قادیانیت ، شیعت اور قومیت کا مسئلہ اور اسکاحل کیا ؟

209
0
تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
جاوید احمد غامدی نے اپنا عقیدۂ ختم نبوت کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ وہ ”رسول اللہ ۖ کو آخری نبی مانتے ہیں ۔ رسول ۖ نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔اور نبوت میں سے کچھ بھی باقی نہیں مگر مبشرات ،جو رویائے صالحہ ہیں”۔
غامدی نے بتادیا کہ ” جو شخص خود کو مسلمان کہتا ہوتو اس کو وہ کافر نہیں کہتا ”۔ غامدی نے ابن عربی کا بتا دیا کہ ” وہ رسول اللہۖ پر تشریحی نبوت ختم ہونے کے قائل مگر نبوت کے جاری ہونے کا عقیدہ رکھتے تھے”۔ ڈنڈے کے زور پر مفتی محمود نے ایوبی دور میں معافی مانگی لیکن سیدابوالاعلیٰ مودودی نے معافی سے انکار کیاتھا۔
اگر مبشرات سے اصطلاحی نبوت مراد لی جائے تو ختم نبوت کا عقیدہ نہیں رہتا اسلئے کہ لوگ شیطانی جھولوں میں بیٹھ کر نبوت کے دعوے کرینگے۔ نبوت غیب کی خبر بھی ہے۔ وحی میں شیطان مداخلت نہیں کرسکتا۔ رسول ۖ سے سچا خواب کس کا ہوگا۔ حضرت عائشہسے فرمایا کہ آپ کی تصویر مجھے خواب میں دکھائی گئی کہ اس سے شادی ہوگی۔ سوچا کہ خواب اللہ کی طرف سے ہوگا تو پورا ہوجائیگا۔ ( صحیح بخاری)
غیب کی درست خبر رویائے صالحہ ہے ۔ قرآن میں تندرست بچے کی پیدائش کیلئے بھی صالح آیا ہے۔ کشف، الہام، نجوم اور خواب میں غیب کی خبریں بتانے والے شیطان یا انسان کے آلۂ کار ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد کی کلپوں کو عام کیا جاتاہے۔ مہاجر، سرائیکی ،بروہی قومیت حقیقت ہے مگر اس کیلئے قرآن کے غلط حوالے دینا بڑی جہالت ہے۔ وقال الرسول یارب ان قومی اتخذا ہٰذالقراٰن مھجورًا ”اور رسول کہیںگے کہ اے میرے رب بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا”۔ مسلمانوں کیلئے قوم کا لفظ اس زیادہ کس دلیل کا محتاج ہے مگر علماء کرام پاکستان کے مخالف اور ہندوستانی قومیت کے ٹھیکہ دار بن گئے تھے۔
علماء کہتے ہیں کہ رسول ۖ کی امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں۔ امام غزالی کا خواب یا مشاہدے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مناظرے کی بات بھی کرتے ہیں ،صحابہ کا مقام علماء سے اونچا ہے مگر انبیاء سے اونچا نہیں ۔
مزراغلام احمد قادیانی مجذوبِ فرنگی تھا جس نے نبوت کا دعویٰ تو کیا لیکن دوسروں کو بھی اس کو نہ ماننے پر رنڈیوں کی اولاد قرار دیا۔ آج مرزائی سمجھتے ہیں کہ ان کو رنڈیوں کی اولاد کی طرح مسلمان مانا جائے توبھی بہت بڑی غنیمت ہے۔
جاوید غامدی اور انجینئرمرزا علی محمدالیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر چھائے ہیں۔ مرزا علی محمدنے قادیانیوں کی صف میں دیوبندی اور بریلوی کو بھی شامل کیا کہ اشرف رسول اللہ اور چشتی رسول اللہ کے خوابوں سے جب تک توبہ نہیں کی تو ان پر بھی بابی کا فتویٰ لگتا ہے۔ یہ کہنا باقی ہے کہ مرزائیوں نے کلمہ تو تبدیل نہیں کیاجبکہ جاوید احمد غامدی شیخ ابن عربی کی صف میں مرزا غلام احمد قادیانی کو کھڑا کررہے ہیں۔
علامہ سید جواد نقوی نے آصف علوی کوبرطانیہ کی MI6ایجنسی کا ایجنٹ قرار دیا۔ آصف نے کہا کہ رسول اللہۖ نے حضرت علی کواپنا نفس قراردیااوراماں عائشہ کو طلاق دیدی۔ اگر شیعہ منطقی نتائج اپنے فرقے کیلئے نہ نکالتے تو شیعانِ علی آصف کا جبڑہ توڑ دیتے کہ جب علی نبی کے نفس ہیں تو پھر نبی کی بیٹی حضرت فاطمہ سے نکاح کیسے ہوسکتا تھا؟۔ اہل تشیع کوان کی منطق کا جواب ان کی منطق سے دینا ہوگا۔ تب یہ اپنی مجالس سے داد حاصل کرنے اور اپنے ریٹ بڑھانے کے چکر سے باز آسکتے ہیں۔ایک شیعہ بچہ داد لینے کیلئے کہتا ہے کہ لیڈر دو تھے، ایک محمدۖ اور ایک حسین ۔ جب محمدۖ نے دن کے وقت لوگوں کو بلایا تو کوئی نہیں آیا اور حسین نے رات کی تاریکی میں جانے کا کہا تو کوئی نہیں گیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ بڑا لیڈر کون تھا؟ ہمارا جواب توجو بھی ہوگا سو ہوگا لیکن شیعہ کی اکثریت حسین کوبڑاسمجھ رہی ہے توکلمہ وآذان میں علی کی جگہ حسین کا نام لینا شروع کردیںاورحسینی برہمن کی صف میں شامل ہوجائیں۔ محمدۖ تو حسین کے باپ سے بڑے لیڈر اسلئے تھے کہ رسول اللہۖ نے مدینہ میں رئیس المنافقین کو اپنے ہاتھوں سے دفن کیا اور علی کو کوفہ میں بھی اپنے ہاتھ کے پلے ہوئے خوارج نے شہید کردیا۔ دوسری طرف اپنی دکان چمکانے کیلئے کہہ سکتے ہیں کہ ابوسفیان جب رسول اللہۖ کے سسر تھے تو ان کی بے ادبی اور گستاخی پر ہم کفر کے فتوے لگائیںگے۔ حالانکہ اس سسر کے خلاف صحابہ نے بدر، احدکے معرکے لڑے ہیں جس میں نبیۖ بنفسِ نفیس شریک تھے ۔
علماء کرام و مفتیانِ عظام سے گزارش ہے کہ جب تک آپ کا اپنا مؤقف درست اور مضبوط نہ ہوگا،اس وقت تک اسلام اور مسلمان کو خطرہ لاحق رہے گا۔ شیخ محی الدین ابن عربی نے اپنی کتاب ” فتوحات مکیہ” میں تشریعی اور غیرتشریعی نبوت پر جو بحث کی ہے علماء واکابر کے درجات ،تصوف میں مشاہدے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ نزول کے معاملے میں دلائل دینے ہونگے لیکن جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیںگے اور نبیۖ کی شریعت پر عمل کرینگے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ علماء کو اپنی شریعت ایجاد کرنے کی اجازت ہوسکتی ہے؟۔ قرآن میں سود کو اللہ اور اسکے رسول ۖ کیساتھ اعلانِ جنگ قرار دیا گیا اور نبیۖ نے 70سے زیادہ گناہوں میں سے کم ازکم گناہ سود کھانے والے کیلئے اپنی ماں سے زنا قرار دیا۔ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی و مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن نے سودی نظام کو جائز قرار دیا ۔ کیا یہ نئی شریعت کی ایجاد نہیں ؟۔ نبیۖ کو بھی یہ حق نہیں تھاکہ اپنی طرف سے کسی چیز کو حلال اور کسی چیز کو حرام قرار دیتے۔ اللہ ہی حرام و حلال قرار دیتا ہے۔ اللہ کے علاوہ اس مقامِ ربوبیت پر پہلے یہود ونصاریٰ کے علماء ومشائخ فائز تھے اور اب ہمارے علماء ومشائخ اور عوام انہی کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔
نکاح وطلاق اور نماز ودیگر معامالات کے حوالے سے حلال وحرام ، فرض اور نافرض اور شرعی حدود کے حوالے سے خود ساختہ تقسیم کیا نئی شریعتوں کی ایجاد نہیں؟۔ اجتہاد کا تعلق وقت کے حکمران، قاضی اور جج کا انصاف دلانے میں فیصلے کے حوالہ سے ہے۔ نت نئے مسائل گھڑنے کیلئے نہیں۔ غسل کے فرائض پر ائمہ کا اتفاق نہیں، بے نمازی کو سزا دینے پر اتفاق نہیں لیکن ایک ہی سزا ہے جس پر سب کا اتفاق بتایا جاتا ہے کہ عورت کو ایک ساتھ تین طلاق مرد دے تو حلالہ کی لعنت سے عورت کی عزت لوٹی جائے اور بس!۔ علماء اب بات سمجھ رہے ہیں لیکن کھلم کھلا تائید سے بڑے بڑے کترا رہے ہیں کیونکہ ان کو اپنا کاروبار ٹھپ ہونے کا اندیشہ ہے۔
اگر نبوت کا چالیسواں یا چھیالیسواں حصہ رہاہے اور اس سے مراد تشریعی علوم ہیں اور وہ فرائض اور شرعی حدود ہیں تو پھر تشریعی نبوت کے باقی ہونے کا عقیدہ ہونا چاہیے تھا۔ الہام کے اچھے برے ہونے کا تصور ہے لیکن شریعت مکمل ہوچکی ہے۔ الہامی بنیادوں پر شریعت کا اجراء نہیں ہوسکتا ہے ۔ خلفاء راشدین اور صحابہ کرام نے بے نمازی کیلئے کوئی سزا تجویز نہیں کی اور ائمہ نے قتل، قید، زدوکوب کی سزاؤںسے اپنی اپنی شریعت ایجاد کرلی۔ علماء نے اجتہاد کا دورازہ بند ہونے پر اتفاق کیا تھا لیکن جاویدغامدی اب مزید اپنی رائے سے نئی شریعت ایجاد کررہے ہیں۔ علامہ اقبال کی بات درست ہے کہ ” علماء ومشائخ کا بڑا احسان ہے کہ ان کے ذریعے ہم تک دین پہنچاہے لیکن دین کی شکل اتنی بگاڑ دی گئی کہ رسول اللہ ۖ، جبریل اور اللہ فرمائیں گے کہ یہ وہ دین تو نہیں ہے جس کو ہم پہچان نہیں رہے ہیں”۔