عورت مردوں کی مخالفت بھی کرتی ہے اور انکے بغیر زندگی کا تصور بھی حرام سمجھتی ہے۔ نغمانہ شیخ

438
0

اس کو ایک بار پھر سے مرد سے شدید نفرت کا احساس ہوا۔ اس کا جی چاہا کہ وہ مردوں کے خلاف آواز بلند کرے مگر دوسرے ہی لمحے اسے خیال آیا کہ یہ جو ڈھیروں خواتین اپنی ہم جنس کے نام پر ادارے چلارہی ہیں ۔ تقریبات کی آڑ میں تفریحات مناتی ہیں، حقوق نسواں پر بڑے بڑے سیمینار منعقد کئے جاتے ہیں۔ مقالات پڑھے جاتے ہیں جن کا اختتام پرتکلف ضیافت پر ہوتا ہے۔ 365دنوں میں ایک دن عالمی سطح پر عورت کی فکر میں گزارا جاتا ہے۔ ایسے عالمی ناٹک سے کیا حاصل؟ بھلا صدیوں سے کھوکھلی بنیادوں پر ٹکا سماجی پنجر ظاہری آرائش سے مستحکم ہوجائے گا۔ عورتیں کسی اور رُخ نکل جاتی ہیں۔ مردوں کے خلاف آوازیں کستے کستے آپ ہی مردوں کی بانہوں میں چلی جاتی ہیں۔ یہ عورت بھی عجیب مخلوق ہے مردوں کی مخالفت بھی کرتی ہے اور ان کے بغیر زندگی کا تصور بھی حرام سمجھتی ہے۔
(دھوپ میں جلتے خواب افسانے :نغمانہ شیخ)

کڑوا گھونٹ

افسانے :نغمانہ شیخ

نادیہ نے تیسری بار طلاق کا لفظ سن کر گہری سانس لی اور نہایت پرسکون انداز میں اپنے قدم دوسرے کمرے کی طرف بڑھادئیے۔ جہاں بیٹھ کر وہ اپنے آپ کو یقین دلانا چاہتی تھی کہ کیا واقعی آج سے وہ آزاد ہے۔ وہ چاہتی تھی کہ کھلی ہوا میں گہرے گہرے سانس لے۔ اس لمحے کو اپنے اندر سمولے جو آزاد ہوجانے کی تصدیق کررہا تھا۔ اس سے پہلے کہ ہمیشہ کی طرح شہزاد اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر آئے وہ ایک دم کھڑی ہوگئی۔ حالانکہ آج سے پہلے شہزاد نے ہر مرتبہ غصے میں طلاق کا لفظ دو بار ہی ادا کیا تھا۔ تیسری بار وہ خاموش ہوجاتا تھا۔ اسلئے شہزادکے ہاتھ جوڑنے کی گنجائش باقی رہ جاتی تھی۔ ان پچھلے آٹھ دس برسوں میں کوئی سو مرتبہ اس نے یہ لفظ اپنے شوہر کی زبان سے، کبھی آنکھوں سے، کبھی روئیے سے، کبھی ہاتھوں سے، کبھی لفظوں سے اپنی ذات کی وادی میں گھلتا محسوس کیا ہے۔ وہ چیختی رہ جاتی کہ دو مرتبہ کہاں! یہاں تو پل پل میں یہی لفظ سنتی ہوں۔ مگر لوگ گواہ کی بات کرتے ہیں اور گواہ وہ خود ہی تھی جس کی گواہی کو بھی آدھا مانا جاتا ہے پھر کون سنتا؟۔ ہر کوئی اس کو اونچ نیچ سمجھانے آجاتا۔ گھر ، گھرہستی کی اہمیت جتاتا اور سہاگن کی عظمت کا تاج اسکے سر پر پہنانے کی کوشش کرتا اور والدین ، رشتہ داروں اور بچوں کی شکلیں دیکھ کر سر جھکائے پھر اسی گھر میں آجاتی جہاں اب اس کو وحشت ہوتی تھی۔ شہزاد اتنا خود غرض تھا کہ ہوش میں آتے ہی ایک عدد فتویٰ اور معافی کے بیشمار الفاظ لے کر آجاتا۔ ہچکیاں لے کر روتا اور اپنا منہ پیٹتا۔ دیکھنے والے اور سننے والے اس کی طرف ہوجاتے۔ اور نادیہ ظالم و بے رحم نظر آنے لگتی۔ اس نے وقت کو ضائع کرنا مناسب نہ سمجھا ۔ اپنے دونوں بچوں کے ہاتھ تھامے اپنی جمع شدہ رقم پرس میں ڈالی اور گھر کی دہلیز پار کرگئی۔ اس نے ٹیکسی پکڑی اور راستے بھر وہ پیچھے مڑ مڑ کر دیکھتی رہی کہ کہیں شہزاد اس کے پیچھے تو نہیں آرہا ہے۔ میکے کی گلی میں مڑ کر اس نے اطمینان کا سانس لیا اور والدین کے گھر میں داخل ہوگئی۔ اس کا اس طرح آنا اب شاید والدین کیلئے بھی کوئی حیرت کی بات نہ تھی۔ صرف پہلی مرتبہ جب شہزاد نے طلاق دی تھی تو باپ کا سر جھک گیا تھا، ماں روتے روتے بیہوش ہوگئی تھی کہ یہ کیا ہوگیا؟۔ اب کس کس کو جواب دیں گے۔ ایک تو یہ دنیا کو جواب دینا بھی خوب ہے۔ پہلے خود کو تو جواب دے دیں کہ اپنی بیٹی کس کے حوالے کررہے ہیں۔ بس استخارہ آگیا تو بات ہی ختم۔ کس کس کو جواب دیں گے ۔ ہونہہ!۔ پھر اس واقع کے دو دن بعد شہزاد خاندان کے کچھ بزرگ اور فتویٰ لایا تو سب کی جان میں جان آئی۔ اور انہوں نے ایک بار پھر نادیہ کو ہنسی خوشی رخصت کیا۔ مگر جب آئے دن یہی ہونے لگا تو انہوں نے گھبرانا چھوڑ دیا۔ اب بھی نادیہ کو دیکھ کر انہوں نے کسی خاص ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا۔ اس کی خیریت معلوم کی ، بچوں کو پیار کیا لیکن نادیہ تھوڑی دیر خاموش رہی پھر ایک دم بولی۔ ”آج شہزاد نے تین مرتبہ طلاق کا لفظ ادا کیا ہے اور اب میں ہمیشہ کیلئے وہ گھر چھوڑ آئی ہوں، میں کسی پر بوجھ نہیں بنوں گی خود اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال لوں گی۔ آپ لوگوں نے مجھے واپس جانے پر مجبور کیا تو میں خود کشی کرلوں گی” ماں باپ سانس روک کر اس کی باتیں سنتے رہے۔ انکی آنکھیں اس کو نصیحتیں کرتی رہیں مگر وہ انجان بن گئی۔ ساری رات سوچتی رہی کہ اس کی تعلیم کا امتحان تو اب شروع ہوگا۔ وہ ہمت نہیں ہارے گی۔ اپنے بچوں کو اچھی تربیت دے گی۔ دوسرے دن شہزاد سب لوگوں کی موجودگی میں شرمندہ بیٹھا تھا۔ کیونکہ اب اس کو بھی معلوم تھا کہ وقت ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ البتہ اس نے بچوں کے خرچ کیلئے ہر ماہ ایک رقم مقرر کرنے کی بات کی اور کہا کہ وہ گھر بھی نادیہ اور بچوں کو دے دیگا سب بزرگوں نے نادیہ کی طرف پر اُمید نظروں سے دیکھا مگر نادیہ نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ میں بھیک مانگ لوں گی مگر شہزاد کا کوئی احسان نہیں لوں گی۔ سب نے ایک بار پھر نادیہ کو سمجھانا چاہا کہ یہ بچوں کا حق ہے مگر اب وہ کچھ بھی سمجھنا نہیں چاہتی تھی۔ جب سب مایوس ہوگئے تو ایک ایک کرکے وہاں سے اٹھنے لگے اور شہزاد بھی تھکا تھکا وہاں سے چلا آیا۔ عدت پوری ہونے کے بعد اپنی تعلیمی اسناد نکالیں اس نے ایم اے کیاتھا۔ بھلا اس کو نوکری کیوں نہیں ملے گی؟۔ اس نے سوچا میرے اپنے ہی ہمیشہ اپنے مفاد کیلئے مجھے ایک ایسے شخص کے پاس دوبارہ بھیج دیتے تھے جس کیلئے میں حرام ہوچکی تھی !۔ بظاہر ہم میاں بیوی تھے مگر ایک دوسرے کے نا محرم مگر پھر بھی لوگ کتنی عزت دیتے تھے ۔ہو نہہ! معاشرہ بھی کتنا عجیب ہے کوئی مرد اور عورت اپنی مرضی سے بغیر کاغذی کاروائی کئے ساتھ رہنے لگیں تو فوراً زنا کا فتویٰ لگ جاتا ہے اور اپنی ناک اور عزت کیلئے حرام کو بھی حلال کرلیتے ہیں۔
اس کو یقین تھا کہ ضرور نوکری مل جائے گی۔ ایک ہفتے بعد اس کا یقین کامیاب ہوگیا اور اس کو رسالے میں جاب مل گئی۔ اس نے فاتحانہ نظروں سے اپنے والدین اور بھائی بہن کو دیکھا اور کہا کہ میں نہ کہتی تھی کہ اپنے پاؤں پر جلد کھڑی ہوجاؤں گی۔
… چھ ماہ بعد یہ جاب خود ہی اس کو چھوڑنی پڑی کہ رفیق صاحب رسالے کے چیف ایڈیٹر کی بے باکی اور بیتاب نظروں اور فقروں کی وہ تاب نہیں لاسکتی تھی۔ پہلی نوکری چھوڑنے کے بعد دوسری جگہ نوکری کی تلاش شروع کردی… اس فرم میں تنخواہ بھی اچھی تھی مگر یہاں بھی اس کا مطلقہ ہونا اس کیلئے مصیبت بن گیا۔ جانے کیوں لوگ مطلقہ اور طوائف کو ایک ہی درجے پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ بلکہ یوں لگتا ہے جیسے بعض دولت مند مطلقہ و بیواؤں کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ ان پر کئے گئے احسانات کا خراج وصول کرسکیں۔ یہ نوکری بھی جاری نہ رہ سکی۔
اس تمام عرصے میں اس کو کیسے کیسے لوگوں سے سابقہ پڑا تھا یہ وہی جانتی تھی۔ وہ ایک گھریلو لڑکی تھی جس نے باہر کی دنیا اتنے قریب سے بھلا کب دیکھی تھی۔ وہ اتنی جلدی اس سماج کے ہاتھوں ہار مان جائے گی یہ تو اس نے کبھی سوچا نہیں تھا۔ ان دو سالوں میں شہزاد برابر بچوں سے ملنے آتا رہا۔ اس نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ شہزاد اپنے کئے پر بہت شرمندہ ہے۔ وہ ہر وقت اداس اور پریشان رہتا ہے۔ اب وہ اکثر ان حالات سے پریشان ہوجاتی کے اب کیا کیا جائے؟۔ ایک رات انہی سوچوں نے اس کی نیند اڑا رکھی تھی کہ اچانک ہونٹ مسکرادئیے اور چہرے پر اطمینان پھیل گیا۔ وہ سکون سے سو گئی۔ اور صبح سویرے کسی کام کا کہہ کر باہر نکلی اور واپس آگئی۔ دوسرے دن ماں نے اسکے ہاتھ سے پرچہ لیتے ہوئے اس کی طرف حیرت سے دیکھا۔ اور پھر اسکے باپ کو دکھایا۔ وہ بھی ویسی ہی نگاہوں سے نادیہ کی طرف دیکھنے لگا جیسے اب تک ماں دیکھ رہی تھی۔ پھر ماں نے خاموشی توڑی ”مگر تم تو تیار ہی نہیں تھیں، تم تو آزاد فضاؤں میں سانس لینا چاہتی تھیں۔ اب کیا ہوا؟”۔ نادیہ نے یہ سوچا یہ آزاد فضاء نہیں ہے یہ حبس زدہ معاشرہ ہے۔
نادیہ نے پرچہ واپس لیتے ہوئے جواب دیا کہ اس سے پہلے شہزاد اس قسم کے فتوے لاتا رہا ہے اور آپ لوگوں نے خوشی خوشی ان تمام فتوؤں کو قبول کیا اب کے ایک فتویٰ میں لے آئی تو آپ لوگ اتنے حیران کیوں ہیں؟۔ اس نے فتوے پر ایک نظر ڈالی جس کی رو سے وہ اور شہزاد اب بھی میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے تھے۔ اس نے سوچا اور اطمینان سے بھرپور لہجے میں خود کلامی کرتے ہوئے بولی کہ ”جب زندہ رہنے کیلئے حرام کاری کرنی ہی پڑے تو کیوں نہ عزت کے ساتھ ”حرام زندگی” گزاری جائے”۔ (دھوپ میں جلتے خواب کا پہلا افسانہ)۔