کو عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ اللہ کے حدود ہیں ،ان سے تجاوز مت کرو اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے توبیشک وہ لوگ ظالم ہیں”۔(البقرہ آیت229)
صحابی نے نبیۖ سے پوچھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے ؟۔ فرمایا آپۖ نے کہ آیت229میں احسان کیساتھ چھوڑنا ہی تیسری طلاق ہے۔ پھر جب دو مرتبہ اور تیسری مرتبہ عورت کو طلاق مل گئی۔ اسکے بعد خلع کا تصور یہاں کدھر سے آگیا؟۔ مولانا نے مکڑے بن کر اپنے لئے مکڑی کے جالے بنارکھے ہیں اور مکھی سمجھ کر وہ عورتوں کو جال میں پھنسا کر شکار کررہاہے۔ سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور پارلیمنٹ کے ایوانوں میں صوبوں سے قومی اسمبلی اور سینٹ تک قرآن کی آیات پر قانون سازی کیلئے توجہ دی گئی تو شیطان کی سازشیں ختم ہوں گی اور انسانیت ایک بڑے انقلاب کے موڑ پر کھڑی ہوجائے گی۔ خواتین اس کوجلدازجلد اٹھائیں۔