عورت کے حقوق کی ضرورت؟

علمی مغالطے کے ازالے اور کردار سازی کے مراکز آج فکروعمل سے محروم کیوں؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

رسول اللہۖ نے آخری وصیت نماز کے اہتمام اور عورت کے حقوق کی فرمائی تھی۔ اللہ نے فرمایا کہ ”نماز فحاشی اورمنکرات سے روکتی ہے”۔ وہ نماز کیا نماز ہے جو فحاشی اور منکرات سے نہ روکے؟۔ رسول اللہۖ نے معراج میں تمام انبیاء کرام کی امامت فرمائی تھی۔ اس کی تعبیر پہلی مرتبہ اس وقت پوری ہوئی کہ جب پہلی مرتبہ حضرت عمر نے بیت المقدس کو فتح کرکے دنیا کی دونوں سپر طاقتوں قیصر وکسریٰ کو شکست دی تھی۔ دوسری مرتبہ بیت المقدس فتح ہوگا اور دنیا کی کوئی ایسی جگہ گھر اور جھونپڑی نہ ہوگی کہ جہاں اسلام داخل نہ ہو۔ پوری دنیا پر خلافت قائم ہوگی۔ شاہ ولی اللہ نے لکھا کہ دین کا غلبہ دنیا پر ہوکر رہے گا ۔یہ وعدہ قرآن میں ہے۔ قیصر وکسریٰ کی حکومتوں کا وعدہ نبیۖ سے تھا اور اللہ نے آپ ۖ کے خلفاء کے ہاتھوں اس کو پورا کیا تھا۔ آئندہ بھی خلافت قائم ہوگی اور نبیۖ سے تمام ادیان پر دین کے غلبے کا وعدہ پورا ہوگا۔
شیخ الحدیث مولانا زکریا نے مدارس میں قوم لوط کا عمل زیادہ ہونے کی وجہ سے ذکرو اذکار کا سلسلہ شروع کیا ۔ خانقاہی نظام تزکیہ نفس کا ذریعہ تھا اور دیوبند کے علماء بھی حاجی امداداللہ مہاجر مکی سے تزکیہ نفس کیلئے بیعت تھے۔ دیوبندی خطیب شاہی مسجدلاہور مولانا عبدالقادر آزاد کے سسرمولانا عبدالمالک قریشی اور مولانااکرم اعوان کے مرشد مولانا اللہ یار خان بھی اللہ والے تھے۔ مولانا عبدالقادر رائے پوری اور مولانا خان محمد کندیاں امیر مجلس تحفظ ختم پاکستان سے کافی علماء کرام بیعت تھے۔ڈاکٹر عبدالحی اور مولانا حکیم اخترنے بیعت کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔ حضرت حاجی عثمان نے ایک دن بھری محفل میں کہاتھا کہ” ایک عالم مسجد کا امام اپنی بیگم سے دبر میں جماع کرتا ہے ،اگر اس نے توبہ نہیں کی تو میں اس کو پھر بھری محفل میں اُٹھاکر ذلیل کروں گا”۔ یہ شاید اس کی بیوی کی طرف سے شکایت ہوگی ، کیونکہ خواتین بھی بڑی تعداد میں بیعت تھیں۔ لیکن اگر کھل کر اس بات کا اظہار کیا جاتا کہ بیوی نے شکایت کی ہے تو گھر میں معاملہ خراب ہوسکتا تھا ۔ اگر طلاق ہوجاتی ہے تو اس کا نقصان عورت ہی کو اٹھانا پڑتا ہے اسلئے کہ عورت کے حقوق معاشرے میںمحفوظ نہیں۔ سادہ لوح مریدوں نے سمجھ لیا تھا کہ مرشد جی کی کرامت ہے کہ میاں بیوی کے خاص عمل کے وقت بھی حاضر ہوتے ہیں۔حاجی عثمان فرماتے کہ نبیۖ کے حاضر ناظر پر دیوبندی بریلوی اختلاف کی شدت فضول ہے۔ اگر مطلق حاضر ناظر مان لیں تو یہ نبیۖ کی توہین ہے اسلئے کہ بیگمات سے لوگ مباشرت کرتے ہیں اور اللہ کیلئے انسان کے کپڑے کی حیثیت بھی نہیں اور اللہ جنسی معاملے سے پاک ہے، بشری آنکھوں کیلئے حیاء ایک اہم چیز ہے۔اگر بالکل انکار کریں تو قبر میں نبیۖ کی ذات مبارکہ کی زیارت کرائی جائے گی اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہو؟۔
ایک ایرانی نژاد امریکی خاتون نے بڑی ضخیم کتاب ”اسلام میں عورتوں کے حقوق ” لکھی ہے۔ جس میں یہ واقعہ بھی ہے کہ ایک عورت کو اس کا شوہر اس کے پیچھے کی راہ سے استعمال کرتا تھا جس سے اس کی خواہش پوری نہیں ہوتی تھی اور پھر اس نے حق مہر سے زیادہ خلع کی رقم دیکر جان چھڑائی۔ یوٹیوب پر ایک شیعہ عربی نے اہل سنت کے بہت معتبر حوالہ جات دیکر کہا ہے کہ شیعہ پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ بیوی کیساتھ دبر میں جماع کو جائز سمجھتے ہیں لیکن اہل سنت کے علامہ ابن حجر، ملاعلی قاری اورصحیح بخاری تک میں کذاو کذا ، ثم مضی تک یہ روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ جب ایک شخص نے عورت کیساتھ اسکے دبر میں جماع کیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ نساء کم حرث لکم فأتوا حرثکم انی شئتم ”تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں جیسے مرضی ان کے پاس آؤ”۔ شیعہ عالم نے عربی میں کہا ہے کہ ہمارے ہاں جماع فی الدبر جائز ہے مگر سخت مکروہ ہے لیکن ہم شیعہ پر اعتراض کرنے والے اپنے معتبر لوگوں کے حالات کو بھی دیکھ لیں۔ امام مالک نے کہا تھا کہ میں اپنی بیوی کیساتھ ابھی یہ کام کرکے آیا ہوں۔ وغیرہ۔ آج عورت مارچ میں میرا جسم میری مرضی کی بات بھی چل پڑی ہے، عورتیں اپنے شوہروں کا حال دوسری خواتین سے بیان کرتی ہیں اور نبیۖ کی وصیت کو عملی جامہ پہنانے کیلئے علمی مغالطے کا ازالہ بھی کرنا ہوگا۔ علماء ومفتیان اپنی علمی کمزوری سے واقف ہیں لیکن ہمت کرنے کی جرأت نہیں رکھتے اور اگر انہوں نے جرأت دکھائی تو خاتم النبیینۖ سے وفاداری ہوگی۔

NAWISHTA E DIWAR March Ilmi Edition #2. 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummat

Leave a Reply

Back to top button